Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 17 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پاکستان بچاؤ…!

(مختارعاقل ( دوٹوک بدھ 14 نومبر 2018
پاکستان بچاؤ…!

پاکستان کی سالمیت پر دشمن کا دوسرا بڑا حملہ بھی ریاستی اداروں نے ناکام بنادیا پہلا حملہ 27 دسمبر 2007 کو اس وقت کیا گیا تھا جب راولپنڈی کے جلسہ عام سے واپسی پر پیپلز پارٹی کی چیرپرسن اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا اس اچانک سانحہ پر سندھ جل اٹھا ۔شاہرا ہیں بند ‘ بینک ‘پیٹرول پمپ ‘کارخانے اور بازار پھونک دیئے گئے۔ کمیونیکیشن کے نظام پر حملہ کرکے اسے ناکارہ بنادیا گیا۔ ھالا میں ایک جلوس کا رخ مقامی کاٹن جننگ فیکٹری کی طرف تھا۔ اسے یکایک ایک شخص نے روک کر جلوس کا رخ ٹیلیفون ایکسچنج کی سمیت کردیا ۔مشتعل ہجوم نے اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور نذر آتش کردیا۔ پورے سندھ میں ایک ہفتہ تک آگ اور خون کا یہ کھیل جاری رہا۔ اس دوران مشتعل جلوسوں کا رخ سرکاری تنصیبات اور بینکوں ‘مالیاتی اداروں کی طرف پھیر کر انہیں زبردست نقصان پہنچایا گیا ۔صرف بینکنگ سیکٹر میں 22 ارب روپے کا نقصان ہوا اور لوٹی گئی رقم اس کے علاوہ ہے ۔آگ لگانے کے لئے پورے سندھ میں یکساں کیمیکل استعمال ہوا۔ یہ پاکستان کی سالمیت اور معیشت پر حملہ تھا۔ بندرگاہوں پر کام ٹھپ ہوگیا۔یوں لگتا ہے کہ تباہی وبربادی کے اس کھیل کے پیچھے ایک ہی طاقت اور ایک ہی دشمن کار فرما تھا اور وہ یقینی طور پر پاکستان کا دشمن تھا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اور بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری تو اس وقت ریاست کے ساتھ کھڑے تھے۔ وہ مشتعل عوام کو پر امن رہنے کی تلقین کررہے تھے۔ لاڑکانہ میں بیٹھ کر میڈیا کے سامنے یہ اعلان کررہے تھے کہ ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘وہ امن وامان قائم رکھنے کی اپیل کررہے تھے۔ انہوں نے جس ق لیگ کو ’’قاتل لیگ‘‘ کہا تھا اسی کے رہنما اور موجودہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کو اپنی حکومت میں نائب وزیراعظم کا عہدہ دیا جس کی آئین میں بھی گنجائش نہیں ہے ۔یہ ان کی صلح جوئی کی واضح دلیل ہے ۔پھر وہ کون لوگ تھے جنہوں نے بے نظیر بھٹو کی شہادت کے واقعہ کو پاکستان اور بالخصوص سندھ میں تباہی وبربادی پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔ جنہوں نے ٹرانسپورٹ مواصلات اور معیشت پر حملہ کرکے پاکستان کو مفلوج بنانے اور غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ یہ وہی دشمن ہے جس کا ایجنڈا پاکستان کو تباہ اور کمزور کرتا ہے۔ آسیہ بی بی کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تو یہ چھپا دشمن پھر سامنے آگیا۔ آسیہ مسیح کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر احتجاج کی شدید لہراٹھی اور شمال جنوب پورے ملک میں پھیل گئی اس میں شرپسند عناصر بھی شامل ہوگئے جنہوں نے ملک بھر میں سیکڑوں گاڑیاں پھونک دیں بازار تین دن بند رہے جس سے صرف کراچی کے تاجروں کو 15 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا دولاکھ لیٹر سے زائد دودھ بروقت مارکیٹ نہ لے جانے کے سبب تلف ہوگیا۔ لاکھوں محنت کش کام پر نہ جاسکے ‘پیٹرول پمپ بند ہونے کے باعث رکشہ ٹیکسی نہیں چلے اور نوبت فاقہ کشی تک پہنچ گئی۔اسکول ‘کالج ‘یونیورسٹیاں ‘بند ہونے سے زبردست تعلیمی نقصان ہوا۔ ملک بھر میں دھرنوں ہائی ویز اور شہروں میں ٹریفک جام سے مجموعی طور پر ملکی معیشت کو 150 ارب روپے نقصان کا تخمینہ سامنے آیا ہے ہم اپنے پیارے نبی ؑ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتے اور اگر سپریم کورٹ میں یہ ثابت ہوا ہے کہ گستاخی نہیں ہوئی ہے تو یہ خوشی کی بات ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جج صاحبان فیصلہ کرتے وقت درود شریف پڑھتے ہیں اور وہ بھی عاشقان رسول ؑ ہیں اسلامی تاریخ کی کتاب (دعائم الاسلام :جلد 2 صفحہ 323 ) میں نبوی ؑ دور سے ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے رسولؑ خدا کے مدنی دور میں کسی گستاخ شاعر نے نبی ؑ کریم کی شان کے خلاف گستاخانہ اشعار لکھے ۔صحابہ اکرام نے اس گستاخ کو پکڑ کر نبی ؑ پاک کے سامنے پیش کیا ۔سرکار دوعائم ؑ نے حکم دیا کہ اس کی زبان کاٹ دو ۔تاریخ لرزگئی ۔مکہ میں تو نبی ؑ پتھر مارنے والوں کو معاف کردیتے تھے۔ کوڑا پھینکنے والی عورت کی تیمار داری کرتے تھے ۔صحابہؓ اپنے نبی ؑ کا فرمان بجالانے کو تیار تھے کہ آنحضرت ؑ نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ اس کی زبان کاٹ دو حضرت علیؓ حکم بجالانے شہر سے باہر نکلے اور حضرت قنبر کو حکم دیا کہ میرا اونٹ لے کر آؤ اونٹ آیا تو آپ ؓ نے اس کے پیروں سے رسی کھول دی اور شاعر کو بھی کھول کر اسے 2 ہزار درہم دیئے اونٹ پر بٹھاکر کہا تم بھاگ جاؤ جو لوگ تماشا دیکھنے آئے تھے وہ حیران رہ گئے ۔وہ رسول ؑ پاک کے پاس شکایت لے کر پہنچ گئے کہ یارسول ؑ اﷲ! آپ نے تو زبان کاٹنے کا حکم دیا تھا ۔حضرت علیؓ نے اس گستاخ شاعر کو 2 ہزار درہم دے کر رہا کردیا ۔حضور ؑ مسکرائے اور فرمایا ’’علیؓ میری بات سمجھ گئے ہیں ‘‘ لوگ حیرانی سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے گھروں کو لوٹ گئے اگلے دن صبح فجر کی نماز پر پہنچے تو دیکھا کہ وہی شاعر وضو کررہا ہے پھر وہ مسجد میں داخل ہوا اور پیارے نبی حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی قدم بوسی کی ۔جیب سے ایک پرچہ نکالا اور کہا کہ حضور ؑ ! آپ کی شان میں نعت لکھ کر لایا ہوں ۔اس طرح حضرت علی ؓ نے پیارے نبی ؑ کے حکم پر گستاخ زبان کاٹ کر اسے مدحت رسالت والی زبانی میں تبدیل کردیا۔ اسلام کا وسعت اور پھیلاؤ میں اچھے اخلاق ‘کردار‘ عفوودر گزر اور حسن سلوک کا بڑا دخل سے مسئلہ رحمی کا یہی مطلب ہے کہ اگر کوئی آپ کے ساتھ برا کرے تب بھی اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ ملک اس وقت سخت مشکل اور کٹھن دور سے گزر رہا ہے۔ رواں سال 25 جولائی کو عام انتخابات کے بعد جو حکومت قائم ہوئی ہے ‘اسے کارکردگی دکھانے کا موقع ملنا چاہیے ملعونہ آسیہ کے حوالے سے علمائے کرام اور عام مسلمانوں کا ردعمل فطری امر ہے ۔عاشقان رسول ؑ اپنی جان پر کھیل کر ناموس رسالت ؑ کی حفاظت کردیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ اس دشمن طاقت پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے جس نے 27 دسمبر 2007 کو بے نظیر بھٹو کی شہادت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور پاکستان کی سالمیت پر حملہ کیا گیا۔ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے نشری خطاب میں اسے مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانے کا اعلان کیا ہے ان کی حکومت نے پہلی بار ماہ ربیع الاول کا مبارک مہینہ سرکاری طور پر منانے کا اعلان بھی کیا ہے جس کے دوران نبی پاک ؑ کی سیرت کے حوالے سے اور درود سلام کی محافل منعقد کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں تمام مذہبی ‘سیاسی اور عسکری قوتوں کو ایک صفحہ پر آنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا اتحاد اور یکجہتی ہی دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملانے کا ذریعہ ثابت ہوگا۔

(251 بار دیکھا گیا)

تبصرے