Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 18 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کراچی کے جلسے

الیاس شاکر(سچ یہ ہے!) پیر 01 جنوری 2018
کراچی کے جلسے

پاکستان تحریک انصاف ملک میں کامیاب جلسوں کے حوالے سے نمبر ون ہے۔ اس بات کو پی ٹی آئی کے نقاد بھی تسلیم کرتے ہیں۔’’عمران‘‘ سیریز کی طرح ملک بھر میں ’’جلسہ ‘‘سیریز کی روایت بھی تحریک انصاف نے ڈالی ہے۔ پی ٹی آئی جلسوں میں سب سے آگے ہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس جماعت کو جلسوں کی مناسبت سے ووٹ نہیں ملتے۔ سیاسی تجزیہ کار بھی تاحال یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جلسوں میں سج دھج کر آنے والے لوگ ووٹ کہیں اور کیوں ڈال دیتے ہیں۔ ایسے ہی کئی ’’حادثات‘‘ پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی ہوئے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے چند جلسوں کے علاوہ باقی کوئی قابل ذکر نہیں۔ اس لئے موازنہ تھوڑا مشکل ہے۔ تحریک انصاف کے بعد سب سے بڑے جلسے مذہبی جماعتوں کے ہوتے ہیں۔ یہاں بھی صورتحال تقریبا ویسی ہی ہے ووٹ کہیں اور چلا جاتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے علاوہ کسی مذہبی جماعت کو ’’بھرے ‘‘بیلٹ بکس نہیں ملتے لیکن ایک تبدیلی ضرور آئی ہے کہ حالیہ دو ضمنی انتخابات میں حافظ سعید کی ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک کو نہ صرف قابل ذکر ووٹ ملے ہیں بلکہ ان جماعتوں نے جماعت اسلامی کے ساتھ پیپلز پارٹی کو بھی ’’ٹاپ‘‘ تھری سے نیچے گرا دیا ہے۔
کراچی میں جلسوں کی تاریخ بڑی پرانی ہے۔ لیاری کے ککری گراونڈ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رہنما ذوالفقار علی بھٹو نے 1967 میں جلسہ کر کے کراچی میں پارٹی کا پہلا دفتر قائم کیا تھا۔ اسی طرح متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین نے 1986 میں’’نشتر پارک‘‘ میں جلسہ کر کے مہاجر قومی موومنٹ کی بنیاد ڈالی تھی، جو بعد میں متحدہ قومی موومنٹ بن گئی۔ ککری گراونڈ اور نشتر پارک کو تجزیہ کار سیاسی اکھاڑے بھی کہتے رہے ہیں۔ جہاں سیاسی جماعتیں اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اکٹھا کرنے کی جدوجہد کرتی تھیں۔ یہ میدان ساٹھ اور ستر کی دہائی میں کئی اہم سیاسی رہنماوں کی جلسہ گاہ ہوا کرتا تھا مگر آج وہاں بچے کرکٹ اور فٹبال کھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ بوڑھے یہاں تاش کھیل کر اپنا وقت گزارتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ حال نشتر پارک کا بھی ہے جو پہلے پٹیل پارک کے نام سے مشہور تھا مگر بعد میں اسے تحریک پاکستان کے رہنما عبدالرب نشتر کے نام سے منسوب کر کے’’نشتر پارک‘‘ بنا دیا گیا۔
آج کل سیاسی جماعتیں اتنے بڑے گراونڈ میں جلسہ کرنے کے بجائے کسی شاہراہ پر جلسہ کرنے کو ترجیح دیتی ہیں جہاں تھوڑے سے لوگ بھی زیادہ نظر آتے ہیں۔ ایم کیو ایم نے نشتر پارک میں متحدہ قومی موومنٹ بننے کا اعلان کیا اور بعد میں کئی اہم جلسے اسی گراونڈ میں منعقد کیے گئے، جن کی وجہ سے یہ گراونڈ ایم کیو ایم کے زیر اثر سمجھا جاتا رہا ہے۔ نشتر پارک کی شناخت اب محرم الحرام کی مجالس اور بارہ ربیع الاول کے لئے جلسہ گاہ کی بن گئی ہے جبکہ سیاسی جلسوں کے لیے سیاسی جماعتوں نے ایم اے جناح روڈ کا انتخاب کر لیا ہے۔ کئی جلسے شاہراہ لیاقت پر بھی ہوتے رہے ہیں۔ قائداعظم کی نسبت سے قائم باغِ قائداعظم بھی جلسوں کے اعتبار سے اہم جگہ ہے لیکن اسے بھرنے کے لئے جتنے جتن کرنے پڑتے ہیں اس اعتبار سے سیاسی جماعتیں باغِ قائداعظم سے دور ہی رہتی ہیں۔
دو جلسوں کے پتھروں نے کراچی کے ’’سیاسی‘‘ سکوت کو توڑ دیا ہے۔ پہلا جلسہ ایم کیو ایم نے 9 نومبر جبکہ دوسرا پی ایس پی نے 25 دسمبرکو لیاقت آباد میں کیا۔ دونوں جلسوں کے بعد ’’کتنے ‘‘آدمی تھے؟ کا کامیابی جانچنے والا فارمولا شروع ہو گیا۔ کراچی کے دانشور جو بانی ایم کیو ایم کے دور میںجلسے کے شرکا کی تعداد پر بات ہی نہیں کرتے تھے، وہ آج اچھل اچھل کر ایک جلسے کو کامیاب اور دوسرے کو ناکام قرار دے رہے ہیں۔ کوئی ایم کیو ایم کو کراچی کا’’مالک‘‘ بتا رہا ہے تو کوئی پی ایس پی کو کراچی کا مسیحا سمجھ رہا ہے۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ پہلے ایک’’بھائی‘‘ تھا اب دو ’’بھائی‘‘ ہو گئے ہیں۔ کراچی کا میڈیا بھی واضح طور پر تقسیم ہے۔ ٹی وی چینلز اور اخبارات کے رپورٹرز ’’ڈنڈی‘‘ مار رہے ہیں۔ چند صحافی مہاجر کارڈ کو ’’ایکسپائر‘‘ قرار دیتے ہیں تو بعض اسے ووٹ بینک کا ’’اسٹیٹ بینک ‘‘ سمجھتے ہیں۔ فاروق ستاراور آصف زرداری میں ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں کی جھولی میں پارٹیاں پکے ہوئے آم کی طرح گری ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ نہ آصف زرداری سے پیپلز پارٹی سنبھلی اور نہ ہی فاروق ستار سے ایم کیو ایم سنبھل رہی ہے۔ فاروق ستار اس وقت پارلیمانی سیاست کے بھی لیڈر ہیں لیکن کراچی کے مسائل سے زیادہ وہ اپنی پارٹی کے مسائل میں گھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انہیں ایک بھرپور موقع ملا تھا، وہ چاہتے تو کراچی کے مسائل کو ’’فوکس‘‘ کرتے۔ کم از کم گلیاں محلے اور سڑکیں صاف کرواتے۔ کچرا اٹھواتے، سیوریج کے مسائل کو حل کرتے۔ اس وقت کراچی کی اہم ترین ڈی ایم سیز ایم کیو ایم کے پاس ہیں۔ چھ میں سے چار ڈی ایم سیز میں بھی اگر کام کیا جاتا تو نظریاتی ووٹ کے ساتھ کوئی بھی زبان بولنے والا مسائل کا شکار ووٹر بھی ایم کیو ایم کی جانب کھنچا چلا آتا۔ لیکن معلوم نہیں کیوں ایسا نہیں ہوا۔ فاروق ستار نے اپنی سیاسی بصیرت سے کیوں زیادہ فائدہ نہیں اٹھایا۔ یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ حالات نے انہیں زیادہ کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ یہاں تک کہ وزیراعظم کو جس ترقیاتی پیکیج کے بدلے میں ووٹ دئیے گئے تھے، اس پیکیج کا بھی آج تک پتا نہیں چل سکا۔ میئر کراچی اب تک کچھ ’’ڈیلیور‘‘ نہیں کر پائے۔ ایم کیو ایم کے مقابلے میں پی ایس پی کے پاس ایک موقع ضرور ہے کہ وہ اب تک حکومت میں نہیں آئی۔ یہاں صورتحال بالکل تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن والی ہے۔ وفاق میں تحریک انصاف اورسندھ میں پاک سر زمین پارٹی اپنا پہلا ’’چانس‘‘ مانگ رہی ہیں۔ کس کو کہاں کامیابی ملتی ہے اس کا فیصلہ تو انتخابات میں ہوگا لیکن یہ نوشتہ دیوار ہے کہ کراچی کا ووٹ تقسیم ہو گا۔ جس کا فائدہ پیپلز پارٹی یقینا اٹھانے کی کوشش کرے گی۔ جن قوتوں نے ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کو قریب لانے کی کوشش کی تھی انہیں ابھی تک تو بڑی مایوسی ہوئی ہے لیکن سیاست میں کچھ حرفِ آخر نہیں ہوتا اور ابھی تو الیکشن میں بہت وقت پڑا ہے۔
کراچی میں ایم کیو ایم اور پی ایس پی نے جو دو جلسے کئے ہیں اگر دونوں مل کر ایک جلسہ کر لیں تو ماضی کی کچھ یادیں شاید تازہ ہو جائیں۔ دونوں جلسوں کو ملاکر بھی تعداد اتنی تو نہیں بنے گی لیکن شمار میں ضرور آ جائیں گے۔
ماضی میں کسی مسئلے کے لئے اگر ایک کالم کی خبر شائع ہوتی تھی تو اگلے روز متعلقہ محکمے کے ہینڈ آئوٹ میں اس خبر کا حوالہ دے کر نوٹس لیا جاتا تھا۔ اور فوری کارروائی بھی ہو جاتی تھی لیکن آج کے جدید دور میں جہاں مسائل کی طرح میڈیا کی بھی بھرمار ہے، مسائل کے لئے کالم لکھنا پڑتے ہیں۔ اور مسائل بھی اتنے ہیں کہ پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ راقم نے انہی سطور میں کراچی کے ترقیاتی کام فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا، پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال نے لیاقت آباد کے جلسہ عام میں آرمی چیف سے اپیل کرکے کراچی کی آواز ٹھیک جگہ پہنچائی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سندھ حکومت نے ڈیڑھ سال سے ادھڑی ہوئی کالا بورڈ کی سڑک کی فوری تعمیر شروع کر دی ہے جبکہ فوجی دفاتر کے قریب کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کا کام بھی تیزی سے شروع کر دیا گیا ہے لیکن اس مسئلے کے حل کے لئے کئے جانے والے اقدامات نے ایک اور مسئلے یعنی ”بدترین ٹریفک جام کوجنم دیا ہے اور شہری اب اس مسئلے سے پریشان اور سخت ذہنی کرب میں مبتلا ہیں۔

(383 بار دیکھا گیا)

تبصرے