Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 09 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

رائو عمران اشفاق جمعه 09 نومبر 2018

شاہی بازار سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت کے امیر محمد تقی کا شمار حیدرآباد کے معزز افراد میں ہوتا تھا‘ محمد تقی نے تمام عمر دین کی تبلیغ میں گزاردی ‘ محمد تقی کے 5 صاحبزادوں میں عبداللہ بھی شامل تھا‘ عبداللہ کی 98ء میں حیدرآباد میں شادی کے 4 ماہ بعد ہی عبداللہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ اچھے مستقبل کی تلاش میں کراچی منتقل ہوگیا‘ شادی کے بعد 12 سال لائنز ایریا کے ایک محلے میں کرائے کے مکان میں رہائش اختیارکی‘ عبداللہ کے ہاں بیٹوں اور ایک بیٹی کی ولادت ہوئی ‘عبداللہ پراپرٹی ڈیلر کاکام کرتا تھا‘ ہاشمانی اسپتال کے قریب اسٹیٹ ایجنسی تھی‘ جبکہ اس کا بڑابیٹا ولید سائوتھ سٹی اسپتال میں وارڈ بوائے ہے ‘ عبداللہ کو دل کا عارضہ تھا‘ جبکہ پیٹ کی ناف میں انفیکشن کی وجہ سے پیٹ بہت بڑا ہوگیاتھا‘ اس کا پیدل چلنا محال تھا‘ ڈاکٹروں نے عبداللہ کو آپریشن کا کہاتھا‘ لیکن موت کے خوف سے وہ آپریشن نہیں کروارہا تھا‘ 4 سال قبل عبداللہ نے لائنز ایریا میں بندوخان ہوٹل کے علاقے میں واقع ایک کمرے کا مکان کرائے پر لیاتھا‘ 31 اکتوبر کو عبداللہ کے اہل خانہ پر اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب اس کے بیٹے عدیل کو فون آیا او ایم آئی اسپتال کے قریب عبداللہ کو گولی لگ گئی ہے ‘ فوری طورپر اسپتال پہنچو ‘ عدیل فوری طورپر اسپتال پہنچا تومعلوم ہوا کہ اس کے ابا کی موت ہوگئی اور اس کی نعش مردہ خانے میں رکھی ہے ‘ وہ مردہ خانے پہنچا تو وہاں پولیس والے بھی موجود تھے‘ عدیل کو حیرت انگیز انکشاف جب ہوا تب پولیس والوں نے بتایا کہ تمہارا باپ ڈاکو ایک فیملی کو لوٹ رہاتھا‘ پولیس سے مقابلے میں مارا گیا عبداللہ سے لوٹا ہوا سامان بھی برآمد ہوا ہے‘ عدیل یہ سن کر زور زور سے رونے لگااور چیخ چیخ کر کہنے لگا ‘ کہ میرے ابا ڈاکو نہیں ہیں‘ وہ تو دودھ لینے گھر سے نکلے تھے‘ تم نے میرے ابا کو جعلی مقابلے میں قتل کیا ہے‘ پولیس نے صورتحال بگڑتے دیکھ کر اپنے افسران کو آگاہ کیا۔ میڈیا پر پولیس مقابلے کی خبریں بھی نشر ہونے لگیں‘ 60 سالہ باریش شخص اسٹریٹ کریمنل ہوگا ‘ یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی‘ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا‘ معاملہ مشکوک ہوتے ہی ایس ایچ او نبی بخش شارق صدیقی نے بتایا کہ جس وقت مقابلہ ہوا وہ جائے وقوعہ پر نہیں تھا‘ایم اے جناح روڈ پر ہونے والے دھرنے کی سیکورٹی ڈیوٹی پر تھا‘ مقابلے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ موٹر سائیکل سوار 2 ڈاکو جناح لان کے قریب موٹر سائیکل سوارمیاں بیوی کو لوٹ کر فرار ہورہے تھے‘ کہ پولیس پہنچ گئی‘ موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھا ڈاکوموقع سے فرا ر ہوگیا‘ تاہم موٹر سائیکل چلانے والا ڈاکو گولی لگنے سے سڑک پر گرگیا‘ جائے وقوعہ پر موٹر سائیکل سوار ڈاکو کے چہرے سے ہیلمٹ ہٹایا تو وہ ایک باریش شخص تھا ‘ اس کی جیب سے لوٹا گیا سامان بھی برآمد ہوا‘تاہم مقتول کے اہل خانہ کے احتجاج پر پولیس حرکت میں آگئی‘ پولیس نے واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی‘جبکہ پولیس نے عینی شاہدین کا ریکارڈ بھی قلمبند کیا‘ پولیس نے اوایم آئی اسپتال کے قریب بھیک مانگنے والے گداگر عبدالخالق کا ویڈیو بیان ریکارڈ کیا‘ اس نے بتایا کہ وہ فٹ پاتھ پر بیٹھا تھا‘ موٹر سائیکل پر سوار ایک جوڑا آیا نوجوان نے مجھ سے پوچھا کہ بابا آپ صدقہ لیتے ہو میں نے بولا کہ ہاں لیتا ہوںتو اس نے پرس سے 50 روپے کا نوٹ نکال کر مجھے دیااور کہا کہ بابا ہم سفید پوش لوگ ہیں ‘ آپ20 روپے رکھ لو اور 30 روپے ہمیں واپس کردو‘ میں نے 30 روپے واپس کردیئے ‘ بات چیت کرکے موٹر سائیکل سوار جوڑا ابھی آگے بڑھا ہی تھا کہ ایک موٹر سائیکل پر سوار 2 افراد آگئے‘ وہ موٹر سائیکل سوار نوجوان اور اس کی بیوی سے رقم ‘ موبائل فون چھین کر فرار ہونے لگے ‘ تو پولیس پہنچ گئی‘ موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھا پینٹ شرٹ والا لڑکا فرار ہوگیا‘ جبکہ موٹر سائیکل چلانے والا پولیس کی گولی کا نشانہ بن گیا‘ عبدالخالق نے بتایا کہ وہ مانسہرہ کا رہنے والا ہے اور 30 سال سے سیون ڈے اسپتال کے قریب فٹ پاتھ پر رہتا ہے‘ پولیس نے اسپتال میں ڈاکوئوں کے ہاتھوں لٹنے والا نوجوان شاہد اور اس کی اہلیہ کو بھی ڈاکو کی نعش رکھ کر ویڈیو بیان قلمبند کیا ‘ شاہد نے بتایا کہ ڈاکوئوں نے اس سے پرس ‘ موبائل فون اور اس کی بیوی سے بھی موبائل فون چھین لیا‘ جبکہ ایک اور نوجوان نے اسپتال میں نعش کی شناخت کرتے ہوئے بتایا کہ مکی مسجد کے قریب اس ڈاکو اور اس کے ساتھ ایک اور موٹر سائیکل پر سوار ڈاکو تھا‘ انہوںنے اس سے اور اس کی اہلیہ سے 5 ہزار روپے ‘2 موبائل فون چھین لیے‘ پولیس کے مطابق ڈاکو کے ساتھ فرار ہونے والا نوجوان گڈو تھا‘ جو ہلاک ہونے والے کا بھتیجا تھااور اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھا‘ پولیس نے مقابلے کے 3 مقدمات بھی درج کردیئے ‘ دوسری طرف عبداللہ کی نعش لائنز ایریامیں اس کی رہائش گاہ پر پہنچی تو علاقے میں کہرام مچ گیا‘ علاقہ مکین یہ ماننے کو تیار نہ تھے کہ پراپرٹی ڈیلر عبداللہ ڈکیت ہوسکتا ہے‘ سب کے لئے یہ بات تعجب خیز تھی‘ عبداللہ کے 7 بھائی والدہ اور بیٹے نے سوشل میڈیا پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ‘ اس کے بھائی کا کہنا تھا کہ میرے بھائی کا وزن 108 کلو تھا‘ وہ ٹھیک سے چل نہیں سکتاتھا‘ وہ شہریوں کو کیسے لوٹ سکتا ہے‘ پولیس نے جعلی مقابلے میں میرے بھائی کو قتل کیا ہے ‘ چیف جسٹس صاحب ہمیں انصاف دلوائیں‘ پہلے پولیس نوجوان معصوم بچوں کو مقابلوںمیں مار رہی تھی‘ اب ضعیف العمر افراد کی ایکسڑا جوڈیشل کلنگ کی جارہی ہے ‘ مقتول کا سب سے چھوٹا بیٹا 5 سال کا تھا‘ جو پہلی جماعت کا طالبعلم تھا‘ اہل خانہ کے مطابق مقتول عبداللہ چھوٹے بیٹے کو مو ٹر سائیکل پر آگے بٹھا کر لے جاتا تھااور گھر سے دودھ لینے کے لیے گیاتھا‘ اہل خانہ کے مطابق مقتول کی موٹر سائیکل اور موبائل فون سمیت دیگر سامان بھی غائب تھا‘ مقتول کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقتول کو لیاقت آبادکے قبرستان میں سپر دخاک کردیاگیا‘ مقتول کے اہل خانہ کے سوشل میڈیا پر جاری بیانات کے بعد آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اور ایس ایس پی سٹی نے واقعہ کی مکمل چھان بین کی‘ پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے دوران ہی ملزم کے خلاف ناقابل تردید شواہد سامنے آگئے۔ اعلیٰ پولیس حکام کی تحقیقات کے دوران ڈکیتی اور واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج نے بھانڈا پھوڑ دیا‘سی سی ٹی وی فوٹیج میں سفید لباس میں ملزم فقیر کو بھیک دینے والی فیملی سے لوٹ مار کر رہا ہے۔ لوٹ مار کے فوراً بعد پولیس اس جگہ پہنچی اور ملزمان کو فرار ہوتے دیکھ کران پر فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں گولی چلانے والا 60 سالہ عبداللہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا‘ ملزم کا دوسرا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا‘ پولیس تحقیقات کے مطابق مارے گئے 60 سالہ باریش عبداللہ کی جیب سے لٹنے والے شہری کا سامان موقع سے برآمد ہوا‘پولیس حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران ملزم کا کرمنل ریکارڈ آفس سے 25 سال پرانا سی آر او بھی مل گیا۔ ریکارڈ کے مطابق ملزم 26 سال قبل بھی وارداتوں کے بعد پکڑا جاچکا ہے۔ 1994ء اور 93 19ء میں ملزم تیموریہ‘ بریگیڈ‘ سولجر بازار اور آرٹلری میدان پولیس کے ہاتھوں ڈکیتی اور غیرقانونی اسلحہ کے مقدمات میں گرفتار ہوچکاتھا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر لوٹ مار کی ویڈیو، لٹنے والوں کے بیانات سامنے نہیں آتے یا کرمنل ریکارڈ آفس سے ملزم کا مجرمانہ ریکارڈ نہیں ملتا تو پولیس مقابلہ کرنے والے اہلکار جعلی پولیس مقابلے کے ملزم قرار پا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے جا چکے ہوتے مگر اصلی مقابلے میں اصلی کو مارنے پر اعلیٰ حکام کی’’شاباش‘‘ کے منتظر ہیں۔مقتول کے اہل خانہ نے یکطرفہ تحقیقات کی ہے ‘ ہم سے کسی سے رابطہ نہیں کیا‘ پولیس نے 1993 ء اور 1994 ء کا جو ریکارڈ پیش کیا ہے ‘ تب عبداللہ حیدرآباد میں تھا‘ اس کی شادی 1998 ء میں ہوئی ہے‘ اہل خانہ کی داد رسی کے لیے تحریک انصاف کے صوبائی جنرل سیکریٹری حلیم عادل شیخ اس کے گھر پہنچے تو حلیم عادل شیخ کے مطابق عبداللہ ہمارا ووٹر تھا‘ ہم بے گناہ شہریوں کا اس طرح قتل عام نہیں ہونے دیں گے‘ قتل میں کالی وردی شہریوں کے لیے خوف کی علامت بن گئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے پولیس کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی ہے پولیس نے پرائیویٹ افراد کو کھڑا کر کے بیانات ریکارڈ کروائے ہیں‘ بیانات بھی متضاد ہیں‘ انہوںنے کہا کہ ڈکیتی کی ورادات ہوئی ہوگی‘ لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ واردات عبداللہ نے کی ہے‘ عبداللہ کو گولی بھی سامنے سے ماری گئی ہے‘ انہوںنے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ پولیس کاڈاکوئوں سے مقابلہ ہورہا ہو‘ پولیس والوں کی گولی کی زد میں آکر عبداللہ ہلا ک ہوگیا ہو‘ پولیس والوں نے قتل کو چھپا کر پولیس مقابلہ ظاہر کردیا‘ انہوںنے بتایا کہ جس وقت عبداللہ ہلاک ہوا‘ اس نے چہرے پر ہیلمٹ پہن رکھا تھا‘ سی سی ٹی وی ویڈیو بیان قلمبند کروانے والوں نے ہیلمٹ پہنے ہوئے باریش شخص کو کیسے شناخت کرلیا‘ حلیم عادل شیخ نے پولیس کی جانب سے 1994 ء کے ریکارڈ کی تصویر عبداللہ کی والدہ کو دکھائی تو اس نے کہا کہ عبداللہ ایسا تھاہی نہیں‘ یہ تصویراس کی نہیں ہے‘ انہوںنے کہا کہ ہمارا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے ‘ مقتول کی اہلیہ نے بتایا کہ اگراس کا شوہر ڈاکو ہوتا تو کیا وہ ایک کمرے کے کرائے کے مکان میں رہتے‘ کوئی ڈاکو اپنی موٹر سائیکل پر واردات کرنے جاتا ہے ‘ مقتول کی اہلیہ نے بتایا کہ مقتول کے 5 بھائی تھے‘ لیکن سب علیحدہ رہتے ہیں‘ عبداللہ روزانہ جو کماتا تھا‘ اس کے گھر کا خرچ چلتا تھا‘ وقوعہ والے روز بھی وہ آئے ان کے پاس 150 روپے تھے ‘ انہوںنے 100 روپے مجھے دیئے اور 50 روپے اپنے پاس رکھے‘ کہا اگر بائیک کا ٹائر پنکچر ہوجائے یا کوئی ضرورت پڑ جائے تو اس کے لیے رکھے ہیں‘ پرندو ں اور جانوروں کے لیے خوراک لاتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کسی سے دشمنی نہیں تھی اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج تھا‘ انہوںنے بتایا کہ کئی سال پہلے پولیس والوں سے جھگڑا ہواتھا تو انہوں نے شراب نوشی کا جھوٹا مقدمہ درج کیاتھا‘ جس میں عدالت نے عبداللہ کو باعزت بری کردیا تھا‘ انہوں نے بتایا کہ اس کو شوگر اور دل کا عارضہ تھا‘ پیٹ بھی بڑا تھا‘ وہ اس لئے آپریشن نہیں کراتے تھے‘ اگر مر جائوں گا تو میرے بچوں کا کیاہوگا‘ انہوںنے کہا کہ میرے چھوٹے بچے ہیں ہم پولیس والوں سے دشمنی نہیں کرنا چاہتے ‘پولیس کے بارے میں تو سب کو معلوم ہے کہ اس کے سامنے تو ہاتھی بھی خود کو بندر کہتا ہے ‘ ہمیںتو انصاف چاہئے ‘ تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے مقتول کی اہلیہ کو کہاکہ آپ کو کوئی پولیس والا دھمکی دے تو ہمیں بتائیں‘ تحریک انصاف کے ٹائیگر آپ کے گھر کی حفاظت کریں گے‘ اس موقع پر تحریک انصاف کے لائزر فورم کی ٹیم بھی موجود تھی‘وکلاء کا کہناتھا کہ ہم کیس کی تفصیلات معلوم کرکے عدالت میں 22 اے کی پٹیشن دائر کریں گے اور عبداللہ کے قتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کروائیں گے۔ نبی بخش پولیس کے مطابق واقعہ سے چند روز قبل سیون ڈے اسپتال کے سامنے فاسٹ فوڈز ریسٹورنٹ پر لو ٹ مار ہورہی تھی‘ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی تھی‘ جس کا افسران نے نوٹس لیاتھا‘ اس لیے علاقے میں پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا تھا اور سی سی ٹی وی کیمرے بھی بڑھائے گئے تھے‘ اسی وجہ سے پولیس واردات کے بعد فوری طورپر پہنچ گئی۔ کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ نے بتایا کہ واقعہ کے بعد ہم نے مقابلے کی انکوائری کا حکم دیا ‘ لیکن واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج مل گئی‘ جس میں سب کچھ واضح ہے ‘ ہر بار پولیس غلط نہیں ہوتی اگر پولیس والے ملوث ہوئے تو ہم ان کو گرفتار کرلیں گے ‘ سب چیزنظر آنے کے بعد ہم کیسے کہہ دیں گے کہ مقابلہ جعلی ہے ‘ مقتول کی جیب سے شہریوں کا لوٹنے والا سامان برآمد ہوا ہے ‘ انہوںنے کہا کہ ہم بابا گینگ کے مزید ملزمان کو گرفتار کریں گے۔

(260 بار دیکھا گیا)

تبصرے