Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 11 دسمبر 2018
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

چینی قونصل خانہ… بنا نشانہ

عارف اقبال جمعه 30 نومبر 2018
چینی قونصل خانہ… بنا نشانہ

کراچی کا امن ملک دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکنے لگا ہے‘ دنیا کو معلوم ہے کہ کراچی ترقی کرے گا تو پاکستان ترقی کرے گا‘ اس وقت دفاعی سازو سامان کی 4 روزہ نمائش کراچی میں جاری ہے اور آج نمائش کا آخری روز ہے۔ اس نمائش میں 52 ممالک کے وفود شرکت کررہے ہیں اور سی پیک منصوبہ ہمارے پڑوسی ممالک کو ہضم نہیں ہورہا ہے‘ وہ اس منصوبے کو ناکام بنانے اور پاک چین کی مضبوط دوستی میں دراڑیں ڈالنے کے لئے بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم ’’را‘‘ نے ملک میں اپنے کارندوں کو سرگرم کردیا ہے۔ 23 نومبر کی صبح تقریباً 9 بجے شہر کے ریڈ زون ایریا میں جدید اسلحے سے لیس بم بردار بلوچستان لبریشن آرمی کے دہشت گردوں نے کلفٹن نمبر 4 عبداللہ شاہ غازی مزارکے قریب واقع چینی قونصل خانہ کو نشانہ بنایا اور قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی‘ اس کوشش میں دہشت گردوں نے سب سے پہلے قونصل خانے کے سامنے لگے بیریئرر کی طرف بم سے حملہ کیا جو ایک زور دار دھماکے سے پھٹا جس کے بعد دہشت گردوں نے جدید ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس پر قونصلیٹ پر تعینات پولیس افسر و اہلکار اور سیکورٹی گارڈز نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں 2 پولیس اہلکار شہید جبکہ سیکورٹی گارڈ زخمی ہوا اور پولیس کی جوابی کارروائی میں 3 دہشت گرد بھی مارے گئے۔ رینجرز حکام کے مطابق رینجرز کے اسنائپرز نے 2 دہشت گردوں کو نشانہ بنایا‘ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی شہر بھر سے ریڈ زون میں واقع چینی قونصل خانے پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری طلب کرلی گئی‘ فائرنگ کافی شدید اور دوطرفہ ہوئی‘ اس دوران فائرنگ اور دھماکے کی آوازیں کافی دور تک سنی گئیں۔ واقعہ کے فوری بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا جبکہ چینی قونصلیٹ کی طرف جانے والی ٹریفک روک دی گئی۔ پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے کلفٹن بلاک 4 میں سفید رنگ کی کار LIANA نمبر AKS-973 میں سوار 3 مسلح دہشت گردوں نے چینی قونصل خانے میں گھسنے کی کوشش کی‘ جسے وہاں تعینات سیکورٹی اہلکاروں نے ناکام بنادیا۔ قونصل خانے میں گھسنے کی کوشش ناکام ہوتا دیکھ کر دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کردی جس کے بعد سیکورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں3دہشت گرد ہلاک جبکہ پولیس کے 2اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔3حملہ آور سفید کار پر چینی قونصلیٹ کے قریب پہنچے اور قونصل خانے کے دروازے پر تعینات پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا‘ پولیس اہلکاروں نے مقابلہ کیا‘ دہشت گردوں کی فائرنگ سے چینی قونصل خانے کی سیکورٹی پر مامور2 پولیس اہلکار اور ویزہ لینے کے لئے آنے والے باپ‘ بیٹا اور سیکورٹی گارڈ زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لئے اسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے پولیس اہلکار اور باپ بیٹے نے راستے میں دم توڑ دیا جبکہ زخمی سیکورٹی گارڈ کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔اس ضمن میں پولیس نے بتایا کہ اسپتال میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت 40 سالہ اے ایس آئی اشرف دائود ولد محمد دائود‘ کانسٹیبل محمد عامر ولد زودار خان کے نام سے ہوئی جبکہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے باپ بیٹے کی شناخت 50 سالہ نیاز محمد ولد عبدالعزیز اور 30 سالہ ظاہر شاہ ولد نیاز محمد جبکہ زخمی سیکورٹی گارڈ کی شناخت 40 سالہ جمن شاہ ولد حاجی عالم کے ناموں سے ہوئی۔ شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی چینی قونصل خانے پر تھی۔ ترجمان رینجرز کے مطابق چینی قونصلیٹ کے باہر 35 اہلکار بر وقت ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں‘ دہشت گردوں نے چینی قونصلیٹ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تاہم ڈیوٹی پر موجود رینجرز اور پولیس اہلکاروں نے دہشت گردوں کو روکا‘ دہشت گرد ویزا کمپائونڈ سے اندر داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے تاہم کوئی بھی حملہ آور کمپائونڈ میں داخل نہیں ہوسکا‘ حملے کے وقت چوکی میں موجود اہلکاروں نے قونصلیٹ کی حفاظت کی اور سیکورٹی اہلکاروں نے اطراف میں واقع دیگر سفارتخانوں کا بھی تحفظ کیا۔ جناح اسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے میں 6 افراد اسپتال لائے گئے جن میں 5 افراد اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکے تھے‘ واقعہ میں 5 افراد کی شناخت ہوگئی، جبکہ ایک زخمی شخص اسپتال میں زیر علاج ہے‘ واقعہ کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ چینی قونصلیٹ میں دہشت گردوں کے داخلے کی کوشش ناکام بنادی گئی‘ چینی عملہ محفوظ ہے‘ کارروائی میں3 دہشت گرد مارے گئے تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چینی قونصلیٹ میں دہشت گردوں کے داخلے کی کوشش ناکام بنادی گئی‘ رینجرز اور پولیس نے صورت حال پر قابو پالیاتھاجبکہ علاقے بھی کلیئر کردیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی میں3 دہشت گرد مارے گئے جبکہ قونصلیٹ میں موجود تمام عملہ محفوظ رہا جبکہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی سیف سٹی پروجیکٹ سے محروم ہے اور شہر میں لگے کیمروں کی حالت بھی انتہائی خراب ہے۔ کراچی کو منی پاکستان اور ملک کا معاشی حب کہا جاتا ہے مگر جب بات کی جائے شہر سے جرائم کی روک تھام اور شہریوں کی حفاظت کی تو کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں۔ شہر کی نگرانی کے لئے لگائے گئے کیمروں کی تعدا دتو انتہائی قلیل ہے ہی مگر جو کیمرے نصب ہیں‘ ان کی آنکھوں سے بھی ملزمان اکثر اوجھل ہی رہتے ہیں‘ نتیجہ ملزمان صاف بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ شہری حکومت اور ٹریفک پولیس نے شہریوں کی نگرانی کے لئے مختلف مقامات پر 2200 کیمرے لگا رکھے ہیں مگر یہ تعداد کراچی جیسے بڑے شہر کے لئے ناکافی ہے۔ چائنیز قونصل خانے پر دہشت گردانہ حملے کے فوراً بعد وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام جائے وقوعہ پر پہنچے‘ ان کے ہمراہ متعلقہ سینئر پولیس افسران و دیگر بھی تھے۔ آئی جی سندھ نے اس موقع پر سفارت خانہ کے سینئر نمائندگان اور دیگر اسٹاف سے ملاقات کی اور دوران بریفنگ بتایا کہ دہشت گردانہ حملے کوناکام بنانے میں فرنٹ پر پولیس نے انتہائی جرأت و بہادری کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں پولیس کے 2 جوان شہید ہوئے‘ تاہم چائنا قونصلیٹ پر دہشت گردانہ حملے کو ناکام بناتے ہوئے اپنے جانوں کا نذرانہ دینے والے شہید اے ایس آئی اشرف دائود اور کانسٹیبل محمد عامر خان کی نماز جنازہ پولیس ہیڈ کوارٹرز گارڈن سائوتھ میں ادا کی گئی۔ اس موقع پر پولیس کے خصوصی دستے نے شہداء کو سلام پیش کیا اور پھولوں کی چادر چڑھائی‘ نما زجنازہ میں گورنر سندھ عمران اسماعیل‘ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ‘ کور کمانڈر کراچی آئی جی سندھ‘ ڈی جی رینجرز و دیگر سینئر پولیس افسران کے علاوہ شہداء کے عزیز و اقارب اور اہلیان علاقہ نے بھی شرکت کی۔ چینی قونصل خانے میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والا اے ایس آئی اشرف دائود لیاری نیا آباد کا رہائشی اور سوگواران میں3 بیٹیاں اور ایک 3 سالہ بیٹا شامل ہے جبکہ کانسٹیبل عامر خان کلفٹن نیلم کالونی کا رہائشی اور سوگواروں میں ایک بیٹی‘ ڈھائی ماہ کا بیٹا اور بیوہ شامل ہے۔ دہشت گردوں سے مقابلے کے دوران شہید ہونے والے پولیس کانسٹیبل عامر خان کے بھائی اور بھتیجے نے بھی ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کے گھر پر حملے کے دوران جام شہادت نوش کیاتھا، شہید پولیس کانسٹیبل عامر خان کے بھائی عجب خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چینی قونصلیٹ پر حملے کے بعد عامر کے دوست کا فون آیا اور اس نے بتایا کہ چینی قونصلیٹ پر حملہ ہوا ہے اور عامر کا فون نہیں لگ رہا ہے جس پر میں نے اپنے دوسرے بھائی کو جناح اسپتال بھیجا تو وہاں پتہ چلا کہ عامر شہید ہوگیا ہے۔ عجب خان کے مطابق شہید پولیس کانسٹیبل عامر خان کا ایک ڈھائی ماہ کا بیٹا ہے جبکہ ہمارے بڑے بھائی کے ساتھ ساتھ ان کا بھتیجا بھی شہید ہوچکا ہے‘ ہم 5 بھائی تھے‘ 2 شہید ہوگئے اور بھتیجے نے بھی پولیس فورس میں رہتے ہوئے جام شہادت نوش کیا جبکہ چینی قونصلیٹ حملے میں شہید باپ بیٹے کو بھی کوئٹہ میں سپرد خاک کیا گیا۔ کوئٹہ کے علاقے پشتون آباد کا رہائشی تاجر نیاز محمد اپنے 26 سالہ بیٹے کے ہمراہ کراچی قونصلیٹ میں ویزے کے سلسلے میں گیا تھا جہاں دہشت گردوں کے حملے میں دونوں باپ بیٹا شہید ہوگئے‘ نیاز محمد اور ظاہر شاہ کی میتیں کوئٹہ لائی گئیں جہاں باپ بیٹے کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مشرقی بائی پاس قبرستان میں تدفین کردی گئی۔ نیاز محمد نے سوگواران میں3 بیٹے اور 7 بیٹیاں چھوڑی ہیں جبکہ ظاہر شاہ کی 2 بیٹیاں ہیں۔ نیاز محمد اپنے گھر کا واحد کفیل تھا۔ نیاز محمد کے بیٹے دائود کا شکوہ تھا کہ دونوں شہداء کی میتیں رات گئے حوالے کی گئیں جبکہ میتوں کی کوئٹہ منتقلی کے لئے ایمبولینس بھی فراہم نہیں کی گئی۔دوسری جانب بلوچستان حکومت نے بھی ان سے رابطہ نہیں کیا۔ لواحقین کے مطابق اس سے قبل بھی باپ بیٹا کاروبار کے سلسلے میں چین آتے جاتے رہے تھے۔ لواحقین نے مطالبہ کیا کہ دونوں شہداء کو شہید پولیس اہلکاروں کے برابر درجہ دیا جائے۔چائنیز قونصل خانے میں دہشت گردی کا شکار ہونے والا 60 سالہ سیکورٹی گارڈ جمن شاہ جناح اسپتال میں زیر علاج ہے۔ سندھ کے شہر مورو کے علاقے تعلقہ محمد رحیم گوٹھ سے تعلق رکھنے والے 56 سالہ محمد جمن کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ7سال سے چینی قونصل خانے میں تعینات ہے۔ اس کی ڈیوٹی صبح7بجے سے شام 7بجے تک ہوتی تھی اور کوئی چھٹی نہیں تھی۔ اس نے بتایا کہ قونصل خانے کے مرکزی گیٹ کے قریب گلی میں خصوصی طور پر بیریئر موجود ہے، جہاں 2 پولیس اہلکار ہوتے تھے۔ جبکہ وہ اپنے پاس اسلحہ نہیں رکھتا تھا، بلکہ میٹل ڈٹیکٹر سے آنے جانے والوں کو چیک کرتا تھا۔ واقعے والی صبح7بجے وہ ڈیوٹی پر آیا اور رات والے گارڈ کو واپس بھیج دیا اور اس کے بعد سب سے پہلے بیریئر (باقی صفحہ 4 پر)
کو چیک کیا۔ لگ بھگ سوا 8 بجے 2 افراد جن کی عمریں 25 سے 35 سال تھیں، آئے اور کہا کہ ویزا لگوانا ہے۔ اس نے منع کر دیا کہ ابھی قونصل خانہ بند ہے اور 9 بجے کھلے گا، اس کے بعدآئو۔ 9 بجے ویزا سیکشن میں کام شروع ہوا۔ سوا 9 بجے کے قریب بیریئر کے قریب ایک کار آکررکی۔ اس میں ایک آدمی بیٹھا رہا اور 3اتر گئے۔ چاروں افراد نے آپس میں بات چیت کی اور ان میں سے3 آگے بڑھے تو اس نے دیکھا کہ ان کے ہاتھوں میں اسلحہ ہے۔ خطرہ بھانپ کر اس نے اے ایس آئی اشرف داؤد اور سپاہی عامر کو آگاہ کیا، جنہوں نے حملہ آوروں کو روکنے کیلئے فائرنگ کی۔ جواب میں حملہ آوروں نے3 دستی بم اچھالے اور فائرنگ شروع کر دی۔ اس دوران پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک حملہ آور مارا گیا۔ دیگر دونوں حملہ آور شدید فائرنگ کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ اس وقت پولیس والوں نے چیخ کر کہا کہ، چچا جمن بیریئر نہیں کھولنے دینا۔ یہ گاڑی اندر لانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ اس (محمد جمن) نے بند بیریئر کی وائر تھامے رکھی۔ اسی دوران حملے آوروں کی فائرنگ سے دونوں پولیس والے شہید ہوگئے اور اسے بھی گرنیڈ کے ٹکڑے لگے، جس کے بعد وہ بے ہوش ہوگیا۔
محمد جمن کا کہنا تھا کہ وہ روزگار کی تلاش میں 12سال پہلے کراچی آیا تھا۔ گائوں میں اس کی 110 سالہ والدہ رہتی ہیں۔ والد کا انتقال ہو چکا ہے۔ محمد جمن کی بیوی 16 سال قبل فوت ہو چکی ہے اور اس کے چار بچے ہیں۔ 3 بیٹیاں شادی شدہ ہیں۔ ایک بیٹا جوان ہے، تاہم اس کی دائیں ٹانگ ایک حادثے میں کٹ گئی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ڈیفنس صباء کمرشل میں واقع گائوں کے لوگوںکے ساتھ فلیٹ میں رہتا ہے۔ 12 ہزار تنخواہ ہے، جس میں سے 8 ہزار روپے والدہ کو بھیجتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اب صحت یاب ہونے کے بعد وہ نوکری کے قابل نہیں رہے گا۔ محمد جمن نے بتایا کہ اس کے لئے اب تک کسی معاوضے یا انعام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ پولیس نے واقعہ کے بعد تفتیش کا آغاز کیا اور جائے وقوعہ سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولا بارود برآمد کیا۔ شعبہ تفتیش کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا تھا کہ چینی قونصلیٹ پر حملہ کرنے والے تینوں دہشت گرد غیر تربیت یافتہ معلوم ہوتے تھے۔ دہشت گرد چینی قونصل خانے سے 150 قدم کے فاصلے پر اُترے اور کاندھے پر ہتھیار لے کر چینی قونصل خانے کی طرف پیدل مارچ کرتے ہوئے قونصل خانے کی طرف آنے لگے‘ دہشت گردوں کے راستے میں آنے والے کسی فرد کو نہ تو گولی ماری‘ نہ ہی کوئی اہمیت دی‘ ملزمان جب چینی قونصل خانے کے قریب موٹر سائیکل پارکنگ کے پاس پہنچے تو وہاں موٹر سائیکل پر موجود ایک شخص کو نظرانداز کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے گئے‘تینوں دہشت گردوں کے پاس موجود کلاشنکوف میں لال رنگ سے ٹیپ سے جڑے 2 میگزین لگے تھے۔
شعبہ تفتیش کے سینئر افسر نے بتایا کہ دہشت گردوں نے جس طرح مقابلہ کیا‘ اس سے نہیں لگتا کہ وہ گوریلا تربیت رکھتے ہیں‘ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار تھے اور قوی امکان ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد 4 ہو اور ایک حملہ آور کارمیں ہی ہو اور اس کی وجہ سے ہی وہ دہشت گردی کا سامان چھوڑ کر گئے جبکہ تفتیشی ذرائع کا کہنا تھا کہ گاڑی پر 3 سے زائد افراد کے فنگر پرنٹس موجود ہیں جو حاصل کرلئے گئے‘ نادرا سے چیک کرانے کے بعد ملزمان کی شناخت ہوجائے گی۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق حملے میں زیر استعمال اسلحہ سے بھی فنگر پرنٹس لئے گئے ہیں اور تمام فنگر پرنٹس نادرا کو بھجوادیئے گئے ہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چینی قونصلیٹ پر حملے میں ملوث 2 مبینہ سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک سہولت کار کو کراچی جبکہ دوسرے کو شہداد پور سے گرفتار کیا گیا۔ دہشت گردوں نے آخری بار کراچی سے گرفتار شخص سے بات کی تھی۔ ذرائع کے مطابق کراچی سے گرفتار شخص کی نشاندہی پر شہداد پور سے دوسرے ملزم کو گرفتار کیا گیا‘ کراچی سے حراست میں لئے گئے شخص کو پوچھ گچھ کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا جبکہ اس دوران بھارتی خفیہ ایجنسی اور افغان خفیہ ایجنسی کی جانب سے حملے کے لئے فنڈنگ کرنے کا انکشاف ہوا ہے‘ سہولت کاروں نے گاڑی کی خریداری میں اہم کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے 2 ماہ قبل چینی قونصل خانے کی ریکی کی اور دہشت گردوں کے زیر استعمال گاڑی کی آخری رجسٹریشن 6 سال پرانی ہے۔ گاڑی کی فروخت اور خریداری میں ملوث افراد کا بیان ریکارڈ کرلیا گیا‘ چینی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے کا مقدمہ ایس ایچ او تھانہ بوٹ بیسن اشفاق احمد کی مدعیت میں درج کرلیا گیا جس میں 8 سے 10 افراد کو سہولت کار نامزد کیا گیا ہے۔ کائونٹرٹیرازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) میں مقدمہ الزام نمبر 153/2018 سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں انسداد دہشت گردی‘ بارودی مواد‘ قتل‘ اقدام قتل سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر کے متن میں درج ہے کہ ہلاک دہشت گرد آزل رزاق اور رئیس بلوچ کا تعلق بلوچ لبریشن آرمی سے تھا۔ ہلاک حملہ آور رزاق کا تعلق خاران سے ہے‘ مقدمے میں ہلاک دہشت گردوں کے 13 سہولت کاروں کو بھی نامزد کیا گیا جن میں پہلا نام حریبارمری کا ہے۔ حربیار مری مرحوم بلوچ رہنما خیربخش مری کے صاحبزادے ہیں قونصلیٹ کے سہولت کاروں میں اسلم اچھو‘ نور بخش مینگل‘ کریم مری‘ کمانڈر نثار ‘ کمانڈر شریف‘ آغا شیردل‘ کمانڈر گیندی‘ کمانڈر گیندو‘ کیپٹن رحمان گل‘ کمانڈر حمل‘ مرک بلوچ‘ بشیر زیب اور کمانڈر منشی شامل ہیں۔ ایف آئی آر کے متن میں درج ہے کہ حملے کے دوران ہلاک شدہ دہشت گرد مفرور ملزمان سے رابطے میں تھے۔ مقدمے کے متن کے مطابق دہشت گردوں نے 2 پولیس اہلکاروں کو قتل کیا‘ گیٹ پر مامور جمن خان کو فائرنگ سے زخمی کیا‘ قونصلیٹ آنے والے افراد فائرنگ کی آواز سن کر اندر چلے گئے‘ دہشت گردوں نے گیٹ کو توڑنے کے لئے آئی ای ڈی ڈیوائس استعمال کی‘ مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2 افراد بھی ہلاک ہوئے جبکہ پولیس اور رینجرز نے تینوں دہشت گردوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا‘ حملے میں قونصلیٹ کے باہر کھڑی 9 گاڑیوں کو جزوی نقصان پہنچا۔ استقبالیے پر ہلاک دہشت گرد کے قبضے سے ایک کلاشنکوف برآمد ہوئی جبکہ اس کے بیگ سے شناختی کارڈ اور سرکاری سروس کارڈ بھی برآمد ہوا۔ مقدمے کے متن کے مطابق کمرے کے اندر ہلاک دہشت گرد سے ایک کلاشنکوف اور گولیاں برآمد ہوئیں۔ قونصلیٹ کے باہر ہلاک دہشت گرد سے ایک کلاشنکوف‘ گولیاں اور میگزین برآمد ہوا۔ دہشت گرد کے بیگ سے 3 بم اور فرسٹ ایڈ کا سامان برآمد ہوا جبکہ جائے وقوعہ سے 7 دستی بم اور کلاشنکوف کے 40 خول تحویل میں لئے گئے جبکہ ہلاک دہشت گردوں کا تعلق کالعدم بی ایل اے سے ہے اور کالعدم بی ایل اے کا بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے تعلق ہے۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کے زیر استعمال گاڑی کا فارنزک مکمل کرلیا گیا ہے۔ گاڑی پر 3 سے زیادہ افراد کے فنگرز پرنٹس موجود ہیں۔
چین کے قونصل خانے پر حملے کی تفتیش جاری ہے‘ تحقیقاتی اداروں نے حملہ آوروں کا روٹ طے کرلیا، ممکنہ طور پر حملہ آور حب کے راستے کراچی پہنچے ہیں ، گاڑی کی کئی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرلی گئی ہیں ، زیر حراست افراد سے تفتیش کی روشنی میں خواتین سمیت مزید 12 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے ، سی ٹی ڈی کی کئی ٹیمیں اندرون سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تفتیش کررہی ہیں۔ جمعہ کی صبح کلفٹن کے علاقے میں چین کے قونصل خانے پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار اورباپ بیٹا جاں بحق جبکہ ایک سیکورٹی گارڈ زخمی ہوگیا تھا ، پولیس کی جوابی فائرنگ سے تینوں حملہ آور مارے گئے تھے ، واقعے کی تفتیش پولیس ، سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے کررہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ تحقیقاتی اداروں نے حملہ آوروں کے چین کے قونصل خانے تک پہنچنے کا روٹ طے کرلیا ہے ، گاڑی بھی کرائے پر حاصل کی گئی تھی ، اس سلسلے میں تحقیقاتی اداروں نے قونصلیٹ کے اطراف لگے سی سی ٹی وی کیمروں ، قریبی گلیوں ، کلفٹن اور بوٹ بیسن کی شاہراہوں پر لگے کیمروں کی فوٹیجز حاصل کیں تو اس کے بعد مائی کلاچی ، ٹاور ، گلبائی اور شیرشاہ میں لگے کیمروں کی فوٹیج حاصل کی تو اس میں حملہ آوروں کی گاڑی نظر آرہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شیرشاہ سے پہلے کی کوئی فوٹیج نہیں مل سکی ، شیرشاہ سے ملنے والی فوٹیج سے یہ بات صاف ظاہر ہورہی ہے کہ حملہ آور حب سے کراچی پہنچے اور حب ریور روڈ سے گزرتے ہوئے شیرشاہ ، مائی کلاچی روڈ ، ٹاور اور بوٹ بیسن سے ہوتے ہوئے قونصلیٹ تک پہنچے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ زیر حراست افراد سے بھی تفتیش جاری ہے اور کچھ اہم پیش رفت ہوئی ہے ، تفتیش میں کچھ خواتین کا بھی کردار سامنے آیا ہے اور زیر حراست افراد سے کی گئی تحقیقات کی روشنی میں مزید 12 افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کی غرض سے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے ، حراست میں لیے جانے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں ، ذرائع نے مزید بتایا کہ سی ٹی ڈی کی مختلف ٹیمیں اس وقت اندرون سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں جوکہ تفتیش میں مصروف ہیں اور جلد ہی بریک تھرو کا امکان ہے۔
اب تک کی معلومات کے مطابق دہشت گرد 3 تھے اور کوئی بھی فرار نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے کافی معلومات ملی ہیں کہ دہشت گرد کہاں سے آئے تھے اور کس نے پناہ دی تھی تاہم اس کو ابھی منظرعام پر نہیں لایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا جائے وقوع پر جو گاڑیاں جلی ہیں وہ دستی بم پھٹنے کے باعث جلی ہیں اور ان گاڑیوں پر ملنے والے نشانات کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔د ستی بم سے گیس کی پائپ لائن بھی پھٹی جس سے آگ لگ گئی تھی۔ دہشت گردوں سے ملنے والے مواد کے بارے میں دہشت گردوں سے ملنے والا سی فور ایکسپلو زیو ہے جو دیسی ساختہ نہیں ہوتا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس نے بھی ان دہشت گردوں سے یہ کام کرایا ہے، بارودی مواد بھی انہوں نے ہی فراہم کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ بی ایل اے نے ذمہ داری قبول کی ہے، بی ایل اے کے پیچھے دشمن ملک کی ایجنسی کا ہاتھ ہے حملے کی تحقیقات میں گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں لیکن ابھی بتانا قبل از وقت ہے۔ مقدمے میں نامزد اسلم عرف اچھو بی ایل اے کا انتہائی اہم کمانڈر ہے اور اسلم عرف اچھو کی بھارت میں موجودگی کی تحقیقات کررہے ہیں۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے قبضے سے ملنے والے فون اور موبائل سم کی بھی فرانزک کی جارہی ہے اور دہشت گرد واردات کے دوران اور ا س سے قبل کن سے رابطوں میں تھے اسکی بھی معلومات حاصل کی جارہی ہیں تاہم اس کی تفصیلات ابھی بتائی نہیں جاسکتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی چو روں سے خریدی گئی تھی اور اس سلسلے میں بھی 3افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے بھی تفتیش جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سہولت کاری کے الزام میں ہونے والی گرفتاریوں میں ایک اہم گرفتاری بھی شامل ہے جس سے نامعلوم مقام پر تفتیش کا عمل جاری ہے۔مذکورہ واقعے کی ذمے داری کالعدم بی ایل اے نے قبول کی ہے اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے کی جانب سے حملے میں شریک دہشت گردوں کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں وہ انگریزی میں بیان دے رہے ہیں اور دیگر نوجوانوں کو بھی پیغام دے رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد کارروائی کے دوران کالعدم تنظٰم کا جھنڈا بھی ساتھ لائے تھے جو انہیں ویڈیو میں پہناتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے اور قوی امکان ہے کہ دہشت گر اپنی کارروائی کے بعد وہاں جھنڈا لہرانا چاہتے تھے تاہم ان کے مارے جانے سے یہ منصوبہ ناکام ہوگیا،ایک دہشت گرد کے حوالے سے اطلاعات ملی ہیں کہ وہ بلوچستان میں سرکاری ملازمت کرتا تھا تاہم اسکی مزید تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کے گھر والے کافی پہلے اسے لاتعلقی کا اعلان کرچکے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے اس سلسلے میں سوچ بچار کی جارہی ہے کہ سرکاری ملازمین کی اسکریننگ بھی کرائی جائے گی تاکہ اندازہ لگایا جاسکے کہ کتنے افراد شدت پسندی کی ذہنیت رکھتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے بی ایل اے کی جانب سے اس سے قبل رواں سال دالبدین بلوچستان میں بھی چینی بس پر حملہ کیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی تلاش میں کراچی سمیت اندرون سندھ بھی کارروائی کو مزید تیز کیا جائیگا۔چینی قونصل چینی قونصل خانے پر حملے کے حوالے سے سیکورٹی گارڈ نے بیان دیا ہے کہ دہشت گرد حملہ کرنے سے قبل بھی قونصلیٹ آئے تھے تاہم اس وقت وہ غیر مسلح تھے جس سے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اسلحہ کہیں قریب ہی چھپایا ہوا تھا اور دہشت گرد 3 کے بجائے 4تھے ‘جبکہ دوسری جانب سی ٹی ڈی انچارج کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد 3 تھی ہوسکتا ہے گارڈ کا دیکھنے کا نظریہ الگ ہو۔ واقعے کی جیو فینسگ کے ساتھ ساتھ دیگر تکنیکی امور کے ساتھ تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے اور سہولت کاری میں ملوث ہونے کے شبے میں3افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد ہونے والے موبائل فونز اور سم کی فارنزک جانچ جاری ہے اور دہشت گرد اس دوران کس سے ہدایات لیتے رہے اس کی تفتیش پر بھی کام جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق چینی قونصل خانے پر ہونے والے حملے میں دہشتگردوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے والے سیکورٹی گارڈ جمن کا بیان قلمبند کرلیا گیا ہے۔چینی قونصل خانے پر دہشت گرد حملے میں زخمی گارڈ جمن کا کہنا ہے کے دہشت گردوں کے بیریئر تک پہنچنے پر پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں سے استفسار کیا جس پر حملہ آوروں نے خود کو عام شہری ظاہر کرتے ہوئے ویزا سیکشن میں جانے کی کوشش کی تاہم گارڈ اور پولیس اہلکاروں نے انہیں بتایا کہ ابھی ویزا سیکشن کھلا نہیں ہے9بجے تک آئیں جس پر حملہ آور لوٹ گئے اور تقریباً نصف گھنٹے بعد دوبارہ مسلح ہوکر لوٹے اور آتے ہی گولیوں کی بو چھاڑ کردی اور گرنیڈ سے حملہ کردیا۔زخمی سیکورٹی گارڈ کے انکشاف سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور قونصلیٹ کے قریب گاڑی میں مہلک اسلحہ کے ساتھ موجود رہے جو سیکورٹی انتظامات میں سنگین نقائص کی علامت ہے۔دوسری جانب سی ٹی انچارج راجہ عمر خطاب نے چینی قونصل خانے کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی گارڈ نے بیان دیا ہے کہ دہشت گردوں کی تعداد 4 تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملے میں کوئی چینی باشندہ زخمی نہیں ہوا ہے رینجرز اور پولیس کے جوانوں نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو چینی قونصل خانے کے باہر ہی ہلاک کردیا ، دہشت گردوں کے زیر استعمال گاڑی میں دھماکہ خیز مواد ، خودکش جیکٹس اور اسلحہ کی موجودگی پر فوری طور پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا گیا ، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر خودکش جیکٹس اور دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنایا ، پولیس کی جانب سے میڈیا کو فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے 9 دستی بم برآمد ہوئے ہیں، پولیس نے مزید بتایا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے خود کش جیکٹس، کلاشنکوف اور 72 گولیاں، میگزینز اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔
چینی قونصل خانے پر حملے کیلئے بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے خصوصی دستے ’’مجید بریگیڈ‘‘ کو استعمال کیا۔ پاکستان میں چینی مفادات پر حملوں کیلئے مختص کئے گئے اس دہشت گرد گروپ کے کراچی میں نیٹ ورک موجود ہونے کے شواہد مل گئے ہیں۔ مجید بریگیڈ نے شہر کے پوش علاقوں میں نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے۔ کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ کرنے کیلئے اطراف کے علاقے کی گلیوں اور قونصل خانے کے اندر کی ریکی3 دہشت گردوں کی آمد سے قبل ہی بلوچ لبریشن آرمی کے کارندے کر کے جاچکے تھے۔ ان کی معلومات کی بنیاد پر تینوں دہشت گردوں کو پلاننگ کر کے حملے کے لئے بھجوایا گیا۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد تنظیم کا یہ گروپ 2010ء کے بعد بلوچستان لبریشن آرمی کے سرگرم دہشت گرد باز محمد بلوچ کے مارے جانے کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ اس گروپ کے دہشت گردوں کو صرف عملی کارروائی کیلئے ہی ٹھکانوں سے باہر نکالا جاتا ہے۔ مذکورہ گروپ 1970ء کی دہائی میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو پر کوئٹہ میں ہینڈ گرینیڈ کے ذریعے خودکش حملہ کرنے والے دہشت گرد مجید بلوچ اول اور 2010ء میں مارے جانے والے بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بلوچ ثانی کے نام سے منسوب کرکے قائم کیا گیا۔ تاہم اس کا باقاعدہ اعلان باز محمد بلوچ کے مارے جانے کے بعد کیا گیا تھا۔ جس نے بلوچ لبریشن آرمی میں ’’درویش بلوچ ‘‘ کے نام سے شہرت حاصل کی تھی۔ سیکورٹی اداروں سے وابستہ ذرائع کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی دنیا بھر میں سی پیک منصوبے کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور پاک چین دوستی کو زک پہنچانے کیلئے سرگرم ہے۔ تاہم اس کالعدم تنظیم نے پاکستان میں چینی مفادات کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے ایک خصوصی دستہ بنا رکھا ہے، جسے ’’مجید بریگیڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس گروپ کے دہشت گردوں کو بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں تربیت دی گئی ہے اور اب انہوں نے کراچی کے پوش علاقوں میں ٹھکانے قائم کرلئے ہیں۔ تحقیقاتی اداروں نے چینی قونصل خانے پر حملے کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں کی آبادیوں میں ان کے ٹھکانوں کی تلاش شرو ع کر دی ہے، جن میں گزری، لیاری، ملیر، گڈاپ اور موچکو کے علاوہ ڈیفنس اور کلفٹن میں قائم آبادیاں نیلم کالونی، شاہ رسول کالونی اور دہلی کالونی سمیت ٹاپو کے علاقے بھی شامل ہیں۔ ان آبادیوں میں حالیہ عرصہ کے دوران آکر رہائش رکھنے والے مشکوک افراد کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کیلئے انٹیلی جنس نیٹ ورک کے علاوہ پولیس کی اسپیشل برانچ کو بھی ٹاسک دیا گیا ہے۔
ذرائع کے بقول کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے ’’مجید بریگیڈ ‘‘ گروپ میں ان افراد اور نوجوانوں کو شامل کیا جاتا ہے، جن کے ذہن پہلے ہی برین واشڈ کئے جا چکے ہوتے ہیں اور یہ کہ ان میں لڑنے بھڑنے کی صلاحیت دوسروں سے زیادہ ہوتی ہے۔ ان دہشت گردوں کو منتخب کرنے کے بعد انہیں ٹریننگ بلوچستان کے ان پہاڑی علاقوں میں دی جاتی ہے، جو ایران اور افغانستان کی سرحدوں سے منسلک ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ان دہشت گردوں کو تربیت بھارتی خفیہ ایجنسی کے ’’را‘‘ کے عسکری ماہرین سے دلوائی جاتی ہے۔ انہیں مکمل طور پر بھارتی فوجی اسٹائل میں کمانڈو ٹریننگ دی جاتی ہے۔ بالخصوص انہیں ’’قلابازیاں‘‘ کھانے کے بعد دوبارہ اٹھ کر کھڑے ہوکر فائرنگ کرنے اور ’’رولنگ اور کرولنگ‘‘ کے دوران خودکار ہتھیار چلانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ ذرائع کے بقول بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ کے کارندوں کی تربیت کا سلسلہ بھارتی سرپرستی میں 2011ء میں شروع کیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر پانچ پانچ دہشت گردوں کی دو ٹولیاں تیار کی گئی تھیں، جنہوں نے پہلا حملہ 2011ء میں ہی کوئٹہ میں سابق وزیر مملکت شوکت مینگل کی رہائش گاہ پر کیا تھا۔ اس حملے میں 13 شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ اس کارروائی کیلئے دہشت گردوں نے 50 کلو سے زائد بارودی مواد سے بھری دو گاڑیاں استعمال کی تھیں اور دھماکے کے بعد اطراف میں فائرنگ بھی کی تھی۔ ذرائع کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی کے اس دہشت گرد گروپ کو خصوصی طور پر خودکش حملوں کیلئے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ اس گروپ میں منتخب ہونے والے دہشت گردوں کی ٹریننگ پر چونکہ لاکھوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں، اس لئے ایک بار گروپ میں شامل ہونے اور ٹریننگ شروع ہونے کے بعد ان دہشت گردوں کو دوبارہ گھروں کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یہ دہشت گرد اپنے اہل خانہ کیلئے ’’لاپتہ‘‘ ہو جاتے ہیں۔ انہیں ’’لاپتہ‘‘ اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ گھر والوں اور رشتے داروں سے رابطوں کے نتیجے میں ان کا خودکش حملوں کے لئے بننے والا ذہن تبدیل نہ ہو سکے۔ ذرائع کے بقول دہشت گرد علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے اس مخصوص گروپ کے تحت اب تک بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں 7 بڑے حملے کئے جا چکے ہیں۔ کوئٹہ میں سابق وزیر مملکت شوکت مینگل کی رہائش گاہ پر حملے کے علاوہ رواں برس ہی اگست کے مہینے میں ریحان بلوچ نامی دہشت گرد کے ذریعے دالبندین کے علاقے میں چینی انجینئرز کی گاڑی پر کیا جانے والا خود کش حملہ بھی شامل ہے، جس میں 6 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ ذرائع کے بقول 2010ء میں اس دہشت گرد گروپ کے قیام کے بعد 2013ء تک اس کے ذریعے ملکی اداروں اور سیاست دانوں پر حملے کرائے جاتے رہے۔ تاہم بعد ازاں اس گروپ کے دہشت گردوں کو صرف چینی باشندوں، انجینئرز اور چینی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لئے مخصوص کر دیا گیا۔ اس گروپ کے دہشت گرد کمانڈر اسلم بلوچ کی ہدایات پر کارروائیاں کرتے ہیں۔ رواں برس چینی انجینئرز پر حملہ کرنے والا نوجوان دہشت گرد ریحان بلوچ، اسلم بلوچ کا بیٹا تھا۔ اس کے علاوہ بھی دہشت گرد مجید بریگیڈ کے کمانڈر اسلم بلوچ سے ہی رابطے میں رہ کر ہدایات لیتے ہیں۔ اسلم بلوچ اس وقت بھارت میں روپوش ہے، جہاں پر وہ ایک اسپتال میں زیر علاج ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی جانب سے منتخب کردہ اہداف پر عمل درآمد کروانے کیلئے ہی اسلم بلوچ کے ذریعے بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گردوں کو ہدایات دی جاتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق چینی سفارتخانے پر حملے کے فوری بعد خیبر پختون کے علاقے ہنگو میں بھی دہشت گردی کی کارروائی کی گئی اور یہ کارروائی بھی بھارتی خفیہ ایجنسی کے احکامات پر کرائی گئی، جس کا مقصد فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانا ہیں۔
کلفٹن میں چینی قونصلیٹ پر حملہ ناکام بنانے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قونصل خانوں کی سیکورٹی کا آڈٹ شروع کردیا‘چینی قونصل خانے میں تعینات چینی حکام سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینے باہر نکل آئے۔ سیکورٹی پر مامور پولیس اور رینجرز اہلکاروں نے حملے اور فورسز کے آپریشن اور سیکورٹی اقدامات کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔بوٹ بیسن تھانے کے علاقے کلفٹن بلاک 4 عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے قریب واقع چینی قونصل خانے پر دہشت گرد حملے کو ناکام بنانے کے بعد سیکورٹی اداروں نے سیکورٹی کو مزید فول پروف بنانے کے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قونصل خانوں کا سیکورٹی آڈٹ شروع کردیا جس کے لئے ایف سی حکام نے مختلف قونصلیٹس کا دورہ کیا اور سیکورٹی اقدامات کا جائزہ لیا۔ ایف سی حکام کا کہنا ہے کہ سیکورٹی آڈٹ پولیس، ایف سی و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہم آہنگی بڑھانے کیلئے کیا جارہا ہے۔ شہر بھر میں فارن سیکورٹی پر ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں۔ ایف سی کے علاوہ قونصلیٹ ، اسکول اور رہائش گاہوں پر پولیس، رینجرز اور پرائیوٹ سیکورٹی بھی تین شفٹوں میں تعینات ہے۔ چینی قونصلیٹ پر حملے کے 2 روز بعد قونصل خانے میں تعینات چینی حکام نے جائے وقوع کا دورہ کیا۔ قونصلیٹ کے حکام کو پولیس اور رینجرز نے حملے سے متعلق بریفنگ دی اور بتایا کہ فورسز نے کیسے دہشت گردوں کو قابو کیا اور انہیں اندر داخل ہونے نہیں دیا۔ چینی حکام نے جائے وقوع کی تصاویر بھی بنائیں‘ چینی حکام نے رینجرز‘ پولیس اور ایف سی سمیت دیگر سیکورٹی اقدامات بھی چیک کئے۔ رینجرز اور پولیس نے قونصلیٹ کے مرکزی دروازے کو محفوظ ررہنے کے حوالے سے بتایا کہ فورسز کی بروقت کارروائی کے باعث دہشت گردوں کا ناپاک منصوبہ ناکام رہا۔ چینی عملے نے ویزا سیکشن پر ہونے والے نقصان کا بھی جائزہ لیا اور پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔ اسکائوٹس ہیڈ کوارٹرز میں کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ دہشت گردوں کے کچھ مزید سہولت کار بھی گرفتار کرلئے گئے ہیں‘ جہاں سے آئے اور رہے اور جن کے ساتھ رابطے میں تھے‘ گرفتار سہولت کاروں سے تفتیش جاری ہے اور فوری طور پر تفصیلات بتانا قبل از وقت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کتنے سہولت کار گرفتار ہوئے وہ صحیح تعداد نہیں بتاسکتے۔ چیلنجز موجود ہیں اور ہمیں ان کا مقابلہ کرنا ہے بین الاقوامی دفاعی نمائش آئیڈیاز18 20ء شروع ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو چیلنجز چل رہے ہیں خدانخواستہ دہشت گردوں نے کراچی کو سی پیک کے حوالے سے نشانہ بنانے کی کوشش کی اس حوالے سے ہماری تیاری اور بریفنگ کا سیشن تھا۔ کراچی پولیس چیف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف تمام ادارے‘ سول سوسائٹی اور شہری متحد ہیں‘ چینی قونصل خانے پر حملے میں سیکورٹی گارڈ نے بھی بہادری کامظاہرہ کیا۔ قبل ازیں کراچی پولیس چیف نے آپریشن میں حصہ لینے والے ایس ایس پی سائوتھ پیر محمد شاہ‘ ایس پی انویسٹی گیشن طارق دھاریجو‘ اے ایس پی کلفٹن سہائی عزیز‘ ایس ایچ او کلفٹن اور ایس ایچ او آرٹلری میدان کی ٹیم میں شامل اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں سلیوٹ پیش کیا۔ چینی قونصل خانے کو نشانہ بناکر پاک چین دوستی اور اقتصادی راہداری پر دہشت گردوں کے حملے نے پاکستان اور چین کے عوام کے رشتے کو مزید مضبوط کردیا ہے ۔ چینی سفارتی عملے کی حفاظت کے لئے جس طرح پاکستانی اہلکاروں اور سیکورٹی عملے نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا چینی عوام اور خواص بھی شہید اور زخمی ہونے والوں کے ساتھ عقیدت کا اظہار کرکے جواب دے رہے ہیں۔ چینی عوام نے کراچی میں قونصل خانے پر حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کی مالی معاونت کے لئے عطیات جمع کرنا شروع کردیئے ہیں ۔ چینی قونصل خانے کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں اسسٹنٹ سب انسپکٹر اشرف دائود اور کانسٹیبل عامر کی شہادت کے فوری بعد پاکستان میں خدمات انجام دینے والی چینی کمپنی ایگزم کنسلٹنگ کمپنی کی خاتون سربراہ Tianru Tang نے عطیات کا اعلان کیا اور چین میں مقبول پیغامات کے تبادلے کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم وی چیٹ کے ذریعے اپنے احباب سے بھی عطیات کی اپیل کی جس پر اسلام آباد میں چینی سفارت خانے میں تعینات سفارتکار ژالی جیان نے سبقت لیتے ہوئے 2000 آر ایم بی عطیہ کئے جبکہ حبیب بینک لمیٹڈ کی بیجنگ میں نمائندہ Wei Cheng نے 4000 آر ایم بی عطیہ کردیئے۔ گوادر کی بندرگاہ اور فری اکنامک زون تعمیر کرنے والی چینی کمپنی چائنا اوور سیزپورٹس ہولڈنگ نے بھی اس مہم میں کھلے دل کے ساتھ حصہ لینے کا اعلان کیا جبکہ پاکستان کے علاوہ چین کی کاروباری کمپنیوں اور انفرادی شخصیات نے بھی پاکستانی اہلکاروں کے لئے مالی عطیات جمع کرائے۔ پاکستان میں زیر تعلیم چینی طلباء کی انجمن نے بھی شہید اہلکاروں کے لئے فنڈز جمع کرنے کی مہم شروع کردی ہے۔ وی چیٹ کے پلیٹ فارم پر دھڑا دھڑعطیات جمع کرانے کے پیغامات موصول ہورہے ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستان او رچین کی دوستی محض زبانی دعویٰ نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ قلبی تعلق رکھتے ہیں۔ وی چیٹ پر قونصلیٹ حملہ شہداء کے اہل خانہ کی معاونت کے لئے عطیات کی مہم جاری ہے‘ چین میں عوامی مقامات پر بھی عطیات وصول کئے جارہے ہیں۔

(17 بار دیکھا گیا)

تبصرے

مزید خبریں