Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 11 دسمبر 2018
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

2دسمبر ۔۔۔سندھی ٹو پی اجرک ڈے

مختار احمد بدھ 28 نومبر 2018
2دسمبر ۔۔۔سندھی ٹو پی اجرک ڈے

تاریخ اور ثقافت کسی بھی قوم کا اثا ثہ ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ نا صرف اسے حکو متی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی محفوظ بنا یا جا ہے تا کہ آ نے والی نسلیں اپنی گزری ہو ئی تاریخ اور ثقافت سے آگا ہی حاصل کر تی رہیں مگر سندھ جو کہ تاریخ اور ثقافت کے معاملے میں دنیا بھر میں سب سے ذرخیز علاقہ ہے اور یہاں 5000ہزار سال قدیم شہر موہن جودڑو ،ہڑپہ ،مکلی کے قبرستان ،رنی کورٹ کا قلعہ جیسی قدیم تاریخی ورثے تو موجود ہیں مگر ہم نے ان کی حفاظت اور دیکھ نہیں کی یہی وجہ ہے کہ سندھ کی وہ قدیم تہذیب جسے عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا ہے بلکہ اقوام متحدہ نے اسے عالمی سطح پر 5000سال قدیم شہر مو ہن جودڑو کے بارے میں یہ تسلیم کیا جا ہے کہ یہ دنیا کا وہ قدیم ترین تہذیب سے آراستہ شہر تھا جہاں بسنے والے لوگ تعلیم ،صنعت و حر فت اور ہنر میں یکتا تھے بلکہ ہزاروں سال پہلے بھی انہوں نے ایسا شہر آباد کر رکھا تھا جہاں رہنے کے لئے مکا نات ،پا نی کی نکا سی کے لئے زیر زمین نالیاں ،پا نی اسٹور کر نے کے لئے ہوض جبکہ نہا نے دھو نے کے لئے غسل خا نوں کے ساتھ ساتھ مدارس ،کا لج ،وقت دیکھنے کے لئے گھڑیاں ،بازار بنا رکھے تھے جس کے پیش نظر یہ پوری دنیا میں کھدا ئی کے دوران بر آمد ہو نے والا پہلا تہذیب یافتہ شہر تھا جو کہ غذائی اجناس پکا کر کھا نے کے ساتھ ساتھ اس وقت جب دنیا بھر میں لوگ پتوں سے اپنے جسم چھپا تے تھے اس شہر کے لوگ ملبوسات استعمال کر تے تھے اور یہاں چر خہ کاٹ کر سوتی کپڑا تیار کیا جا تا تھا اور یہاں کے مرد ،خواتین اور بچے اسے ملبوسات کی شکل میں استعمال کر تے تھے جس کی بنیاد پر اس شہر کو عالمی سطح پر نا صرف قدر منزلت حاصل ہے بلکہ اقوام متحدہ بھی اسے عالمی ورثے کے طور پر تسلیم کر تی ہے اسی طرح اقوام متحدہ نے سندھ کے اندر ہڑپہ ،مکلی کے قبرستان ،رنی کورٹ قلعے سمیت لاتعداد قدیم ورثوں کو عالمی تاریخ کا حصہ قرار دیا مگر صد افسوس کہ عالمی سطح پر سندھ کے ان قدیم علا قوں کو اب تک پذیرا ئی مل رہی ہے لیکن ہم اپنے ان قدیم ورثوں سے غافل ہو کر اس کی صحیح طور پر دیکھ بھال نہیں کر رہے ہیں جس کی بنیاد پر یہ تمام تر قدیم ورثے با وجود سالا نہ بجٹ کی منظوری کے تباہ حا لی کا شکار ہیں جسے دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ عالمی سطح پر تسلیم کئے جا نے والے سندھ کے تمام قدیم ورثے محض کتا بوں تک محدود رہ جائیں گے اور انہیں صرف تصویروں یا کہا نیوں کی صورت میں پڑ ھا جا ئے گاان ورثوں میں قدیم شہر مو ہن جودڑو جسے 96 سال قبل دریا فت کیا گیا تھا کو محفوظ بنا نا کو کجا نو جوان نسل کو اپنی تہذیب سے آگا ہی کے لئے کبھی بڑے پیما نے پر فورم یا سیمنار بھی منعقد نہیں کئے گئے جس کے سبب نو جوان نسل اپنی قدیم تہذیبوں سے نا واقف ہو تی جا رہی ہے وہ تو بھلا ہو سابق صدر پاکستان محترم آصف علی زرداری کا جو کہ 2009 میں ایک غیر ملکی دورے کے موقع پر سندھی ٹو پی پہن کر پہنچ گئے جس کے بعد نجی ٹیلی ویژن کے ایک اینکر نے ان کا مذاق اڑا نا شروع کر دیا جو کہ سندھ میں بسنے والے لوگوں کو کچھ اچھا نہیں لگا اور انہوں نے اس اینکر سے بدلا لینے کے لئے سندھی ٹو پی اور اجرک کا استعمال شروع کر دیا اور اسی موقع پر یہ اعلان کیا گیا کہ سندھ میں بسنے والے ہر سال سندھ کی تاریخ و ثقافت کو زندہ رکھنے کے لئے سندھی ٹو پی اجرک ڈے منا ئیں گے اور اس کے بعد سے یہ سلسلہ اب تک جا ری ہے جس کے تحت ہر سال 2 دسمبر کے موقع پر پورے صوبے میں سندھی ٹو پی اجرک ڈے کوایک تہوار کے طور پر منا یا جا تا ہے اس موقع پر سندھ میں بسنے والے تمام ہ لوگ نا صرف سندھی ٹو پی اور اجرک پہنتے ہیں بلکہ اس حوالے سے پورے سندھ میں جگہ جگہ تقریبات منعقد کی جا تی ہیںاس سلسلے میں شہر کراچی کے مختلف علاقوں سمیت کراچی پریس کلب پر سندھ کی ثقافتی تنظیموں کی جا نب سے بھی رات گئے مچھ کچہری کے ذریعے تقریبات کا آغاز کر دیا جا تا ہے جس کے تحت اسٹیج کے سامنے اس کچہری کی مناسبت سے آگ جلا ئی جا تی ہے اور سندھ بھر سے آئے ہو ئے شعرا ئے کرام اپنے اشعار کے ذریعے سندھ کی قدیم تاریخ اور ثقافت کی بڑا ئی بیان کر تے ہیں جبکہ دوسرے روز نجی چینلز اور ثقافتی تنظیموں کی جا نب سے شہر میں جا بجا کنٹینر پر اسٹیج سجا نے کے ساتھ ساتھ شہر کی اہم شاہراہوں پر بھی اسٹیج بنا ئے جا تے ہیں جہاں سندھ کے لوک فنکار جن میں شازیہ خشک ،سمن میرا نی و دیگر فنکار اپنی آواز کا جادو جگا تے ہو ئے مختلف لوک گیت پیش کر تے ہیں مگر ان گیتوں میں جئے سندھ جئے سندھ وار جیئن سندھی ٹوپی اجرک وار جئے کو خصوصی مقبولیت حاصل ہو تی ہے اور کم و بیش پورے سندھ میں سب سے زیادہ اس نغمے کی ریکارڈنگ کے ساتھ مختلف فنکار اسی گیت کو گا کر داد وتحسین حاصل کر رہے ہو تے ہیں اس موقع پر عوام کا جوش بھی دیدنی ہو تا ہے اور مرد ،خواتین ،بچے جو کہ رنگ برنگے کپڑوں ،اجرک اور سندھی ٹو پی میں ملبوس ہو تے ہیں جا بجا رقص کر تے نظر آتے ہیں جس کی بنیاد پر سندھی ٹو پی اجرک ڈے ایک تہوار سے کم نہیں لگتا مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ سندھی ٹوپی اور اجرک پہن کر فن کا مظاہرہ یا رقص کر رہے ہو تے ہیں ان میں سے بھی بیشتر کو یہ معلوم نہیں کہ سندھی ٹو پی سندھ کے کلچر میں شامل نہیں بلکہ یہ بلوچی کلچر میں شامل ہے اور کیو

نکہ سندھ کے اندر بلو چوں کی ایک بڑی تعداد موجو د ہے ان کی دیکھا دیکھی سندھ واسیوں نے بھی اسے پہننا شروع کر دیا ہے اور اسے سندھی ثقافت کا حصہ قرار دیتے ہیں جبکہ آج پو رے سندھ میں جو اجرکیں 2سے3سو رو پے میں عام دستیاب ہیں یہ سندھ کی ثقافت کا حصہ ہیں مگر یہ بھی اصل اجرک نہیں اصل اجرک وہ ہے جو مو ہن جودڑو سے کنگ پریسٹ کی مورتی پر کنندہ ہے اور یہ اجرک کوئی عام اجرک نہیں بلکہ ماضی میں اسے کھڈیوں پر بنے کپڑوں پر بنا یا جا تا تھا اور اسے 100جڑی بوٹیوں سے رنگنے کے بعد انہیں جڑی بوٹیوں کے ذریعے خاص رنگ تیار کر کے ٹھپے لگا کر اجرکیں تیار کی جاتی تھیں جو کہ سردیوں میں گرم اور گر میوں میں سرد رہتی تھیں اور اسے استعمال کر نے والے لوگ سانس سمیت مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتے تھے اور اس سے آ نے والی جڑی بوٹیوں کی خوشبو صدا برقرار رہتی تھی گو کہ ماضی میں بننے والی یہ قدیم اجرکیں نا پید ہو چکی ہیں مگر اب بھی حیدر آباد ،ہالا اور سن کے در میانی علاقوں میں بعض ہنر مند ایسی اجرکیں تیار کر نے کا کام کر تے ہیں مگر کیو نکہ ایک اجرک کی تیاری میں لگ بھگ 6 ماہ لگ جا نے کے ساتھ ان پر اٹھنے والے اخرا جات بہت زیادہ ہو تے ہیں لہذا ان کی انتہا ئی کم تعداد صرف آرڈر پر تیار کی جا تی ہے اور اس کے کاریگر جو کہ اب لگ بھگ ختم ہو چکے ہیں ان اجرکوں کی قیمت 20سے25ہزار رو پے وصول کر تے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان اجرکوں کی قوت خرید نہ ہو نے کے سبب سندھ سمیت شہرکراچی میں بھی ریشمی کپڑوں پر مشینوں کے ذریعے چھپا ئی کر کے انہیں اجرکوں کا نام دیا جا تا ہے اور مرد ،خواتین اور بچے اس کا استعمال کر تے ہو ئے سندھ کی ثقافت کو اجا گر کر تے نظر آتے ہیں بہر حال اجرک اصلی ہو یا نقلی ہو اصل بات سندھ کی تاریخ اور ثقافت کو زندہ رکھنے کی ہے لہذا سندھی ٹو پی اجرک ڈے پر اجرکوں اور سندھی ٹوپی کے استعمال سے سندھ کی قدیم تہذیب کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ۔

(37 بار دیکھا گیا)

تبصرے

مزید خبریں