Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 12 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات, رہنماﺅ ں کی ایک دوسرے پر الزام تراشی نئی جنگ چھڑ گئی

قومی نیوز اتوار 11 نومبر 2018
ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات, رہنماﺅ ں کی ایک دوسرے پر الزام تراشی نئی جنگ چھڑ گئی

کراچی۔۔۔۔۔ ایم کیوایم (پاکستان ) کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کو ایم کیوایم (پاکستان) سے نکالنے کے بعد ایم کیوایم (پاکستان) کےرہنماﺅ ں اور فاروق ستار کے حامیوں کے درمیان بیانات اور ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کی جنگ چھڑ گئی ‘ ایم کیو ای (پاکستان) کے محفوظ یار خان نے فاروق ستار سے متعلق کرپشن کے ثبوت دینے کا دعویٰ کیا ہے سمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن جو فاروق ستار کی بہادرآباد سے ثالثی کرانے کی کوششیں بھی کرتے رہے ہیں‘ فاروق ستار کے خلاف کھل کر سامنے آگئے ہیں‘ دوسری جانب میئر کراچی وسیم اخترنے بھی فاروق ستار کے خلاف مورچہ لگالیاہے‘ میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ فاروق ستار نے 25 جولائی کے عام انتخابات سے قبل اور اس کے بعد اپنے بیانات اور اپنی حرکتوں سے جتنا نقصان ایم کیوایم کو پہنچایا ہے‘ اتنا نقصان آج تک کسی نے ایم کیوایم کو نہیں پہنچایا‘ واضح رہے کہ فاروق ستار نے ایم کیوایم (پاکستان ) کی جانب سے پارٹی سے اپنی رکنیت ختم کئے جانے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے پارٹی کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ‘ کنور نوید جمیل ‘ عامر خان اور وسیم اختر کو جاگیردار وڈیرہ قرار دیتے ہوئے ایم کیوایم پر قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا‘ جبکہ ایم کیوایم (پاکستان) نے فاروق ستار کی پارٹی رکنیت ختم کرتے ہوئے یہ اعلان کیاتھا کہ ایم کیوایم (پاکستان) کا کوئی کارکن اب فاروق ستار سے رابطہ نہیں کرے گا‘ تاہم اس اعلان کے بعد کارکنوں کی بڑی تعداد فاروق ستار کی رہائش گاہ پہنچ گئی اور فاروق ستار سے اظہار یکجہتی کیا‘ جبکہ سینئر سیاست داں اور معروف قانون داں احمد رضا قصوری بھی اے پی ایم ایل جناح کراچی کے صدر محمد یاسر کے ہمراہ فاروق ستار کی رہائش گاہ پہنچے اور فاروق ستار سے اظہار یکجہتی کیا۔ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم (پاکستان)پر قبضہ کرنے والے یہ جاگیر دار اور شہری وڈیرے مجھ سے جان چھڑانے کی بہت پہلے سے کوششیں کررہے تھے‘ انہوںنے کہاکہ عامر خان اور کنور نوید بتائیں کہ ان کے کتنے اثاثے ہیں ‘ انہوںنے کہا کہ ایم کیوایم میں مائنس ون تو حادثاتی طورپر ہوا‘ لیکن اس کے بعد مائنس ٹو کی ایک سال سے تیاری جاری تھی‘ انہوںنے کہا کہ ایم کیوایم کو سیاسی وجمہوری طریقے سے چلانا چاہتے ہیں‘لیکن یہ قبضہ کرنے والے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر پارٹی کو چلانا چاہتے ہیں‘ کارکنوں کی بڑی تعداد ان کے اس رویے سے پریشا ن ہے اور یہ سمجھ رہی کہ اس رویے سے تنظیم کو نقصان ہورہا ہے‘ انہوںنے کہا کہ مجھے پارٹی سے نکالنے کے فیصلے کو کارکنوں کی بڑی تعداد نے مسترد کردیا ہے اور ہزاروں کارکنان میرے ساتھ کھڑے ہیں ‘ رابطہ کمیٹی اپنے ان فیصلوں سے کارکنوں کا اعتماد کھو چکی ہے اب پارٹی میں انٹر ا پارٹی الیکشن ہونے چاہئیں کارکنوں کو 5 فروری کی ان کی ذمہ داریوں کی پوزیشن پر بحال کیا جائے‘ انہوںنے کہا کہ مجھ سمیت پارٹی کے تمام لوگ اپنے اثاثوں کی تفصیلات کارکنوں کی عدالت میں پیش کریں ‘ اگر یہ لوگ آج ایف بی آر میں اپنے جو اثاثے بتا رہے ہیں‘ وہ یہ بھی بتائیں کہ 1985 ءمیں ان کے اثاثے کیا تھے‘ اگر وہ اپنے اثاثے ظاہر نہیں کریں گے‘ تو میں بہت جلد ان کے اثاثوں سے پردہ اٹھاﺅں گا‘ خواجہ اظہار الحسن نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اصولوں سے انحراف کرنے والا پارٹی میں کیسے رہ سکتا ہے‘ خالد مقبول صدیقی ایم کیوایم (پاکستان) کے سپہ سالار ہیں۔ جبکہ فاروق ستار کارکن ہیں‘ انہوںنے کہا کہ میں دوٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین کی طاقت کسی کو نہیں ملے گی‘ جسے میرا اورایم کیوایم کا احتساب کرنا ہے وہ عدالت میں چیلنج کرے میں نے حساب دینا شروع کیاتو بہت مشکل ہوجائے گی ‘ میں نے اگر 22 اگست کی رات کا ہی حساب پیش کردیا تو بہت مشکل ہوجائے گی‘ ایم کیوایم کو نہ میں نے نہ فاروق ستار نے بلکہ کارکنوں نے بچایا ہے ‘ شاہد پاشا نے کہا کہ جو باتیں میں نے شروع میں کی تھیں‘ وہ آج فاروق ستار کررہے ہیں‘ ہم نے ایم کیوایم کے رہنماﺅں کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کی بات کی تھی‘ تو کیا غلط کیاتھا‘ جو لوگ نائن زیرو پر پرانی چپلوں میں آتے تھے‘ آج بڑی بڑی گاڑیوں میں آرہے ہیں‘ جو لوگ ایم کیوایم کو چھوڑ کر حقیقی میں گئے اور کارکنوں کو قتل کروایا وہ لوگ فاروق ستار پر کیسے انگلیاںاٹھا سکتے ہیں‘ محفوظ یار خان نے کہا کہ فاروق ستار کے بچے بیرون ملک تعلیم کیسے حاصل کررہے ہیں‘ انہوںنے عدالت کے مقدمے کے حوالے سے کہا کہ اے ٹی سی کو بابر غوری اور دیگر کے وارنٹ جاری کرنے کا اختیار نہیں ،واضح رہے کہ ایم کیوایم (پاکستان) واضح طورپر 2 دھڑوںمیں تقسیم ہوچکی ہے‘ ایک جانب بہادر آباد رابطہ کمیٹی اور دوسری طرف فاروق ستار کی قیادت میں پی آئی بی دھڑا باقاعدہ وجود میں آچکا ہے‘ فاروق ستار ایم کیوایم میں انٹر ا پارٹی الیکشن کرانے کی تیاری کررہے ہیں‘ ان کا کہنا ہے کہ کارکنوں کی عدالت جو فیصلہ کرے گی اور جن عہدیداروں کومنتخب کرے گی‘ پارٹی چلانا ان کا حق ہوگا۔

(365 بار دیکھا گیا)

تبصرے