Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 18  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

قاتل سسرالی

عارف اقبال جمعه 09 نومبر 2018
قاتل سسرالی

3 جون 2018ء کی صبح صدر کے علاقے میں رہائش پذیر ندیم قریشی کے موبائل فون پر اچانک کال آئی جس پر ندیم قریشی کو کچھ تشویش ہوئی کہ رمضان کے دنوں میں اتنی صبح کس کی کال آگئی لیکن ندیم نے پھر یہ سوچ کر اپنا موبائل فون اُٹھالیا کہ یقیناً اتنی صبح کال کرنے والا کوئی اہم اطلاع دینے کے لئے ہی کال کررہا ہوگا۔ اس دوران ندیم نے اپنے موبائل فون کی اسکرین پر کال کرنے والے کا نمبر دیکھا تو اُسے وہ نمبر جانا پہچانا لگا۔ ندیم نے نمبر دیکھنے کے بعد اپنا موبائل فون ریسیو کیا۔ فون ریسیو کرتے ہی ندیم کو دوسری جانب سے ایک غم میں ڈوبی آواز سنائی دی اور یہ غمگین آواز ندیم کے رشتہ دار سلیم قریشی کی تھی ‘ندیم نے سلام کے بعد اپنے رشتہ دار سلیم قریشی سے اتنی صبح اور غمگین لہجے میں بات کرنے کی وجہ معلوم کی جس کے جواب میں سلیم قریشی نے ندیم کو بتایا کہ ان کے داماد اور ندیم کے بڑے سالے ڈاکٹر بختیار الدین کی طبیعت سخت خراب ہے اور ہم لوگ طبی امداد کے لئے انہیں اسپتال لے کر جارہے ہیں۔ ندیم کے پوچھنے پر سلیم قریشی نے مزید بتایا کہ ان کے ناک اور منہ سے خون نکل رہا ہے اور یہ کہتے ہوئے سلیم قریشی نے اپنا سیل فون بند کردیا۔ فون بند ہونے کے بعد ندیم یہ سوچ رہا تھا کہ اس صورت حال میں وہ کیا کرے اور پھر ندیم یہ سوچتا ہوا جلدی جلدی تیار ہونے لگا تاکہ ڈاکٹر بختیار کو دیکھنے اسپتال جاسکے‘ ابھی ندیم تیار ہوکر گھر سے باہر جانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اس دوران اس کا موبائل پھر بجنا شروع ہوگیا۔ ندیم نے موبائل اُٹھا کر اس کی اسکرین پر آنے والا نمبر دیکھا تو یہ نمبر سلیم قریشی کا تھا جس پر ندیم نے فوری طور پر اپنا موبائل ریسیو کیا ‘دوسری جانب سے سلیم قریشی نے ندیم کو روہانسی آواز میں ایک اطلاع دی جس کو سن کر ابتدائی طور پر ندیم کے اوسان خطا ہوگئے لیکن پھر ندیم نے فوری اپنے آپ کو سنبھالا اور اطلاع دینے والے سلیم قریشی سے دوبارہ پوچھا کہ آپ کیا کہہ رہے ہو جس پر فون کی دوسری جانب موجود سلیم قریشی نے بتایا کہ دوران علاج ڈاکٹر بختیار کا انتقال ہوگیا ہے۔ ندیم نے اس سے انتقال کی وجہ پوچھی جس پر سلیم قریشی نے اُسے بتایا کہ ڈاکٹر بختیار کے ناک اور منہ سے خون آنے کے بعد ہم لوگ فوری طور پر علاج کے لئے علاقے کے اسپتال لے گئے جہاں دوران علاج ڈاکٹر وںنے بتایا کہ ڈاکٹر بختیار کو برین ہیمرج ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کے ناک اور منہ سے نکلنے والا خون بند نہیں ہورہا تھا اور پھر اس دوران ہی ڈاکٹر بختیار کا انتقال ہوگیا۔ سلیم قریشی کی یہ بات سن کر ندیم کے منہ سے بے اختیار یہ جملہ نکلا کہ جب ڈاکٹر بختیار کی اتنی تشویشناک حالت تھی تو آپ اُسے علاقے کے اسپتال میں کیوں لے کر گئے‘ اس نازک صورت حال میں تو ڈاکٹر بختیار کو کسی بڑے اسپتال میں لے جانا چاہئے تھا جہاںہر قسم کی سہولت موجود ہوتی ہے لیکن ندیم کی اس بات کا سلیم قریشی نے کوئی جواب نہ دیا اور ندیم کو ڈاکٹر بختیار کے انتقال کی خبر دیگر رشتہ داروں کو دینے کا کہہ کر فون بند کردیا۔
ڈاکٹر شیخ بختیار الدین ولد سراج الدین شیخ پیشے کے لحاظ سے ہومیو ڈاکٹر اور سوشل ورکر تھے جو دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا نصب العین سمجھتے تھے‘ ڈاکٹر بختیاراپنی فیملی جس میں 3 بچے اور بیوی شامل تھے‘ ان کے ساتھ سالوں سے نارتھ کراچی کے علاقے بفرزون سپریم ایونیو فیز II میں رہائش پذیر تھے۔ ڈاکٹر بختیار نے اپنا بچپن اور جوانی شیرشاہ کے علاقے میں گزاری تھی جہاں ان کے والدین رہائش پذیر ہیں۔ ڈاکٹر بختیار کی شادی بھی اسی علاقے میں رہتے ہوئے ہوئی لیکن شادی کے 4 سال بعد ہی ڈاکٹر اپنی فیملی کے ساتھ شیرشاہ سے شفٹ ہوکر عزیز آباد پھر بفرزون میں رہائش اختیار کرلی تھی اور آج ڈاکٹر بختیار کی زندگی کا اختتام بھی سپریم ایونیو میں رہتے ہوئے ہی ہوا۔ اطلاع سننے کے بعد ندیم ابھی انہی پرانی یادوں میں گم تھا کہ پھر اُسے ہوش آیا کہ ڈاکٹر کی انتقال کی خبر تو وہ ان کے والد‘ بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کو دے دے تاکہ ان لوگوں کو بھی اس واقعے کی اطلاع ہوجائے جس کے بعد ندیم نے فرداً فرداً تمام لوگوں کو ڈاکٹر بختیار کی طبیعت اور انتقال کی خبر سب کو دی اور انہیں اسپتال یا گھر پہنچنے کو کہا۔ ندیم اس کام سے فارغ ہوکر وہ اسپتال جانے کے لئے تیزی سے اپنے گھر سے نکلا۔ ندیم کے اسپتال پہنچنے کے کچھ دیر بعد ہی ڈاکٹر بختیار کے بھائی خرم شیخ اور ارسلان شیخ بھی آگئے۔ اس دوران سلیم قریشی اور ان کے داماد ڈاکٹر بختیار الدین کی نعش لے کر آئے۔ نعش اس وقت خون میں لت پت تھی کہ اس پر ڈاکٹر کے بھائی خرم اور ارسلان ‘بھائی کو اس حالت میں دیکھ کر جوش مارتی محبت کے ساتھ دونوں نعش کے ساتھ لپٹ گئے جس پر ساتھ کھڑے سلیم قریشی نے انہیں سہارا دیا اور انہیں نعش سے فوری طور پر الگ کردیا لیکن نعش ایسے اکڑی ہوئی لگ رہی تھی جیسے ڈاکٹر کی موت کو کافی وقت گزر چکا ہے ‘وہ بھی کچھ دیر کے لئے کنفیوژ ہوگیا کہ اگر ڈاکٹر کا انتقال ابھی کچھ دیر قبل ہوا ہے تو نعش تو اتنی جلدی اکڑ نہیں سکتی لیکن خرم نے وقتی طور پر اپنے اس خیال کو جھٹکنے کی کوشش کی اور اس نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ ہوسکتا ہے میرا یہ خیال غلط ہو۔ خرم انہی خیالوں میں ایک جانب کھڑا اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے لئے گرد و پیش کا جائزہ لینے لگا۔ یہ بات خرم کے دماغ میں اٹک سی گئی کہ انتقال کے فوری بعد نعش کا اس طرح اکڑ جانا‘ کچھ معنی خیز سا لگ رہا تھا‘ پھر اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس بات کا ذکر اپنے چھوٹے اور ڈاکٹر بختیار کے تیسرے بھائی ارسلان شیخ سے کیا جو اس وقت غم کی کیفیت میں مبتلا ایک جانب کھڑا تھا‘ اس دوران خرم ارسلان کے قریب گیا‘ اپنے ذہن میں اٹک جانے والے سوال کا ذکر اس سے کیا‘ یہ سن کر ارسلان بھی حیرت زدہ رہ گیا لیکن پھر یہ دونوں اپنے خیال کو غلط ثابت کرنے کے لئے فوری نعش کی طرف گئے اور قریب جاکر باریک بینی سے نعش کا جائزہ لینے لگے جس پر انہیں محسوس ہوا کہ ان کے ذہن میں اٹکنے والا خیال درست ہے کیونکہ نعش کا بغور جائزہ لینے اور چھونے سے انہیں اندازہ ہوگیا کہ نعش اکڑی ہوئی ہے جیسے لگ رہا ہو کہ ڈاکٹر کی موت بہت پہلے ہوچکی ہے اور انہیں اطلاع کافی وقت گزرنے کے بعد دی گئی ہے۔ انہیں لگ رہا تھا کہ ڈاکٹر کی موت ایسے نہیں ہوئی جیسے بتائی جارہی ہے۔ ان دونوں بھائیوں کو محسوس ہورہا تھا کہ دال میں کچھ کالا ہے جو اُن سے چھپائی جارہی ہے اور اس بات کو ثابت کرنے کے لئے ارسلان اور خرم نے مل کر سلیم قریشی سے کہا کہ ہم لوگ نعش کا پوسٹ مارٹم کروانا چاہتے ہیں کیونکہ ہمیں لگ رہا ہے کہ معاملہ ایسا نہیں جیسا بتایا جارہا ہے۔ یہ سن کر ڈاکٹر بختیار الدین کے سسر سلیم قریشی نے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ ایسا کچھ نہیں ہوا‘ صرف برین ہیمرج کی وجہ سے ڈاکٹر کی موت واقع ہوئی ہے لیکن اس دوران میت والے گھر میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا لیکن پھر میت میں شریک ہونے کے لئے آئے قریبی رشتہ داروں اور بزرگوں کے سمجھانے پر ارسلان اور خرم وقتی طور پر خاموش ہوگئے جس کے بعد ڈاکٹر بختیار الدین شیخ کی تدفین کردی گئی لیکن اتنی جلدی ڈاکٹر کی موت واقع ہونا اور پھر نعش کے اکڑ جانے والی بات ان دونوں بھائیوں کے ذہن سے نکل نہیں پارہی تھی کیونکہ جس مہینے میں ڈاکٹر کا انتقال ہوا وہ دن انتہائی گرم تھا اگر دسمبر‘ جنوری کا مہینہ ہوتا تو شاید ڈاکٹر کے بھائی یہ سوچ کر بات اپنے ذہن سے نکال دیتے کہ انتہائی ٹھنڈ کی وجہ سے نعش جلدی اکڑ گئی ہو۔
تاہم تدفین کے بعد ان بھائیوں نے واقعہ کا جائزہ لیا اور اس کے لئے انہوں نے اپنے طور پر علاقے اور قبرستان سے کچھ تحقیقات کیں جس میں انہیں جو کچھ ملوم ہوا تو یہ سن کر ان کے اوسان خطا ہوگئے کیونکہ تحقیقات کے دوران انہیں قبرستان میں موجود گورکن نے یہ بات بتائی کہ ڈاکٹر کے لواحقین نے اسے صبح کے تقریباً 8 بجے قبر کے انتظام کا کہا تھا اور اطلاع دینے والے کا نام اور وقت محمد شاہ قبرستان کے گورکن کے پاس موجود رجسٹرڈ میں درج تھا‘ یہ بات اور اس سے ملی جلی کچھ باتیں پتہ چلنے پر ڈاکٹر بختیار کے دونوں بھائیوں ارسلان اور خرم کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ ڈاکٹر کی موت برین ہیمرج سے نہیں ہوئی بلکہ انہیں قتل کیا گیا ہے جس کے بعد مقتول ڈاکٹر کے بھائیوں نے اس واقعہ کا مقدمہ درج کروانے نیو کراچی تھانے گئے لیکن وہاں موجود پولیس افسر نے کچھ ناگزیر وجوہات کی بناء پر مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد ڈاکٹر بختیار الدین کی بھائیوں نے انصاف کے حصول کے لئے عدالت سے رجوع کیا اور تقریباً ایک ماہ کی محنت کے بعد عدالت نے ڈاکٹر بختیار الدین کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کیا جس کے بعد ڈاکٹر کے بھائی خرم نے نیو کراچی تھانے میں ڈاکٹر بختیار الدین کے قتل کا مقدمہ نمبر 194/2018 درج کروایا جس میں مدعی خرم شیخ نے پولیس کو بیان دیا کہ میں گارمنٹس کا کام کرتا ہوں اور میرے بھائی ڈاکٹر بختیار الدین شیخ کی شادی مسمات فرخندہ بنت سلیم قریشی سے ہوئی تھی‘ 1996ء تک ڈاکٹر بختیار 2 بچوں کے باپ بنے۔ 17,16 سال قبل میرے بھائی ڈاکٹر بختیار الدین نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر ہم سے علیحدگی اختیار کرلی اور اپنے ذاتی فلیٹ سپریم ایونیو نارتھ کراچی میں رہائش اختیار کرلی۔ اس دوران ہمیں اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے اطلاع ملتی رہتی تھی کہ ان کا اپنے سسر سلیم قریشی‘ سالے سلمان اور عظیم کے ساتھ لڑائی جھگڑا چلتا رہتا ہے‘ وہ اس سے پیسے مانگتے تھے اور کچھ پراپرٹی بھی میرے بھائی نے فروخت کی تھی اور اس کی رقم بھی بھائی کے پاس تھی‘ 2 سال قبل میرے بھائی سے میری بھابھی فرخندہ نے لڑائی جھگڑا کرکے علیحدہ عزیز آباد میں اپنے بچوں کے ساتھ رہائش اختیار کرلی تھی جبکہ اس صورت حال میں بھی خرچہ میرا بھائی اُٹھاتا تھا اور میرا بھائی اپنے فلیٹ میں اکیلا رہتا تھا۔ مورخہ 3 جون 2018ء کی صبح تقریباً ساڑھے 9 بجے میرے بہنوئی ندیم قریشی کو مقتول کے سسر سلیم قریشی نے فون کیا کہ ڈاکٹر صاحب کی طبیعت خراب ہے‘ ان کے ناک اور منہ سے خون نکل رہا ہے‘ اس کو علاج معالجے کے لئے اسپتال لے کر جارہے ہیں جس کے تقریباً 10 منٹ کے بعد دوبارہ فون آیا کہ ڈاکٹر صاحب فوت ہوگئے ہیں اور جنرل اسپتال نیو کراچی پہنچو تو ہمارے بعد میں سلیم قریشی اور اس کا داماد ڈاکٹر بختیار کی میت لے کر آئے جب ہم نے دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب خون میں لت پت ہیں اور معلوم ہورہا تھا کہ یہ کافی عرصہ پہلے فوت ہوچکے تھے‘ نعش اکڑی ہوئی معلوم ہورہی تھی‘ ہم نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کروایا ہے جس پر ڈاکٹر صاحب کے سسر سلیم قریشی نے ہمیں مطمئن کیا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا‘ صرف برین ہیمرج کی وجہ سے خون نکل رہا ہے‘ اس کے دماغ کی کوئی نس پھٹ گئی ہے اور بعد میں اپنی طور پر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ہمیں اطلاع دینے سے قبل انہوں نے محمد شاہ قبرستان میں قبر کی بکنگ صبح 8 بجے کروائی‘ بھائی کی تدفین کرنے کے بعد ہم نے اپنے طور پرمعلومات کی تو کچھ شواہد ملے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میرے بھائی ڈاکٹر کو پیسے کی وجہ سے اس کے سسر سلیم قریشی اور اس کے سالے سلمان ، عظیم اور مقتول کی بیوی فرخندہ نے تشدد کرکے قتل کیا‘ ان کے خلاف کارروائی کے لیے تھانے اور کورٹ میں درخواست بھی دی اور کور ٹ کے حکم سے تھانے آیا ہوں‘ میں بیان دیتا ہوںکہ میرے بھائی ڈاکٹر شیخ بختیار الدین اور اس کے سسر سلیم قریشی سالے سلمان ‘ عظیم اور بیوی فرخندہ نے تشدد کرکے قتل کیا ،میں ان کے خلاف کارروائی چاہتا ہوں‘ مقدمہ درج ہونے کے بعد نیوکراچی انویسٹی گیشن پولیس نے تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کیا اور انچارج انویسٹی گیشن آفیسرتھانہ نیو کراچی خالد شاہ نے اس مقدمے کی تحقیقات تفتیشی افسر محمد شمیم کے سپرد کی ‘ جس نے جائے وقوعہ میں پہنچ کر تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کیااور معائنے کے دوران سپریم ریونیو فیز IIمیں رہائشیوں سے واقعہ کے بارے میں تفصیلی تحقیقات کی اور ان کا بیان لیا‘ تفتیشی افسر محمد شمیم نے تفتیش کے بعد اپنی رپورٹ میں بتایا کہ حسب نشاندہی مدعی مقدمہ جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور مرتب کی‘ گواہان کے بیانات قلمبند کئے ‘ جنہوںنے متوفی اور اس کی اہلیہ کے درمیان کسی قسم کاکوئی لڑائی جھگڑا کا نہ ہونا بتایا جبکہ اس سارے واقعہ کی چشم دید گواہ 12 سالہ ساگر مسیح ولد طارق مسیح نے اپنے بیان میں بتایا کہ میں سپریم ایونیو میں صفائی ستھرائی کا کام کرتا ہوںکہ مورخہ 3 جون 2018 ء کو صبح 9:30 سے 10 بجے کے وقت ڈاکٹر بختیارالدین کے سامنے والے فلیٹ میں پانی پینے کے لیے کھڑا تھاکہ میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب اپنے گھر کے دروازے کے باہر کی صفائی کررہے تھے‘ انہوںنے اس وقت قمیض نہیں پہنی ہوئی تھی اور سفید شلوار اور بنیان پہنی ہوئی تھی‘ میرے سامنے ان کے ناک سے خون نکلنا شروع ہوگیااور میرے سامنے گھر کے اندر سر کے بل زمین پر گرپڑے اورخون زیادہ نکل رہا تھا‘ میں پانی پی کر آگیا اور اپنے ابو کو بتایا کہ تھوڑی دیر کے بعد ڈاکٹر صاحب کا بیٹا رضا آیا اور بتایا کہ میرے والد صاحب کی ڈیتھ ہوگئی ہے ‘ ڈیڈ باڈی اسپتال لے کر جانا ہے‘ نامزد ملزمان نے اپنی ضمانت قبل از گرفتاری عدالت مجاز سے واپس کی اور مورخہ 13 جولائی کو تھانہ ہذاپر حاضر ہوئے‘ مقدمے میں 4 نامزد ملزمان کو شامل تفتیش کرکے نہایت حکمت عملی سے انٹرو گیٹ کیا‘ جبکہ قبر کشائی کے لیے متعدد بار اصرار کرنے پر عدالت مجاز داخل کی ‘ مقدمہ ہذا میں سی ڈی آر کے حصول اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے لیے لیٹر بھی اعلیٰ افسران کو ترسیل کیا۔
اس رپورٹ کے بعد 13 اگست 2018 ء کو میڈیکل بورڈ تشکیل دیاگیا‘ جس پر چیئرمین میڈیکل بورڈ پروفیسر کیپٹن فرحت حسین مرزا جناح اسپتال کراچی اور دیگر ممبران ایڈیشنل پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر قرار حسین عباسی ‘ ویمن میڈیکل لیگل افسر سول اسپتال ڈاکٹر سمیرا سید ‘ پولیس سرجن ڈاکٹر اعجاز احمد کھوکھرکو مورخہ 15 اگست 2018 ء کو قبر کشائی کا حکم جاری کیااور مذکورہ تاریخ کو انچارج تفتیشی افسرنے شاہ محمد قبرستان سیکٹر 7/B نارتھ کراچی صبح پہنچنے اور انتظامات مکمل کرنے اور مدعی مقدمہ ودیگر گواہان کو بذریعہ فون طلب کیا‘جہاں پولیس سرجن صاحب کے تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ علاقہ مجسٹریٹ صاحب سینٹرل کراچی پہنچے مدعی مقدمہ اور گواہان نے متوفی 48 سالہ ڈاکٹر شیخ بختیار الدین کی قبر کی نشاندہی کی ہے‘ جس پر گورکن میڈیکل بورڈ علاقہ مجسٹریٹ صاحب کے روبرو قبر کی کھدائی کی ‘ جنہوںنے ضابطے کی کارروائی کی اور نعش کا پوسٹ مارٹم کیا‘ جس کے بعد مورخہ 30 اگست 2018 ء کو میڈیکل بورڈ کی مرتب شدہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات واضح ہوئی کہ مقتول ڈاکٹر شیخ بختیار الدین کی موت تشدد سے ہوئی تھی‘ جس میں چند نکات‘1 ناک کی ہڈی ٹوٹی ہوئی‘ 2ماتھے کی ہڈی پر نیل کے لال نشانات 3 بائیں گال کی ہڈی پر نیل کے نشانات ‘4 دائیں طرف کان کے نیچے کی ہڈی پر فریکچر ‘ 5 سینے کی پسلیوں کے درمیان کی ہڈی جوکہ بہت سخت ہوتی ہے‘ 6 چہرے کی ہڈیوں پر نیل گونشانات ‘7 گلے کی ہڈی پر نیل گویا گلا دبانے کے نشانات پائے گئے ہیں‘ اب تک کی تفتیش اور میڈیکل بورڈ کے تمام ممبران بشمول چیئرمین صاحب کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق متوفی 48 سالہ ہومیو ڈاکٹر شیخ بختیار الدین ولد شفیع سراج الدین کی موت تشدد گلا دبانے اور مارپیٹ سے ہوئی ہے ‘ جبکہ تمام گواہان اہل محلہ اور چشم دید گواہ 12 سالہ ساگر مسیح ولد طارق مسیح کے بیان کے مطابق مقتول ڈاکٹر کی موت طبعی ہوئی ‘ جبکہ مقتول ڈاکٹر بختیار الدین کے والد سراج الدین نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول ڈاکٹر بختیار اور مقدمہ میں نامزدمقتول کی اہلیہ آپس میں خالہ زاد او رمیری سالی کی بیٹی تھی‘ میں اور میری اہلیہ نے سالی رئیسہ زوجہ سلیم قریشی کی غربت کو دیکھتے ہوئے اس کی بیٹی فرخندہ کو اپنی بہو بنایااور اپنے گھر لاکر اسے نازوں میں رکھا ‘ لیکن وہ لڑکی ہمارے اخلاص کو سمجھ نہ پائی ‘ جس کی وجہ سے شادی کے 4 سال بعد میرے بیٹے نے اپنی فیملی سے الگ رہائش اختیار کرلی‘ جس کے بعد تقریباً 18 سال تک اس سے ہمارا رابطہ جزوی سا ہوکر رہ گیا‘ مقتول اگر ہمارے گھر آتا تو صرف رسمی طورپر‘ اس دوران فرخندہ کے میکے میں ایک واقعہ پیش آیا‘ جس میں اس کا بھائی جو پکنک منانے گیاتھااور پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا‘ اطلاع ملنے پراہلیہ سمیت ہم سب گھر والے فرخندہ کی والدہ اور میری سالی رئیسہ کے گھر گئے‘ جہاں رئیسہ میری اہلیہ کو دیکھتے ہی اس سے کہنا شروع کردیاکہ تم مجھ سے میری ساری دولت لے لو اور میرے بیٹے کو زندہ کردو ‘ دوسرے لفظوں میں میری بیوی نے اس کے بیٹے کی جان لی تھی‘ میری اہلیہ یہ سن کر خاموش ہوگئی اور تدفین کے بعد اپنے گھر واپس آگئی ‘ لیکن بہن کی باتوں کا رو گ اس نے دل پر لے لیا اور بیمار ہوگئی اور بستر سے لگ گئی‘ تاہم اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد11 جون 2003 ء کو فرخندہ ہمارے گھر آئی اور اس کے دوسرے دن 12 جون 2003 ء کو میری اہلیہ کا انتقال ہوگیا‘ جس کے بعد فرخندہ نے ہمارے گھر سے قطع تعلق کرلیا ‘ پھر اچانک 3 جون 2018 ء کی صبح میرے داماد ندیم نے پہلے اطلاع دی کہ میرے بیٹے بختیار الدین کی طبیعت خراب ہے ‘ پھر اس کے 10 سے 15 منٹ بعد ندیم نے کا ل کرکے بتایا کہ بختیار کا انتقال ہوگیاہے‘ یہ سن کر ہم لوگ بختیار کے گھر جانے کے لیے نکلے اس دوران ہم نے مقتول کے سسر سلیم قریشی سے رابطہ کیا جس نے بتایا کہ ہم نیو کراچی جنرل اسپتال میں ہیں ‘ جس پر میرا بیٹا خرم شیخ اور داماد ندیم قریشی جنرل اسپتال پہنچے ‘ آدھے گھنٹے کے بعد سلیم قریشی اپنے داماد کے ساتھ نعش کے ہمراہ پہنچا اور ڈیڈ باڈی کو ایمرجنسی وارڈ میں منتقل کیا ‘ میرے بیٹے کے اسرار پر وجہ موت برین ہیمرج بتائی گئی اور رحلت تقریباً 7 بجے صبح‘ خرم نے احتجاج کیا کہ نعش اکڑی ہوئی ہے اور برین ہیمرج نہیں ہے‘ باڈی اور چہرے پر تشدد کے نشانات واضح موجود ہیں اور طویل بحث کے بعد ڈاکٹر بختیار الدین کی ڈیڈ باڈی عباسی شہید اسپتال کے لئے روانہ کی گئی۔میں اور خرم شیخ اپنے داماد ندیم بائیک پر تھے اور ایمبولینس کی فرنٹ سیٹ پر محمد سلیم قریشی اور اس کا داماد ڈیڈ باڈی کے ساتھ تھے۔ ایمبولینس اسپتال کی جانب جارہی تھی کہ اچانک انہوں نے راستے میں یوٹرن لیا اور ناظم آباد نمبر7 سے تیزی سے گھمایا اور ایک جانب روانہ ہوگئے‘ ہم ایمبولینس کو پکڑ نہ سکے‘ پھر راستے میں سلیم قریشی کا فون آیا کہ ہم نیو کراچی مردہ خانے میںموجود ہیں‘ آپ لوگ وہیں آجائیں۔ نیو کراچی مردہ خانے میں پہنچ کر میرے بیٹے خرم شیخ کی سلیم قریشی سے تکرار ہوئی اور خرم نے ان پر الزام لگایا کہ میرے بھائی کا برین ہیمرج نہیں ہوا بلکہ آپ لوگوں نے اس پر تشدد کیا اور جان سے مار دیا‘ تاہم میری اور دیگر لوگوں کی مداخلت پر مقتول کی تدفین کردی گئی لیکن اس دوران کچھ باتیں میرے ذہن میں گونج رہی تھیں کہ مقتول کے اہل خانہ نے ہمیں ابتدائی طور پر بتایا کہ بختیار کی موت کا وقت صبح 4 بجے اور کچھ کا کہنا تھا کہ صبح 7 بجے ہے‘ دوران گفتگو اہلیہ اور بچوں کی جانب سے کہا گیا کہ ہم گیلری میں سو رہے تھے اور ہم 8 بجے سو کر اُٹھے جبکہ اس کا بڑا بیٹا 9 بجے گھر میں داخل ہوتا ہے کسی ذمہ دار شخص نے سوال کیا کہ تم ابھی کہاں سے آرہے ہو تو وہ جواب دیتا ہے میں کرکٹ کھیل کر آرہا ہوں‘ مقتول کے واقعہ کے بعد فلیٹ کی سیڑھیاں خون سے بھری ہوئی تھیں‘ اس فلور پر 4 اپارٹمنٹ ہیں کیا دیگر افراد نے یہ سب نہیں دیکھا‘ اپنے طور تحقیق کے دوران ہمیں معلوم ہوا کہ ڈاکٹر بختیار اور اس کی اہلیہ کے درمیان کشیدگی تھی اور یہ کشیدگی اتنی بڑھی کہ مرحوم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی اور 11 ماہ سے فرخندہ عزیز آباد کے فلیٹ میں اپنے بچوں کے ہمراہ رہتی تھی لیکن تمام اخراجات ڈاکٹر بختیار ہی اُٹھاتا تھا لیکن 11 ماہ کی علیحدہ رہائش کے بعد قتل کے واقعہ سے چار‘ پانچ روز قبل ڈاکٹر بختیار کے پاس آئی ‘ ڈاکٹر بختیارنے نامعلوم وجوہات کی بناء پر اُسے اپنے گھر میں رہنے دیا لیکن کمرے میں نہیں‘ وہ گیلری میں سوتی تھی۔
مقتول کے والد نے نمائندہ قومی اخبار کو مزید بتایا کہ ڈاکٹر ایک مشہور و معروف ہومیو فزیشن تھے‘ جس کا اعتراف ڈاکٹر کے جملہ احباب و پروفیشنل بھی کرتے ہیں اور حاضر وقت کا ایسا طبیب جس کی تلاش سینکڑوں لا علاج مریض کرتے تھے وہ نہ صرف مشہور و معروف ہومیو ڈاکٹر بلکہ وسیع جائیداد کے مالک تھے جبکہ مقتول ڈاکٹر بختیار کے دوست امان اللہ کاکا خیل نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ واقعہ کے بعد صبح مجھے فون پر اطلاع ملی کہ ڈاکٹر بختیار کا انتقال ہوگیا ہے‘ اس اطلاع کے جواب پر میری اہلیہ کے سامنے میرے منہ سے بے ساختہ نکلا کہ آخر کار ڈاکٹر بختیار کو ان کے سسرال والوں نے مار دیا کیونکہ ڈاکٹر بختیار اکثر ملاقات کے دوران مجھے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے بارے میں بتایا کرتے تھے۔ مقتول بختیار الدین کے چچا حاجی انجم قریشی نے نمائندہ قومی اخبار کو بتایا کہ ہمیں اکثر تقریبات کے دوران رشتہ داروں سے یہ اطلاع ملتی رہتی تھی کہ فرخندہ اور ڈاکٹر بختیار الدین کے درمیان علیحدگی ہوچکی تھی جبکہ مقتول کے بھائی ارسلان نے نمائندہ قومی اخبار کو بتایا کہ ڈاکٹر صاحب اپنے پیشے کے ساتھ پراپرٹی کا کام بھی کرتے تھے اور ہماری اطلاع کے مطابق انہوں نے ابھی حال ہی میں 48 لاکھ روپے کی 2 دکانیں فروخت کی تھیں جس کا اُن سے اپنے سسرالیوں سے جھگڑا چل رہا تھا اور ممکن ہے کہ اس واقعہ کا پس منظر بھی یہ ہی ہو۔ سپریم ایونیو فیز II یونین کے صدر سائیں ندیم نے نمائندہ قومی اخبار کو بتایا کہ ڈاکٹر صاحب سے ہماری بہت پرانی جان پہچان تھی اور میرے یونین کے صد ر بننے سے قبل ڈاکٹر صاحب بھی اس یونین کے صدر رہ چکے تھے۔ سائیں ندیم نے مزید بتایا کہ ہمارے رہتے ہوئے ڈاکٹر اور ان کی اہلیہ کے درمیان لڑائی جھگڑے کا کبھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جبکہ ڈاکٹر صاحب سے میری عموماً ملاقاتیں بھی ہوتی تھیں وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔ مقتول ڈاکٹر بختیار الدین کی اہلیہ فرخندہ نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگو کے دوران بتایا کہ واقعہ والے روز مقتول گھر کے دروازے کی صفائی کررہے تھے جو کہ ان کی عادت تھی کہ وہ فارغ نہیں بیٹھتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب شوگر اور بلڈپریشر کے مریض تھے اور ان کا شوگر لیول عموماً ہائی رہتا تھا واقعہ والے روز صفائی کے دوران اچانک ان کے ناک سے خون بہنا شروع ہوگیا اور وہ دروازے کے درمیان گر پڑے جس کے بعد ہم نے اپنے گھر اطلاع دی‘ اس دوران ہمارے پڑوسی وغیرہ بھی آگئے۔ فرخندہ نے ڈاکٹر کی پراپرٹی اور طلاق کی بات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے بتایا کہ طلاق کی باتیں من گھڑت ہیں ‘ جبکہ ڈاکٹر صاحب کی اس فلیٹ کے علاوہ کوئی اور پراپرٹی نہیں ہے جبکہ اس مقدمے کے وکیل عبدالرحمن خان نے نمائندہ قومی اخبار کو بتایا کہ مقدمے کی نوعیت او رپوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ڈاکٹر بختیار الدین کو تشدد کے قتل کیا گیا ہے اور میری کوشش ہوگی کہ مقتول کے لواحقین کو عدالت کے ذریعے انصاف فراہم کروائوں‘ جبکہ نیو کراچی تھانے کے انچارج انویسٹی گیشن محمد خالد شاہ نے نمائندہ قومی اخبار سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران بتایا کہ ابتدائی تفتیش اور سپریم ایونیو فلیٹ کے رہائشیوں کے بیان کے مطابق واقعے سے قبل مقتول ڈاکٹر کے گھر سے کوئی لڑائی جھگڑے کی آواز نہیں آئی تھی بلکہ ایک عینی شاہد جو اس فلیٹ کی صفائی وغیرہ کرتا ہے ،نے پولیس کو بیان دیا کہ واقعہ کے وقت وہ کچھ فاصلے پر موجود تھا اور اس نے دیکھا کہ ڈاکٹر بختیار اپنے گھر کے باہر کی صفائی کررہے تھے کہ اچانک ان کے ناک اور منہ سے خون بہنا شروع ہوگیا اور وہ منہ کے بل گر پڑے جس سے ان کے چہرے اور جسم پر چوٹیں آئیں تاہم پولیس کی مزید تفتیش جاری ہے‘ گرفتاری سے متعلق انچارج انویسٹی آفیسر نے بتایا کہ ابھی ملزمان مے قتل از گرفتاری ضمانت کروائی ہوئی ہے اور مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے‘ جیسے ہی معزز عدالت کوئی حکم جاری کرے گی پولیس اسی پر فوری عمل کرے گی۔

(267 بار دیکھا گیا)

تبصرے