Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 20 جنوری 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News ! Best Urdu Website in World

2019ءغریبوں کیلئے ڈرائونا خواب ثابت ہوگا

ویب ڈیسک پیر 03 دسمبر 2018
2019ءغریبوں کیلئے ڈرائونا خواب ثابت ہوگا

ڈالر کی قیمت اور شرح سود براہ راست عام آدمی کو متاثر کرتی ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور مہنگائی کا سارا بوجھ غریب عوام پر منتقل ہوجاتا ہے۔ ایک ہی روز میں ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ مہنگائی کا طوفان لانے کا سبب بنے گا۔ ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں کہ آنے والا سال غریبوں کے لئے اچھی خبریں لے کر نہیں آرہا‘ مہنگائی بڑھے گی اور غریب کا حال مزید پتلا ہوگا‘ اس پر ستم یہ کہ ناموافق صورت حال کے باعث بے روزگاری میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ ایک ہی روز میں ڈالر کی تاریخی بلندی اور شرح سود میں 1.5 فیصد اضافے کو تاجر و صنعتکار برادری نے معیشت کے لئے دہرا عذاب قرار دے دیا‘ کمیونٹی کے مطابق کاروبار کے لئے ماحول دن بہ دن ناسازگار ہوتا جارہا ہے‘ بزنس کرنا مزید دوبھر ہوگیا۔ کراچی چیمبر کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا نے یاد دلایا کہ ماضی میں روپے کی جب بھی ایسی بے قدری ہوئی‘ اس کے اثرات ملکی معیشت کو کئی سالوں تک بھگتنا پڑے‘ ڈالر بڑھنے سے برآمدی سیکٹر کو جو تسلی ہوگی وہ بھی عارضی ہوگی کیونکہ روپے کی قدر گری ہے‘ برآمدات کا حجم نہیں بڑھا ہے۔دوسری جانب اس تنزلی سے درآمدی بل کا خرچہ تجاوز کرے گا۔ شرح سود میں بلندی کے نتیجے میں کاروبار کرنا‘ ایکسپورٹ بڑھانا مشکل ہوجائے گا‘ روزگار کے مواقع کم ہوں گے۔ افراط زر بلند‘ پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا‘ حکومت کو روپے کی گرتی قدر سنبھالنے کے لئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ سائٹ ایسوسی ایشن کے صدر سلیم پاریکھ نے کہا کہ شرح سود میں اضافہ کمیونٹی کی توقعات سے بھی زیادہ ہے جبکہ روپے کی تنزلی سے کاروباری بے یقینی میں اضافہ ہوا ہے‘ حکومت کو فوراً اپنی پالیسیو ںکا قبلہ درست کرنا ہوگا ورنہ یہ بے یقینی ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان دے گی۔ کراچی ہول سیل کراکری ایسوسی ایشن کے صدر انیس مجید نے صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی بار تنزلی پر اس کا نقصان طلب میں کمی کی وجہ سے صارفین پر منتقل نہیں کیا گیا تھا‘ اس پر روپے کی خرید بے قدری کے نتیجے میں ہول سیلرز کی مشکلات دوچند ہوگئی ہیں۔
ایسا نہیں کہ موجودہ حکومت کے دور میں ہی ڈالر اپنی بلند ترین سطح پر پہنچا ہے، بلکہ ماضی میں بھی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوتا رہا ہے لیکن اتنا اضافہ پہلی بار ہوا ہے۔ رواں سال مارچ میں انٹر بینک تجارت میں ڈالر کی قدر بڑھ کر 115.50 روپے تک پہنچ گئی تھی جس پر کرنسی کا کاروبار کرنے والوں اور ماہرین نے اس شک کا اظہار کیا تھا کہ اس کی وجہ بین الاقوامی فنانشل اداروں سے قرضوں کی ادائیگی کے لیے کیے گئے وعدے ہیں۔ پھر رواں سال ہی جون کے مہینے میں ڈالر مزید بڑھا اور ملکی ‘تاریخ کی بلند ترین سطح’ (اس وقت کی) یعنی 121 روپے پر پہنچ گیا تھا۔ پاکستان میں نگران حکومت کے دور میں الیکشن کے انعقاد سے قبل امریکی ڈالر 118 روپے سے بڑھ کر 130 تک پہنچ گیا تھا لیکن الیکشن کے بعد ملک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر 122 روپے میں فروخت ہونے لگا۔ مگر بات یہاں نہ رکی اور موجودہ حکومت کی جانب سے عالمی مالیاتی ادارے سے قرضہ لینے کے فیصلے کے فوراً بعد ہی ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 138 روپے تک پہنچ گیا لیکن پھر قدرے کم ہونے کے بعد 133 پر آکر رک گیا تھا۔ پاکستان کے اقتصادی ماہر قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ عام آدمی کی زندگیوں پر اس اضافے کا بہت اثر پڑنے والا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افراط زر میں جو اب اضافہ ہوا ہے اس سے کہیں زیادہ اضافہ ہوگا،اور ساتھ ہی ساتھ بے روزگاری بھی بڑھے گی۔ ’سال 2019ء پاکستانی عوام اور خاص طور پر غریبوں اور مڈل کلاس کے لیے بہت برا گزرے گا۔‘
گزشتہ تین سالوں کے دوران کمزور اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے مالی خسارہ بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ درآمدات میں اضافے اور برآمدات میں کمی کی وجہ سے ملکی معیشت پر پڑنے والے مالی بوجھ میں اضافے کی تشویشناک اطلاعات آ رہی تھیں لیکن ہمارے اربابِ اختیار نے معیشت کی بہتری کے لیے کوئی ہنگامی اقدامات نہیں اختیار کئے۔ اگر ہم غور کریں تو موجودہ دورِ اقتدار میں قرضہ دینے والوں کی من مانی شرائط پر ریکارڈ قرضہ جات حاصل کئے گئے لیکن ملک کا مالیاتی بحران کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی گیا اور بالآخر ملک کے اقتصادی حالات تشویشناک نہج پر پہنچ گئے۔ یہ بات حکومت اور عوام دونوں کے مدِ نظر رہنی چاہئے کہ قرضہ معاشی بحران کی شدت کم کرنے کا باعث بن سکتا ہے لیکن اسے پاکستان کو درپیش معاشی اور اقتصادی مشکلات کا ٹھوس، مستقل اور مکمل حل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان کا مالیاتی بحران اس امر کا ثبوت ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران معیشت کے ٹیک آف پوزیشن پر آنے کے دعوے کئے جاتے رہے وہ درست نہ تھے اور معیشت کو مصنوعی طریقے سے سہارا دیا جاتا رہا، جونہی یہ سہارا ختم ہوا معیشت کی اصلیت کھل کر سامنے آ گئی۔ ہمارے ہاں اکثر دیکھا گیا ہے کہ حاصل کیا گیا قرضہ یا تو خورد برد ہو جاتا ہے یا پھر ٹھیک اسی مقصد کے لئے استعمال میں نہیں لایا جاتا جس کے لئے یہ حاصل کیا گیا ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ بیرونی قرضے کا وقتی سہارا حاصل کرنے کے بعد حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ نئے سرے سے منصوبہ بندی کرتی اور ملکی معیشت کو ٹھوس بنیاد وں پر استوار کرنے کے لئے از سرِ نو تمام شعبہ جات کا جائزہ لے کر جہاں جہاں بھی ترقی کی گنجائش ہوتی وہاں نہ صرف پالیسیاں وضع کی جاتیں بلکہ فنڈز بھی فراہم کئے جاتے اور ان قرضوں کی واپسی کے لئے شیڈول اور عرصہ ترتیب دیا جاتا جس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے واضح اور مناسب حکمتِ عملی مرتب کی جاتی۔
پاکستان میں ہر نکلنے والا سورج نت نئے مسائل لے کر طلوع ہوتا ہے، جس سے عوام کی مشکلات اور پریشانیوں میں ہوشربا اضافہ ہوتا جاتا ہے اور ان کی زندگی مزید اجیرن ہوجاتی ہے۔ بدامنی و دہشت گردی، بے روزگاری، ناانصافی، کرپشن اور دیگر بہت سے مسائل کے ساتھ ساتھ غربت کے اضافے نے اس ملک کے باسیوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ پاکستان کی مجموعی آبادی میں غریب شہریوں کے تناسب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ حکمرانوں کی نااہلیوں کے باعث پاکستانی معیشت بھی دم توڑتی جارہی ہے اور پاکستان معاشی ترقی میں بنگلا دیش سے بھی پیچھے رہ گیا ہے۔ پاکستان میں کمزور مالیاتی اداروں، بے جا حکومتی اخراجات، حکمرانوں کی قومی خزانوں سے لوٹ مار، ٹیکس چوری اور کرپشن کی وجہ سے ملک کی معیشت کمزور اور غربت اور مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان میں غربت بڑھنے کی وجہ حکومت کی غریب دشمن ناکام اقتصادی پالیساں ہیں، کیونکہ اقتصادی پالیسوں میں ہمیشہ ملک کے طاقتور طبقے کو فائدہ پہنچایا جا تا ہے، جس کے اثرات براہ راست غریب عوام پر پڑتے ہیں۔ اقتصادی پالیسیوں میں غریب عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جاتا۔ ملک کے طاقتور طبقے اپنے مفادت کو ان پالیسوں میں ترجیح دیتے ہیں۔ یہ طبقے قومی دولت سے قرضے لیتے ہیں اور بعد میں اپنے ان قرضوں کو معاف بھی کروالیتے ہیں اور اس کا سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ جبکہ صاحب اقتدار طبقہ قومی خزانے سے دولت سمیٹنے کا کوئی بھی موقع ضائع نہیں کرتا۔ غریب عوام سے جمع کیا گیا ٹیکس ان امیروں کے اللے تللوں اور پروٹوکول پر خرچ کیا جاتا ہے۔ حکمرانوں کے ناانصافی پر مبنی انہیں اقدامات کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے اور حکومت کے تمام تر دعوئوں کے باوجود ملک کی معیشت بنگلا دیش سے بھی پیچھے ہے۔ عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت رواں مالی سال کا جی ڈی پی میں 8.5 فیصد اضافے کا ہدف حاصل نہیں کرپائے گی۔ خطے میں بھارت 7.5 فیصد شرح نموکے ساتھ بدستور پہلے، بھوٹان 6.7 فیصد کے ساتھ دوسرے، بنگلا دیش 6.3 فیصد شرح نمو کے ساتھ تیسرے اور پاکستانی معیشت پانچویں نمبر پر ہے۔
سابقہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ایک طرف تو ملکی معیشت پیچھے کی جانب جارہی ہے، جبکہ دوسری جانب ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کی یہ حالت ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں سماجی، سیاسی، مذہبی اور اقتصادی حوالے سے رپورٹ تیار کرنے والی عالمی شہرت یافتہ سوشل میڈیا تنظیم ’’میڈیا ڈور‘‘ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں 6کروڑ افراد غربت کا شکار ہیں۔ 6کروڑ افراد کی ماہانہ آمدن صرف 4 ہزار ہے، جو ایک ڈالر یومیہ سے بھی انتہائی کم ہے۔ تاہم ہر سال ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستان میںادھار لینے کے رحجان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ 85 فیصد افراد کو پوری کوشش کے باوجود قریبی افراد سے ’’قرضہ‘‘ نہیں ملتا اور غربت کے باعث جرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو ملک میں غربت میں اضافے کا سبب پاکستانی نصف قومی دولت پر قابض ایک فیصد طبقہ ہے، جو قوم کی دولت سے عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہا ہے، جبکہ 99 فیصد شہریوں کی زندگی مشکل ہوچکی ہے۔ یہ طبقہ حکمرانی تو پاکستان میں کرتا ہے، لیکن ان کے کاروبار، ان کی دولت اور اولادیں بیرون ملک ہوتی ہیں، یہاں یہ لوگ صرف پاکستان کے عوام پر حکمرانی کرنے آتے ہیں۔ ملک میں غربت کی وجہ اسی قبیل کے لوگ ہیں، جو قوم کے پیسوں پر عیاشی کرتے ہیں اور ملک کو ٹیکس تک ادا نہیں کرتے، جو پاکستان کے قومی وسائل کو بے دردی کے ساتھ لوٹ کر قومی دولت کو بیرونی ملکوں میں منتقل کردیتے ہیں۔ عوام سے ٹیکس وصول کرنے والے حکمران خود اپنی دولت کو بیرون ملک لگا کر ٹیکس ادا کرنے سے جان بچا رہے ہیں۔
مسلم لیگ (ن)نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی 100 روزہ کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 100 روز مسلسل جھوٹ بولے، شرح نمومیں کمی اورمہنگائی بڑھ گئی ہے تو نوکریاں کیسے ملیں گی، روپے کی قدر میں تاریخی کمی سے 600 ارب روپے قرض بڑھ گئے، وزیراعظم کے پاس اہلیت ہے نہ چیلنجزکا احساس، ابھی تک جان نہ پائے رولز آف بزنس کیا ہے، 50 لاکھ گھروں کیلئے 5کھرب روپے چاہئیں کہاں سے آئیں گے، بتایا جائے بیرون ملک 11 ارب ڈالرز کس کے ہیں، عمران خان اور کابینہ احتساب کیلئے پیش ہوں ان کے وزیر گرفتار نہ ہوئے تو میں ذمہ دارہوں گا۔ گزشتہ روز شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، مریم اورنگزیب اور رانا ثناء اللہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران حکومت کی سو روزہ کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کیا۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے 100 دن میں سو جھوٹ بولے گئے، حکومت بتائے کہ جعلی اکائونٹس میں پیسے کس کے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منی لانڈرنگ اورکرپشن کی باتیں کرتے ہیں جس کا کوئی ثبوت اورحقیقت نہیں، حکومت خوداپنی بدنامی کر رہی ہے کہ چوری ہورہی ہے جسے ہم روک نہیں سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں تاریخ میں سب سے زیادہ کمی آج ہوئی، وزیراعظم کے خطاب کے بعد آج ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا، ڈالرکی قیمت بڑھنے سے پاکستان پر 600 ارب روپے قرض بڑھ گیا، معیشت بہتر نہیں ہوگی تو روزگار کیسے بڑھے گا۔ انہوں نے کہاکہ اب وزیراعظم کہتے ہیں کتے پالیں، معیشت بہتر ہوجائے گی، حکومت دیسی مرغی، انڈے اور جانوروں کے لئے ٹیکے فراہم کرے گی۔ ان کا کہناتھاکہ ہماری معاشی اورمالی پالیسی کوپوری دنیا نے سراہا تھا، ٹیکس نہ دینے والوں سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی، جب تک لوگ ٹیکس نہیں دیں گے، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مفتاح اسماعیل کی پیش کردہ معاشی اصلاحات ہی کرپشن اور منی لانڈرنگ روکنے کا واحدطریقہ تھا، اس پالیسی کوفالو کرلیں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مسائل ختم ہوجائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نیب بھی بھرتیوں کے حوالے سے بیان پر شاہدخاقان عباسی نے کہاکہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ 100 دن میں وزیراعظم نیب میں ایک چپڑاسی بھی بھرتی نہ کر سکے۔ان کا کہنا تھاکہ تعلیم کے لئے ہم نے صوبوں کے ساتھ مل کر پروگرام شروع کیاتھا، حکومت اسے آگے بڑھائے۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ نے جب ہیلتھ کارڈاسکیم شروع کی تھی تو پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی نے حصہ نہیں لیاتھاجبکہ ایک کروڑ نوکریاں کی سے پیداہوں گی کوئی بات نہیں کی گئی، 50لاکھ گھروں کے لئے کم سے کم 5 کھرب روپے درکار ہیں، اس پربھی کوئی بات نہیں کی گئی۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے معاشی گروتھ 5.8 فیصد پر چھوڑا تھا، خدشہ ہے کہ یہ سطح کم ہوجائے گی، مہنگائی اور افراط زرمیں ان تین ماہ میں جتنا اضافہ ہوا کسی دور میں نہیں ہوا، موجودہ دور حکومت میں برآمدات اور بیرون ملک سے مالی ترسیلات میں بھی کم ہوئیں۔ ان کا کہنا تھاکہ وزیراعظم اپنی تقریرکے دوران پہلی صف میں بیٹھے افراد کے چہرے ہی دیکھ لیتے تو پتاچل جاتاکہ آج حکومت کی کیا پالیسی اور کیا حالات ہیں۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ عمران خان کوتوآج تک یقین نہیں آیاکہ وہ وزیراعظم بن گئے جبکہ آج بھی ملک کااپوزیشن لیڈرجیل میں ہے۔ ان کا کہناتھاکہ ہم احتساب کے سب سے بڑے حامی ہیں،میں نے کہاتھامجھ سے اور میری کابینہ سے شروع کریں، عمران خان اورکابینہ احتساب کے لئے پیش ہوں، ان کے وزیرگرفتارنہ ہوں تومیں ذمہ دار ہوں گا۔ اس موقع پر سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ وائٹ پیپرثابت کرے گا کہ عمران خان کے پاس نہ اہلیت ہے اور نہ چیلنجز کا احساس ہے، وزیراعظم صاحب کو 100 دن ہو گئے اب تک یہ نہ جان پائے کہ رولز آف بزنس کیا ہے، پاکستان کا وزیراعظم جواب دہ نہیں کہ مرغیوں کی افزائش کی سے ہوتی ہے اورکٹے کتنے صحت مندہیں، مرغیوں کی افزائش اور کٹوں کو صحتمند رکھنے کی ذمہ داری وزیراعلیٰ کی ہوتی ہے۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 100دن اپنے گھروں کی آسائشوں پرلاکھوں روپے خرچ کرنے میں مصروف رہے‘ہم اگرحکومت میں ہوتے تو ایک روپیہ لگائے بغیرپانچ سال رہ لیتے۔
دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کا کہناہے کہ روپے کی قدر کم ہونے پر گھبرائیں نہیں کچھ دن میں سب ٹھیک ہوجائے گا،روپیہ جلد مضبوط ہوگا ، ہمیںڈالرز کی کمی نہیں ہوگی،سب سے بڑا مسئلہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ ہے، کار مینوفیکچرنگ پلانٹ سے 45 ہزار ملازمتیں ملیں گی، منی لانڈرنگ ، ہنڈی اور حوالہ روکنے کی کوشش کررہے ہیں ، ملک میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں اور وہ قدم اٹھارہے ہیں جس سے مستقبل میں ڈالر کی کمی نہیں ہوگی،روپے کی قدر کم ہونے پر صبح سے بہت سی کالز آئیں، جو لوگ گھبرائے ہوئے ہیں وہ فکر نہ کریں، موجودہ مشکل عارضی ہے، ہم وہ قدم اٹھارہے ہیں جس سے مستقبل میں ڈالر کی کمی نہیں ہوگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پہلی بار پاکستان میں ایک پورا کار مینوفیکچرنگ پلانٹ لگنے لگا ہے جو پاکستان میں مکمل کارسازی کا پہلا منصوبہ ہے، اس جوائنٹ وینچر سے 45 ہزار پاکستانیوں کو ملازمتیں ملیں گی اور منصوبے سے 900 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہونے جارہی ہے ،جو لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنی ہیں، اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے چین سے قرض کے بجائے ٹیکنالوجی ٹرانسفر کا مطالبہ کیا، ہم پاکستان میں ایسی سرمایہ کاری چاہتے ہیں جس میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر ہو تاکہ لوگ ہنرمند ہوں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں بہت صلاحیت موجود ہے، بیرون ملک لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں، یہاں بننے والی گاڑیاں اگر ایکسپورٹ ہوئیں تو مزید ڈالرز آئیں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہر سال 10 ارب ڈالرز کی منی لانڈرنگ ہورہی ہے، ہم منی لانڈرنگ ، ہنڈی اور حوالہ روکنے کی کوشش کررہے ہیں اور ہمارا روپیہ جلد مضبوط ہوگا اور ہمیں ڈالرز کی کمی نہیں ہوگی۔

(104 بار دیکھا گیا)

تبصرے