Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 11 دسمبر 2018
LZ_SITE_TITLE
 
No one covers Karachi like we do!

بم دھماکہ بنا معمہ !!

رائو عمران اشفاق جمعه 30 نومبر 2018
بم دھماکہ بنا معمہ !!

قائد آباد میں 16 نومبر کی شب ہونے والا بم دھماکہ پولیس کے لیے معمہ بن گیا‘ 14 روز گزرنے کے بعد باوجود پولیس بم دھماکے میں ملوث کسی ملزم کو گرفتار نہیں کرسکی اورنہ ہی یہ تعین کیا جاسکا کہ دہشتگردوںکا ٹارگٹ مذہبی جلوس تھا یا پھرسیکورٹی فورسز کے جوان تھے‘ بم دھماکے کے بعد اصل ملزمان تو گرفتار نہ ہوسکے ‘ ضلع بھر کے تھانوں میں پولیس نے دکانیں کھول لی ہیں‘ کومبنگ آپریشن اور سرچ آپریشن کے نام پر ضلع بھر کی کچی آبادی میں چھاپہ مار کارروائی میں درجنو ں افراد کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کیاجاتا ہے‘ پھر زیر حراست افراد کی رہائی کے لیے جوڑ توڑ کی جاتی ہے‘ بعض تھانوں میں روزانہ کی بنیاد پر کیاجارہا ہے ‘ لیکن اب تک بم دھماکے کی گتھی سلجھ نہ سکی‘ بم دھماکے میں 2 محنت کش جاں بحق اور9 افراد زخمی ہوئے تھے‘ دھماکہ رات پونے گیارہ بجے ہواتھا‘ اگر یہ دھماکہ شام کوہوتا تو کافی نقصان ہوسکتا تھا‘ قائد آباد فلائی اوور کے نیچے سے گزشتہ ماہ تجاوزات کا صفایا کیاگیاتھا‘ لیکن تجاوزات کا خاتمہ کرنے والے پولیس افسر کا تبادلہ ہوا ‘ اس کے بعد دوبارہ ٹھیلوں کا بازار آباد ہوگیا‘ یہ ٹھیلے ،پتھارے‘ کے ایم سی ٹریفک پولیس اہلکاروں سماجی وسیاسی جماعتوں کی آمدن کا ذریعہ ہیں ‘ سردی کے موسم کی ابتداء سے زیادہ ٹھیلوں پر پرانے گرم کپڑے‘ جوتے کے ٹھیلے ہیں‘ پولیس کے مطابق دہشتگردوں نے بم ایک ٹھیلے کے نیچے نصب کیا تھا ‘ دھماکہ رات 10 بج کر 45 منٹ پر ہوا ‘بم دھماکے سے ٹھیلے اُڑ کر دور جاگرے ‘ جبکہ سامان کئی میٹر دور تک بکھر گیا‘ دھماکہ اتنا شدید تھاکہ اطراف کی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ اورچٹخ گئے‘ علاقے کی بجلی بھی بند کردی گئی‘ جس کے باعث عوام کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑا ‘ امدادی سرگرمیوں اور زخمیوں کو اٹھانے کے لیے شہریوں نے موبائل فونز کی ٹارچ روشن کرکے کام کیا‘ زخمیوں کو زیادہ تر جسم کے نچلے حصو ںپر زخم آئے‘ جس کے حوالے سے موقع پر موجود بم ڈسپوزل اسکواڈ اور پولیس کے فارنسک ماہرین کا کہنا تھا کہ دھماکہ ایک ٹھیلے کے نیچے بم رکھ کر کیا گیاتھا‘ جس سے زمین پر گڑھا پڑ گیا تھا‘زور دار دھماکے کے نتیجے میں ٹھیلے‘ اچھل کرالٹ گئے اور قریب موجود افراد کو جسموں کے زیریں حصوں پر زیادہ زخم آئے‘ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ بم میں نٹ بولٹ یا چھروں کا استعمال نہیں کیاگیا‘ بلکہ جاں بحق اور زخمی افراد کو لوہے کے ٹکڑے لگے ہیں‘ اب تک کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پہلے بم کا وزن 550 گرام سے زائد تھا‘ مذکورہ بم پہلے سے نصب کئے گئے تھے‘ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ مذکورہ کارروائی کے پیچھے کون سا گروپ ملوث ہوسکتا ہے‘ لیکن ماضی میں ہونے والے واقعات کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ اس میں علیحدگی پسند تنظیمیں ملوث ہوسکتی ہیں‘دھماکے میں 2 ٹھیلے والے علی حسن اور رمضان جاں بحق ہوئے تھے‘ ایم ایل او کے مطابق ایک نعش بری طرح جھلسی ہوئی تھی‘جبکہ دوسری نعش پر ایک زخم کا نشان تھا‘ جس نے دل کو شدید متاثر کیا‘ پوسٹ مارٹم کے بعد دونو ں نعشیں ورثاء کے حوالے کردی گئیں‘ دھماکے میں جاں بحق ہونے والے محمد رمضان عرف پپو کی میت لے کر اہل خانہ تدفین کی غرض سے پنجاب ضلع جھنگ روانہ ہوگئے‘ رمضان 9 بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا’ اس کے بھائی واحد بھی ٹھیلے پر فروٹ فروخت کرتا تھا‘ واحد واقعے کا عینی شاہدین بھی ہے ‘ معجزانہ طورپر دھماکے کے بعد محفوظ ہوئے اس نے بتایا کہ وہ روزگار کی تلاش میں کراچی آئے تھے‘جبکہ 15 سالہ علی حسن 7 بہنوں کا اکلوتا بھائی تھااور گھر کا لاڈلہ تھا وہ گھر کی کفالت کے لیے اپنے والد محمد ریاض کے ہمراہ فروٹ چاٹ کا ٹھیلہ لگاتا تھا‘ علی حسن عرف پپو کی ہلاکت کے بعد اس کے گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی تھی‘ دھماکے میں جاں بحق افراد کی اب تک حکومت نے کوئی مالی امداد نہیں کی‘ بہنوں کو اب تک یقین نہیں آرہا تھاکہ ان کا اکلوتا بھائی اس وقت نہیںہے۔ وہ روزانہ شام کو گھر کی دہلیز پر اپنے بھائی کی آمد کا انتظار کرتی ہیں‘ کیونکہ اس کے بھائی پپو نے وعدہ کیاتھا‘ کہ بہنوں کی شادی دھوم دھام سے کرے گا‘ روزانہ شام کو اپنی بہنوں کے لیے من پسند چیز لاتا تھا‘ ان کو دیتاتھا‘ رمضان بھی اکلوتے بیٹے کی موت کے بعد سے ٹھیلہ نہیں لگاتاتھا ‘ کمسن پپو بوڑھے باپ کا سہارا تھا‘ رمضان بھی بیٹے کی موت پر بے سہارا ہوگیا‘ حسن پیر بازار کے قریب خلد آباد میں رہتا تھا‘ رمضان کے مطابق تعزیت کرنے کے لیے سیاسی رہنما آئے ‘ سماجی سیاسی مدد نہیں کی‘ اس نے بتایا کہ میں نے اپنا مقدمہ اللہ کے پاس درج کیاہے ‘ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔دھماکے کے بعد پولیس اور رینجرز نے علاقے کو سیل کرکے سرچنگ کی تو ایک ٹھیلے کے نیچے سے ایک ٹفن ملا‘دھماکے کے مقام سے ملنے والا مشکوک ٹفن میں بھی بم ہی نکلا‘ جسے تلف کردیاگیا‘ بم 2 کلو سے زائد وزنی اور ٹائم ڈیوائس سے منسلک تھا‘ دہشتگردوںکا منصوبہ تھاکہ پہلے چھوٹا دھماکا کیا جائے‘ جس کے بعد جب لوگ جمع ہوجائیں تو دوسرا دھماکا کیاجاتا‘ جس سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلتی‘ حکام کا کہنا تھاکہ اگر یہ بم پھٹ جاتا تو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلتی کیونکہ پہلے دھماکے کے بعد پولیس رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی بھی بڑی تعداد موقع پر پہنچتی ہے‘ بم ڈسپوزل اسکواڈز تاہم قریبی واقع ریڈیو پاکستان کی عمارت کے گرائونڈ میں جاکر ناکارہ بنایا‘قائد آباد بم دھماکے کا مقدمہ سی ٹی ڈی پولیس نے ایس ایچ او شاہ لطیف ٹائون گھنور خان کی مدعیت میں 147/2018 دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کرلیا‘ مقدمے میں قتل ‘ اقدام قتل ‘ 7 اے ٹی اے ‘ 5/4/3 ایکسپلو سووا یکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ تحقیقاتی اداروں نے قائد آباد بم دھماکے کی تفتیش2 پہلوئوں پر شروع کی ہیں‘ ان میںسندھ کی علیحدگی پسند تنظیم اور ہونے کا شبہ ظاہرکیاہے ‘ سی ٹی ڈی سمیت دیگر اداروں نے شواہد اکٹھے کررہے ہیں‘ لیکن تاحال ملوث دہشتگردوں کا سراغ نہیں ملاہے‘ دھماکے سے چند منٹ قبل اسی مقام کے قریب سے جشن میلاد النبی کی ریلی گزری تھی ذرائع کے بقول یہ ریلی بھی ہدف ہوسکتی تھی‘ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دونوں دیسی ساختہ بم آئی ای ڈی ڈیوائس سے منسلک تھے‘ پہلا دھماکا نصف کلو بارودی مواد کاتھا‘ جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے دوسرا بم پھٹنے سے پہلے ناکارہ بنادیا‘ جو 2 کلو وزنی تھا‘ دہشتگرداس بم کو وہاں آنے والے سیکورٹی اہلکاروں پر استعمال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

(15 بار دیکھا گیا)

تبصرے

مزید خبریں