Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 11 دسمبر 2018
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کھانا… موت کا بہانہ

راﺅ عمران اشفاق جمعه 23 نومبر 2018
کھانا… موت کا بہانہ

ویک اینڈ پہ خوب ہلہ گلہ… باہر کھانا پینا… پارک میں کھیل کود… 4 سالہ محمد اور ڈیڑھ سالہ احمد نے کئی روز سے پروگرام بنا رکھا تھا… کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں واقع کرس وسٹا کے رہائشی دونوں بچے اور ان کی ماں ہفتے کی شام پروگرام کے مطابق تفریح کے لئے نکلے‘ ڈیفنس فیز فور میں واقع نثار شہید پارک میں بچوں کے پلے لینڈ چنکی منکی گئے… اس کے بعد زمزمہ پر واقع مشہور ریسٹورنٹ ایری زونا گرل گئے‘ جہاں سب نے کھانا کھایا ‘ اس کے بعد گھر چلے گئے… آدھی رات کو بچوں نے پانی پیا… صبح سویرے انہیں اُلٹیاں شروع ہوگئیں… آہستہ آہستہ حالت غیرہونے لگی تو ان کے چچا انہیں سائوتھ سٹی اسپتال لے گئے جہاں ڈیڑھ سالہ احمد دم توڑ گیا… 4 سالہ محمد کو بچانے کی ڈاکٹروں نے سر توڑ کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے… ڈاکٹر ان بچوں کی والد عائشہ کو بچانے میں کامیاب ہوگئے… 2 بچوں کی موت کی خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی… اسی دوران شہریوں کو پتہ چلا کہ سندھ میں بھی سندھ فوڈ اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ موجود ہے‘ سندھ فوڈ اتھارٹی نے بچوں کے خون کے نمونے لئے‘ ہوٹل سے کھانوں کے نمونے لئے… بچوں کے گھر میں موجود فریج سے کھانوں اور ڈبل روٹی کے نمونے بھی حاصل کرلئے گئے… لیکن اب مسئلہ یہ درپیش تھا کہ ان نمونوں کے ٹیسٹ کہاں کرائے جائیں کیونکہ سندھ میں ایسی کوئی لیبارٹری موجود نہیں ہے… بچوں کے باپ کے لاہور سے آنے کے بعد بچوں کی نعشوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا اور یہ تمام نمونے تجزیے کے لئے پنجاب کی فرانزک لیبارٹری کو بھجوادیئے گئے… اس دوران سندھ فوڈ اتھارٹی نے اپنے وجود کا احساس دلاتے ہوئے شہر میں مختلف ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی کی… فیکٹریاں سیل کیں اور مضر صحت گوشت ضبط کرلیا… اسی ریسٹورنٹ کے گودام سے 4 سالہ پرانا فریز کیا ہوا گوشت برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا… کئی روز بعد پنجاب کی فرانزک لیبارٹری کی رپورٹ بھی منظر عام پر آگئی جس میں انکشاف کیا گیا کہ حکومت سندھ نے وہ مطلوبہ اجزاء ہی نہیں بھجوائے جن کی مدد سے بچوں کی موت کی وجہ کا تعین کیا جاسکے… پنجاب کی لیبارٹری کے متعلقہ حکام نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سندھ حکومت نے اس معاملے میں انتہائی تساہل اور غفلت کا مظاہرہ کیا اور اب اگر دوبارہ بھی بچوں کی قبر کشائی کرکے پوسٹ مارٹم کیاجائے تو مطلوبہ اجزاء حاصل نہیں ہوسکیں گے… سوال یہ ہے کہ اب بچوں کی موت کی وجہ کا تعین کیسے ہوگا… کیا کبھی بھی پتہ نہیں چل سکے گا کہ بچوں کی موت کیوں واقع ہوئی… یہ ایک بہت برا سوالیہ نشان ہے۔…

(27 بار دیکھا گیا)

تبصرے

مزید خبریں