Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 23 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کرتی ہوں وہ جو دل کو بھائے شرمین عبید چنائے

ویب ڈیسک هفته 24 نومبر 2018
کرتی ہوں وہ جو دل کو بھائے شرمین عبید چنائے

پاکستان کی آسکر ایوارڈ یافتہ فلمساز شرمین عبید چنائے نے ایک اور بین الاقوامی اعزاز اپنے نام کرلیا۔ دو مرتبہ اکیڈمی ایوارڈ جیتنے والی فلم ساز شرمین عبید چنائے کو ان کے موضوعات کے انتخاب اور سوچ کے پیشِ نظر نیو یارک میں ’’دی تالبرگ فاونڈیشن‘‘ نے اپنے معتبر اعزاز ’’دی ایلیسن گلوبل لیڈرشپ 2018ء‘‘ سے نوازا ہے۔ شرمین عبید چنائے نے ایوارڈ ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں جدوجہد کے لیے جرأت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس امید پر مشکل کہانیاں سناتی ہیں کہ بات چیت کے ذریعے ان طور طریقوں کو بدلا جا سکے جس کے لیے دنیا ہمیں جانتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں آج دنیا میں ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ناقابل یقین حد تک مثبت اور طاقت ور بیان دیں اور انہیں جاری رکھیں۔ یاد رہے کہ شرمین عبید چنائے کو ان کی ڈاکیو مینٹری فلم ’’سیونگ فیس‘‘ اور ’’ اے گرل ان دی ریور‘‘ کو عالمی سطح پر پذیرا ئی حا صل ہو ئی اور وہ دو آسکر ایوارڈز اور 6 ایمی ایوارڈز بھی لے چکی ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے بھی شرمین عبید چنائے کو ہلالِ امتیاز سے نواز ا گیا ہے۔ شرمین عبید چنائے کراچی میں 1978ء میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اسمتھ کالج سے اکنامکس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ بعدازاں اسٹین فورڈ یونیورسٹی سے انٹرنیشنل پالیسی اسٹیڈیز اور کمیونی کیشن میں ماسٹرزکی ڈگری حاصل کی۔ شرمین اپنے خاندان کی پہلی لڑکی تھیں جنہوں نے پڑھائی کی غرض سے غیر ملک (امریکا) کا چنائو کیا۔ وہ کہتی ہیں ’’بیرون ملک تعلیم کے حصول کے لئے انہیں اپنے والدین کو تھوڑاسا منانا پڑا۔‘‘انہوں نے صحافت، سیاسیات اور دوسرے علوم بھی پڑھے۔ قابل قدر بات یہ ہے کہ انہوں نے فلم میکنگ کی کہیں سے بھی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی۔ ایک مرتبہ جب وہ چھٹیوں پرپاکستان آئی ہوئی تھیں تو انہوں نے پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کے کیمپس کا دورہ کیا جہاں کی حالت زار دیکھ کر انہیں فلم سازی کا پہلی مرتبہ خیال آیا۔ ’’شرمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے سوچا کہ فلم سازی اور خصوصاً دستاویزی فلموں کے ذریعے ہی وہ لوگوں تک اپنی بات زیادہ موثر انداز میں پہنچا سکتی ہیں۔ اس خیال کے ساتھ ہی وہ واپس امریکا گئیں اور اپنی کالج انتظامیہ سے اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔ کالج نے ان کی سوچ اور خیالات کا خیر مقدم کیا اور وہ 2002ء میں پاکستان آکر فلم سازی کے کام میں جٹ گئیں۔ شرمین کا کہنا ہے کہ میری کہانیوں کا موضوع وہی ہوتا ہے جو اکثر لوگ چھوڑ دیتے ہیں‘ ان کا کام معاشرے میں تبدیلی کا سبب بنے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ گیارہ سال سے فلم میکنگ میں ہیں ، اب جاکر یہ مقام انہیں ملا ہے ورنہ ان کے پہلے کام کو 80چینلز مسترد کرچکے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر کام کو مسترد کرنا حوصلے پست کردینے کے لئے کافی ہوتا ہے مگر انہوں نے اس پر بھی ہمت نہیں ہاری اور تن من سے لگی رہیں۔ اسی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج وہ کامیابی ان کے قدم چوم رہی ہے۔ شرمین نے کہا کہ وہ ٹائم مینجمنٹ پر بہت توجہ دیتی ہیں‘ مصروفیت کے باوجود گھر کا سودا سلف وہ خود لاتی ہیں ، خود پکاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سنیماہالز دستاویزی فلمیں نہیں دکھاتے ، ہوسکتا ہے جس طرح غیر ملکی فلموں کی پاکستان میں نمائش شروع ہوئی ہے، دستاویزی فلمیں بھی مارکیٹ ہونے لگیں۔ البتہ انٹرنیٹ کے ذریعے ان کی فلمیں دیکھی جاسکتی ہیں۔

(241 بار دیکھا گیا)

تبصرے