Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 15 دسمبر 2018
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

فیس بک کا نیااسکینڈل،مصنوعی لبادہ اتر گیا،اصلیت سامنےآگئی

ویب ڈیسک جمعه 16 نومبر 2018
فیس بک کا نیااسکینڈل،مصنوعی لبادہ اتر گیا،اصلیت سامنےآگئی

نیویارک ۔۔۔دنیا کے سب سے بڑے آن لائن نیٹ ورک فیس بک کو پھر ایک اسکینڈل کا سامنا ،مارک زکر برگ کی پھر وضاحتیں ،نیا الزام ہے کہ فیس بک نے تعلقات عامہ کی ایک امریکی فرم کے ساتھ ایسا معاہدہ کر رکھا تھا، جس کا مقصد اس کمپنی کے ناقدین کو بدنام کرنا تھا۔غیر ملکی میڈیا نے اس سچ کے سامنے آنے پر فیس بک کے خوب لتاڑہ ہے ،برطانوی جریدے گارجین نے اسے ایک سطحی کمپنی گردانہ جو سارے اخلاقی ضابطے بالائے طاق رکھ کر صرف نفع سمیٹتی ہے اور اس کے لئے جائز و ناجائز کی تمیز بھی نہیں کرتی۔فرانسیسی میڈیا نے لکھا ہے کہ فیس بک کی انتظامیہ نے امریکا کی ایک پبلک ریلیشنز فرم کی خدمات اس لیے حاصل کیں کہ وہ اس سوشل میڈیا نیٹ ورک کے ناقدین کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کرتے ہوئے انہیں ناقابل اعتماد ثابت کرنے کی کوشش کرے۔جبکہ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس فرم کو کی جانے والی مالی ادائیگیوں کے بعد ہی غیر محسوس طریقے سے عالمی رائے عامہ کی توجہ بین الاقوامی سطح پر سرگرم سرمایہ کار جارج سوروس کی طرف مبذول کرائی گئی تھی۔اسی دوران فیس بک نے یہ اعتراف بھی کر لیا ہے کہ ’ڈیفائنرز‘ نامی اس فرم کے ساتھ اشتراک عمل سے اس امر کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی کہ وہ عملی طور پر صحافیوں کو ترغیب دے کہ وہ ’فریڈم فرام فیس بک‘ کو ملنے والی مالی وسائل کے ذرائع کی چھان بین کریں۔فریڈم فرام فیس بک یا ’فیس بک سے آزادی‘ نامی تنظیم کی کوشش یہ تھی کہ فیس بک جیسے سوشل میڈیا نیٹ ورک کو عام انسانوں کی زندگیوں کو اپنے حصار میں لے لینے سے روکنے کی کوششیں کی جانا چاہییں۔فریڈم فرام فیس بک اس آن لائن نیٹ ورک کے خلاف سرگرم ایک تنظیم ہے اور ’ڈیفائنرز‘ کی خدمات حاصل کرتے ہوئے فیس بک نے کوشش کی تھی کہ اس تنظیم اور جارج سوروس جیسی شخصیات کو بدنام کیا جائے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق فیس بک کی انتظامیہ نے اس بارے میں اعتراف کے بعد اس امریکی پبلک ریلیشنز فرم کے ساتھ اپنا معاہدہ بھی ختم کر دیا ہے۔اس بارے میں فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ کا کہنا ہے کہ خود انہیں بھی اس معاملے کا علم ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہی ہوا تھا۔مارک زکربرگ نے اپنے ناقدین کی طرف سے خود پر اس وجہ سے کی جانے والی تنقید کو بھی مسترد کر دیا کہ انہیں یہ علم کیوں نہیں تھا کہ ان کے ادارے میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔

(33 بار دیکھا گیا)

تبصرے

مزید خبریں