Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعرات 26 نومبر 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

امن عمل میں افغانوں کے فیصلوں کا احترام کرینگے، عمران خان

developer account جمعه 20 نومبر 2020
امن عمل میں افغانوں کے فیصلوں کا احترام کرینگے، عمران خان

تشدد کے خاتمے کیلیے کردار اداکرینگے، افغان صدر سے ملاقات، پائیدار امن کیلیے سفر جاری رہے گا، اشرف غنی
کابل(نیوز ڈیسک)افغانستان میں امن کیلئے پاکستان سرگرم ‘وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر کابل پہنچ گئے ‘دونوں ممالک نے افغانستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے تناظر میں انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور قریبی تعاون بڑھانے کے لئے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ‘ دوحہ مذاکرات کے بعد تشدد میں اضافہ باعث تشویش ہے ‘پاکستان افغانستان میں امن کے قیام اور تشدد کے خاتمہ کے لئے افغانستان کی توقع سے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرے گا، امن اور روابط کے فروغ سے اقتصادی ترقی ہو گی۔معاشی سرگرمیاں پھلنے پھولنے سے سرحد کے دونوں اطراف کے عوام کی زندگیاں تبدیل ہوں گی جبکہ افغان صدر اشرف غنی کا کہناتھا کہ مثبت سیاسی عمل کے ذریعے تشددکا خاتمہ اور باہمی علاقائی تعاون بڑھانا چاہتے ہیں ‘سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تشدد نہیں بلکہ سیاسی بات چیت مسئلہ کا حل ہے۔ عمران خان کے دورے سے آج اعتماد کی بنیاد رکھی گئی ہے اور ہم پائیدارامن کے لئے سفر جاری رکھیں گے’ان خیالات کا اظہار دونوں رہنماؤں نے جمعرات کو کابل کے صدارتی محل میں ملاقات اور بعد ازاںمشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ملاقات میں پاک افغان دو طرفہ تعلقات اور افغان امن عمل پر گفتگو کی گئی۔ اس موقع پرعمران خان نے کہا کہ افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں’پاکستان امن عمل میں افغانوں کے فیصلوں کا احترام کرے گا۔وزیراعظم نے خبردار کیا کہ کچھ لوگ امن کی کوششیں خراب کرسکتے ہیں۔ بعدازاں دونوں ممالک کے مابین وفود اور وزراء خارجہ کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ پاکستان افغانستان کی کس طرح مدد کر سکتا ہے۔ انہوں نے افغان صدر کو یقین دلایا کہ وہ تشددمیں کمی کے لئے بھرپور مدد فراہم کریں گے۔ وزیر اعظم نے افغانستان میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے باہمی تبادلہ خیال کے لئے دونوں حکومتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹیوں کے قیام کی حمایت کی۔ وزیر اعظم نے اس امر پر افسوس کااظہار کیا کہ افغانستان کے شہریوں کو گزشتہ چاردہائیوں سے تشدد کا سامنا ہے’پاکستان کو اس صورتحال پر اس لئے بھی بہت تشویش ہے کہ اس کے قبائلی علاقے اس صورتحال سے متاثر ہوتے ہیں’ اس مخصوص وقت میں میرے دورے کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن اورخطے میں خوشحالی کو یقینی بنانے کے لئے امن اور روابط کا فروغ بہترین ذریعہ ہے۔ دونوں ممالک کی کمیٹیوں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مابین قریبی تعاون سے امن اور استحکام کے لئے موثر حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔

(18 بار دیکھا گیا)

تبصرے