Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 10 جولائی 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ویب ڈیسک جمعرات 08 نومبر 2018

چین جہاں تعلیم ‘ثقافت کے میدان میں ایک طویل تاریخ رکھتا ہے ‘ اس طرح تعمیرات میں بھی چین کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں ‘چین کی تاریخ بہت پرانی ہے‘ بلکہ اگر مشاہدہ کیا جائے تو یہ کسی لحاظ سے منفرد بھی ہے ‘ سوشلسٹ چین کے معرض وجود میں آنے سے پہلے یہاں بھی بادشاہت کا راج تھااور ہر راج شاہی خاندان کے دور میں تعمیر ات کی اپنی منفرد خصوصیات تھیں‘ چین کی قدیم تعمیرات چینی ثقافت اور فنون لطیفہ کے تصورات کی علمبردار ہیں‘ جس کے اثرات جاپان ‘ کوریا اور ویت نام سمیت ہمسایہ ممالک اور یہاں تک کہ یورپ کی روایتی تعمیرات پر بھی مرتب ہوئے ہیں‘ 21 ویں صدی میں چین نے ایسی ایسی چیزیں تعمیر کیں ‘ جن کو دیکھ کر دنیا دنگ رہ گئی‘ حال ہی میں چین نے سمندر پر دنیا کا سب سے بڑا پل بنایا ‘ جس کا اس وقت پوری دنیا میں شور ہے ۔ اس سمندر میں پل کا عالمی ماہرین تعمیرات نے انجینئرنگ کا شاہکار قرار دیا ہے‘ جو دریائے پرل اور سمندر پر بنایاگیاہے ‘ ساڑھے چار لاکھ ٹن اسٹیل کے استعمال سے بنایا جانے والا 55 کلو میٹر یہ پل مکائو سے چین اور ہانگ کانگ ‘ جبکہ کانگ سے مکائو اور چین پہنچنے والوں کے لیے ایک نعمت کے مترادف ہے ‘ کیونکہ اس سے قبل تینوں ممالک کے شہریوں کو اس فاصلے کو طے کرنے کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا تھا‘ لیکن اب یہی فاصلہ محض 30 منٹ کے اندر اندر طے ہوجایا کرے گا‘ جس کے لیے ماضی میں انہیں تین گھنٹوں کی ڈرائیونگ کرنا پڑتی تھی‘ اس کا ڈیزائن‘ زلزلوں ‘ علاقے کوتہہ وبالا کردینے والے موسمی سمندری طوفانوں اور حادثاتی طورپر جہازوں کی ٹکر کو برداشت کرنے کی صلاحیت کو ذہن میں رکھ کر بنایا گیاہے ‘ جہازوں کو سمندر کے مد و جزر سے گزرنے کے لیے یہ پل 2 مصنوعی جزائر سے ہوتے ہوئے 7 کلو میٹر تک زیر آب ہے ‘ یہ پل ہانگ کانگ کے بین الاقوامی ایئر پورٹ سے بھی گزرتا ہے‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ انجینئروں کے پیش نظر پل کی بلندی کی بھی حد رہی ہوگی‘ اس پل پر 20 ارب ڈالر لاگت آئی ہے‘ 6 لین والا یہ پل کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی موٹر وے کی طرز پر انتہائی مہارت اور خوبصورتی سے تعمیر کیاگیاہے اور صرف 7 سال کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہونے والا 20 ارب ڈالر کا یہ پروجیکٹ چینی ماہرین اور حکومت کی کاوشوں کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔یہ پل 2012 ء میں بننا شروع ہوا تھااور جولائی 2018 ء میں اس کو دی گئی ڈیڈ لائن سے محض 2ماہ قبل ہی مکمل کرلیاگیاہے ‘ ایک دریا اور سمندر کے سینہ کوچیرنے اور 24 میل یا 55 کلو میٹر کی طوالت والا یہ پل کئی مقامات پر انٹر چینج کی طرز پر بنایا گیا ہے ‘ تاکہ کسی بھی ایمر جنسی کی صورت میں ڈرائیور یا گاڑی کے واپس جانے کی صورت میں اس کو یوٹرن کا سہارا مل سکے ‘ جبکہ اس پل کو دریا میں بنانے اور سمندر میں اس کے دیوہیکل کو ایستادہ رکھنے کے لیے چینی کنسٹرکشن کمپنیوں نے زیر آب جزیرے بنائے تھے اور ایک درجن مصنوعی جزیروں کوا نتہائی مضبوط پتھروں کے کنکٹریٹس سے سمندر کے سینے پر ابھارا گیاتھااور اس کے بعد ان جزیروں پر پل کے طاقتور سہارا بننے والے ستونوں کو کھڑا کیاگیااور ا س کے بعد اس پر پل تعمیر کیاگیا ہے جس کو ہزاروں آہنی رسیوں سے سہارا دیا گیاہے ‘ تاکہ ہیوی ٹریفک کی صورت میں ا س کو کوئی گزند نہ پہنچے ‘ جبکہ رات میں اس شاندار پل کو روشن رکھنے کے لیے اور اس پر پولیس اور ٹول پلازہ کے اہلکاروں کی آسانی کے لیے اسے سولر سسٹم سے بھی بجلی فراہم کی گئی ہے ‘ چینی انجینئر ز کا کہنا ہے کہ انہوںنے پل کو سہارا دینے کے لیے تعمیرات کے دوران اس پر اسٹیل کی رسیوں کو باندھنے کے لیے اور متعدد دشوار گزار مقامات پر سلیب رکھنے کے لیے طاقت ور ڈرونز کا بھی استعمال کیا تھا‘ جو انسانی تعمیرات کے اس دور میں نیا تجربہ ہے‘ پل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ٹریفک رواں دواں ہے اور کسی ایمرجنسی یاحادثے کی شکل میں پولیس اور اسپیشل امدادی ٹیموں کو گاڑیاں اور اضافی افرادی قوت فراہم کی گئی ہے‘ جوپل کے دونوں اطراف اور درمیان میں موجود ہوں گے‘ اس عظیم انسانی کا وش اور انجینئرنگ کے شاہکار پل کے بارے میں یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس پل کی تعمیر میں جہاں جزیرے بنائے گئے ہیں‘ وہیں چار سرنگیں یا ٹنل بھی اس پل کا حصہ ہیں‘ جس میں سے ایک سرنگ سمندر کے اندر سے بھی گزرتی ہے ‘ جودیکھنے اور گزرنے والوں کے لیے ایک عجوبہ ہے اوریہی ایک سمندری سرنگ چینی اور مکائو کے باشندوں کو ہانگ کانگ ایئر پورٹ سے قریب تر پہنچاتی ہے ‘ چینی اخبارات اور سوشل سائئٹس کے مبصرین کا کہنا ہے کہ پل کے افتتاح کے بعد سے ایک لاکھ سے زیادہ افردا س پل کو دیکھنے اور اس پر سفر کرنے کے لیے آرہے ہیں‘ ایک اہم بات ہے ‘ واضح رہے کہ چینی تعمیراتی حکام نے ماضی میں بھی سمندر پر ایک پل تعمیر کیاتھا‘ جس کی لمبائی 40 کلو میٹر ہے اور یہ پل اب بھی چینگ ڈائو کے ساحلی شہر میں ایستادہ ہے‘ چینی حکام کا کہناہے کہ اس پل کی تعمیر سے مکائو‘ہانگ کانگ اور چین کے شہر ڑو ہوئی کے شہری ایک ایسے بندھن میں بندھ چکے ہیں‘ جس سے ان کے مفادات بھی مشترکہ ہیںاور یوں اس خطے میں اس پل کی تعمیر نے انہیں ایک الگ شہری کی حیثیت دے دی ہے ‘ جس کے بارے میںچینی اور ہانگ کانگ اور مکائو حکام سمجھتے ہیںکہ اس پل کے اطراف رہنے والے 4 کروڑ 20 لاکھ افراد کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے ‘ جس کی بدولت تجارتی ‘ معاشی رابطے مضبوطی کی جانب بڑھیں گے‘ واضح رہے کہ یہ پل صرف کاروں اور مخصوص وزن والے تجارتی ٹریفک کے لیے کھولا گیاہے اور اس پر پیدل اور موٹر سائیکل والوں کے لیے داخلہ کی پابندی ہے ‘ اس کی مضبوطی کے حوالے سے انجینئرز کا کہنا ہے کہ یہ اس قدر طاقتور اور مضبوط ہے کہ ہم نے اس کی عمر 120 برس رکھی ہے یعنی تقریباً سوا صدی تک اس پل پر کوئی خطرہ نہیں ہے اور یہ تینوں ممالک کے باشندوں کے لیے ایک رابطہ کار بنا رہے گا‘ افتتاح کے بعد پہلے روز اس پل پر سے 44,0000 سے زیادہ گاڑیاں گزرچکی ہیں‘ جبکہ میکائو اور ہانگ کانگ کی جانب جانے اور وہاں سے چین کی جانب آنے والوں کے لیے عوامی شٹل سروس بھی چلائی گئی ہے‘ جس کی لگژری بسیں ہر دس منٹوں کے بعد ڈپو سے نکل کر پل سے گزررہی ہیںاور ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے اس پل پر سفر کرکے اس کی شاہکار تعمیرات کو اپنی نگاہوں سے ملاحظہ کرلیاہے اور اپنے تاثرات میں چین اور چینی انجینئرز کودنیا کے لیے مثال قرار دیاہے ۔چینی انجینئرز کی پلوں کی تعمیر سے متعلق حیران کن جدید ٹیکنالوجی دنیا بھر کے ماہرین کے لیے کسی معمہ سے کم نہیں حال ہی میں اس حوالے سے جاری ایک ویڈیو کلب میں دکھایا گیا ہے کہ بیجنگ ڑیا نگجو ریلوے نیٹ ورک پر ایک زیر تعمیر ایک گھومنے والے پل کے دونوں اطراف کو چینی انجینئرز کس قدر مہارت سے آپس میں ملا رہے ہیں‘ جس سے واضح طورپر اندازہ لگایا جاسکتا ہے‘ کہ چینی ماہرین پلوں کی تعمیر کے حوالے سے کس قدر مہارت حاصل کرچکے ہیں‘ ویڈیو کلب میں دکھائے گئے گھومنے والے پل پر کام گزشتہ ماہ شروع کیا گیا اور اس گھومنے والے پل کے دونوں حصوں کو باہم ملانے کے لیے انہیں 31 کے زاویے پر گھمایا گیااور ریلوے پل کے دونوں حصے کچھ سرسرائے اور باہم مضبوطی سے ایک دوسرے سے منسلک ہوگئے ‘ اس طرح سے نیا تعمیر کردہ ریلوے اسٹیشن ڈاٹونگ کن ہوا نگڈائو ریلوے کے اوپر بنایاگیاہے ‘ جو گزشتہ کئی سالوں سے کامیابی سے فعال ہے ‘ اسی طرح سے شمالی چینی صوبے کیبی میں 3503.48 میٹر طویل یہ فلائی اوور جو ٹو موٹائون شپ اور گورانٹنگ ذخائر کے مابین تعمیر کیاگیاہے بنیادی طورپر دوسرے ریلوے سیکشنز بشمول ڈاٹونگ ‘ کن ہوا نگڈائو ریلوے ‘ بیجنگ ‘ بائو ٹوریلوے اور بیجنگ تبت ہائی وے پر تعمیر کیا گیا ہے ‘ واضح رہے کہ ڈاٹونگ کن ہوانگڈ ائو ریلوے چین کے مصروف ترین ریلوے سیکشنز میں سے ایک ہے ‘ اس حوالے سے ڈاٹونگ ‘ کین ہوانگڈائو ریلوے پر اثر کم کرنے قطار پائر‘ ٹاپ سپن ٹیکنالوجی کا استعمال کیاگیاہے اور اس ٹیکنالوجی کی بدولت جہاں تعمیر مضبوط ہوتی ہے‘ وہیں تعمیری مشکلات اور لاگت کو بھی کم کردیتی ہے ‘ یہ حقیقت دنیا بھر کے ماہرین تسلیم کرتے ہیںکہ چین تعمیرات کے شعبے میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کامیابی سے کررہا ہے اور اس حوالے سے Highestbridges.com کے پیجز پر دیکھا جاسکتا ہے کہ چینی مہارت اونچے پلوں کی تعمیر میں کس قدر مہارت اور ٹیکنالوجی کا استعمال کررہا ہے اور اس حوالے سے اس پیج پر دنیا بھر کے اونچے پلو ںکے حوالے سے تفصیلات دی گئی ہیں اور اس ویب سائٹ کے 10 بہترین پلوں میں 8 پل چین سے چین سے متعلق ہیں‘ جبکہ دنیا بھر کے 100 پلوں کی فہرست میں اونچے اور مہارت کا شاہکار پل چین میں تعمیر کئے گئے ہیں‘ اس کے ساتھ ساتھ چین دنیا میں تکنیکی امور کے حوالے سے بہترین مہارتوں کا مظاہرہ کررہا ہے۔

(361 بار دیکھا گیا)

تبصرے