Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 29 فروری 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

دنیا کے مشہور ترین ہیرے

قومی نیوز جمعرات 22 نومبر 2018
دنیا کے مشہور  ترین ہیرے

آج ہیروں کا سب سے زیادہ استعمال بطور جواہرات کیا جاتاہے ‘ ان کی چمک دمک کی وجہ سے ان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے‘ ماہرین کے نزدیک ہیرے کی چار بنیادی خصوصیات اس کی اہمیت یا اس کی قیمت کا تعین کرتی ہیں‘ یہ چار خصوصیات قیراط‘ کٹائی‘ رنگ اور شفافیت ہیں‘ کہا جاتا ہے کہ ہیروں کو سب سے پہلے ہندوستان میں نکالا اور پہچانا گیا‘ ہندوستان میں ہیرو ں کی تاریخ کم وبیش 3000 سال سے لے کر 6000 سال پرانی ہے‘ ہم یہاں اپنے قارئین کی معلومات میں اضافے کے لیے دنیا بھر میں پائے جانے والے مشہور ہیروں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
دنیا کے مشہور ہیرے
سائنس تو ہیرے کو ایک پتھر سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی‘ لیکن ہیرا ہردور میں شاہوں‘ نوابوں ‘ راجائوں‘ مہاراجوں اور طبقہ امیر کے لیے فخر النساء کی علامت رہا ہے‘ بعض ہیروں کی وجہ سے بہت سی شخصیات کو شہرت دوام ملی‘ کچھ ہیرے بعض شخصیات کے لیے خوش قسمتی کی علامت ہوتے ہیںتو بعض مشہور ہیرے نحوست کی علامت بھی ٹھہرے ‘ جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
ٹیلر ‘ برٹن ڈائمنڈ
ہیرا ہر دورمیں خواتین کی کمزوری رہا ہے‘ بہت سے مرد اپنی محنت کی نشانی کے طورپر اپنی محبوبائوں کو ہیرے کا تحفہ پیش کرتے ہیں‘ رچرڈ برٹن نے اپنی محبوبہ الزبتھ ٹیلر کو جو ہیرا پیش کیاتھا‘ اسے ٹیلر برٹن ڈائمنڈ کے نام سے پکارا جاتاہے ‘ 60.42 قیراط ہیرا خریدنے کے لیے رچرڈ جس نیلامی میں گئے وہاں بولی کا سخت مقابلہ تھا‘ اپنے وقت کے امیر ترین لوگ بولی میں حصہ لے رہے تھے‘ لیکن ہیروں کی کمپنی کارئٹر سب سے زیادہ بولی دے کر ہیرا لے گئی‘رچرڈ برٹن کو ہیرا ہاتھ سے جانے کا بہت دکھ ہوا ‘ منت سماجت اور طویل سودے بازی کے بعد 1959 ء میں کمپنی نے 11 لاکھ ڈالر میں یہ ہیرا رچرڈ کو دینے کی حامی بھر ی‘ قیمت کے اعتبار سے یہ اس وقت دنیا کا قیمتی ترین ہیر ا قرار پایا‘ اس ہیرے کے سب سے پہلے مناکو کی ملک اور سابق اداکارہ گریس گیلی نے مختلف اوقات میں اپنی سالگرہ کے موقع پر نیکلس میں جڑوا کر پہنا تھا‘ ہیر ے کی فروخت میں یہ شرط بھی شامل تھی کہ رچرڈ کمپنی کونیویارک اور شکاگو میں قائم اپنے بوتیک میں ہونے والی نمائش میں اس ہیرے کو رکھنے کی اجازت دیں گے‘ جہاں 10 ہزار افراد نے قطار میں اس ہیرے کا دیدار کیا‘ بعد ازاں یہ ہیرا رچرڈ کے ہاتھوں الزبتھ کے گلے کی زینت بنادیا۔
اسٹار آف دی سائوتھ ڈائمنڈ
یہ ہیرا کبھی مہاراجہ پرتاب سنگھ کی اہلیہ کی پازیب میں جڑا تھا‘ سیتا مودی کے پاس 3 لڑوں کا ایک ہار اور ایک پازیب کی جوڑی تھی‘ جن میں کئی بیش قیمت ہیرے زمرد جڑے ہوئے تھے‘ سیتا مودی کے پاس اور بھی کئی خاص ہیرے تھے‘ سیتا مودی کی شادی ایک ہندو راجہ سے ہوئی‘ مہاراجہ سے ملاقات کے بعد دونوں نے شادی کا پروگرام بنایا‘ اس مقصد کے لیے سیتا مودی مسلمان ہوگئی‘ جس سے ہندوراجہ کے ساتھ اس کا نکاح ٹوٹ گیا‘ بعد ازاںسیتا مودی نے دوبارہ ہندو ہوکر مہاراجہ پرتاب سنگھ سے شادی کرلی‘ دونوں نے بعد میں مناکو میں رہائش اختیار کرلی‘ مہاراجہ برودا جاتے ہوئے تمام ہیرے ‘ جواہرات بھی ساتھ لے گئے‘ سیتا مودی پورے یورپ میں یہ ہیرا پہن کر تقریبات میں شرکت کرتی ‘ بعد ازاں پرتاب سنگھ اور سیتا مودی کی شادی برقرار نہ رہی اور1953 ء میں سیتا مودی کی پازیب میں جڑا ہیرا فروخت ہوگیااور بکتے بکتے ڈچرڈ آف ونڈسر کے پاس پہنچ گیا‘ ڈچز نے ہیرا اپنے نیکلس میں جڑوا لیا‘ ایک تقریب میں دونوں کا آمنا سامنا ہوگیا‘ سیتا مودی نے ڈچز کے گلے میں ہیرے کو طنزیہ انداز سے دیکھا اور کہا کہ یہ ہیرا جو آپ نے گلے میں سجایا ہے ‘ کبھی میرے پیروں میں ہوا کرتاتھا۔
دی اسٹار آف بمبئی
سری لنکا سے سفر کرنے والا 182 قیراط وزنی پہ نیلم خاموش فلموں کی اسٹار میری یک فورڈ کو اس کے شوہر اداکار ڈکلس فرینک نے تحفہ کے طورپر دیاتھا‘ اس وقت دونوں اپنے کیریئر کے عروج پر تھے‘ کئی سال بعد میری نے یہ ہیرا ایک فلاحی ادارے کو عطیہ کردیا‘ عجیب بات یہ ہے کہ فلموں میں خود کو سادہ ظاہر کرنے کے لیے میری موتیوں سے بنی ایک ہلکی سی مالا پہنا کرتی تھی‘ لیکن شوٹنگ ختم ہوتے ہی وہ اپنے ہینڈ بیگ سے قیمتی ہیرے جواہرات والے زیورات نکال کرخود کو نمایاں کرلیتی‘ یہ ہیرا عرصہ دراز تک میری کی گلے کی زینت بنا رہا۔
بلیک پر نسز روبی
یہ یاقوت سرخ نہیں ‘ بلکہ سیاہی مائل ارغوانی رنگ کا ہے‘ پہلی نظرمیں تو یہ خون کا لوتھڑا دکھائی دیتا ہے ‘ روایات کے مطابق یہ 1369 ء میں غرناطہ کے بادشاہ کی ملکیت تھا‘ جسے ڈون پیڈرو نے قتل کردیا‘ 1485 ء میں رچرڈ سوم نے جنگ کے دوران یہ ہیرا اپنے ہیلمٹ میں جڑا یاتھا‘ لیکن وہ جنگ کے ساتھ ساتھ زندگی کی بازی بھی ہارگیا‘ کچھ عرصہ بعد یہ ہیرا ایک برطانوی جوہری نے خرید لیااور 1660 ء میں چارلس دوم کے ہاتھ بیچ دیا‘ یہ ہیرا ن دنوںبرطانوی شاہی تاج کی زینت ہے ‘ جب سے یہ ہیرا برطانیہ کے پاس آیا ‘ دنیا بھر میں اس کی سلطنت سکڑتی چلی گئی۔
کوہ نور ہیرا
ایک سو پانچ قیراط وزنی یہ ہیرا کبھی دنیا کا سب سے وزنی ہیرا شمار ہوتا تھا‘ قدیم ہندو ستانی تاریخ اورسنسکرت کی کتابوں میں بھی اس کا ذکرہے‘ اس ہیرے سے متعلق بہت سی روایات ہیں‘ ایک روایت کے مطابق حیدرآباد دکن کے پانچویں نظام کے دورمیں یہ ہیرا کان سے دریافت ہوا ‘ بعد ازاں کئی سکھ ‘ مغل ‘ مسلمان اورایرانی بادشاہوں کی ملکیت بنا‘ مغل فرماں رواں شاہ جہاں نے اسے معروف تخت طائوس میں نصب کرالیا‘ جسے پھر ہندوستان واپس لایاگیا‘ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اسے قبضہ میں لے کر ملکہ وکٹوریہ کو پیش کردیا‘ روایت ہے کہ یہ ہیرا مردوں کے لیے ہمیشہ منحوس ثابت ہوا‘ جن بادشاہوں کی ملکیت میں یہ رہا ‘ وہ یاتو تاو تخت سے محروم ہوئے یا انہیں کسی دوسری بڑی نحوست کا سامنا کرنا پڑا‘ ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ کے لیے یہ منحوس ثابت نہ ہوااورآج بھی برطانوی تاج میں جڑا ہے۔
ہوپ ڈائمنڈ
روایت ہے کہ یہ ہیرا سیتا مودی کے بت میں جڑا ہوا تھا‘ جہاں سے کسی نے اسے چرالیا‘ مگر چوری کے کچھ عرصہ بعد کتوں نے چور کو چیر پھاڑ ڈالا‘ تاہم اس وقت تک وہ ہیرا بادشاہ لوئی شش وہم کے ہاتھ بیچ چکا تھا‘ بادشاہ نے 112 قیراط کے اس ہیرے کو کٹوا کر دوہیرے بنوا لئے‘ 19 ویں صدی میں ہنری فلپ ہوپ اس کا مالک بنا اور تب سے یہ ہوپ ڈائمنڈ کے نام سے پکارا جاتا ہے‘ مختلف ہاتھو ں سے یہ ہیروںکا کاروبار کرنے والی کمپنی ہیری ولنسٹن کے ہاتھ لگ گیا‘ اب یہ ہیرا واشنگٹن میں ایک نمائش کی زینت ہے۔

بلیک آرلو ف ڈائمنڈ
سیاہ رنگ کے اس ہیرے میں ایک خوش کن جھلملاہٹ ہے ‘ 67.5 قیراط وزنی اس ہیرے کے 3 مالک خودکشی کرچکے ہیں‘ جن میں 2 روسی شہزادیاں تھیں‘ جبکہ تیسرے مالک جے ڈبلیو پیرس نے ہیر ا خریدنے کے چند روز بعد نیویارک کی ایک بلند عمارت سے چھلانگ لگادی‘ بعد میں اس کی نحوست ختم کرنے کے لیے اسے 3حصوں میں کاٹ دیاگیا‘اس کے بعد حیرت انگیز طورپر اس کی نحوست ختم ہوگئی‘ یہ تینوں حصے کئی عجائب گھروں میں بھی رہے ہیں‘ اداکارہ فیلیسٹی ہف مین نے 2006 ء میں آسکرایوارڈ کی تقریب میں شرکت کے وقت ان میں سے ایک کو نیکلس میں جڑا پہنا تھا۔
دہلی پرل سیفائر
جامنی رن کا ری نیلم ایک روز لندن کے ایک عجائب گھر کے منتظم کو موصول ہوا‘ یہ 7 ڈبوں میں بند تھااور اس کے ساتھ ایک خط آیاتھا‘ اس نیلم کی تاریخ خون آلود ہے ‘ جس نے بھی اسے اپنے پاس رکھا ‘ ذلیل وخوار ہوا‘ چنانچہ میں اسے رکھنا نہیں چاہتا ‘ روایت یہ ہے کہ 1857ء میں بھارتی شہر کانپور کے ایک مندر سے چرا کر برطانیہ لایاگیاتھا‘ جس فوجی نے اسے چوری کیا ‘وہ جلداپنی دولت اور صحت سے ہاتھ دھو بیٹھا‘ ا س کے بیٹے کو ورثے میں یہ نیلم ملا ‘ مگر بدنصیبی بھی ساتھ ہی ملی‘ بعد ازاں اس کے کئی مالکوں نے خود کشی کی‘ ایک گلوکارہ اس کی مالک بنی تو آواز سے ہاتھ دھو بیٹھی‘ آخرمالک نے اس عجائب گھر کو بلا معاوضہ عطیہ کردیا‘ جہاں پر یہ آج بھی محفوظ ہے ۔
لاپیز گنینا پرل
ناشپاتی کی شکل کایہ موتی دنیا کا سب سے بڑا سچا موتی ہے‘لاپیر گنینا ہسپانوی زبان میں آوارہ گرد کو کہتے ہیں‘ فلپ دوم نے یہ موتی اپنی ہونے والی بیوی ملکہ میری اول کو تحفے میں دیاتھا‘جو 4 سال بعد ہی مر گئی‘ یہ موتی اسپین سے فرانس اور پھر امریکہ پہنچا‘ جہاں بھی یہ موتی گیا‘ وہاں بدترین خون خرابہ اور جنگ ہوئی‘ 1969 ء میںرچرڈ برٹن نے یہ موتی خرید کر الزبتھ ہٹلر کو تحفے میں دیا‘ 1974 ء میں دونوں کے درمیان طلاق ہوگئی۔

(652 بار دیکھا گیا)

تبصرے