Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 11 دسمبر 2018
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

انڈے مرغی کی سرکار

صابرعلی پیر 03 دسمبر 2018
انڈے مرغی کی سرکار

سیاسی مخالفین حکومت کیخلاف مختلف نعرے لگاتے رہے ہیں خاص طور پر جب کوئی بھی حکومت لوگوں کو جمہوری حق استعمال کرنے احتجاجی جلسے، جلوس اور مظاہرے کرنے پر انہیں پولیس تشدد کا نشانہ بناتی ہے یا انہیں جمہوری احتجاج سے روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کرتی ہے تو سیاسی مخالفین عموماً یہ نعرہ ضرورت لگاتے ہیں
لاٹھی گولی کی سرکار
نہیں چلے گی، نہیں چلے گی۔۔
لیکن موجودہ دور حکومت میں جہاں اور بہت سے دلچسپ نعرے اور باتیں سننے کو ملی ہیں یہ نعرہ بھی سننے کو ملا ہے کہ
انڈے مرغی کی سرکار
نہیں چلے گی، نہیں چلے گی
شکر ہے کہ ابھی موجودہ حکومت پر یہ وقت نہیں آیا کہ مخالفین وہ یہ مقبول نعرہ لگائیں کہ
لاٹھی گولی کی سرکار
نہیں چلے گی نہیں چلے گی
لیکن ایسا لگتا ہے کہ موجودہ حکومت کے پہلے 100دنوں میں حکومت کی جانب سے مفاد عامہ کے خلاف جس تیزی سے اقدامات سامنے آرہے ہیں اس کے نتیجے میں وہ وقت دور نہیں ہے جب لوگ مہنگائی اور دیگر عوام دشمن اقدامات کیئے جانے کے نتیجے میں اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکلیں گے اور جمہوری حکومت کو ہمیشہ کی طرح اپنا قانونی حق استعمال کرتے ہوئے یہ اعلان کرنا پڑے گا کہ احتجاج کرنے والوں سے آئین ہاتھوں سے نمٹا جائے گا کسی کو قانون ہاتھ میںلینے کی اجازت نہیں دی جائیگی ہر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ عوام قانون ہاتھ میں لینے کیلئے حکومت سے باقاعدہ اجازت مانگیں گے اور اس کیلئے ڈپٹی کمشنر یا گورنر اور وزیر اعلیٰ کو درخواست دیں گے کہ وہ قانون ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں، لہٰذا انہیں اس کی اجازت دی جائے اور حکومت اپنے اس عزم کو دہرائے گی کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائیگی خیر بات ہورہی تھی اس مقبول نعرے کی کہ
لاٹھی گولی کی سرکار
نہیں چلے گی، نہیں چلے گی
جب لوگ احتجاج کیلئے سڑکوںپر نکلیں گے اور حکومت ہمیشہ کی طرح قانون ہاتھ میں لینے والوں کیخلاف آئین ہاتھ استعمال کرتے ہوئے لاٹھی گولی کا استعمال کرے گی تو لوگ ایک با پھر اس نعرے کا سہارا لیں گے کہ
لاٹھی گولی کی سرکاری
نہیں چلے گی، نہیں چلے گی
فی الحال اس نعرے کی نوبت نہیں آئی ہے تاہم وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے 100دن پورے ہونے کے فوری بعد اگلے روز غریبوں کی معاشی حالت بہتر کرنے کیلئے انڈوں مرغیوں اور کٹے کے استعمال سے تجارت کرنے کا جو معاشی فارمولاپیش کیا ہے اس پر یہ نیا نعرہ سامنے آیا ہے کہ
انڈے مرغی کی سرکار
نہیں چلے گی، نہیں چلے گی
یہ نیا نعرہ نواز شریف حکومت کی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے متعارف کرایا جواب عوام میں تیزی سے مقبولیت حاصل کررہا ہے اس طرح لوگ جو لاٹھی گولی کی سرکار کے نعرے کو بھولتے جارہے تھے انہیں ایک نیا اور دلچسپ نعرہ مل گیا ہے
انڈے مرغی کی سرکار
وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے انڈے اور مرغی کی تجارت کا معاشی فارمولا سوشل میڈیا پر اس قدر مقبول ہورہا ہے کہ لوگوں نے وزیر اعظم کے اس معاشی فارمولے کو انتہائی دلچسپ انداز میں آڑے ہاتھوں لیا ہوا ہے دوسرے لفظوں میں وزیر اعظم کے اس فارمولے کا بے پناہ مذاق اڑایا جارہا ہے یہاں تک کہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم بھی اس حوالے سے کوئی معقول جواب دینے سے محروم دکھائی دیتی ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی اس نئی معاشی پالیسی پر عام لوگ تو اپنے اپنے انداز میں دلچسپ اور مزاحیہ تبصرے کرہی رہے ہیں حکومت مخالفین بھی اس حوالے سے کسی سے پیچھے نہیں ہیں پیپلز پارٹی کے رہنماء خورشید شاہ نے بھی اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور کہا ہے کہ لیڈر قوم کو ایٹم بم دیتا ہے یہ انڈے دے رہے ہیں خورشید شاہ نے وزیر اعظم عمران خان کے حکومتی امور چلانے سے متعلق یہ تبصرہ بھی کیا کہ
کوا چلا ہنس کی چال
اپنی چال بھی بھول گیا
پی ٹی آئی حکومت کے پہلے 100دنوں میں ڈالر کی قیمت 20روپے سے زائد بڑھنے پر جہاں اسے پاکستان کی تاریخ میں سب سے کم مدت میں سب سے زیادہ اضافہ قرار دیا جارہا ہے وہیں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی حکومت کے اقدامات پر ان پر تاک تاک کے تنقید ی کے تیر برسا رہے ہیں بلاول بھٹو نے حکومتی اقدامات پر بڑھنے والی مہنگائی خصوصاً آٹے اور روٹی اور نان کی قیمت پر اضافہ پر دلچسپ پیرائے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 10روپے کی روٹی 15روپے کا نان یہ ہے عمران خان کا نیا پاکستان ڈالر کے ریٹ بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں اس پر لوگ سابقہ مسلم لیگ (ن) حکومت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار جن کا نام ہی اسحاق ڈالر پڑ گیا تھا تاہم نئی صورت حال میں اب لوگ اسحاق ڈار کو بھی بھول گئے ہیں اور یہ کہا جارہا ہے کہ موجودہ وزیر خزانہ اسد عمر سے بہتر تو اسحاق ڈار ہی تھا اس نے اپنے 4سالوں میں ڈالر کے اتنے ریٹ نہیں بڑھائے تھے جتنے عمران خان اور ان کے وزیر خزانہ اسد عمر نے ایک دن میں بڑھا دیئے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ڈالر کے ریٹ بڑھنے پر انتہائی مطمئن دکھائی دیتے ہیں اور عوام کو یہ تسلی دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ ڈالر کے ریٹ بڑھنے سے انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے میں ہوں نا سب ٹھیک کردوں گا پی ٹی آئی اور اس کے چیئرمین عمران خان نے نواز شریف اور آصف علی زرداری کو کرپشن کے حوالے سے جس طرح ٹارگیٹ کیا تھا اور عوام نے واقعتا نواز شریف اور آصف علی زرداری کو وہ سب کچھ مان لیا تھا یعنی چور، ڈاکو، لٹیرے اور یہ سب مان کر ہی عوام نے پی ٹی آئی کو قبولیت بخشی اور پی ٹی آئی مذکورہ دونوں سیاست دانوں کیخلاف فضاء بنا کر اقتدار میں آگئی لیکن پی ٹی آئی حکومت کے پہلے 100روز میں ہی عوام کے چودہ طبق روشن ہوگئے ہیں اور ایسا معلوم ہورہا ہے کہ لوگوں کوصرف 100 دن کی مختصر مدت میں ہی اپنی اس غلطی کا احساس ہورہا ہے کہ انہوں نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے دلفریب نعروں اور دعوئوں کے نتیجے میں اپنے مسائل کے حل اور اپنی ترقی و خوشحالی کے جو خواب دیکھ لیئے تھے وہ چکنا چور ہوتے نظر آرہے ہیں پی ٹی آئی حکومت کے پہلے 100روز میں بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی اسی طرح جاری رہی خصوصاً کراچی میں کے الیکٹرک کا قبلہ درست نہ ہوسکایہ ہی نہیں بجلی، گیس اور پیٹرول سمیت امریکی ڈالر کے ریٹ میں بجائے کمی کے مزید اضافہ ہی ہورہا ہے، خصوصاً پیٹرول کی قیمت عالمی منڈی میں کم ہونے کے باوجود پاکستان میںپیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے اور کمی بھی ہوئی ہے تو صرف برائے نام سابقہ حکومت اور موجودہ حکومت میں کیا فرق رہ گیا سابقہ حکومتوں میں بھی پیٹرول پر 3-2روپے کمی کی جاتی تھی اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اور وزیر اعظم عمران خان نے بھی سابقہ حکمرانوں کی طرز پر حکومت کرنا ہے، بجلی ، گیس اور پیٹرول سمیت ڈالر کے نرخوں میں اسی طرح اضافہ کرتے رہنا ہے پیٹرول میں 2روپے کمی کرکے اگلے ماہ 6روپے کا اضافہ کر دینا ہے توپھر سابقہ حکمرانوں اور موجودہ حکومت میں کیا فرق ہے بات ہورہی تھی انڈے مرغی کی سرکارکی، اب حکومت کا کام ہے کہ وہ اس نعرے کی نفی کرتے ہوئے اپنے آئندہ 100روز میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے ایسے ٹھوس اقدامات کرے کہ حکومت مخالفین کے یہ نعرے اور مذاق بنانے کی باتیں خود ان کا منہ چڑانے لگیں 100روزہ اقتدار میں پی ٹی آئی حکومت نے کوئی ایک کام بھی ایسا نہیں کیاکہ جس کے نتجے میں غریب عوام کو ریلیف مل سکے صرف گورنر ہائوس کی دیوار یںبھی گرانے وزیر اعظم ہائوس کی بھینسیں اور گاڑیاں نیلام کرنے سے ملک کی معیشت بہتر نہیں ہوگی نہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے گا وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل جو دعویٰ اور اعلانات کئے تھے، یا تو ان پر واقعتا عمل درآمد کیا جائے یا پھر عوام سے معذرت کرلی جائے کہ حکومت میں آنے سے قبل جو دعویٰ یا اعلانات کیئے گئے تھے، وہ صرف انتخابی مہم کا حصہ تھے ان کا عملی اقدامات سے کوئی تعلق نہیں تھا اس لیئے کہ 5سال میں 50لاکھ گھر بنانا اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ ایسا وعدہ ہے جو وفا نہیں ہوسکتا پی ٹی آئی حکومت اپنے پہلے 100روز میں روزانہ ایک نوکری دیتی اور ایک گھر بھی بنائی تو 100روز میں 100نوکریاں اور 100گھر بن جاتے ، سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی 5سالوں میں 5لاکھ گھر بنانے کا دعوہ کیا تھا وہ بھی بہ مشکل 5ہزار گھر بنانے کا منصوبہ بناسکے پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ 100دنوں میں مختلف ذریعوں سے سروے کرواکر یہ معلوم کرنے کی کوششیں ضرور کی ہے کہ کہاں کہاں زمین خالی ہیں ایک اطلاع کے مطابق کراچی میں بھی اس حوالے سے جب سروے کیا گیا تو متعلقہ ادارے نے ہری جھنڈی دکھاتے ہوئے بتایا ہے کہ زمین خالی نہیں ہے البتہ خالی زمینوں پر قبضہ ضرور ہے دوسری جانب کراچی میں لوگوں کے لیز گھر گرائے جارہے ہیں اور یہ کہا جارہا ہے کہ یہ غلط بنائے گئے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان غلط گھر بنانے کیلئے لیز دینے اور نقشہ پاس کرانے والے کسی ایک افسر کو بھی اب تک سزاکیوں نہیں دی گئی البتہ لاکھوں روپے خرچ کرکے گھر بنانے والوں کا گھر اور دکانیں گراکر انہیں ضرور سزادی جارہی ہے اس لیئے پی ٹی آئی حکومت خصوصاً وزیر اعظم عمران خان قوم کو معاشی بد حالی سے نکالنے کیلئے کوئی ایسا ٹھوس پروگرام ضرور دیں جس کے نتیجے میں انہیں واقعتا روزگار حاصل ہوسکے، ورنہ موجودی حکومت کے خلاف لگائے جانیو الا یہ نعرہ کہ انڈے مرغی کی سرکار نہیں چلے گی نہیں چلے گی نہ صرف عوام میں مزید مقبول ہوگا بلکہ حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔آپ اپنی رائے اس واٹس اپ نمبر پر دے سکتے ہیں7064197-0300

(54 بار دیکھا گیا)

تبصرے

مزید خبریں