Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 27 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

عالیہ ابراہیم بدھ 14 نومبر 2018

استاد: برف کو جملے میں استعمال کرو؛
شاگردجناب مجھے یہ کام نہیں آتا، کیونکہ ہم تو برف کو صرف پانی یا شربت میں استعمال کرتے ہیں۔
٭٭٭٭
ایک بڑے بالوں والا آدمی اپنے بال کٹوارہا تھا۔حجام نے قینچی کے بجائے اس کے سر پر مقناطیس پھیرنا شروع کردیا۔
آدمی نے پوچھا: یہ کیا کررہے ہوں؟
حجام بولا: چپ رہو میری قینچی تمہارے بالوں میں گم ہوگئی ہے۔
٭٭٭٭٭
استاد عامر سے : سوچ کے بتائو اگر میں تمہارے بھائی کو 500 روپے دوں جبکہ انہیں 200 کی ضرورت ہے تو وہ مجھے کتنے روپے واپس دیں گے۔
عامر:’’ایک روپیہ بھی نہیں‘‘
استاد (غصے سے) تم حساب نہیں جانتے؟
عامر: سر آپ میرے بھائی کو نہیں جانتے۔
٭٭٭٭
ماں بیٹے سے :تمہارے چہرے پر داڑھی آگئی ہے اور تم اب بھی چوروں سے ڈرتے ہو۔
بیٹا:ماں یہ بال ہیں کوئی بندوق نہیں۔
٭٭٭٭
بیٹا (ماں سے) امی میں گانا گارہا تھا کہ کسی نے یہ جوتا کھڑکی سے دے مارا۔
ماں (بیٹے سے ) تم دوبارہ گانا گا لو تاکہ دوسرا جوتا بھی آجائے۔
٭٭٭٭
ایک آدمی نے مالٹوں کی ریڑھی لگائی۔6 دنوں تک مالٹے نہیں بکے اور سوکھ گئے، ساتویں دن آدمی مالٹو پر پانی ڈالتے ہوئے بولا ۔ ارے؛تمہیں بکنا نہیں تو مت بکو۔ مگر ہوش میں تو آجائو۔
٭٭٭٭
استاد: بے موقع بارش کسے کہتے ہیں؟
شاگرد: جو بارش اسکول آنے کے بعد ہو۔
٭٭٭٭
والد (بیٹے سے) : پرچہ کیسا ہوا؟
بیٹا:بہت اچھا ہوا کیونکہ پیپر پر لکھا تھا کہ دیئے ہوئے سوالات پر روشنی ڈالیں اور اتفاق سے بلب میرے پرچے کے بالکل اوپر تھا۔
٭٭٭٭٭
استاد: تمام انسان مٹی سے بنے ہیں۔
شاگرد:(معصومیت سے) تو پھرانسان بارش میں کیچڑ کیوں نہیں بن جاتے۔
ؑؑؑ٭٭٭٭
ماں (بیٹے سے) تم سجاد کے ساتھ نہ کھیلا کرو،وہ خراب لڑکا ہے۔
بیٹا:تو پھر سجاد کو میرے ساتھ کھیلنا چاہئے کیونکہ میں تو اچھا لڑکا ہوں۔
٭٭٭٭
باپ (بیٹے سے) تم بڑے ہوکر کیا بنو گے؟
بیٹا:(جلدی سے) جادوگر۔
باپ:(حیرانی سے) وہ کیوں؟
بیٹا:تاکہ استاد جب مجھے مارنے لگے تو میں غائب ہوجائو۔)
٭٭٭٭

(127 بار دیکھا گیا)

تبصرے