Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 27 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

آسیہ پری وش بدھ 14 نومبر 2018

علی ہاتھ میں پکڑی فائل کو چارپائی پہ پٹختے ہوئے خود بھی تھکا تھکا سا چارپائی پہ گرگیا کیا ہوا علی؟ آج بھی نوکری کا کہیں سے آسرا نہیں ملا؟ علی کو پانی کا گلاس پکڑاتے ہوئے اس کی ماں نے اس کے مایوس چہرے سے روز کا اندازہ لگایا نہیں امی مجھے لگتا ہے کہ نوکری میری قسمت میں ہی نہیں ہے مجھے تو اپنی ساری پڑھائی ضایع ہوتی دکھائی دے رہی ہے نہیں بیٹاایسے نہیں کہتے مایوس نہیں ہوتے امی کے ٹوکنے پہ وہ خاموش ہوگیاعلی آج پڑوس سے صابرہ اور جمیلہ آئی تھیں وہ کہہ رہی تھیں کہ تم ان کے بچوں کو تھوڑا سا ٹائم پڑھا دیا کرو پڑوس کے بچے؟ یہ مجھے کیا ٹیوشن فیس دیں گے پہلے سے شکستہ دل علی کا ماں کی بات پہ منہ بن گیا۔علی!یہ آج کل تمہیں کیا ہوتا جارہا ہے مت بھولو کہ تم بھی کبھی انہیں بچوں کی طرح پڑھائی میں مدد کے لیے ادھر ادھر پھرتے تھے ماں کے سچائی بیان کرنے پر علی کو بے اختیار بچپن کے وہ دن یاد آگئے جب پڑھائی میں مشکل پیش آنے کی وجہ سے غربت کے باعث اس کو کم فیس پر کوئی ٹیوشن پڑھانے کو تیار نہیں تھا اس نے انتھک محنت کے بل بوتے پہ ایم فل کیا تھاوہ اپنی سوچ پہ شرمندہ ہوگیا۔
بچوں کو پڑھانے میں علی کو بہت مزہ آنے لگا ان بچوں کو پڑھاتے اسے ان باتوں کو بھی سیکھنے سمجھنے اور ذہن نشین کرنے کا موقع مل رہا تھا جنہیں وہ زمانہ طالبعلمی میں صرف پڑھتا تھاوہ تاحال دن کو نوکری کے لیے بھٹک رہا تھا لیکن رات کو اس سے مفت میں ٹیوشن پڑھنے والے بچوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا تھا دن کو ہونے والی خواری اور تھکن کے بعد رات کے ان ڈیڑھ گھنٹوں کے پرلطف لمحات نے اس کے ذہن میں ایک نیا خیال ڈالا
کچھ دنوں سے علی بہت پریشان اور الجھا الجھا سا پھررہا تھا بچوں کو پڑھانے میں بھی اس کی عدم دلچسپی صاف ظاہر ہورہی تھی آج تو اس نے گھر آئے بچوں کو بھی چھٹی دے دی بچوں کے جانے کے بعد وہ سر تھامے بیٹھا تھا کہ ٹیوشن پڑھنے آنے والے بچوں تنویر اور توقیر کے والد شبیر کے سلام کرنے پہ سر اٹھایا شبیر چاچا آپ؟ بیٹھیے علی نے چارپائی پہ ان کے لیے جگہ بنائی کیا بات ہے بیٹا؟ آج کل کوئی پریشانی ہے؟ ارے نہیں چاچا ایسی کوئی بات نہیں علی نے پھیکی ہنسی سے انہیں ٹالنا چاہا۔
پریشانی بتانے سے اگر ختم نہیں ہوتی تو دل کا بوجھ ضرور کم ہوجاتا ہے سو اگر اعتماد کرو تو مجھے بتادو شبیر چاچا کی بات پہ اس کے دل کو حوصلہ ملادراصل چاچا آپ کو تو پتا ہے کہ اتنے وقت سے ادھر ادھر بھٹکنے کے باوجود مجھے کہیں نوکری نہیں مل رہی تو میں نے سوچا کہ کیوں نا کوئی کوچنگ سینٹر کھول لوں سو ادھر ادھر معلومات کرائی اب کوچنگ سینٹر کے لیے ایک جگہ پسند تو آئی ہے وہاں پہ اس کے کامیابی کے چانس بھی زیادہ ہیں لیکن ایڈوانس کرائے اور اوپر کے کچھ سامان کے لیے تقریبا ایک لاکھ چاہئیںگھر کے حالات تو آپ کے سامنے ہیںدوست احباب ایک لاکھ کا قرضہ دینے کا رسک لینے کو تیار نہیںسود پہ قرضہ تو قرضے سے آدھا تو سود ہے۔ اب سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کروں؟
علی کی پریشانی سننے کے بعد شبیر تھوڑی دیر سوچ میں ڈوبے رہنے کے بعد ابھی آیا کہہ کر چلے گئے جبکہ علی چارپائی پہ لیٹ کر آسمان کے تاروں میں اپنے نصیب کا تارہ ڈھونڈنے لگایہ لو بیٹا 5منٹ کے بعد وہ دوبارہ اس کے ساتھ آکر بیٹھ گئے پورا ایک لاکھ ہے بیٹی کی شادی کے زیور بنوانے کے لیے کمیٹی ڈالی تھی اس کے کل پیسے ملے تھے اب بیٹی کی شادی میں تو ایک سال پڑا ہے اس لیے ان پیسوں سے پہلے تم اپنی ضرورت پوری کرلولیکن چاچا علی شبیر چاچا سے پیسے لینے میں کچھ ہچکچایاکیوں بیٹا جب تم بنا کسی لالچ اور غرض کے ہمارے بچوں کی پڑھنے میں اتنی مدد کررہے ہو تو کیا ہم تم کو اس مشکل میں اکیلا چھوڑ سکتے ہیں؟چاچا میں یہ قرض آپ کو جلد سود سمیت واپس کردوں گا علی کی آنکھوں میں پانی آگیانہ بابا سود جیسی حرام چیز کو میں نہیں ہاتھ لگاؤں گاپھر علی نے اپنے جیسے ہی چند دوستوں کو ساتھ ملا کر کوچنگ سینٹر کھولا جس نے دن دگنی ترقی کی سینٹر سے ہونے والی آمدنی کی بدولت علی نے ڈیڑھ سال میں ہی نہ صرف اپنے محسن شبیر چاچا سے لیا ایک لاکھ نہایت احسان مندی سے انہیں واپس کردیا بلکہ اپنے علاقے کے سامنے کسی خدا ترس انسان کے زمین خرید کے دینے پر وہاں پر چھوٹا سا ٹیوشن سینٹر بھی بنالیا جہاں پہ وہ کم وسائل کی وجہ سے تعلیم اور ٹیوشن سے محروم اپنے محلے کے بچوں کے ساتھ ساتھ دوسرے غریب بچوں کو بھی پوری دلجمعی کے ساتھ مفت میں ٹیوشن پڑھانا اپنا فرض سمجھتا تھا۔

(109 بار دیکھا گیا)

تبصرے