Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 23  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

اسٹریٹ کرائمز کا زور

(راﺅ عمران اشفاق (جرائم کی دنیا بدھ 31 اکتوبر 2018
اسٹریٹ کرائمز کا زور

ڈاکٹرامیرشیخ یوں تو کراچی پولیس چیف ہیں لیکن ان دنوں ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے وہ ڈی آئی جی ٹریفک کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں

شہر میں اسٹریٹ کرائمز کا زور ہے دکانوں کے تالے توڑ کر لوٹ مار کی جارہی ہے.

پولیس میں موجود کالی بھیڑیں بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھورہی ہیں لیکن ڈاکٹرصاحب کی تمام ترتوجہ شہر میں ٹریفک کے سدھار پر ہے

یقیناً شہر میں ٹریفک کے حوالےسے سنگین مسائل ہیں ان پر توجہ دینا ایک احسن قدم ہے

محافظ یا….”دہشت گرد”

مسئلہ یہ ہے کہ یہ ساری مہم ون وے کی خلاف ورزی ہیلمٹ نہ پہننے پر کارروائی اور وٹرسائیکلوں کی ہیڈلائٹس کو چیک کرنے کے گرد ہی کیوں گھوم رہی ہے

شہر میں مصروف اوقات کے دوران پانی اور ریتی بجری کے ٹینکر مرکزی شاہراہوں پر دندناتے پھررہے ہیں.

اناڑی ڈرائیور بے دردی سے شہریوں کو کچل رہے ہیں سارا زور چلتا ہے تو غریب رکشہ ڈرائیوروں اور موٹرسائیکل سواروں پر

سارے قاعدے قوانین کا اطلاق ان ہی پر ہوتا ہے یہ مہم کس طرح کامیاب ہوسکتی ہے.

جب خلاف ورزی پر چند سو روپے جیب میں ڈال کر معاملے کو رفع دفع کردیا جائے البتہ پیسے نہ دینے والے کو قانون کے شکنجے میں پس دیا جاتا ہے

گزشتہ کچھ دنوں میں کراچی میں تواتر کے ساتھ ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن سے ٹریفک پولیس پر براہ راست سوالات اٹھتے ہیں.

صدر میں رکشہ ڈرائیور کو روک کر پچاس روپے رشوت طلب کی گئی انکار پر کاغذات چیک کئے گئے جو درست نکلے گاڑی کا معائنہ ہوا وہ بھی فٹ قرار پائی

اہلکار نے اس بات پر چالان کیا کہ رکشے کا میٹر صحیح کام نہیں کررہا رکشہ ڈرائیور جو پہلے سے ہی چالان بھر بھر کر ہلکان ہوا تھا اس پر جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اس نے سڑک پر ہی احتجاج کیا

ایک خط لکھا جس میں واضح کیا کہ وہ ٹریفک پولیس کی رشوت خوری کے خلاف بطور احتجاج خود کو زندہ جلارہا ہے

یہ دھمکی صرف دھمکی ہی نہیں تھی اس نے واقعی خود پر پیٹرول چھڑکا اور خود کو زندہ جلا کرمارڈالا.

ایڈیشنل پولیس چیف اس ڈرائیور کے گھر گئے اہل خانہ کی مالی مدد کی کوشش کی لیکن انھوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا

المناک بات یہ ہے کہ اس رشوت خور پولیس اہلکار کے خلاف مقدمہ ہوا لیکن رکشہ ڈرائیور کی تدفین سے قبل ہی اسے رہا کردیا گیا.

اس واقعے کے کچھ دنوں بعد ہی نارتھ ناظم آباد میں ایک رکشہ ڈرائیور نے سی این جی مہنگی ہونے اور ٹریفک پولیس کی زیادتیوں پر بطور احتجاج اپنے رکشے کو آگ لگادی پھر خود کو بھی جلانے کی کوشش کی لوگوں نے اسے بچالیا.

دوسری طرف تماشہ یہ ہے کہ رکشہ ڈرائیوروں کے اکاونٹ سے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ٹرانزیکشن ہورہی ہے

ایک رکشہ ڈرائیور کے اکاونٹ سے آٹھ ارب روپے سے زائد کی ٹرانزیکشن کا انکشاف ہوا ہے.

ان تماشوں کو بند ہونا چاہئے ٹریفک پولیس کو بھی اپنی اصلاح کرنا چاہئےرکشہ ڈرائیوروں اور موٹرسائیکل سواروں کو قانون کا ضرور پابند بنایا جائے

(190 بار دیکھا گیا)

تبصرے