Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 27 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

شاہ بہرام انصاری بدھ 14 نومبر 2018

پروفیسر فہیم ریاضی کاپیریڈلے رہے تھے اور طلباء کوجیومیٹری کی کچھ اشکال اور سوالات سمجھارہے تھے جب وہ کام کرواچکے تو اس پوچھنے لگے بچو بتاؤ یہ سوال سمجھ میں آگئے یانہیں؟کچھ یوں نے ہاں میں جواب دیاکچھ گردن ہلا کر انہیں رام کرنے لگے۔
اتنے میں سرفہیم کی نظر آخری ڈیسک پر براجمان ثاقب پرپڑی وہ اپنی عینک اتارکررومال سے اسے صاف کر رہا تھاہاں بھئی ثاقب بیٹاتم بتاؤمیں نے ابھی جو سوال سمجھائے ہیں کیا ن کا طریقہ سمجھ میں آگیا ہے؟توثاقب کے بولنے سے قبل ہی نعمان کہنے لگا۔سر اس عینکو کوکیا سمجھ آئے گی نعمان یہ کیا بدتمیزی ہے کیا تمہیں کمرہ جماعت میں بیٹھنے کے آداب نہیں؟ سرفہیم کی آواز پر جماعت میں سکوت چھاگیا۔
نعمان کاتعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے جبکہ ثاقب متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔
اس کے والد کی ماہانہ قلیل آمدن سے بمشکل گھرکاخرچہ چل رہاتھاثاقب صبح سکول جاتا اور چھٹی کے بعد دوپہر سے شام تک ایک درزی کی دکان پرکام کرتا تھا اتنی مشقت کے بعد اس کے ہاتھ پچاس روپے والا نوٹ تھمادیا جاتاگھر آکر وہ رات گئے کسی سکول کاکام مکمل کرتا اور سبق یادکرتاسارا دن نظر کاکام کرنے کی وجہ سے اسے موٹے شیشوں والی عینک لگ گئی اس دن کے بعد ثاقب جب بھی اسکول جاتا تمام کلاس فیلو اور سکول کے لڑکے اس کامذاق اْڑاتے۔ثاقب ایک دْبلا پتلا اور شریف بچہ تھا اس لئے وہ انہیں کچھ کہنے کی بجائے خاموش رہتانعمان کی ثاقب سے نہ جانے کیا مخالفت تھی کہ وہ ہمیشہ اُسے نقصان پہنچانے کی تاک میں رہتانعمان نے ثاقب کے بہت عجیب نام رکھے ہوئے تھے اور وہی اسے سب سے زیادہ تنگ کرتا تھاسرفہیم کاپیریڈختم ہوتے ہی نعمان پھر شروع ہوگیا اور آج اور توثاقب بھی اپنی توہین برداشت نہ کرسکا اس کے منہ سے بے اختیار نعمان کیلئے بددعا نکلی شاید وہ قبولیت کی گھڑی تھی کیونکہ اسی رات جب نعمان معمول کے مطابق کمپیوٹر سے اٹھاتو اسے اپنے اردگرد دھندلا سادکھائی دیا پھر اس کی نگاہ سے اپنے کمرے کے سامنے کی سیڑھیاں بھی اوجھل ہونے لگی اس نے صورتحال کوقابو میں نہ دیکھتے ہوئے چیخنا شروع کردیا۔
اس کی امی اور ابو دوڑتے ہوئے اس کے کمرے میں آئے ان کے پڑوسی ندیم آنکھوں کے ڈاکٹر تھے۔ڈاکٹر ندیم آنکھوں کامعائنہ کرکے بتایاکہ اس کی نظر کمزورہوگئی ہے اور اسے عینک کی ضرورت ہے نعمان کے یہ سن کر رونگٹے کھڑے ہوگئے دوتین دن بعد وہ اسکول جانے کے قابل ہوا تو اس کے سارے فرینڈز نے حسب عادت اس کابھی مذاق اْڑایا۔تھوڑی دور جاکر اسے ثاقب اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔وہ فوراََ پیچھے مڑنے لگا تھا کہ ثاقب لے اسے آواز دے کر روک دیا پنی بے عزتی کے ڈر سے نعمان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ثاقب نے اس کے قریب آکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو نعمان کا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا ہو۔ثاقب نے اس نے اس سے کچھ کہنے کیلئے لب ہلائے ہی تھے کہ اس سے بیشتر نعمان بول اٹھا ثاقب پلیز مجھے معاف کردومیں غلطی پرتھا نعمان کے آنسو دیکھ کرثاقب کادل پسیج گیااور وہ اسے درد مندانہ لہجے میں حوصلہ دینے لگانہیں میرے دوست انسان توخطا کاپتلا ہے جانے انجانے میں اس غلطی ہوہی جاتی ہے میرے لئے یہی کافی ہے کہ تم راہ راست پر آگئے ہو۔

(71 بار دیکھا گیا)

تبصرے