Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 11 دسمبر 2018
LZ_SITE_TITLE
 
No one covers Karachi like we do!

فلم انڈسٹری میں تبدیلی دیکھ کر ہوتی ہے حیرانی، کامران جیلانی

عاصم رحمانی اتوار 02 دسمبر 2018
فلم انڈسٹری میں تبدیلی دیکھ کر ہوتی ہے حیرانی، کامران جیلانی

کراچی سے تعلق رکھنے والے معروف اداکار کامران جیلانی نے کہا ہے کہ میں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بطور بینکر کیا تھا بعد اداکاری کی بڑھتی ہوئی مصروفیات کے باعث بینک کی نوکری کو خیرباد کہہ دیا اور مکمل طور پر اداکاری کے شعبہ کو اپنا لیا۔اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں کرداروں کے انتخاب میں بہت محتاط ہوں اسی لئے کبھی آنکھ بند کرکے ڈرامہ سائن نہیں کرتا بلکہ پہلے اسکرپٹ پڑھتا ہوں اور اس کے ساتھ اپنا کرداربھی دیکھتا ہوں۔ انہوں نے کہا یہ بات نہایت خوش آئند ہے کہ ان دنوں لاہورمیں ٹی وی پروڈکشن عروج پر ہے اور میری اطلاع کے مطابق لاہورمیں بہت سے ڈراموں کی ریکارڈنگ ہورہی ہے جس کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن اس سے جہاں فنکاروں کو کام کے مواقع مل رہے ہیں وہیں تکنیک کاروں میں بھی آسودگی آئی ہے کیونکہ اس سے پہلے لاہور کے زیادہ تر ٹیکنیشن یا توکام نہیں کررہے تھے یاوہ کراچی منتقل ہورہے تھے۔ کامران جیلانی نے بتایا کہ میں حادثاتی اداکارہ ہوں کیونکہ مجھے اداکاری کا بالکل شوق نہیں تھا لیکن بڑے بھائی کو ضرورتھا۔والد کی وفات کے بعد ہمیں مشکل کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ہمیں اس بات کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ والد صاحب ہمیں اتنی جلد چھوڑ جائیں گے۔اداکار نے کہا کہ ماضی میں کم لیکن نہایت معیاری کام ہوتا تھا اور ہرڈرامے کی ریہرسل کئی کئی دن تک ہوتی رہتی تھیں لیکن اب ساراکام مشینی اندازسے ہورہا ہے، ڈراموں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی، ہر فنکار، ہر رائٹر اور ہرڈائریکٹر پر بہت زیادہ بوجھ ہے لیکن تعداد بڑھنے سے کوالٹی کم ہوگئی ہے ، ڈرامے تیزی سے اس لئے بنائے جارہے ہیں کیونکہ چینلز کا پیٹ بھرنا ہے، آج روزانہ کتنے ڈرامے نشر کئے جارہے ہیں، نہ تو سارے ڈرامے برے ہیں اور نہ ہی سارے اچھے، بلکہ اچھے ڈراموں کی تعداد کم ہے لیکن اس کے باوجود آج بھی ہمیں اچھے اچھے ڈرامے دیکھنے کو مل رہے ہیں،مجھے آج کے ڈراموں سے یہ شکایت ہے کہ ہم نے صرف عورت کو محوربنالیا ہے اور ہرڈرامے میں عورت کو بیچ رہے ہیں ، کیا مسائل صرف عورتوں کی زندگی میں ہی ہیں‘ مردوں کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اداکار نے بتایاکہ میں نے ڈراموں میں بے شمار کردار کئے ہیں لیکن ابھی بہت سے ایسے کردار ہیں جو میں نہیں کرسکا، میری خواہش ہے کہ دس بارہ سال تک ہیرو آتا رہوں لیکن اس کے ساتھ ساتھ میری شدید خواہش ہے کہ میں کسی ڈرامے میں فوجی کا کردارکروں۔میں کام میں یکسانیت کا قائل نہیں ہوں اس لئے ہربار منفردکام کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور میری خواہش ہوتی ہے کہ خودکو کردارمیں ڈھال لوں۔ کامران جیلانی نے مزیدکہا کہ اکثر لوگ پاکستان ڈراموں پر تنقید کرتے ہیں کہ وہ بولڈ ہوتے ہیں لیکن سب لوگ بھارتی فلمیں اور بھارتی ڈراموں کے بولڈ مناظر پوری فیملی کے ساتھ بیٹھ کردیکھ سکتے ہیں لیکن اگر اپنے ڈرامے میں تھوڑی سی اونچ نیچ ہوجائے تو اسے برابھلاکہتے ہیں، میرے خیال میں ہمارایہ رویہ درست نہیں ہے۔

(36 بار دیکھا گیا)

تبصرے

مزید خبریں