شرائط و ضوابط

(ویب سائٹ ملاحظہ کرنے والوں کے لئے  )”قومی اخبار ڈاٹ کام “پر خوش آمدید
دنیا بھر کی معلومات ،خبروں اور اطلاعات سے آگہی حاصل کرنے والوں کوپل پل باخبر رکھنے کے لئے یہ منفرد ویب سائٹ آپ کی خدمت میں پیش ہے ۔ہر شعبہ ، ہر صنف کے کچھ قاعدے، قانون ہوتے ہیں، اس ویب سائٹ کا مطالعہ کرنے والوں کو بھی کچھ قاعدوں ،قوانین اور ضابطہ اخلاق کو مدنظر رکھنا ہوگا ۔ ا±ردو زبان کے فروغ اور ترویج کے ساتھ ساتھ معلومات،اطلاعات ،حالات حاضرہ،ادبی ،دینی اور مذہبی عنوانات پر قارئین کے لیے تیار کردہ اور دنیا بھر میں دیکھی جانے والی اس ویب سائٹ میں شامل کسی بھی زبان کے مواد کی ذمے داری ادارے پر عائد نہیں ہوتی۔ویب سائٹ پر شائع ہونے والے تبصرے،کالم،انٹرویوز اور مضامین وغیرہ ہمارے محترم لکھاریوں کی اپنی تخلیقات ہوتی ہیں تاہم اِدارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

1 ۔آپ کے ساتھ ہمارا معاہدہ :
اس ویب سائٹ کا وزٹ کرنے کی صورت میں آپ ہمارے معاہدے میں شامل ہوجاتے ہیں ، اس کی روسے آپ کچھ قاعدوں اور قوانین کے دائرے میں رہنے کے پابند ہوجاتے ہیں جن کی خلاف ورزی کی صورت میں آپ اس سائٹ کا مطالعہ کرنے کے اہل نہیں رہتے۔

2۔رازداری پالیسی :
ازراہ کرم ، ہماری رازداری پالیسی کا بھی ضرور مطالعہ کریں ،آپ کو ہماری سائٹ کا مطالعہ کرنے میں آسانی ہوگی اور ہماری ویب سائٹ سے ذیادہ بہتر استفادہ کرسکیں گے۔

3۔منسلک سوشل ویب لنکس :
اس سائٹ پر مطالعہ کے دوران آپ کو ایسے متعلقہ سوشل ویب لنکس بھی منسلک ملیں گے جو کسی فریق ثالث کی مانند دوسری ویب سائٹس تک لے جائیں گے۔ ان سوشل لنکس کے ظاہر کرنے کا مقصد سائٹ پر آنے والے افراد کو ذیادہ وسیع کینوس پر انتہائی جامع معلومات تک رسائی فراہم کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتالیکن یہ تو ظاہر ہے کہ دیگر دوسری سوشل ویب سائٹس ”قومی اخبا رڈاٹ کام“ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتیں چناں چہ نہ تو ”قومی اخبار ڈاٹ کام “ان دیگر متعلقہ ویب سائٹس پر جاری ہونے والے اشاعتی مواد کی ذمہ دار ہے اور نہ ہی اس پر شائع ایسے کسی بھی مواد بشمول خبر یا اطلاع سے کوئی تعلق ہے۔ایسی منسلک ویب سائٹ پر مطالعہ کرتے ہوئے خبر کی درستگی کا اندازہ اور تعین آپ کو خود لگانا ہوگا۔

4۔خبروں کے مواد میں تصحیح اور تبدیلی :
”قومی اخبار ڈاٹ کام “کی یہ پالیسی نہیں کی جو خبریں شائع ہوچکی ہیںان کے حوالے سے معاملات میں آنے والے تغیر کے تناظر میں ان خبروں کو اپ ڈیٹ کیا جائے جو خبر جس تاریخ کو شائع ہوگی وہ ویب سائٹ پراسی دن تک کی تازہ ترین صورتحال کو بیان کرے گی ،جب کی اس ضمن میں آنے والے تبدیلی اور اپ ڈیٹس کو آئندہ آنے والی تاریخ میں نئی خبر جاری کرکے شائع کیا جائے گا۔یہ ہماری پالیسی نہیں کہ اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ہر خبر کی لمحہ بہ لمحہ ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں نوک پلک درست کی جاتی رہے ۔

5۔کسی بھی قسم کی تصدیق اور ضمانت دینے سے گریز اور اظہار لاتعلقی
(الف ) اس سائٹ پر شائع ہونے والے مواد میں کوئی بھی انسانی غلطی یا خامی ہوسکتی ہے،نادانستگی میں لفظ ٹائپ کرنے کی کوئی غلطی ہو سکتی ہے ۔اس بنا پر” قومی اخبار ڈاٹ کا م“ شائع ہونے والے کسی بھی قسم کے مواد کی سو فیصد درستگی کا دعویٰ نہیں کرتا،نہ ہی مواد کی ذمہ داری ادارے پر عائد ہوتی ہے، نہ ہی اپنی سائٹ پر آنے والوں کو اس پر جاری مواد کے مصدقہ اطلاع کے طور پر پھیلانے یا دوسروں کو بلا تصدیق پہنچانے کا مشورہ یا رائے دیتا ہے۔چناں چہ آپ کو یہ جاننا اور اس امر پر متفق ہونا چاہیئے کہ (i) اس سائٹ کا وزٹ،اس پر جاری معلومات پر انحصار ،اس سے متعلق رائے، مشورہ،بیان ،تحریر یا کوئی اطلاع صرف اور صرف سائٹ کا وزٹ کرنے والے کی ذاتی رائے، مشورہ،بیان ،تحریر ، کوئی اطلاع یا خبر ہوگی اور اس سے ”قومی اخبار ڈاٹ کام“ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ (ii) اس سائٹ پر جاری ہونے والی خبریں ،رپورٹس ،اطلاعات ©”جیسا ہے ، جہاں ہے “ کی بنیاد پر شائع کی جاتی ہیں ۔ (iii)تاہم اس پر شائع ہر قسم کی واضح یا تاثر پر مبنی ضمانتوں ، وارنٹیز بشمول کسی مقصد، کاروبار، دیگر متعلقہ امور و عوامل کے فروغ کے لئے دی گئیں ضمانتوں یا وارنٹیز سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہوگا(iv) ادارہ ،”قومی اخبار ڈاٹ کام “پر شائع ہونے والے خدمات یا اصناف کی تشہیر کے لئے اس سائٹ پر شائع ہونے والے کسی بھی قسم کے اشتہار کے نتائج کی مثبت یا منفی یقین دہانی کرانے کا پابند نہیں ہے(v) ”قومی اخبار ڈاٹ کام“ ویب سائٹ سے کسی بھی قسم کے مواد کی ڈاﺅن لوڈنگ کے دوران آپ کے کمپیوٹر سسٹم کو پہنچنے والے نقصان کو ادارہ ذمہ دار نہ ہوگا۔

6۔ ملکیتی حقوق
”قومی اخبار ڈاٹ کام “پر شائع مواد محض شخصی ، ذاتی استعمال کی نیت سے جاری کیا جاتاہے اس کاکوئی کمرشل مقصد نہیں ہے اس پر شائع مواد کسی فریق ثالث کے ملکیتی حقوق یا کسی لائسنس کی پامالی کا ارتکاب نہیں کرتا جبکہ اس پر شائع مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ۔اس سائٹ کا مطالعہ کرنے والے اس میں ترمیم ،ہذف اور اس کے ٹریڈ مارک،سروس مارک اور دیگر تمام اقسام کے ملکیتی حقوق کو مجروح کرنے کے مجاز نہیں ،سائٹ کا مطالعہ کرنے والے افراد سے درخواست ہے کہ ادارے کے معاونین،الحاق رکھنے والوں ،ادارے کے توثیق یافتہ اور ویب سائٹ سروس سے متعلقہ ہر ایک سے فاصلہ رکھیں اور ادارے کے ٹریڈ مارک اور علامات کو استعمال کرنے سے احتراز کریں ،ادارے یا اس کے ٹریڈ مارک کے کسی صورت پہنچنے والے نقصان ،بے توقیری یا ناقدری کو برداشت نہیں کیا جائیگا،نہ ہی اس کے مواد کو استعمال ،ترجمہ،ترمیم،توسیع،تحریف،معکوس کرنے کی اجازت ہے نہ ہی ایسا عمل کرنے کے لئے کسی سافٹ ویئر یا کمپیوٹر پروگرام کے استعمال کی اجازت ہے ۔ اسی طرح ویب سائٹ کے مواد کی فریمنگ ، مررنگ،اسکریپنگ یا ڈیٹا مائننگ کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیںہے۔
7 ۔ہرجانہ :
اس ویب سائٹ کے مواد کواستعمال کرنے کا مطلب ہے کہ آپ اس امر پر متفق ہیں کہ اس صفحہ پر شائع کسی بھی قسم کے مواد یا اس مواد کے حصہ کو استعمال کرنے پر آپ اس کا ہرجانہ ، تمام قسم کے دعوے اور متعلقہ اخراجات ادا کرنے کے پابند ہیں جس میں (بغیر کسی حد کے )وکیل کی فیس، جس میں آپ کا اس ویب سائٹ کا استعمال ،کسی بھی آئی ڈی کو استعمال کرتے ہوئے اس سائٹ کے ذریعہ اصناف و خدمات کے استعمال یا خیالات یا متعلقہ مواد کا اظہار شامل ہیں ،خواہ آپ کی نظر میں ویب سائٹ کے مواد کا یہ استعمال جائز ہو۔اِدارہ ویب سائٹ پر شائع شدہ کسی تصنیف کی کسی بھی قسم کی کوئی رائیلٹی ادا کرنے کا پابند نہیں ہے۔
8 ۔کاپی رائٹ اور ٹریڈ مارک کے نوٹسز :
ادارے کی پالیسی ہے کہ تخلیقی موا د کی خلاف ورزیوں پر اس کے خلاف فوری دعویٰ کیا جائے ۔اس ضمن میں متعلقہ قوانین کی دفعات کی رو سے فوری کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔یہ ڈیجیٹل صفحہ ادارہ قومی اخبار میڈیا گروپ کے زیر انتظام ہے ۔ادارہ یہ دعوی نہیں کرتا کہ اس پر شائع تما م مواد کسی کجی یا خامی سے پاک یا غلطیوں سے مبراءہے یا نہ ہی ایسا دعویٰ کرتا ہے کہ اس سائٹ سے دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ۔ صارف اس ویب سائٹ کا جہاں بیٹھ کر مطالعہ کرے ،اس پر وہا ں کے مقامی قوانین کا اطلاق ہوگا۔اگر صارف اس صفحہ کا بذریعہ انٹرنیٹ کسی دور دراز مقام پر بیٹھ کر مطالعہ کررہا ہوگا تو اس پر اسی مقامی جگہ کے قوانین کا اطلاق ہوگا۔اگر بیان کردہ شرائط و ضوابط کی کوئی شق غیر متعلق ہو یا اس کے اطلا ق کا جواز نہ بنتا ہو تو دیگر شرائط اپنی جگہ ضرور لاگو ہوں گی ۔اِدارہ کسی بھی تحریر کے متعلق سرقے اور چوری کی صورت میں ذمے دار نہیں اور ایسی صورت میں مکمل ذمے داری لکھاری کی ہوگی۔اگر”قومی اخبار ڈاٹ کام“ پر شائع شدہ کوئی مواد کسی دوسری ویب سائٹ پر شائع کیا جاتا ہے تو”قومی اخبار ڈاٹ کام“ کا حوالہ دیا جانا لازمی ہوگا۔
-9کونسا مواد قابل اشاعت نہیں:
ادارے کی بنیادی پالیسی آزاد اور صاف ستھری اور مبنی بر حقیقت صحافت ہے‘کسی مذہب،یا نظریہ زندگی کے بارے میں کوئی منفی مضمون،تصویر یا کارٹون شائع نہیں کیا جاتا اور ا±دارے کا سارا عملہ ،ادارتی بورڈ اور تخلیق کار کسی بھی قسم کی سیاسی یا گروہی وابستگی سے بالاتر ہو کر خدمات سرانجام دیتے ہیں‘کسی قسم کی مذہبی ،مسلکی ،سیاسی،ادبی،سماجی اور نسلی منافرت پر مبنی کوئی بھی تحریر یا تصویر اس ویب سائٹ پر شائع نہیں کی جائے گی۔
-10توجہ فرمائیں:
صرف ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ اپنی صوابدید پر ہم ان ضابطہ اخلاق کی شرائط و ضوابط کومکمل یا جزوی تبدیل یا بہتر بناسکتے ہیں ۔چناںچہ بہتر آگہی کے لئے گاہے بگاہے اس سائٹ پر ضابطہ اخلاق کا مطالعہ ضرور کریں ۔ ضابطہ اخلاق میں تبدیلیوں اور بہتری کے بعد آپ کا سائٹ کا بار بار مطالعہ ہماری اس سائٹ کو بہتر بنانے کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔اس سے ہمیں زیادہ بہتر انداز میں آگے بڑھنے کا راستہ بھی ملے گا۔ ویب سائٹ کی خبریں،تبصرے فینچرز اور رپورٹنگ سب غیر جانبدار ہوتی ہے اور ہر قدم پر مناسب احتیاط حتی المقدور تصدیق کے بعد شائع کی جاتی ہے اور اس کے باوجود اگر اشاعت میں کوئی کم بیشی ہو جائے تو ادارہ کسی طرح بھی اسکا ذمے دار نہیں۔ویب سائٹ کا ادارتی بورڈ فیصلہ سازی میں مکمل آزاد ہے اور کسی اندرونی یا بیرونی دباو¿ کے بغیر مکمل پیشہ وارانہ طریقے سے قارئین کے معیار کے مطابق پالیسی پر خوب بھی عمل کرتا ہے اور تمام دیگر متعلقہ شعبوں،اداروں اور افراد سے اس پالیسی پر عمل کرواتا ہے‘ا±دارے کا کسی نسلی ،لسانی،سیاسی،مذہبی جماعت گروہ یا این جی او سے کوئی تعلق نہیں ہے‘اِدارہ ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ہر مواد میں کانٹ چھانٹ اور ترمیم و اضافے کا مکمل اختیار رکھتا ہے‘اِدارہ کسی بھی تحریر یا تصویر کی اشاعت سے انکار کر سکتا ہے اور شائع ہونے کے بعد بغیر کوئی وجہ بتائے سائٹ سے حذف بھی کیا جا سکتا ہے‘اِدارہ کسی بھی قاری کو کسی بھی دوسرے قاری خط لکھنے والے ای میل بھیجنے والے یا کالم نگار کا فون نمبر یا کوئی بھی رابطہ دینے کا پابند نہیں ہے۔ویب سائٹ کے نمائندے کسی سے بھی آزادانہ طور پر کسی بھی قسم کی مالی منتقلی کے بلاواسطہ یا بالواسطہ مجاز نہیں اس لیے ایسی صورت میں کوئی بھی فرد یا اِدارہ خود ذمہ دار ہوگا اور ہم پر کوئی اخلاقی ذمے داری عائد نہیں ہوگی۔

اس صفحہ کا مطالعہ کرنے کا مطلب ہے کہ صارف اس امر پر بھی راضی ہے کہ اس کا ادارہ کے ساتھ نہ کوئی جوائنٹ وینچر ہے نہ ہی اس کے ساتھ کسی بھی قسم کے کسی حقوق پر سمجھوتہ ہو اہے اوروہ اس پر اتفاق رکھتا ہے کہ اس کا ادارے کے ساتھ کوئی جوائنٹ وینچر،پارٹنر شپ،ملازمت کا معاہدہ یا ایجنسی تفویض نہیں ہوئی ہے ۔ادارے کی اس ضمن میں سرگرمیاں قوانین کے دائرے میں ہوں گی اور ادارہ حکومت کے عائد کردہ ضابطوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔