Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 15 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

جعلی اکاؤنٹس کا جال

قومی نیوز جمعرات 15 نومبر 2018
جعلی اکاؤنٹس کا جال

جعلی اکائونٹس سے مبینہ طور پر اربوں روپے بیرون ملک منتقل کرنے کے مقدمے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے اب تک ہونے والی پیشرفت سے متعلق سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ جمع کروائی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 107 جعلی اکاؤنٹس سے 54 ارب روپے سے زائد کی رقم دوسرے ملکوں میں منتقل کی گئی ہے۔ اس سے پہلے عدالت کو یہ بتایا گیا تھا کہ 35 ارب روپے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک منتقل کیے گئے ہیں۔
اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کئی کیسوںکے اکاؤنٹس محدود مدت میں کھولے گئے اور اربوں روپے بیرون ملک منتقل کرنے کے بعد ان اکاونٹس کو بند کردیا گیا۔ جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے رقم کی منتقلی کے مقدمے میں پاکستان کے سابق صدر اورپاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور ملزمان میں شامل ہیں۔ان اکاؤنٹ کو جعلی کے بجائے مشکوک اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ یہ حقیقی شناختی کارڈ پر کھولا گیا ہوتا ہے تاہم اس میں موجود رقم اس نام کے شخص کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتی اور نہ اس کی ملکیت ہوتی ہے۔ ان اکاؤنٹ کو جعلی کے بجائے مشکوک اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ یہ حقیقی شناختی کارڈ پر کھولا گیا ہوتا ہے تاہم اس میں موجود رقم اس نام کے شخص کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتی اور نہ اس کی ملکیت ہوتی ہے۔ جعلی یا مشکوک بینک اکاؤنٹ عام طور پر وہ اکاؤنٹ ہے جو جس شخص کے نام پر کھولا جاتا ہے اس میں پیسہ اس کا اپنا نہیں ہوتا۔ زیادہ تر امکان ہوتا ہے کہ وہ شخص اس سے باخبر ہو۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ اسے یکسر اس کا علم نہ ہو۔ایسی صورت میں اس کا نام اور شناختی کارڈ وغیرہ استعمال کیا جاتا ہے۔’آپ کی شناختی معلومات یا تو چوری کی جاتی ہیں، فراڈ کے ذریعے خود آپ سے حاصل کی جاتی ہیں یا پھر ملی بھگت سے آپ سے خریدی جاتی ہیں۔‘ پاکستان میں کسی کی شناختی معلومات حاصل کرنا مشکل نہیں۔ ’آپ کئی جگہوں پر اپنے شناختی کارڈ کی کاپی دیتے ہیں وہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ حتیٰ کہ آپ کے انگوٹھے کا نشان تک نقل کیا جا سکتا ہے۔‘
چند ماہ قبل پنجاب کے ایک علاقے سے سائبر کرائم میں ملوث ایک ایسا گروہ گرفتار کیا گیا تھا جو سیلیکون کی مدد سے انگوٹھے کے نشانات کی ہو بہو نقل تیار کرتا تھا۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر جھنگ کے ایک بے روز گار 27 سالہ نوجوان کو چند روز قبل بتایا گیا کہ کراچی کے ایک نجی بینک میں ان کے نام سے دو اکاؤنٹ موجود تھے۔ ان سے انھوں نے مبینہ طور پر 17 کروڑ روپے سے زائد کی رقم نکلوائی ہے۔ محمد اسد علی اور ان کے خاندان کے لیے بظاہر ’یہ جھٹکے سے کم نہیں تھا۔ ان کے بھائی امجد علی کا کہنا تھا کہ ’انہیں تو علم ہی نہیں تھا۔ وہ کبھی کراچی گئے ہی نہیں۔‘ ان کے مطابق اسد علی کے پاس انجنیئرنگ کی ڈگری تھی، تعلیم انہوں نے وضیفوں پر حاصل کی تھی اور ان دنوں نوکری تلاش کر رہے تھے۔ زمانہ طالبِ علمی میں ان کے بینک اکاؤنٹ رہے تھے مگر ان میں سے کوئی بھی کراچی میں نہیں تھا۔ تاہم اسد علی کو یہ معلومات سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے قائم کردہ اس 6 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ایک خط میں فراہم کیں جو سابق صدر آصف علی زرداری اور دیگر ملزمان کے خلاف جعلی یا مشکوک بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اسد علی کا اکاؤنٹ محض ایک مثال ہے۔ پاکستان کی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی یعنی ایف آئی اے اور دیگر تحقیقاتی اداروں کے مطابق ایسے ہزاروں جعلی یا مشکوک بینک اکاؤنٹ پاکستان میں موجود ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ بینک اکاؤنٹ جعلی یا مشکوک کیسے ہو سکتا ہے؟ بینک تو اکاؤنٹ کھولتے وقت کئی طریقوں سے مکمل چھان بین کرتے ہیں؟ پھر یہ اکاؤنٹ کیسے کھل جاتے ہیں؟
پاکستان میں منی لانڈرنگ کے جرم میں 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ غیر قانونی طور پر حاصل کیے جانے والی ہر جائیداد، رقم یا اثاثے کو قانونی ظاہر کرنے کی کوشش منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ ’کالے دھن‘ کو ’سفید‘ کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ پاکستان کی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے پانچ ہزار ایسے بینک اکائونٹس کی نشاندہی کی ہے جنھیں مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔ اسلام آباد میں وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ تقریباً ایک ارب تیس کروڑ ڈالر پاکستان سے غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ پاکستانیوں کی جانب سے غیر قانونی طور پر بیرون ملک بنائے گئے اثاثوں کی جانچ پڑتال کر رہا ہے اور اب تک دس ممالک میں سات سو ارب روپے کے اثاثوں کی تفصیلات موصول ہوئی ہیں۔ یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر مشتمل ایک خصوصی پلیٹ فارم ایسٹ ریکوری یونٹ تشکیل دیا گیا ہے جس کا مقصد بیرون ممالک پاکستانیوں کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرنا ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر اکبر درانی نے بتایا کہ دبئی میں پاکستانیوں کی 15 ارب ڈالر مالیت کی جائیدادیں موجود ہیں اور اس سلسلے میں دبئی کے حکام سے بات چیت جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ملک میں اقامے کی آڑ میں بہت زیادہ منی لانڈرنگ ہوئی ہے۔‘ اکبر درانی نے واضح کیا کہ اثاثوں کی یہ تفصیلات تحقیقات کے بعد سامنے آئی ہیں لیکن بدعنوانی کے بارے میں جب کوئی ریفرنس دائر کیا گیا تو میڈیا کو اس کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔ مبینہ منی لانڈرنگ کی تفصیلات ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہیں جب سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکائونٹس کی تفصیلات معلوم کرنے کے ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کے مقدمے میں جے آئی ٹی کو تحقیقات مکمل کرنے کے لیے مزید دو ہفتوں کی مہلت دی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے احتجاجی دھرنوں سے لے کر وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعدپہلی تقریر میں پاکستان کے مسائل کی اصل وجہ کرپشن کو قرار دیا تھا جو یقیناً ہے بھی سچ۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے اپنے پارٹی منشور اور حکومتی پالیسی میں کرپشن کے خاتمے کو پہلی اور بنیادی ترجیح قرار دیا ہے جس پر وہ آج تک پختہ عزم کے ساتھ رواں دواں ہیں۔ کرپشن خاتمے کے لئے اُٹھائے گئے حکومتی اقدامات سے بدعنوان عناصر کی قوم پر ایسی چالیں اور مکاریاں عیاں ہوئی ہیں جن کو سن اور دیکھ کر دماغ مائوف ہوجاتا ہے۔ یقیناً آپ نے حال ہی میں بدعنوان عناصر کی جانب سے بے نامی یا جعلی اکائونٹس کے بارے میں سنا ہوگا‘ جن کے ذریعے بدعنوان لوگ منی لانڈرنگ یا ٹیکس نیٹ ورک میں آنے سے بچ کر قومی خزانے کو اربوں بلکہ کھربوں روپے کے ٹیکے لگاچکے ہیں۔ سب سے پہلا سوال ذہن میں آتا ہے کہ آخر 21 ویں صدی جس کو آئی ٹی کی صدی کا نام دیا جاتا ہے‘ اس میں جدید ٹیکنالوجی کی موجودگی کے باوجود لوگ جعلی یا بے نامی اکائونٹس بنوانے میں کیسے کامیاب ہوئے؟ اس بات سے ہر باشعور شخص واقف ہوگا کہ پاکستان سمیت کسی بھی ملک میں نجی بینکوں کو اس ملک کا اسٹیٹ بینک ہی کنٹرول کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ حکومت کی دی گئی پالیسیوں کو نجی بینکوں پر سختی سے نفاذ کرائے تاہم نجی بینکوں پر چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو یقینی اور مؤثر بنانا اسٹیٹ بینک کی ذمہ داری ہوتی ہے تو پھر اسٹیٹ بینک کی ناک کے نیچے ملک اور قوم کے مستقبل سے اتنا بڑا کھیل کیسے کھیلا جاتا رہا؟ آخر کونسی ایسی وجہ تھی جس کے باعث وہ آنکھیں بند کرکے ملک اور قوم کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والوں کو یوں کھلی چھوٹ دے کر ملک کی بربادی کا تماشا دیکھتے رہے؟ حالانکہ اسٹیٹ بینک کے پاس مانیٹرنگ کا ایک مضبوط میکنزم ہے جس کے تحت وہ نجی بینکوں کی کارکردگی کو ویلیو ایٹ کرتے رہتے ہیں۔ اس میں دورائے نہیں کہ ملکی معیشت آج جس نہج پر پہنچ چکی‘ اس میں جعلی یا بے نامی اکائونٹس کا بہت بڑا کردار ہے جس کے باعث کالے دھن والے ملک کو لوٹ کر پیسہ باہر منتقل کرتے رہے۔ اس جرم میں ان ڈاکوئوں کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک کے افسران بھی برابر کے شریک ہیں جنہوں نے اپنے عہدے کے ساتھ بے ایمانی کی یا نااہلی برتی‘ اس لئے انہیں ان ڈاکوئوں سے بھی زیادہ سزا ملنی چاہئے۔ جعلی یا بے نامی اکائونٹس کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے تو یہ سمجھتے ہیں کہ آخر جعلی اور بے نام بینک اکائونٹس کسے کہتے ہیں اور یہ کیسے کھولے جاتے ہیں؟ جعلی یا مشکوک بینک اکائونٹ اسے کہتے ہیں جو شخص کے نام پر کھولا گیا‘ اس میں پیسہ اس کا اپنا نہ ہو۔ اس اکائونٹ کو کھولنے میں 2 طرح کے طریقے استعمال کئے جاتے ہیں ‘ پہلا طریقے کے مطابق جس کے نام پر اکائونٹ کھولا جاتا ہے وہ ملی بھگت سے مالی فائدے کے عوض اپنی مرضی سے دوسرے شخص کو اکائونٹ کھولنے کے لئے اپنا نام استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یعنی وہ شخص جعلی اکائونٹ کے معاملے سے باخبر ہوتا ہے۔ دوسرا طریقہ اکائونٹ والا شخص بالکل ہی بے خبر ہو۔ یعنی جس کے نام پر اکائونٹ کھولایا گیا‘ اس کا اس کو سراسر علم ہی نہ ہو۔ اس کام کے لئے اس شخص کا نام اور شناختی کارڈ چوری کرکے یا فراڈ سے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کام کے لئے یا تو اس شخص کی شناختی معلومات چوری کرائی جاتی ہیں یا فراڈ سے خود اس سے حاصل کی جاتی ہیں جسے اس کو علم تک نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ کچھ لو کچھ دو والا طریقہ بھی اپنایا جاتا ہے تاہم اس حوالے سے ہر شخص بخوبی واقف ہے کہ پاکستان میں شناختی معلومات حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ آپ سرکاری یا غیر سرکاری اداروں میں جاتے ہیں وہاں آپ کو اپنے کام کے لئے شناختی کارڈ کی کاپیاں دینا پڑتی ہیں جو وہاں سے بھی بآسانی حاصل کی جاسکتی ہیں‘ اس کے علاوہ آئی ٹی کے اس جدید دور میں کسی بھی انسان کے انگلیوں یا انگوٹھوں کے نشانات کی کاپی بنانا اب مشکل نہیں رہا۔ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ سلیکون کی مدد سے لوگوں کے انگوٹھوں اور انگلیوں کے نشانات کی ہو بہو کاپیاں تیار کرلی جاتی ہیں۔ یہ ساری باتیں اپنی جگہ پر تو طے ہے کہ جعلی اکائونٹ کھولا تو حقیقی شناختی کارڈ پر ہی جاتا ہے اور اس میں ٹرانزیکشنز کو بھی مانیٹر کیا جاتا ہوگا تو پھر اتنی بڑی ٹرانزیکشنز ہونے پر نجی بینک یا اسٹیٹ بینک حرکت میں کیوں نہ آیا‘ اس نے اس شخص کا پتہ کیوں نہیں لگایا جس کے نام پر اکائونٹ کھولا گیا اور ٹرانزیکشنز کی جاتی رہیں کیونکہ ٹرانزیکشنز کی حد مقرر ہے اگر اس مقررہ حد سے رقوم کی ٹرانزیکشن زیادہ ہوجائے تو نجی بینک فوری ایکشن لے کر اسٹیٹ بینک کو مطلع کرنے کا پابند ہوتا ہے اور اگر نجی بینک کی جانب سے کوئی کارروائی یقینی بنائی جارہی ہو تو اسٹیٹ بینک جو کہ اپنے مانیٹرنگ میکنزم سے نجی بینکوں کو مانیٹر کررہا ہوتا ہے فوری اس نجی بینک کے خلاف ایکشن لینے کا پابند ہوتا ہے‘ لیکن یہاں کسی نے بھی کوئی کارروائی نہیں کی‘ سب آنکھیں بند کرکے تماشا دیکھتے رہے‘ جو یقیناً اسٹیٹ بینک کی کارکردگی پر سوالیہ نشان چھوڑتا ہے کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا؟ یاد رکھیں بے نامی اکائونٹ میں موجود رقم اس نام کے شخص کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتی اور نہ اس کی ملکیت ہوتی ہے اور یہ اکائونٹ کالے دھن کو سفید کرنے کا بہترین اور محفوظ طریقہ ہے‘ یعنی جو لوگ رشوت جیسے مکروہ دھندے کی حرام کمائی جیسی دولت کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں‘ ان کے لئے جعلی اکائونٹس سب سے بہترین اور محفوظ چوائس ہے۔ اس کے علاوہ وہ لوگ جو اپنی آمدن چھپا کر اس پر لگنے والا ٹیکس بچانا چاہتے ہیں تو وہ بھی انہی جعلی اکائونٹس کا سہارا لیتے ہیں‘ ورنہ انہیں نقدی رکھنی پڑتی ہے یا لاکر لینا پڑتے ہیں یا پھر پرائز بانڈز خریدنے پڑتے ہیں۔ یہ طریقہ خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ اس طریقے سے پکڑے جانے کا امکان بڑھ جاتا ہے‘ اس لئے ان تمام خطرات سے بچنے کا واحد محفوظ ترین راستہ جعلی اکائونٹ ہی رہ جاتا ہے۔
اس طریقے سے نام بھی سامنے نہیں آتا اور اس کا پیسہ بے خطر استعمال بھی ہوتا رہتا ہے‘ یہی وہ اکائونٹ ہے جو چوری شدہ شناخت سے اوپن کیا جاتا ہے‘ لیکن یہ کام اتنا آسان بھی نہیں ہے‘ جتنا نظر آرہا ہے‘ اس سارے طریقہ کار میں دومیں سے ایک اوپر والے بتائے گئے دوطریقوں میں سے ایک کا اپنا نالازمی ہوتا ہے‘ یاتو اس شخص سے ملی بھگت کرنی پڑے گی‘ جس کانام جعلی اکائونٹ میں استعمال کیاگیاہے ‘ یاپھر بینک یا اس کے اہلکار سے معاملات طے کرنے پڑیں گے‘ کیونکہ اگر کسی شخص کی رضامندی سے اس کی شناخت پر اکائونٹ کھلوایا گیاہے تو یقینا وہ اس سروس کے لیے جو اس نے خطرہ مول لے کر دی ہے اس کا معاوضہ ضرورطلب کرے گااور اگر کسی شخص کا ڈیٹا چوری کرکے جعلی اکائونٹ کھلوایا جارہا ہے تو اس کام کے لیے اس بینک یا پھر بینک کے کسی اہلکار کی ملی بھگت انتہائی ناگزیر ہوتی ہے‘ کیونکہ جب اکائونٹ کھولا جاتاہے تو جس شخص کے نام پر وہ اکائونٹ کھولا جارہا ہے تو اس کے دستخط بھی چاہئے ہوتے ہیں ذرائع آمدن بھی پوچھے جاتے ہیں‘ اس کے ساتھ ہی آج کے اس جدید دورمیں بائیو میٹرکس لئے بغیر اکائونٹ کھولنا ناممکن ہے ‘ اس لیے یہ مراحل انتہائی مشکل ہیں ‘ جن کو نبھانے کے لیے بینک یا بینک کے اہلکار کو ملائے بغیر ہر گز چارہ نہیں ہے ‘ اس حوالے سے عمومی رائے یہی پائی جاتی ہے کہ اس کا م کے لیے چھوٹے بینک یا بالکل نئے بینک جنہیں اس کو چلانے کے لیے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے‘ وہ جان بوجھ کر طے شدہ رولز اینڈ ریگولیشنز سے چشم پوشی برتتے ہوئے جعلی اکائونٹس کھول کر بدعنوان عناصر کو اپنی معاونت مہیاکرتے ہیں‘ اس کے علاوہ ایک اور بھی صورت ہے‘ جس کے ذریعے جعلی طریقے سے سادہ لوح او رمجبور لوگوں سے اکائونٹس بدعنوان عناصر انتہائی چالاکی سے استعمال کرتے ہیں‘ اس طریقے کے مطابق بے روز گار وں کو بیرون ملک بھیجنے کا جھانسہ دے کر ان سے ان کے نام کا اکائونٹ کھلوا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں‘اس طرح بے روز گاری کی چکی میں پسنے والے لاچار ‘ مجبور اور سادہ لوح انسان خود اپنے نام کا اکائونٹ کھول کر ہر چیز ان کے حوالے کردیتے ہیں‘اس طرح بدعنوان افراد ان جعلی اکائونٹس کے ذریعے کالے دھن کو سفید کرتا ہے یا اربوں روپے منی لانڈرنگ سے بیرون ملک منتقل کرتے رہے ‘ ان اکائونٹس کو استعمال کرنے والے لوگ پکڑے جانے پر بے نامی یا جعلی اکائونٹ کی بنیاد پرعدالت سے بالکل آسانی سے رہا ہوجاتے ہیں‘ یہی وہ اکائونٹس ہیں جن کی وجہ سے آپ آئے روز سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے ‘ کہ رکشہ ڈرائیور کروڑپتی نکلا ‘ چائے یاپکوڑے بنانے والا کئی اکائونٹس کا مالک اور کروڑوں روپے اکائونٹس میں موجود‘ اس کے علاوہ ان بدعنوان عناصر نے مرے ہوئے لوگوں کو بھی نہیں بخشا‘ انہوںنے کئی فوت شدہ لوگوں کے اکائونٹس اپنے اس مکروہ دھندے کے لیے استعمال کئے ہیں‘ ان فوت شدگان کے اکائونٹس سے اب تک کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز کے انکشافات سامنے آئے ہیں‘ سب سے انتہائی شرمناک امریہ ہے کہ اس مکروہ دھندے میں سب سے زیادہ نام سیاستدان اور بیوروکریٹس کے آئے ہیں‘ یہ وہ لوگ ہیںجن پر عوام اعتبار کرتے ہوئے ووٹ دے کر انہیں ملک کی باگ ڈور دیتے رہے اور ان کے علاوہ بیوروکریٹس ملک کا وہ طبقہ جن کو ایک باقاعدہ عہدہ لینے کے بعد ملک اور قوم کے خزانے کا محافظ بنایا جاتا ہے ‘ وہی اس خزانے کو لوٹتے رہے ‘ انتہائی افسوسناک امریہ ہے کہ جن کو اس ملک نے عزت اور دولت دی وہی لوگ اسے منانے کے درپے ہیں‘ یہ لوگ کسی بھی قسم کی ہمدردی اور معافی کے لائق نہیں ‘ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان لوگوں کے خلاف انتہائی سخت کارروائیاں کرے اور ایسی سخت ترین سزائیں دے کہ یہ لوگ آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کا مقام بن جائیں‘ موجودہ حکومت کی بعض پالیسیوں اور فیصلوں پر اعتراض ہوسکتا ہے‘ لیکن بدعنوان عناصر کے خلاف حکومتی فیصلہ اور کارروائیاں قابل تعریف ہے ‘ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک اور قوم کے مستقبل کو محفوظ اور مضبوط بنانے کے لیے کرپٹ عناصر کے خلاف جاری اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچا کر ہی دم لے ‘ قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ‘ کرپٹ عناصر کا خاتمہ نئی نسل پر حکومت کا بہت بڑا احسان ہوگا جسے یقیناً تاریخ کے سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔

(452 بار دیکھا گیا)

تبصرے