حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ سے برطرفی کیلئے پی ٹی آئی کا عدالت سے رجوع کا فیصلہ

وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے وزرات اعلیٰ کے انتخاب میں اپنی حمایت میں ووٹ دینے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 25 منحرف ارکان اسمبلی کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے ڈی سیٹ قرار دیے جانے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کردیا ہے جبکہ پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) پر مشتمل اپوزیشن اتحاد آنے والے روز میں اس دعوے کے ساتھ رن آف الیکشن کی پیش گوئی کررہے ہیں کہ حمزہ شہباز غیر قانونی طور پر زیادہ عرصے تک عہدے پر براجمان نہیں رہ سکتے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق رن آف الیکشن ہونے کی صورت میں 5 خالی مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ اہم کردار ادا کرے گی، ڈی سیٹ ہونے والے پی ٹی آئی کے 25 ارکان صوبائی اسمبلی میں سے 5 مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئے، قانونی ماہرین کے مطابق الیکشن کمیشن اب ان نشستوں کو پنجاب اسمبلی میں ہر پارٹی کی موجودہ تعداد کے مطابق تقسیم کرے گا، یعنی اگر پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ حصہ ملتا ہے تو وہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

حمزہ شہباز نے بظاہر معزول وزیراعظم عمران خان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ‘آخری گیند تک کھیلنے’ کا فیصلہ کیا ہے، تاہم پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وہ عدالت عظمیٰ اور ای سی پی کے فیصلوں کے مطابق قانونی طریقے سے وزیراعلیٰ پنجاب کو گھر بھیجے گی۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*

*
*