Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 23  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

تجاوزات کی "ٹارگٹ کلنگ"

(راﺅ عمران اشفاق(جرائم کی دنیا جمعه 16 نومبر 2018
تجاوزات کی

کراچی آپریشن سے دہشت گرد ختم ہوگئے لیکن بے شمار آپریشن کے باوجود ایمپریس مارکیٹ سے تجاوزات ختم نہ ہوسکیں … ماضی میں صحافیوں نے اس وقت کے آئی جی سندھ کے منہ پر کہا کہ ہمت ہے تو ایمپریس مارکیٹ سے تجاوزات ختم کرکے دکھاؤ … ہرحکومت … ہرانتظامیہ نے مختلف ادوار میں یہاں پر موجود تجاوزات سے بوجوہ منہ موڑا … ہرگزرتے دن کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہی ہوتا رہا … دیدہ دلیری کا یہ عالم کہ ایمپریس مارکیٹ سے جڑی پانچ چھ مارکیٹیں … پرندہ مارکیٹ … ڈرائی فروٹ مارکیٹ … عمرفاروق مارکیٹ … چائے مارکیٹ وسیع سے وسیع تر ہوتی گئیں … پکی تعمیرات ہوگئیں … کئی کئی فلور بن گئے اور ان میں رہائش بھی اختیار کرلی گئی … کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ کاکڑ ہوٹل بھی ختم ہوجائے گا … رات ختم ہوجاتی تھی لیکن اس ہوٹل کی رونق ختم نہیں ہوتی تھی لیکن پھر صرف ایک ہی رات میں کاکڑ ہوٹل ملبے کا ڈھیر بن گیا … کے ایم سی کو باور کرایا گیا کہ وہ پچاس سال سے کرایہ دار ہیں … کے ایم سی نے ان کے کرایہ داری نامے ہی ختم کردئیے … اس مرتبہ قبضہ مافیا کو اندازہ ہوگیا کہ ریاست کی طاقت کیا ہوتی ہے … صدر میں جہانگیر پارک سندھ حکومت نے تعمیر کیا … اس کی تزئین وآرائش کی گئی … تاکہ کراچی کے شہری اپنی فیملیوں کے ساتھ یہاں آئیں لیکن شہری یہاں آتے تو کیسے آتے … جہانگیر پارک کے سامنے ٹھیلوں کا جم غفیر … اور اس کے اطراف ایک سوچالیس سے زیادہ غیرقانونی دکانیں … ہردکاندار دوسرے سے بڑا بدمعاش … گاہکوں سے بدتمیزی … آنے جانیوالوں کو دھمکیاں … ایسا ماحول کہ ایک شریف آدمی اکیلے ہی یہاں آنے سے قبل دس مرتبہ سوچتا تھا… اس طرح یہ شاندار منصوبہ بھی قبضہ گروپ کی نذر ہوگیا تھا…حالیہ آپریشن کے بعد شہریوں کیلئے ایک نوید یہ بھی ہے کہ اب شہر میں ایک خوبصورت پارک کا بھی اضافہ ہوجائے گا جو جہانگیر پارک ہوگا … قبضہ گروپوں سے واگزار کرانے کے بعد ایمپریس مارکیٹ کی دھلائی کی گئی تو 1970 ء کی مارکیٹ ابھر کر سامنے آگئی … سارے مناظر دھلے دھلے نظرآنے لگے …دور دور تک کے نظار ے واضح اور نمایاں ہوگئے …ایک اچھی بات یہ سننے میں آرہی ہے کہ علاقے میں تجاوزات کو روکنے کیلئے یہاں باقاعدہ پولیس اور کے ایم سی کی ایک چوکی قائم کی جائیگی … ایک مسئلہ جو سردست نظر آرہا ہے وہ یہ ہے کہ ایمپریس مارکیٹ کی سامنے والی سڑک کو جسے فوڈ اسٹریٹ بنایا گیا ہے وہاں ٹھیلے والوں کا اژدھام ہوگیا ہے … بلاشبہ صدر میں اب نصف دہائی کے بعد فٹ پاتھ نظر آنے لگے ہیں … حکام کہتے ہیں کہ ان جھمیلوں سے نمٹنے کے بعد شہر کے دیگر علاقوں کی طرف بھی جایا جائے گا … اورپورے شہر کو تجاوزات سے پاک کیا جائے گا …

(309 بار دیکھا گیا)

تبصرے