Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 11 دسمبر 2018
LZ_SITE_TITLE
 
No one covers Karachi like we do!

پاکستان آئی ایم ایف کے بغیر بھی جی سکتا ہے

ویب ڈیسک جمعه 30 نومبر 2018
پاکستان آئی ایم ایف کے بغیر بھی جی سکتا ہے

اسلام آباد ۔۔۔ ماہرین اقتصادیات اور دانشوروں پاکستان کو انتہائی سخت شرائط پر مالی امداد کے پیکیج کی پیشکش دیے جانے پر مشورہ دیا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے بغیر بھی جی سکتاہے تاہم اس کے لئے مشترکہ سیاسی کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ بیرونی ادائیگیوں میں عدم توازن ،تجارتی اور مالیاتی خسارے کو پاٹا جاسکے۔آکسفورڈ بک شاپ کے زیر اہتمام ایک مباحثہ سے خطاب میں کہنا تھا کہ اس کے لئے دیگر تمام اقدامات کے علاوہ مالیاتی اداروں، معیشت اور ٹیکس نظام کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات اور غیر ضروری اخراجات پر قابو پانا بھی ضروری ہوگا۔مباحثہ سے خطاب میں سابق وفاقی سیکریٹری اور معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان کے الفاظ تھے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کا ڈکٹیشن مسترد کردینا چاہیئے ۔انہوں نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے 17 ارب ڈالر کے سکوک اور حکومتی بانڈز جاری کرے اور شرح مبادلہ کو مستقل کرنے کے بجائے پاکستانی روپے کو اصل معنوں میں اتار چڑھائو کے مراحل سے گزرنے دے تاکہ پاکستانی کرنسی کی حقیقی قدر کا تعین ہوسکے۔ایم این اے ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کا موقف تھا کہ وسائل اور اخراجات کا فرق تیزی سے وسیع ہورہا ہے جسے قلیل مدتی اقدامات سے قابو میں نہیں لایا جاسکتا۔اس کے لئے حکومت کو سب کو ساتھ ملاتے ہوئے توانائی بحران، بڑھتے گردشی قرضے اور بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لئے کام کرنا ہوگا اور ان مسائل کے حل کے لئے نہ صرف دیگر سیاسی جماعتوں کی اعانت طلب کرنا ہوگی بلکہ عام عوام سے بھی تعاون کی اپیل کرنی ہوگی۔بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ایگزیکٹو جنرل سلیم احمد رانجھا کا قابل غور نکتہ تھا کہ ملک کی مجموعی سرمایہ کاری میں مقامی سرمایہ کاروں کا تناسب 90 سے 95 فیصد ہے، ملک میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کبھی بھی 10 ارب ڈالر سے تجاوز نہ کرسکی، جو بجٹ کا محض 6 فیصد بنتا ہے۔انہوں نے قابل فہم پوائنٹ اٹھایا کہ اگر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات صرف تیل اور توانائی کے شعبہ میں ہی سرمایہ لگادیں تو پاکستان کا آئی ایم ایف پر انحصار ہی ختم ہوسکتا ہے۔

(25 بار دیکھا گیا)

تبصرے

مزید خبریں