Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 24 مئی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

میں لڑکی کیوں ہوں؟

(شاہد ملک ) بدھ 31 اکتوبر 2018
میں لڑکی کیوں ہوں؟

 

اگر باہر سودا سُلف لینے جانا ہو تو، کیسے جائیں گے؟ وہی رات کے کپڑے جو پہنے ہوئے ہونگے، پیسے جیب میں ڈالے اور نکل لیے؛ بس! مگر ایک لڑکی کیسے جائے گی؟ وہ کئی بار یہ سوچتی ہے کہ ان ہی کپڑوں میں گھر سے باہر نکلا جائے جو ابھی گھر میں پہنے ہیں یا کپڑے تبدیل کرلیے جائیں؟ اسے ایک لمبا چوڑا سا دوپٹہ کہیں سے ڈھونڈنا ہوگا، اگر وہ نہیں تو چادر ڈھونڈنی ہوگی جس میں اس کا پورا وجود سما جائے۔ اسے لمبی چوڑی چادر پہننا بھی لازمی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ بغیر چادر یا دوپٹے کے باہر نکلے گی تو لوگ اسے نمائش کی پتلی تصور کریں گے اور ہر ایک شخص اس کا بغور جائزہ لے گا؛ جیسے کوئی عجیب و غریب مخلوق دیکھ لی ہو۔

اکثر پَرچون کی دکان پر دیکھا ہوگا کہ عُمر رسیدہ خاتون یا تقریباً اچھی خاصی عُمر کی خواتین اور کچھ مرد حضرات سودا سلف خریدتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بعض اوقات تو خاصی گہماگہمی ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی نوجوان لڑکی آجائے تو سب اِس کی جانب متوجہ ہوجاتے ہیں۔ اس وقت وہ لڑکی ایک بار تو یہ ضرور سوچتی ہوگی کہ ایسے مجھے کیوں دیکھ رہے ہیں۔ پھر وہ سامان لے کر تیز قدموں سے چلے گی۔ راستے میں ہر ایک شخص، چاہے وہ داڑھی والے چاچا ہوں، کلین شیوڈ آدمی ہو، سولہ سال کا لڑکا ہو، اور وہ سبزی والا ہی کیوں نہ ہو جو ٹھیلا لیے چلا جارہا ہے، غرض کوئی بھی ذی نفس جو ذرا سا بھی ’’مرد‘‘ ہو، وہ اسے مسلسل گھورتا ہے۔ وہ لڑکی سَر سے پاؤں تک پسینہ پسینہ ہوکر گھر آکر پَنکھے کے نیچے بیٹھے گی اور چادر اتار کر سامنے پھینک کر ایک مرتبہ تو سوچے گی کہ میں لڑکی کیوں ہوں؟

چلیے، یہ تو بات ایک لڑکی کی تھی جو سودا سُلف لینے کی غرض سے گھر سے نکلی تھی۔ لیکن اگر آپ کو کوئی شخص مسلسل گھورتا رہے تو آپ کو ایک عجیب قسم کی اکتاہت محسوس ہوگی۔ اِس وقت ذرا اِس لڑکی کی کیفیت کو تصور کیجیے کہ وہ لڑکی کیا کرتی؟ اِسے مسلسل ایک کراہیت سی محسوس ہورہی ہوتی ہے، جسے وہ ہضم کر جاتی ہے۔ اِس کے ذہن میں مسلسل ایک بات چلتی رہتی ہے کہ یہ لوگ مجھے کیوں گھور رہے ہیں؟ آخر مجھ میں انوکھا ایسا کیا ہے؟ وہ کچھ نہیں کہتی ہے اور ضبط کرتی رہتی ہے۔

اکثر کچی آبادی کے علاقے جہاں پتلی پتلی گلیاں ہوتی ہیں، ہر گلی کے نکڑ پر صبح و شام اوباش لڑکے بیٹھے رہتے ہیں۔ اب دوپہر میں کسی کام سے کوئی لڑکی بازار جانے کےلیے نکلے یا کہیں کالج سے آرہی ہو، تو اسے یوں گھورتے ہیں جیسے آنکھوں میں ایکسرے مشین نصب کر رکھی ہو۔

تیز چِلچلاتی دُھوپ پڑ رہی ہے۔ گرمی کے عالم میں بھی گھر سے باہر نکلنے کےلیے وہ لڑکی ایک لمبی چوڑی چادر اوڑھ کر، آنکھیں نِیچے کرکے، تیز تیز قدم رکھتی، تیز سانسیں لیتی ہوئی کہ جس کے باعث دِل دَھک دَھک کرنے لگ جاتا ہے، اپنی چادر کو لپیٹتی ہوئی چلتی جائے گی… کبھی اِدھر، کبھی اُدھر دیکھے گی کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا۔ وہ جا کر بس اسٹاپ پر بس کے اِنتظار میں کھڑی رہے گی۔ ہر آنے جانے والا ہر مرد، ہر وہ نوجوان لڑکا جس نے بلوغت کی سیڑھیوں پر ابھی قدم رکھے بھی نہ ہوں، وہ سر سے پاؤں تک موازنہ کرنے سے باز نہیں آتا اور مسلسل گھورتا رہتا ہے؛ جیسے اس لڑکی پر ہیرے جواہرات جڑے ہوں۔

مجھے تو لگتا ہے یہ اب عام بات ہوچکی ہے کہ کوئی بھی لڑکی نظر آجائے (چاہے جینز اور شرٹ یا شلوار قمیص میں ہو)، جب تک وہ نظر سے اوجھل نہ ہوجائے، اِس کا سر سے پاؤں تک جائزہ لیتے رہیں گے۔ ایسے میں لڑکی کو رضائی والے برقع کی نہیں شاید لوگوں کو کسی ماہر نفسیات سے علاج کی ضرورت ہے۔

اب یہی مثال لے لیجیے کہ اگر کسی ایک لڑکی سے آپ بات بھی کر رہے ہوں، تو آتے جاتے ہر بندہ دیکھتا ہوا جائے گا۔ اِس وقت نہ جانے آپ کو کتنے لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کہیں سڑک پر ہی کسی لڑکی سے بات کر رہے ہوں تو آتے جاتے یہ آنٹیاں گھورتی ہوئی جائیں گی جیسے انہوں نے کوئی خلائی مخلوق دیکھ لی ہو، پھر وہ اِسے دیکھتی ہی رہیں گی۔ اور اگر ان کے ساتھ دوسری عورت ہوگی تو کہیں گی ’’دیکھو بہن! کیسا زمانہ آگیا ہے شرم تو ہے ہی نہیں، آج کل کی لڑکیاں بڑی بے شرم ہیں۔‘‘

اب جامعہ میں بھی کلاس کے باہر جب زیادہ ہجوم ہوتا ہے یا کینٹین، لائبریری وغیرہ میں آپ سے کوئی لڑکی کسی کتاب کے بارے میں پوچھ لے یا غلطی سے کوئی بات بھی کرلے تو آتے جاتے ہر بندہ دیکھتا ہوا ہی جائے گا۔ اپنے ذہن میں خود ساختہ ایک کہانی بھی گڑھ لے گا: اِس کا اِس کے ساتھ معاشقہ ہے، جامعہ کے باہر بھی اِس سے یہ ملتی ہوگی، فون پر دِن رات اس سے باتیں بھی کرتی ہوگی۔ اب وہ لڑکی کبھی کہیں دِکھ بھی گئی تو کہہ کہہ کر مار ڈالیں گے، ’’دیکھ کاشف! تیری والی جارہی ہے۔‘‘ اگر جماعت میں اسائنمنٹ بنانے کےلیے گروپ بھی بنائے جاتے ہیں تو یہی کہا جاتا ہے، ’’اقراء کو لے لو اپنے گروپ میں، یہ وہی ہے جو کاشف کے ساتھ کھڑی باتیں کررہی تھی۔‘‘ لیجیے بھئی، بس ہوگیا کام!

یعنی ہم اتنے فارغ ترین لوگ ہیں کہ معاشرے میں بے وجہ کی پیچیدگیاں پیدا کر دیتے ہیں جِن کا کچھ بھی حاصل نہیں۔

اب ذرا سوچیے کہ جب ایسے مسائل درپیش ہوں گے تو ایک لڑکی بیزاری تو محسوس کرتی ہی ہوگی۔ ہم روز مرہ بول چال میں ایسے الفاظ بولتے ہیں کہ لڑکیوں کی طرح کیوں رو رہے ہو، لڑکیوں کی طرح کیوں ڈرتے ہو، یہ کیوں کر رہی ہو، ایسے کیوں چل رہی ہو، یہ کیوں پہن لیا، یعنی ہم نے لڑکیوں پر اتنی پابندیاں لگا دی ہیں کہ کبھی تو وہ سوچتی ہونگی… ’’میں لڑکی کیوں ہوں؟‘‘

دراصل ہمارے یہاں عورت کو صرف مثالی طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تصور کیا جائے تو عورت کو حُسن اور زندگی سے مُستعار لیا گیا ہے۔ اِس کی اہمیت کو ہم نے مفروضاتی طور پر ہی مختص کردیا ہے، جسے ہم اِس زاویئے سے نہیں دیکھتے کہ وہ ہماری بہن، بیٹی اور بیوی ہے، بلکہ وہ صرف عینیت پسندی اور اخذِ لذت کےلیے مختص ہے۔ اگر یہاں عورت زندہ بھی ہے، تو وہ یہی سب اذیتیں بھگت کر زندہ ہے۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے نے عورت کو اعلی مقام دیا ہے تو واپس آجائیے، یہ محض خیالی پلاؤ ہے۔

(217 بار دیکھا گیا)

تبصرے