Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 23  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

!اپوزیشن کی اے پی سی اڈیالہ جیل میں

( صابر علی (صا ف بات بدھ 31 اکتوبر 2018
!اپوزیشن کی اے پی سی اڈیالہ جیل میں

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس اڈیالہ جیل میں ہوگی، دیکھا جائے تو یہ صرف ایک روایتی بیان ہے جو عام طور پر سیاست داں ایک دوسرے کیخلاف دیتے ہیں لیکن حکومت کے انتہائی ذمہ دار وزیر جو حکومت کے ترجمان ہیں ان کی جانب سے اس طرح کے بیان کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جارہا ہے اور سنجیدگی سے ہی لینا چاہیئے اس لیئے کہ ایک اہم اور ذمہ دار وزیر کا بیان ہے صرف یہ ہی نہیں کہ ایک اہم وزیر کا بیان ہے بلکہ وزیر اعظم عمران خان بھی اسی طرح کے بیانات دے رہے ہیں کہ میں کسی کو این او آر نہیں دوںگا، سب کو جیل میں ڈالوں گا گزشتہ دنوں انہوں نے اپنی اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا کہ اگر ان کا بس چلتا تو کم از کم 50 سیاست دانوں کو وہ جیل میں ڈال دیتے، اپوزیشن جماعتوں نے پی ٹی آئی حکومت کے اس جارحانہ طرز حکومت کیخلاف متحد ہو کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومت مخالف جماعتوں کی ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے اپوزیشن کی 2بڑی جماعتوں کے قائدین نوا ز شریف اور آصف علی زرداری کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے کوششیں شروع کر دی گئیں ہیں، اور اس حوالے سے مولانا فضل الرحمن اپنا کردار ادا کرنے کیلئے سرگرم ہوگئے ہیں اپوزیشن جماعتوں کی اس آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ یہ آل پارٹیز کانفرنس اڈیالہ جیل میں ہوگی ،اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کیا واقعی اڈیالہ جیل میں منعقد ہوگی چونکہ حالات تو ایسے ہی نظر آرہے ہیں جب وزیر اعظم اور حکومت کے ترجمان وزیر اس بات کی خواہش اور اعلان قبل از وقت کررہے ہوں تو اس سے یہی مطلب لیا جاسکتا ہے کہ حکومت یہ چاہتی ہے کہ حکومت کے تمام مخالفین جیل میں ڈال دیئے جائیں، اور وہ تنہا کسی رکاوٹ اور اپوزیشن یا مخالفین کی مخالفت کے بغیر آرام سے حکومت کریں بالکل اسی طرح کہ جیسے حکومت میں آنے سے قبل بھی پی ٹی آئی تنہا پرواز کی قائل تھی اور اپوزیشن لیڈر کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہونے کے باوجود پی ٹی آئی(ن) لیگ کو حکومت کے خلاف تحریک میں صف اول کے طور پر شریک تھی اور آخر کار نواز شریف کو نہ صرف وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر دم لیا بلکہ جماعت کی سربراہی سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ جیل کی ہوا، کھانے پر مجبور کردیا، لیکن اب جبکہ پی ٹی آئی کی تمام تر کوششیں ان کی خواہشات کے مطابق پوری ہوگئیں ہیں اور وہ اقتدار سنبھال چکے ہیں لیکن اقتدار سنبھالے 2ماہ سے زائد عرصہ ہونے کے باوجود وہ اب بھی حکومت اپوزیشن کی طرح کررہے ہیں اور اپوزیشن کو ہر نئے دن اس طر ح للکار رہے ہوتے ہیں جیسے وہ اب بھی حکومت میں نہیں اپوزیشن میں ہیں، کیونکہ اقتدار میں آنے کے بعد ان کی تمام تر خواہش پوری ہو گئیں ہیں، لیکن ، لگتا ہے کہ ان کی اصل خواہش اپنے مخالفین کو جیل میں ڈالنا ہے لیکن کیا وہ سارے مخالفین کو جیل میں ڈال کر تنہا حکومت کرسکیں گے، حکومت میں آنے کے بعد حکمرانوں کی اصل ذمہ داری اچھی حکمرانی کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے گزشتہ 2ماہ کی حکمرانی میں پی ٹی آئی حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے کون سے ٹھوس اقدامات کیئے ہیں،گزشتہ 2ماہ میں 2 مرتبہ گیس کے نرخ بڑھائے گئے ہیں اور گیس کے نرخ موسم گرما میں بڑھائے گئے ہیں جب گیس کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی اب جبکہ سردیوں کے موسم کی آمد آمد ہے اور سردیوں میں گھروں میں ہیٹر اورگیزر کا استعمال بڑھے گا اور عوام کو گیس کے بھاری بھاری بل موصول ہوں گے تو عوام کو پتہ چلے گا کہ ان کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آنیوالی حکومت نے ان کو اچھا ریلیف دیا ہے، پھر بجلی کے نرخوں میں اضافہ اور ڈالر کی اونچی اڑان نے تمام تر اشیاءضرورت کی قیمتیں آسمان پر پہنچادی ہیں اور اپوزیشن کی مقبول ترین جماعت اقتدار سنبھالنے کے 2 ماہ کے اندر ہی اپنی مقبولیت کھوتی نظر آرہی ہے وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالنے سے قبل جو بڑے بڑے دعوے اور وعدے کیئے تھے لوگ اب ان کے دعوے اور وعدے انہیں یاد دلارہے ہیں کہ ہم نے تو ان دعوﺅں اور وعدوں پر ووٹ دیئے تھے وزیر اعظم عمران خان نے پہلا دورہ سعودی عرب کا کیا، لیکن پہلے دورے میں انہیں کچھ نہ ملا، دوسرے دورہ سعودی عرب میں تین ارب ڈالر ملنے کی نوید ملی تو پی ٹی آئی نے جشن منایا اور کہا گیا کہ سعودی عرب نے عمران خان کی وجہ سے پاکستان کی مدد کی ہے واضح رہے کہ سعودی عرب نے مذکورہ رقم ادھار دی ہے، اور صرف ایک سال تک بینکوں میں رکھنے کیلئے دی اب ادھار ملنے پر بھی جشن منایا جانا کوئی پی ٹی آئی سے سیکھے، سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ اور مخلص دوست ہے، پاکستان میں کوئی بھی حکمراں آئے سعودی عرب ہمیشہ مدد کرتا ہے نواز شریف کا سعودی عرب سے خاص تعلق بتایا جاتا تھا اس میں کوئی شک نہیں ہے اس لیئے کہ نواز شریف کو سعودی عرب نے ڈیڑھ اب ڈالر ادھار نہیں دیئے تھے بلکہ وہ ناقابل واپسی اور بطور تحفہ تھے ، پیپلز پارٹی کی حکومت میں بھی سعودی عرب نے پاکستان کی مدد کی تھی، تاہم عمران خان کی حکومت کو سعودی امداد ملنے پر پاکستان میں ایک اچھا تاثر قائم ہوا، مہنگائی اور ڈالر کی اونچی اڑان کی وجہ سے پی ٹی آئی حکومت کی ساکھ جو تیزی سے خراب ہورہی تھی سعودی امداد ملنے کی وجہ سے اسے سہارا ملا اور حکومت کی ساکھ بہتر ہوئی ، فوری طور پر ڈالر کی قیمت بھی تھوڑی سی کم ہوئی، لیکن اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ، ڈالر کے ریٹ اب بھی بہت زیادہ ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی حکومت 115 روپے کا ایک ڈالر کی قیمت چھوڑ گئی تھی جو پی ٹی آئی حکومت میں کم ہو کر بھی اب 132 روپے کے قریب ہے، ڈالر کے ریٹ بڑھنے سے پاکستان کا وہ قرضہ جو سابقہ دور حکومت میں لیا گیا تھا وہ کئی گنا بڑھ گیا، پی ٹی آئی حکومت جسے حکومت سنبھالے اب 2 ماہ سے زائد ہو گئے ہیں، لیکن وزیر اعظم سمیت ان کی کابینہ کے ارکان روزانہ ہی سابق حکومت اور حکمرانوں کو کوس رہے ہوتے ہیں لگتا ہے کہ انہیں اب تک یقین نہیں آیا ہے کہ وہ حکومت میں آچکے ہیں اور سابقہ حکومت کو وفات پائے 5ماہ سے زائد عرصہ ہوگیا ہے، موجودہ حکومت کو اب ہر بات کی ذمہ داری سابقہ حکمرانوں پر ڈالنے کے بجائے خود کو حکمراں سمجھتے ہوئے صورت حال کو بہتر کرنے کی حکومت عملی اور ٹھوس اقدامات کرنا چاہیں ، سابقہ حکمر اں چاہے زرداری ہو یا نواز شریف یا کوئی بھی سابق حکومت جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تھا تو ان کو بھی وراثت میں قرضے، خزانہ خالی اور بے پناہ مسائل ملے تھے لیکن انہوں نے حکومت کو حکومت سمجھ کر مسائل کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کا عمل جاری رکھا تھا۔
لیکن ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت ابھی تک اپنے آپ کو حکومت نہیں سمجھ رہی ہے یا انہیں حکومت کی سمجھ نہیں آرہی ہے کہ وہ حکومت کیسے چلائیں مسائل حل کیسے کریں یہی وجہ ہے کہ وہ اچھی طرز حکمرانی اور عوام کو ریلیف دینے کے بجائے اپنے مخالفین کو جیل میں ڈالنے کے مشن پر لگے ہوئے ہیں، کرپشن میں کرپٹ عناصر کو پکڑنا حکومت کا کام نہیں ہے اداروں کا کام ہے اور ادارے اس حوالے سے آزاد ہونا چاہئیں لیکن حکمراں خصوصاً وزیر اعظم اور وزراءجب روزانہ اپوزیشن رہنماﺅن کی گرفتاری اور جیل میں ڈالے جانے کے عزم کا اظہار کرتے رہیں گے تو پھر اداروں کی آزادی اور خود مختاری پر داغ تو لگے گا، وزیر اعظم اور وزراءجب چیئرمین نیب سے علیحدہ میں ملاقاتیں کریں گے تو پھر انگلیاں تو اٹھیں گیں اپوزیشن رہنماﺅں کا یہ اعتراض درست ہے کہ وزیر اعظم اور وزراءکو کیسے معلوم ہوتا ہے کہ کون اور کتنے لیڈر کب جیل جائیں گے اس طرح وزیر اعظم اور ان کے وزراءدراصل نیب اور عدالتوں کے ترجمان کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ اپوزیشن رہنماﺅں کی اڈیالہ جیل میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہونے کی خواہش اور اعلان بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے یہ کیسی جمہوری حکومت کے کہ جس کا اپوزیشن لیڈر جیل میں ہے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کیلئے فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وہ جلد ددوبارہ جیل میں ہوں گے اور جب اپوزیشن حکومت کیخلاف متحد ہورہی ہے تو پوری اپوزیشن کو جیل میں ڈالنے کی خواہش کی جارہی ہے۔وزیر اعظم عمران خان کے اس انکشاف نے تو کمال کردیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ابھی تو انہوں نے کچھ کیا ہی نہیں مذکورہ گرفتاریاں یا کارروائیاں تو پرانے مقدمات کی بنا ءپر ہیں وزیر اعظم عمران خان کا کہناہے کہ انہوں نے اب تک کچھ نہیں کیا لیکن اب وہ کچھ کریں گے، جمہوریت خطرے میںپڑنے والی ہے ، وزیر اعظم کو اس خواہش کے نتیجے میں جمہوریت واقعی خطرے میں پڑنے والی ہے خود وزیر اعظم بھی اس بات کا اعلان کررہے ہیں پی ٹی آئی کی حکومت کرپٹ سیاست دانوں کے نام پر جب صرف اپنے مخالف سیاست دانوں کے خلاف کارروائی اور انہیں نہ جیل میں ڈالنے کے روزانہ اعلانا ت کریگی، تو جمہوریت کو خطرہ ہی نہیں ہوگا بلکہ یہ ایسی جمہوری حکومت کہلائے گی جسے اپنی جماعت پی ٹی آئی کے کرپٹ عناصر نظر نہیں آرہے وہ پی ٹی آئی کے کرپٹ لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب کرپٹ لوگوں کو پکڑنا چاہتی ہے، پنجاب کے سینئر وزیر حلیم خان، سابق مشیر بابر اعوان، پرویز خٹک اوردیگر جن پر نیب کے مقدمات ہیں خود وزیراعظم عمران خان پر بھی نیب میں ہیلی کاپٹر کیس موجود ہے تو یہ کیسی شفاف کارروائیاں ہیں۔ جو اپنے گریبان میں جھانکے بغیر کی جارہی ہیں وزیر اعظم عمران خان اور ان کے وزراءکا مخالف رہنماﺅں کیخلاف اسی طرح کا جارحانہ رویہ اور انداز رہا تو لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ وہ صرف انتقام کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں، عوام کو ریلیف دینے کیلئے ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔
دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف جب سے ضمانت پر رہا ہوئے ہیں انہوں نے سیاسی طور پر انتہائی محتاط رویہ اختیار کیا ہوا ہے، نہ صرف نواز شریف بلکہ ان کی غیر معمولی طور پر سیاست میں سرگرم رہنے والی صاحبزادی مریم نواز بھی پر اسرار طور پر خاموش ہیں پہلے یہ سمجھا جارہا تھا کہ نواز شریف اپنی اہلیہ کلثوم نواز اور مریم اپنی والدہ کی وفات سے بہت زیادہ دلبراشتہ اور دکھ میں ہیں لیکن اب اس بات کو بھی بہت عرصہ گزر چکا ہے یہاں تک نواز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے بھی انکار کردیا ہے کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ وفاقی وزیر فواد چوہدری کے اس بیان سے وہ بھی ڈر گئے ہیں کہ اپوزیشن رہنماﺅں کی آل پارٹیز کانفرنس اڈیالہ جیل میں ہوگی ، نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے لیکن آخر کب تک اس طرح کسی کو ڈرا دھمکا کہ اپنی بادشاہت قائم اور مخالفین کو خاموش کراکر حکومت کی جاسکتی ہے آخر ایک دن آئیگا جب ایسے مصنوعی طریقوں کا پول کھل جائے گا۔

(278 بار دیکھا گیا)

تبصرے