Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 15  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

موقع ملا تو جنرل باجوہ سے دوبارہ جپھی ڈالوں گا‘نوجوت سنگھ سدھو

ویب ڈیسک بدھ 28 نومبر 2018
موقع ملا تو جنرل باجوہ سے دوبارہ جپھی ڈالوں گا‘نوجوت سنگھ سدھو

لاہور۔۔۔۔۔۔بھارتی پنجاب کے وزیر سیاحت و ثقافت نوجوت سنگھ سدھو نے کہا ہے کہ پاکستانی و بھارتی عوام کے درمیان رابطے روکنے سے نقصان ہوا، مذاکرات ضرور ہونے چاہئیں، اگر سیاسی عزم ہو تو ہر گتھی کو سلجھایا جاسکتا ہے، عمران خان بہت گریٹ اور صاف آدمی ہیں پاکستان اور انڈیا پانی کا مسئلہ حل کرنے کیلئے بھی تعاون کریں، پانی سب سے بڑی ضرورت ہے آئندہ پانی پر جنگیں ہوں گی،خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ پاک فوج کے جرنل میرے پاس آکر کہیں گے کہ ہم امن چاہتے ہیں اور باتیں کرتے ہوئے مجھے کہیں گے کہ یہ پکا رہا کہ کرتارپور راہداری ہم کھول دیں گے، کرتارپور راہداری سکھوں کی بہت بڑی مانگ اور مراد ہے جو پوری ہورہی ہے جپھی کوئی سازش نہیں پیار کا اظہار ہوتا ہے، موقع ملا تو جنرل قمر جاوید باجوہ سے دوبارہ جپھی ڈالوں گا۔ نوجوت سنگھ سدھو نے مزید کہا کہ جو کام 71سال میں نہیں ہوا وہ تین مہینے میں ہوگیا، کرتارپور صاحب بارڈر کھلنا کسی چمتکار سے کم نہیں ہے،یہ اس وعدے کا یقین ہے جو آج رنگ لے آیا ہے، سرحد بند کرنے اور خون خرابے سے ہمیں کچھ نہیں ملا، پاکستانی و بھارتی عوام کے درمیان رابطے روکنے سے نقصان ہوا، اگر کوئی چیز آگے بڑھی توا من و امان سے بڑھے گی، امن خود ہی خوشحالی کو لے کر آتا ہے، اگر ہم لوگوں کی زندگی میں بہتری لاسکیں تو یہ ایک بڑا قدم ہے منزل ان کو ملتی ہے جن کے سپنوں میں جان ہوتی ہے،پاکستان اور بھارت کی بہتری کیلئے امن سب سے زیادہ ضروری ہے، انڈیا اور پاکستان کے درمیان لوگوں کو ویزا جلد اور آسانی سے ملنا چاہئے، پنجاب میل کو امرتسر سے لاہور، پشاور، افغانستان ،ماسکو اور سینٹرل لندن اور یورپ تک جاتے دیکھنا چاہتا ہوں، پاکستان اور بھارت کو پانی کا مسئلہ حل کرنے کیلئے بھی تعاون کرنا چاہئے، پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کے رشتے بحال ہونے چاہئیں، خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ فوج کے جنرل میرے پاس آکر کہیں گے کہ کرتارپور رہداری ہم کھول دیں گے کرتاپور راہداری ر کو لامتناہی ممکنات اور امید کی راہداری دیکھتا ہوں، پاکستان اسے امن کی راہداری کہتا ہے تو امن کے ساتھ خوشحالی اور عوام کے درمیان رابطے بحال ہوتے ہیں، پنجاب میل ممبئی سے آتی تھی اور لاہور تک چلتی تھی، اگر یہ سرحد کھل گئی تو 6 ماہ میں چھ سال کی ترقی ہوسکتی ہے، ہماری قسمت پر لگے تالے کھل جائیں گے۔

(247 بار دیکھا گیا)

تبصرے