Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 18  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

جن بابا جان سے گیا

رائو عمران اشفاق جمعه 16 نومبر 2018
جن بابا جان سے گیا

2 نومبر کو دوپہر2 بجے پولیس کنٹرول 15 سے پیغام نشر ہوا‘ کورنگی صنعتی ایریا گلزار کالونی کے ایک مکان سے نعش پڑی ہے‘ اطلاع ملنے پر ایس ایچ او کورنگی صنعتی ایریا صابر خٹک پولیس پارٹی کے ہمراہ تھانے کے قریب واقع گلزار کالونی سیکٹر 8 ای کی پلیا عبورکرنے کے بعد گلی میں واقع مکان نمبر132 پر پہنچے تو گھر کے صحن میں ایک ضعیف العمر شخص کی خون میں لت پت نعش پڑی تھی‘نعش کے قریب کھڑے ایک پارس نوجوان نے بتایا کہ میرا نام واجد ہے‘ مرحوم کا نام عبدالستار ہے ‘ اس نے مجھے بیٹا بنا رکھا تھا‘ عبدالستار گھر میں گرنے سے ہلاک ہواہے‘ ایس ایچ او نے نعش کا معائنہ کیاتو اس کو معاملہ پر اسرار لگا‘ اس نے نوجوان سے پوچھا کہ اس کا کوئی رشتے دار ہے تو اس نے بتایا کہ اس بیوی ہے ‘ جبکہ 10 سے12 سال پہلے عبدالستارنے طلاق دے دی تھی‘ اس کی کوئی اولاد نہیں تھی‘ جس مکان میں رہتا ہے ‘ وہ اس نے مجھے فروخت کردیا ہے‘ اس بات پر ایس ایچ اوکا شک یقین میں بدلنے لگا‘ کہ بڑے میاں کو قتل کیاگیاہے ‘ لیکن قتل کے شواہد نہیں تھے‘ ابھی کارروائی جاری تھی کہ ایک عورت سعید بانو بھی وہاں پہنچ گئی‘ صحن میں پڑی نعش دیکھ کر وہ نعش سے لپٹ کر رونے لگی‘ اس نے قریبی کھڑے نوجوان واجد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ ایس ایچ او صاحب یہ میریے شوہر کا قاتل ہے‘ پلاٹ پر قبضہ کرنے کے لیے اس نے میرے شوہر قتل کیا ہے‘ پولیس نے نعش کو ایمبولینس کے ذریعے تھانے منتقل کیا اور وہاں سے نعش کو جناح اسپتال منتقل کیا‘ پولیس نے نوجوان واجد کو بھی کسٹڈی میں لے لیاپولیس نے قتل کی وجہ جاننے کے لیے نعش کا پوسٹ مارٹم کے لیے جناح اسپتال پہنچایا ایم ایل او صاحب نے مقتول کے ایکسرے کروائے اور پوسٹ مارٹم کا سامان دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ایم ایل او کی ہدایت پر نعش کو ایف ٹی سی فلائی اوور کے قریب چھیپا ویلفیئرکے سردخانے میں رکھوادیا‘ 3 نومبر کو پولیس نے دوبارہ نعش کو جناح اسپتال منتقل کیا‘ جہاں ایم ایل او ڈاکٹر افضل راجہ نے نعش کاپوسٹ مارٹم کیا‘ایم ایل او نے نعش کا معائنہ کرکے بتایا ہ عبدالستار کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیاہے ‘ اس کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں‘ ایم ایل او نے بتایا کہ بھاری چیز سے جسم ر چوٹیں ماری گئیںاور ضعیف العمر شخص کے جسم پر کھڑے ہوکر کودا گیاہے‘ جس سے پیٹ ‘ سینے میں شدید چوٹیں آئی ہیں‘ مقتول کے سینے پر 2 نیلے نشان دیکھ کر ایم ایل او نے بتایا کہ یہ نشان کولہے کی ہڈی کے ہیں ‘ جس نے عبدالستار کو قتل کیا ہے وہ اس کے سینے پر بیٹھ کر کودا ہے اور یہ نشان اس کے اوپر بیٹھنے والے شخض کی کولہے کی ہڈی کے ہیں‘ اندر سے چوٹیں آنے کے باعث جسم سے مسلسل خون رس رہا تھا‘ ایم ایل او نے پوسٹ مارٹم رپورٹ نمبر 479/16 پولیس افسر کو دیا ‘ موت کی وجہ کیمیکل ایگزامنر کی رپورٹ آنے تک محفوظ کی ‘ ایم ایل او نے پولیس کو 2 عدد سیل شدہ کپڑے اورسامان 4 عدد برنیاں جس میں مقتول کے جسم کے اعضاء تھے‘ وہ نعش ٹیم کے حوالے کی ‘ عبدالستار کے قتل کا الزام میں ملزم واجد کو پولیس نے حراست میں لے لیا‘ واجد مقتول کے مکان میں رہتا تھا‘ اس نے گھر میں کبوتر پالے ہوئے تھے‘ علاقے کے نوجوان بھی اس کے پاس آتے جاتے تھے‘ واجد نے بتایا کہ وہ علاقے کے مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کرتا ہے اور علاقے کی مسجد میں مؤذن بھی ہوں‘ جبکہ مقتول کی بیوہ سعید ہ بانو نے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے پوسٹ مارٹم کے بعد زیردفعہ 154 کے تحت بیان دیا کہ مسماۃ سعید ہ بانو زوجہ عبدالستار مرحوم عمری 65 سالہ سکنہ مکان نمبر 653 سیکٹر33/D رحمانیہ مسجد کورنگی نمبر 2/1-2 کراچی بیان کیا کہ میں پتہ بالا پر رہتی ہوں‘ میرا شوہر عبدالستار ولد ظہور الدین بھی میرے ساتھ رہتا تھا‘ ہماری کوئی اولاد نہیں ہے‘ایک بیٹی گود لی ہے‘ جس کی شادی کرادی ہے ‘میرے شوہر کا ایک مکان نمبر 132 سیکٹر 8/E گلزار کالونی KIA کراچی میں ہے ‘ جو اکثراپنے مکان میں آکر رہتا تھا‘ سات سال قبل میرے شوہر نے واجد علی ولد منظور اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا‘ جو کہ گلزار کالونی والے مکان میں رہتا تھا‘ واجد علی ولد منظور نے میرے شوہر کو کہا کہ تم اپنا مکان مجھے بیچ دو میرے شوہر نے منع کردیا‘ کئی مرتبہ اس نے میرے شوہر کو مکان بیچنے کا کہا میرا شوہر تنگ ہو کر اپنے کورنگی والے مکان میں میرے پاس آگیا اور تمام بات مجھے بتائی ایک ہفتہ قبل واجد علی ولد منظور اور فاروق نامی شخص نے دونوں ہمارے گھر کورنگی ڈھائی آئے اور فاروق اندر داخل ہوا اور کہا کہ میں پولیس والا ہوں‘ واجد نے میرے شوہر کو اٹھا یا اور فاروق نے مکان نمبر 132 کی فائل مجھ سے زبردستی لی اور وہاں سے لے گئے اورمورخہ 02-11-2018 کو بوقت شام واجد علی میرے گھر کورنگی آیا اور بتایا کہ تمہارا شوہر مرگیا ہے اور نعش ایدھی ایمبولینس میں لے گئے‘ تھانے جائو میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نہ آئی تو نعش ایدھی ایمبولینس میں تھی‘ وہاں سے جناح اسپتال لے گئے‘ وہاں کل پوسٹ مارٹم میرے شوہر کا نہیں ہوا‘ نعش چھیپا سردخانے میں رکھ دی گئی اورآج مورخہ 02-11-2018 کو بوقت دن 2 بجے گھر میں تشدد کرکے اور گلا دبا کر میرے شوہر عبدالستار ولد ظہور الدین عمری 80/85 سال ہے ‘ قتل کردیااور مکان کی فائل بھی ان دونوں کے پاس ہی ہے ‘ کارروائی چاہتا ہوں۔
عبدالستار کے قتل کیس کی نعش میں پیشرفت کی معلومات کے لیے 10 دن بعد قتل کیس کے تفتیش افسر اے ایس آئی یوسف نعمت سے کورنگی صنعتی ایریا تھانے میں ملاقات کی تو انہوںنے کہا کہ قتل کی واردات میری سمجھ سے باہر ہے ‘ ابھی تک جو تفتیش ہوگئی ہے‘ اس کا نتیجہ صفرہے‘ ملزم واحد نے قتل کا اعتراف نہیں کیا‘ ملزم نے بتایا کہ عبدالستار کا دماغی توازن درست نہیں ہے‘ 10 روز قبل وہ لاپتہ ہوگیاتھا‘ اس کو تلاش کیاتو کورنگی 33 جی ایریا میں کچرے کے ڈھیر پرپڑا ہواتھا‘ اس کو اٹھا کر گھر لایا اور اس کی فروخت کی تھی‘ واجد نے بتایا کہ مقتول اس سے بہت محبت کرتاتھا‘ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنا مکان بھی مجھے فروخت کیاتھا‘ ملزم نے بتایا کہ جس وقت وہ گھر آیاتو عبدالستار خون میں لت پت پڑا تھا‘ مجھے معلوم ہوتا ہے وہ گر کر زخمی ہواہے‘ محلے والے بھی واجد کے بیان کی تصدیق کررہے ہیں‘ تفتیشی افسر سے جب یہ معلوم کیاکہ ایف آئی آر میںنامزد ملزم فاروق کو ن ہے تو اس نے یہی سوال ہم سے پوچھا ‘ فاروق کون ہے ؟مجھے بھی نہیں معلوم ہوتو آپ ہمیں بتانا تفتیشی افسر سے جب یہ معلوم کیاکہ مقتول کی بیوہ نے کچھ بتایا ہے تو اس نے کہا کہ 10 روز ہوگئے‘ ہمارا مقتول کے لواحقین سے رابطہ نہیں ہوا‘ علاقے میں اس کی بیوی طلاقن کے نام سے مشہور ہے ‘ یہ معلوم ہوا ہے کہ مقتول نے اپنی بیوی کو طلاق دے رکھی تھی‘ جس گھر میں قتل کی واردات ہوئی ہے وہاں تو کچھ بھی نہیں ہے‘ ملزم واجد نے کبوتر پالے ہوئے تھے‘ بھوک پیاس سے 3 کبوتر بھی مرگئے ہیں‘ کبوتروں کو دانا پانی بھی ہمیں دینا پڑتا ہے‘ تفتیشی افسر نے کہا کہ مقتول کی بیوہ کہاں ہے ‘ ہمیں معلوم ہوجائے تو ہم چلے جائیں ایف آئی آر پر فون نمبر درج ہے ‘ لیکن کچھ نہیں بتاتے تفتیشی افسر نے راز داری سے بتایا کہ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ قتل میں مقتول کی بیوی ہی ملوث ہے ۔ لیکن وہ عدت میں ہے اس لئے ہم اس سے پوچھ گچھ نہیں کرسکتے۔ تفتیشی افسر کی باتوں سے اس کا کردار بھی مشکوک معلوم ہورہا تھا۔ وہ قتل کیس کا تمام الزام مقتول کی بیوہ پر ڈالنا چاہتا تھا‘ آخر میں تفتیشی افسر نے کہا‘ ہمیں تو کچھ معلوم نہیں ہوا‘ 10 روز میں مقتول کی بیوہ سے بھی ملاقات نہیں ہوئی اگر آپ کی ملاقات ہو تو ہمیں بھی قتل کی وجہ بتانا‘ تاہم کورنگی تھانے کے تفتیشی انچارج پٹھان خان کا شمار اچھے تفتیشی افسران میں ہوتا ہے۔ پٹھان خان نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ ریزرو ہے‘ مقتول کی بیوہ سے بھی معلومات کرنی ہے لیکن شوہر کے انتقال کے غم میں ہوگی اس لئے ہم نے ابھی اس سے معلومات نہیں کری ہے‘ بہت جلد قتل کا معمہ حل کرلیں گے‘ تاہم تفتیشی افسر سے جو ایف آئی آر کی کاپی ملی تھی اس پر مدعی نے اپنا فون نمبر بھی درج کروایا تھا۔ یہ فون نمبر مقتول عبدالستار کی اہلیہ کے بھانجے کا تھا۔ تھانے سے فون کیا تو اس نے کہا کہ ہم کورنگی ڈھائی نمبر سیکٹر 33 میں رحمانیہ مسجد کے قریب رہتے ہیں‘ آپ وہاں آجائیں جو ایڈریس پولیس کو 10 روز میں نہیں ملا تھا‘ وہ 10 منٹ میں مل گیا‘ ہم سیکٹر 33 ڈی پہنچے تو معلوم ہوا کہ عبدالستار خان علاقے کی مشہور شخصیت ہیں‘ علاقے میں عبدالستار جن بابا کے نام سے مشہور ہیں۔ بچے سے بڑا تک جن بابا کے نام سے جانتا تھا‘ علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ عبدالستار بہت محنتی اور بھاری بھرکم شخصیت کے مالک تھے‘ 3 سے 4 آدمیوں کا کام اکیلے کرلیتے تھے اس لئے علاقے میں جن بابا کے نام سے مشہور تھے۔ محمد رحمانیہ کے قریب مین روڈ پر 2 جنرل اسٹوز کے درمیان میں مکان 653 کا دروازہ تھا ہم جب وہاں پہنچے تو ایک ضعیف العمر خاتون پانی کے کین ہاتھ میں لئے گھر سے نکل رہی تھی‘ ان سے جب یہ معلوم کیا کہ اماں عبدالستار کا گھر یہی ہے تو انہوں نے ہمیں غور سے دیکھا کہ ہاں گھر تو یہی ہے اوروہ میرے شوہر تھے‘یہ جان کر سخت حیرانگی ہوئی کہ جس خاتون کو پولیس 10 روز سے تلاش کررہی ہے‘ وہ اتنے آرام سے کیسے مل گئی۔
خاتون سے جب عبدالستار کے بارے میں معلوم کیاتو وہ آبدیدہ ہوگئی اورکہا کہ بیٹا میں نماز پڑھنے جارہی تھی‘ لیکن بعد میں پڑھ لوں گی‘ تم معلوم کرلو کہ جس تمہیں معلوم کرنا ہے ‘ سعید ہ بانو نے بتایا کہ عبدالستار مجھ سے عمر میں 15 سال بڑا تھا‘ ہم ہندوستا ن کے علاقے جے پور کے رہنے والے ہیں‘ وہ میرا تایا زاد تھا‘ سعید ہ بانو نے بتایا کہ ہم پہلے کینٹ اسٹیشن کے قریب جھگیوں میں رہتے تھے‘عبدالستار کو خاندان میں شادی کے لیے کوئی لڑکی نہیں دے رہاتھا‘ اس لیے میرے باپ نے میری شادی اس سے کردی وہ اچھا آدمی تھا ‘ گورنمنٹ کی اومنی بس کا ڈرائیور تھا‘عبدالستار نے رقم جمع کرکے کورنگی میں مکان خریدا تھا‘ وہ مجھ سے بہت محبت کرتا تھا‘ شادی کے کئی سال تک ہمارے ہاں اولاد نہ ہوئی تو میری بہن نے اپنی ایک بیٹی مجھ کو دی ‘ عبدالستار نے اس بچی کی پرورش سگی بیٹی کی طرح کی اور اس کی شادی بھی بڑی دھوم دھام سے کی ‘ میری بیٹی میر پور خاص میں رہتی تھی‘ سعید ہ بانو نے بتایا کہ عبدالستار کی زندگی کی بری گھڑی وہ تھی ‘ جب 7 سال قبل واجد نامی نوجوان اس کو مسجد میں اس نے عبدالستار کو بتایا کہ اس دنیا میں کوئی نہیں ہے‘ عبدالستار کا گلزار کالونی میں ایک پلاٹ تھا‘ اس نے واجد کو رہنے کے لیے مکان پر قبضہ کرنا چاہتا تھا‘ جب اس سے معلوم کیا گیا کہ آپ کو شوہر نے طلاق دے دی ہے اور علاقے میں آپ طلاقن کے نام سے مشہور ہے جس پر سعیدہ بانو نے کہا کہ اس بارے میں آپ علاقے والو ں سے ہی معلوم کرلو‘ میرا شوہر جتنی محبت مجھ سے کرتا ہے‘ وہ مجھے طلاق کیسے دے سکتا ہے‘ علاقہ مکینوں نے بھی بتایا کہ طلاق کی کہانی پولیس کی من گھڑت کہانی ہے ‘ سعید بانو نے بتایا کہ موت سے ایک ہفتے قبل واجد آیاتھا‘ وہ عبدالستار کو گھر سے لے گئے تھے‘ 3 دن قبل وہ دوبارہ آئے واجد کے ساتھ فاروق نامی شخص بھی آیاتھا‘ جس نے خود کو پولیس والا ظاہر کیا اور کہا کہ ابھی لیڈی پولیس بھی آرہی ہے‘ آپ پلاٹ کی فائل بھی دے دو‘وہ ڈرا دھمکا کر فائل لے گئے میں نے پوچھا عبدالستار کب آئے گاتوانہوںنے کہا کہ بہت جلد تمہیں اس کی نعش مل جائے گی یہ کہہ کر گئے اور دوسرے روز ہی اس کی موت کی خبرآگئی‘ سعید ہ بانو نے جب پوچھا کہ فاروق کون ہے ‘ پولیس والے نہیں جانتے وہ مسکرانے لگی فاروق کو پولیس والے نہیں جانتے یہ لطیفہ ہے ‘ فاروق تو خو د کو پولیس والا کہتا ہے‘ علاقے میں قبضہ مافیا کارکن ہے‘ پلاٹ پر قبضے کے لیے واجد نے فاروق کی مدد سے میرے عبدالستار کو قتل کردیا‘ وہ 80 سال کا تھا‘ ان کا تشدد برداشت نہیں کرسکتا‘ انہوںنے کہا کہ ملزمان بہت بااثرہیں وہ رہا ہوجائیں گے‘ پولیس مجھے ہی قاتل بنا دے گی‘ یہ کہہ کر وہ رونے لگی اور رونے لگی میں اپنے شوہر کو کیوں ماروں گی‘ مجھے دولت جائیداد کی ضرورت نہیں ہے‘ سنا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان غریبوں کی سنتا ہے‘ اللہ کرے ہماری بھی سن لے اور مجھے بھی انصاف مل جائے ‘ آئی جی سندھ سے بھی اپیل کرتی ہوں کہ کیس کی تفتیش ایماندار پولیس والے کو دے ‘ ایس ایچ او کورنگی صنعتی ایریا صابر خٹک نے بتایا کہ 80 سالہ عبدالستار کا قتل ہے تو پلاٹ کا تنازعہ ہے ‘ میں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے بعد ہی اندازہ لگالیا تھا کہ عبدالستار کی موت حادثاتی نہیں ‘بلکہ قتل ہے‘ اس لیے میں نے موقع سے ہی ملزم واجد حراست میں لے لیاتھا۔

(360 بار دیکھا گیا)

تبصرے