Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 27  ستمبر 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

70 گوٹھ سیلاب میں بہہ گئے

ویب ڈیسک جمعرات 27  اگست 2020
70 گوٹھ سیلاب میں بہہ گئے

کراچی (کرائم رپورٹر Oراؤ عمران اشفاق) شہرمیں چوبیس گھنٹون کے دوران 150ملی میر بارش سے ملیر گڈاپ، اور بن قاسم کے 70سے زائد گوٹھ سیلاب میں بہہ گئے سیلابی ریلے کے باعث ہزاروں افراد نے را ت چھتوں پر گزاری ملیر ندی کے دس سے زائد پل ریلے میں بہہ گئے سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے تین افراد کی نعشیں نکال لی گئیں جبکہ بچے سمیت دو افراد جاں بحق ہوگئے پاک فوج کی ریلیف ٹیموں نے 44کشتیوں کے زریعے سیلاب مین پھنسے سینکڑوں افراد کو ریسکیو کیا گھروں کی چھتوں پر موجود دو سو خاندانوں کو ہیلی کاپٹر کی مدد سے ریسکیو کیا گیا متاثرین نے پاک فوج کے نعرے لگائے رینجرز نے سرجانی میں سات ہزار سے زائد افراد کع کھانا اور منرل واٹر کی بوتلیں تقسیم کیں کھارادر کپڑا مارکیٹ سمیت اولڈ ایرای کی 40 i مارکیٹین دوسرے روز بھی پانی میں ڈوبی رہیں تاجروں کے مطابق پانچ ہزار سے زائد دکانوں اور گودامون میں پانی داخل ہونے سے تاجروں کو ایک ارب سے زائد کا نقصان ہوا نرسری آرام باغ اور منظور کالونی فرنیچر مارکیٹ، بولٹن مارکیٹ،طارق روڈ،حیدری مارکیٹ اور ایم اے جناح روڈ میں بھی سیلابی ریلا داخل ہوا شہر کے پوش علاقے پی ای سی ایچ ایس بلاک6 کراچی ایڈمن سوسائٹی، گلشن اقبال اور ڈیفنس میں شہباز کمرشل، توحید کمرشل اور خیابان راحت میں دوسرے روز بھی سیلابی کیفیت تھی سیلابی ریلا داخل ہونے سے 5000سے زائد بنگلو ں اور گھروں میں الیکٹرونکس کاسامان فرنیچر تباہ ہوگیا محکمہ موسمیات کے مطابق بارش روکنے کا کوئی امکان نہیں بارش کا سلسلہ جمعرات تک جاری رہ سکتا ہے آج بھی ہلکی اور تیز بارش ہوگی شہر کے سنعتی علاقوں میں سیلابی کیفیت ہے، سرجانی ٹاون سے گزشتہ بارشوں کا پانی ابھی نہیں نکالاجاسکاتھا کہ ایک بار بھر یہ علاقے ڈوب گئے، س ±رجانی ٹاو?ن کے متاثرہ علاقوں سے چار روز بعد بھی پانی نہیں نکالا جا سکا ہے جسکے باعث 80 فیصد سے زائد ا?بادی نقل مکانی پر مجبور ہو چکی ہے ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کراچی میں آرمی اور رینجرز کی 70سے زائد ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ کراچی میں حالیہ بارشوں سے بہت زیادہ علاقے متاثر ہوئے ہیں، عوام کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے مختلف علاقوں میں 44 کشتیا ں امدای کاموں میں مصروف رہین آئی ایس پی ا آر کے مطابق لٹھ اور تھدھو ڈیم اوورفلو ہونے سے ناردرن بائی پاس اور ملیر ندی میں سیلابی صورتحال ہے۔ کے الیکٹرک کا گرڈ بچانے کیلیے ا آرمی کی ٹیمیں مہران نالے پر سرگرم عمل ہیں، ا?رمی انجینئرز نے 200 میٹر طویل اور 4 فٹ اونچا بند باندھ دیا ہے، بند باندھنے کا مقصد ایم نائن کو بچانا اور پانی کا بہا? کنٹرول کرنا ہے۔ا?ئی ایس پی ا?ر کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ا?رمی کی ٹیمیں سول انتظامیہ کے ساتھ مصروف عمل ہیں سیلاب میں پھنسے افراد کو کھانا بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ گھروں کی چھتوں پر موجود دو سو خاندانوں کو ہیلی کاپٹر کی مدد سے ریسکیو کیاجائے گا آرمی کی ٹیمیں قائد ا?باد کے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں ا?ئی ایس پی ا?ر کے مطابق بارش کے پانی سے متاثرہ لوگوں کو کھانے پینے کی اشیا فراہم کی گئیں، بارش سے شدید متاثرہ علاقوں میں گلشن حدید، ڈی ایچ اے، گزری، کیماڑی، ناظم ا?باد، صدر، لانڈھی، ایئرپورٹ، یونیورسٹی روڈ، پی اے ایف فیصل، پی اے ایف مسرور اور گلشن حدید شامل ہیں۔کورنگی اور شاہ فیصل کالونی سیلابی ریلوں میں بہہ کر جاں بحق ہونے والے تین افراد کی نعشیں نکالی گئیں‘ جبکہ سائٹ ایریا اور رزاق آباد میں نالے میں ڈوب کر اور چھت گرنے سے بچہ سمیت 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔ گزشتہ رات ملیر ندی کے قریب سموں گوٹھ فٹبال گرا?نڈ سے گزرنے والے سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہونے والے 22 سالہ شخص کی نعش ریسیکو ادارے کے رضاکاروں نے نکال لی اور قانونی کارروائی کیلئے متوفی کی نعش ملیر میں واقع الطبری اسپتال منتقل کردی۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہونے والیل متوفی کی شناخت 22 سالہ ناصر کے نام سے ہوئی جس کی نعش ندی دوسری جانب جھاڑیوں میں پھنسی ہوئی ملی‘ دوسری جانب کورنگی کراسنگ ندی سے گزشتہ رات سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہونے ولے 25 سالہ عبید ولد آفاق احمد کی نعش ریسکیو ادارے کے بحری رضاکاروں نے نکال لی اورمتوفی کی نعش کو قانونی کارروائی کیلئے جناح اسپتال منتقل کردیا۔ اطلاع کے مطابق متوفی اسی علاقے کارہائشی تھا۔ جبکہ شاہ فیصل کالونی نمبر 2 میں گزشتہ رات 8 بجے ڈوب کر جاں بحق ہونے والے 35 سالہ نعمان عالم ولد خورشید عالم کی نعش بحری رضاکاروں نے نکال کر قانونی کارروائی کیلئے جناح اسپتال منتقل کیا۔ جہاں پولیس نے کارروائی کے بعد متوفی کی نعش ورثاء کے حوالے کردی۔ ادھر سائٹ ایریاکے علاقے پٹھان کالونی میں پانی کے جوہڑ میں ڈوب کر ایک بچہ جاں بحق ہوگیا۔ متوفی کی نعش قانونی کارروائی کیلئے عباسی اسپتال منتقل کیا۔ پولیس کے مطابق اسپتال میں متوفی کی شناخت 11 سالہ ستار ولد وڈیرو خان کے نام سے ہوئی۔ تاہم پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد متوفی ککی نعش ورثاء کے حوالے کردی دوسری جانب رزاق آباد میں بازار میں گھر کی چھت گرنے سے 65 سالہ محمد گبول ولد میار گبول جاں بحق ہوگیا۔ قانونی کارروائی کیلئے متوفی کی نعش جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم پولیس نے کارروائی کے بعد متوفی کی نعش ورثاء کے حوالے کردی ہے۔ نیشنل ہائی وے پر چار چار فٹ پانی تھا، گاڑیاں اور لوگ پھنس کر رہ گئے، اس علاقے میں پانی کی سطح مزید بلند ہورہی تھی، ماروی اور مدینہ گوٹھ کے ہزاروں مکین اپنے گھروں میں محصور ہو گئے انہیں نکل مکانی میں مشکلات تھیں۔ ادھر ملیر ندی کا بند دادا بھائی ٹا?ن کے قریب ٹوٹ گیا، رات گئے پانی تیزی سے دادا بھائی ٹا?ن اور بلوچ کالونی میں داخل ہو نا شروع ہو گیا، ان ا?بادیوں کے سیکڑوں گھروں میں پانی داخل ہونے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے علاقے میں افراتفری پھیل گئی ہے تاہم بدھ کے روز علاقے سے پانی کی نکاسی ہوگئی طوفانی بارش سے ملیر میمن گوٹھ میں واقع دو ڈیموں ڈملوٹی نمبر 3 اور ڈملاٹی نمبر 6بھرنے کیبعد منگل کو ان کا پانی امام بخش اور نور محمد جوکھیو گو ٹھ میں داخل ہو گیا، مکین اپنے مکانوں سے باہر نکل آئے دو تھانو میں ملیر ڈیم، مراد میمن گوٹھ میں ملیر مصنوعی جھیل،موئیدان کے علاقے میں کٹ جنگ ڈیم سمیت گڈاپ اور ملیر کے دیگر علاقوں میں واقع چھوڑو ڈیم، جالندرو،کر کٹی اور لیاری ندی کے ا?غاز پر واقع دونوں ڈیم بھی اوور فلو کر گئے ہی تھے قائدآباد کے اطراف میں، کورنگی کازوے میں پانی کے ریلے میں کئی گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بہہ گئیں جبکہ کئی افراد کو پولیس اور امددی اداروں نے پانی سے نکالنے میں مدد کی، پانی میں پھنسے 4 افراد کو ریلے سے بحفاظت نکالا گیاایئر پورٹ سے قائد ا?باد تک ٹریفک کی روانی بھی متاثر رہی،کوہی گوٹھ سے 22، درسانو چھنو سے 30 اور حسن پنہور گوٹھ سے 56 لوگوں کاا نخلاء کیا گیا گزشتہ روز سے بند کاٹھور ندی کی سڑک کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے ادھر سرجانی ٹاو?ن کے مختلف علاقوں سے تاحال پانی کی نکاسی نہیں ہو سکی سرجانی سیکٹر 4 بی، بسم اللّٰہ ٹاو?ن، یوسف گوٹھ میں بارش کا پانی جمع ہے، جبکہ گزشتہ 6 روز سے بجلی اور گیس کی فراہمی معطل ہے، علاقے میں ریلیف کے لیے پاک ا?رمی کا ریسکیو و ریلیف ا?پریشن جاری ہے ڈیفنس خیابانِ راحت کی سڑکیں بارش کے پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں، سندھ ہائی کورٹ کے احاطے میں 2 درخت گر گئیجبکہ احاطے میں بارش کا پانی بھی جمع ہے ملیر کنٹونمنٹ بورڈ، جناح ایونیو سے صفورا جانے والے سڑک زیرِ ا?ب ہے، ملیر کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے پانی کی نکاسی اب تک نہیں کی گئی آئی اآئی چندریگر روڈ پر بھی کئی مقامات پر پانی جمع ہے جبکہ شہر کی کئی اہم شاہراہوں سے پانی کی نکاسی کر دی گئی ہے۔ پی ای سی ایچ سوسائٹی بلاک 6 میں واقع ای مارکیٹ کو شارع فیصل سے ملانے والا ریلوے انڈر پاس بارش کے پانی کی وجہ سے بند ہے شارع فیصل پر عائشہ باوانی کالج کے قریب بزرٹا لائن کی مرکزی سڑک پر پانی جمع ہے: ای بی ایم کازوے پر سیلابی ریلہضیاء الدین روڈ پر تاحال بارش کا پانی جمع ہے جس کی اب تک نکاسی کا عمل نہیں ہو پایا دوسری جانب گلستان جوہر منور چورنگی کے قریب لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، پہاڑی تودہ گرنے سے متعدد گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں دب گئیں تھیں اس علاقے میں امدادی سر گرمیاں شروع کرکے پہاڑی کے نیچے دبی گاڑیاں نکالنے کا کام شروع کردیا گیا تھا این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ کراچی کے نالے اور ان کے چوک پوائنٹ کلیئر کر دیئے ہیں۔ گجر نالے سمیت بڑے نالوں میں ایف ڈبلیو او کی 9 ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔: وز?ر اعل?ٰ سندھ کے معاون خصوصی و انچارج رین ایمرجنسی ضلع ملیر وقار مہدی نے کہا ہے کہ سکھن اور ملیر ندیوں میں طغیانی سے متاثرہ سینکڑوں خاندانوں کو آرمی، نیوی اور سول انتظامیہ کی مدد سے محفوظ مقامات اور ریلیف کیمپوں میں منتقل کر دیا ہے، سندھ حکومت اس مشکل گھڑی میں متاثرین کو اکیلا نہیں چھوڑے گی. انہوں نے کہا کہ متاثرین کو ضلعی انتظامیہ کھانے پینے کی اشیاء فراہم کر رہی ہے. یہ بات انہوں نے گذشتہ روز ہونے والی طوفانی اور رکارڈ ٹوڑ بارش کے نتیجے میں ضلع ملیر میں سیلابی صورتحال اور سیلابی پانی میں گھرے ہوئے گھوٹھوں اور علاقوں کے دورے کے موقع پر کیا.. انہوں نے کھوی گوٹھ، ماروی گوٹھ، یار محمد گوٹھ، شف?ع گوٹھ، حسن پن?ور گوٹھ، قائد آباد، ملیر برج، شاہراہ فیصل، نیشنل ہائی وے اور دیگر علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا. انہوں نے کہا کہ آگست کے مہینے میں کراچی میں 345 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے. جس سے 90 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے.

(122 بار دیکھا گیا)

تبصرے