Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 18 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

دردانہ جمیل بدھ 07 نومبر 2018

ملک کے بیشتر حصوں میں موسم سرما کا آغاز ہوچکا ہے۔ بارش نہ ہونے کے باعث خشک سردی بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے بہت سی موسمی بیماریاں پھیلتی ہیں اور صحت کو متاثر کرتی ہیں۔ موسم کی تبدیلی کی وجہ سے بیکٹیریا اور کئی قسم کے وائرس فضا میں پھیل کر خطرناک بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔ اس لیے ان سے محتاط رہنا ضروری ہے جو اسی صورت میں ممکن ہے جب آپ احتیاطی تدابیر کرتے رہیں۔ درجہ حرارت کی اچانک تبدیلی جسم کے حرارتی توازن پراثر انداز ہوتی ہے۔ بڑوں کی نسبت بچوں میں چوںکہ قوت مدافعت کم ہوتی ہے اسی لیے نزلہ ،زکام ،کھانسی اور بخار جلد ہی ان پر حاوی ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مچھربھی تیزی سے پھیلتے ہیں جن کے کاٹنے سے تیز بخار، ٹائیفائڈ، ملیریا جیسی سنگین بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں۔
موسم سرما میں پیٹ کی بیماری کا بھی زیادہ خطرہ رہتا ہے اس لیے مچھروں کے انفیکشن کو پھیلنے سے روکیں۔ اس مقصد کے لیے باہر کی تلی ہوئی اشیا کھانے سے پرہیز کریں اور بچوں کو بھی ایسی چیزیں کھانے سے سختی سے منع کریں۔ باقاعدگی سے صفائی کے ذریعے ان حشرات کی افزائش روکنے کی کوشش کریں۔ بچوں کو مکمل آستین والے کپڑے پہنائیں۔ کمروں میں مچھر مارا سپرے کریںاور کوشش کریں کہ دن کے وقت دروازے اور کھڑکیاں اچھی طرح بند رکھیں۔سردیوں کا موسم اپنے ساتھ خشک پھلوں کے مزے ضرور لے کر آتا ہے، مگر مختلف امراض بھی اس کے ہمراہ آتے ہیں، جو بچوں کو خاص طور سے متاثر کرتے ہیں۔ ایک بچہ ابھی پوری طرح بیماری کے اثر سے نکل نہیں پاتا کہ دوسرا بیمار ہوجاتا ہے۔ اس چکر میں خاتون خانہ بھی چکرا کر رہ جاتی ہیں۔ سرد موسم میں بچے زیادہ ترکان کے انفیکشن میں مبتلا ہو جاتے ہیں جو بخار کی وجہ بھی بنتا ہے۔ اس سے بچاو¿ کے لیے بچے کو دھوئیں اور گرد وغبار سے دور رکھیں۔ کھانسی اور زکام کی شدت کم کرنے میں سردیوں کے تمام رس دار پھل اہم کردار ادا کرتے ہیں کیوں کہ ان میں وٹامن سی کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اگر آپ روزانہ صرف ایک سے آٹھ گرام تک وٹامن سی استعمال کریں تو سردیوں میں نزلہ، زکام اور کھانسی سے کافی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔کینو ،لیموں اور گریپ فروٹ جیسے پھل جسمانی نظام کے دفاع میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے استعمال سے آپ کسی طرح کی جسمانی کمزوری محسوس نہیں کریں گے۔

(193 بار دیکھا گیا)

تبصرے