Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعرات 24 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

الیکشن میں ہارنا امتحان تھا‘ کچھ سیکھا نہیں تو سوا ہو جائیں گے‘مصطفی کمال

قومی نیوز پیر 12 نومبر 2018
الیکشن میں ہارنا امتحان تھا‘ کچھ سیکھا نہیں تو سوا ہو جائیں گے‘مصطفی کمال

کراچی۔۔۔۔۔ پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے پارٹی کارکنان کو بلدیاتی انتخابات کے لئے تیاری شروع کرنے کی ہدایت دے دی دسمبر میں یوسی سے لے کر مرکزی سطح تک تنظیم نو جائے گی جس کیلئے سید مصطفی کمال نے غیر سیاسی شہریوں بالخصوص نوجوانوں کو پاک سر زمین پارٹی کا علم تھامنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ کوٹہ سسٹم جیسی برائیوں کو معاشرے سے ختم کریں گے جبکہ 24 نومبر کو جشن عید میلاد النبی ﷺعظیم الشان طریقے سے منایا جائے گا۔ اردو بولنے والا ہوں اور اس پر فخر ہے لیکن کیا اس بنیاد پر دیگر قومیت کے لوگوں کو خود سے دور کر دوں؟، ایم کیو ایم کے نام کے ساتھ مہاجروں کے ساتھ کوئی بھی زیادتی کرلو سب خاموش رہتے ہیں ایم کیو ایم کا نام اس حد تک بدنام ہو چکا ہے کہ چاہ کر بھی اسے صحیح نہیں کر سکتے‘ ایم کیو ایم کے نام پر ایک نسل مر گئی ایک بھاگتی پھر رہی ہے اور تیسری جیلوں میں ہے جبکہ ایک صاحب روزانہ نئے صوبے کا مطالبہ کر کے خود سو جاتے تھے پھر سندھ میں سندھی اور مہاجر آپس میں لڑ پڑتے تھے، الیکشن میں ہارنا ایک امتحان تھا اور اس امتحان سے اگر ہم نے کچھ سیکھا نہیں تو ہم بھی رسوا ہو جائیں گے۔ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ ٹی وی اور اخبارات میں اشتہارات دیتے لیکن ہم ہر گھر تک جا سکتے ہیں ہر گھر تک پیغام پہنچا سکتے ہیں، کراچی ملک کو پالتا ہے لیکن کوئی کراچی کو اس کا حق نہیں دینا چاہتا، ہم آج اس ظلم کے دور میں زندہ ہیں اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور حق بیان کرنا ہر فرد پر فرض ہے ان حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اپنے بچوں کو مرنے دیں؟ کیا ظلم کے خلاف آواز اٹھائے بغیر مر جائیں؟ ہم اپنے بچوں کو مرنے نہیں دیں گے، کارکنان پر امن جدوجہد کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار رکھیں ان خیالات کا اظہار سید مصطفی کمال نے پی ایس پی کے تحت ڈسٹرکٹ سینٹرل کے ورکرز کنونشن کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پی ایس پی کے صدر انیس قائم خانی سمیت پارٹی کے مرکزی قائدین بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر یہاں موجود تمام کارکنان کو یہ پارٹی کچھ نہیں دے سکتی یہ کارکنان کا مجمع اس جماعت کا ہے جس کے پاس ایک کونسلر کی بھی سیٹ نہیں لوگوں کا اتنی بڑی تعداد میں یہاں موجود ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ میں جس سوچ کے ساتھ آیا اس میں کامیاب ہو چکا ہوں، 3 مارچ کو جب آئے تو مرنے کے لئے آئے تھے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ الیکشن میں بھی جا پائیں گے۔ ہمارا ایم این اے، ایم پی اے یا اونچا مقام ہمیں موت سے نہیں بچا سکتا، ہم سے مرنے کے بعد نہیں پوچھا جائے گا کہ الیکشن جیت کے آئے یا نہیں بلکہ پوچھا جائے گا کہ حق بات جاننے کے بعد لوگوں تک پہنچائی یا نہیں، اسی لیے میں اپنے کارکنان کو حقیقی کامیابی کی مبارکباد پیش کرتا ہوں، میں اور انیس قائم خانی بھائی تنہا عوام اور کارکنان کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے تھے اگر ہماری کوشش سے ایک معصوم جان بچ گئی ہے تو ایسے 10 الیکشن بھی قربان ہیں۔

(318 بار دیکھا گیا)

تبصرے