Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 22  ستمبر 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کراچی میں بارش سے تباہی، 70 آبادیوں میں سیلابی ریلا داخل

ویب ڈیسک جمعه 07  اگست 2020
کراچی میں بارش سے تباہی، 70 آبادیوں میں سیلابی ریلا داخل

کراچی(کرائم رپورٹر راؤ عمران اشفاق) مون سون کے چوتھے اسپیل نے ابتدائی مرحلے میں شہر میں تباہی مچادی بارش شروع ہوتے ہی شہر بھر میں بجلی کی سپلائی معطل شہر میں ہونیوالی0 6 ملی میٹر بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آنے سے پی ای سی ایچ سوسائتی کراچی ایدمن سوسائٹی سمیت70 آبادیوں میں سیلابی ریلا داخل ہوگیا کراچی کی20 مارکیٹیں اور بازاروں میں بھی بارش کا پانی داخل ہوگیا کورنگی صنعتی ایریا سائٹ اور نارتھ کراچی کے صنعتی علاقوں میں بھی سیلابی کیفیت تھی جوہر موڑ پر کرنٹ لگنے سے نوجوان ہلاک ہوگیا محکمہ موسمیات نے جمعرات سے ہفتہ کے دوران سندھ اور مشرقی بلوچستان میں موسلادھار بارش کی پیشگوئی کی ہے جس سے اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے کراچی سمیت سندھ بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی شارع فیصل سمیت اہم شاہراہیں تالاب کا منظر پیش کرر ہی تھیں تین دن مسلسل بارش کی پیشگوئی سے شہریوں میں خو ف وہراس متعدد علاقوں سے نقل مکانی شروع ہوگئی مختلف علاقوں میں شہریوں نے ازنیں بھی دیں تفصلات کے مطا بق شہر میں دو دن سے شدید گرمی اور حبس کے بعد جمعرات کی سہ پہر مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جو آئندہ 3 روز تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقے بھارتی ریاست گجرات سے آنے والے مون سون بارشوں کے سسٹم کے زیر اثر ہیں۔ صبح ہی سے ساحلی علاقوں میں سمندری ہوائیں بند تھیں اور ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہونے کی وجہ سے گرمی کی شدت درجہ حرارت سے کئی ڈگری زائد محسوس کی جارہی تھی شدید گرمی اور حبس کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد کئی علاقے بجلی کی فراہمی سے محروم ہوگئے ہیں محکمہ موسمیات کے مطابق بھارتی ریاست گجرات میں بارشوں کا سبب بننے والا مون سون ہواؤں کا کم دباؤ آج شام کو سندھ میں داخل ہو گیا سندھ میں کراچی اور حیدر آباد سمیت، ٹھٹہ، تھرپارکر، عمرکوٹ، جامشورو، ٹنڈوالہ یار، ٹنڈومحمد خان، بدین اور سانگھڑ میں بارش ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کراچی سے ملحقہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں بھی بارشیں ہوں گی۔ مون سون بارشوں کے نئے سسٹم کے باعث کراچی اور حیدر آباد میں موجودہ مون سون سلسلے کی وجہ سے 100 سے 120 ملی میٹر بارشیں ہونے کا امکان ہے جس کے باعث اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے جمعرات کو مون سون کے چوتھے اسپیل کے تحت کراچی کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ کہیں درمیانی اور کہیں تیز بارشں ہوئی۔ کئی مقامات پر بارش سے قبل معمول سے تیز ہوائیں چلیں سب سے زیادہ بارش فیصل بیس پر 0 6 ملی میٹر(دو انچ سے زائد)ریکارڈ ہوئی،40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں،بارش کا سلسلہ ہفتے کی شام تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے بارشوں کی قبل ازوقٹ پیشگوئی سے ہنگامی بنیادوں پر نالوں کی صفائی شروع کی گئی لیکن محمودآباد گارڈن کورنگی ناظم آباد کے نالوں میں طغیانی آنے پی ای سی ایچ سوسائتی کراچی ایدمن سوسائٹی سمیت70 آبادیوں میں سیلابی ریلا داخل ہوگیا جبکہ کورنگی صنعتی ایریا سائٹ اور نارتھ کراچی کے صنعتی علاقوں میں بھی سیلابی کیفیت تھی فیکٹریوں میں بارش کا پانی داخل ہونے سے تاجر برادری کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو بارش کے دوران کرنت لگنے سے ہلاکتوں کے خدشے کے باعث کے الیکٹرک نے شہر بھر کی بجلی بند کردی تھی لیکنجوہر موڑ راحت آرکیڈکے قریب گھر میں کرنٹ لگنے سے20سالہ نامعلوم نوجوان جاں بحق جبکہ کے الیکٹرک زرائع کے مطابق بارش کے ساتھ ہی مختلف علاقوں میں چھ سو سے زائد فیڈر ٹرپ کر گئے تھے فیڈر ٹرپنگ کے بعد بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل شاہ فیصل ٹاؤن،ماڈل کالونی، کاظم آباد،شاہ فیصل کالونی،کھارادار،لیاری،صدر،سولجر بازار،قیوم آباد، سرجانی ٹاؤن، خدا کی بستی، ناگن چورنگی میں صبح سے بجلی کی فراہمی معطل: گلستان جوہر بلاک 2سمیت اطراف کے علاقوں ملیر لیاقت مارکیٹ، قادر چوک، شیشہ گلی میں بجلی کی طویل بندش ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق گھارو کے ونڈ کوریڈور سے کے الیکٹرک کو 120 میگاواٹ کمی کا سامنا ہے احتیاطی طور پر نشیبی علاقوں مین فیڈرز بند کئے ہوئے ہیں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے پاکستان میٹرولوجیکل سینٹر کی جانب سے بارشوں کے حوالے سے کی گئی پیش گوئی کے پیش نظر مختلف اضلاع میں مانیٹرنگ / نگرانی اور امدادی سرگرمیاں انجام دینے کے لئے صوبائی وزرا، مشیران، خصوصی معاونین اور ایم پی ایز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مختلف اضلاع میں ریلیف کے لیے اقدامات کریں، وزیراعلی سندھ نے مون سون بارشوں کے دوران ریلیف کاموں کی نگرانی کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔۔ وزیراعلی سندھ نے میٹ آفس ایڈوائزری کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی وزرا، مشیران، خصوصی معاونین اور ایم پی ایز کو 6 سے 8 اگست تک اپنے اضلاع میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی اور ریلیف کے کام کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلی سندھ نے وزیر بلدیات سید ناصر شاہ کو صوبائی سطح پر انچارج مقرر کیاہے۔ وزرا، مشیران، خصوصی معاونین اور ایم پی ایز جن کو اضلاع میں بارش کی ہنگامی صورتحال کی نگرانی اور امدادی سرگرمیاں انجام دینے کے لئے ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں کراچی کے 6 اضلاع میں صوبائی وزیر سعید غنی، بیرسٹر مرتضٰی وہاب، مکیش چاولہ، شہلا رضا، وقار مہدی اور راشد ربانی ریلیف کاموں کی نگرانی کریں گے۔ حیدرآباد میں صوبائی وزیر شبیر بجارانی، دادو میں ایم پی اے فیاض بْٹ، جامشورو میں ملک اسد سکندر، بدین میں اسماعیل راہو، شہید بے نظیر آباد میں ڈاکٹر عذرا پیچوہو اور ٹھٹہ میں اشفاق میمن ریلیف کاموں کی نگرانی کریں گے۔ قبل ازیں ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں سے کراچی، حیدرآباد اور دیگر بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ ہوسکتی ہے، روڈ کلیئرنس مشینری، ضروری عملہ ہنگامی صورتحال کیلئے تیار رکھیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ بارش کیدوران غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں، بجلی کے کھمبوں اور دیگر برقی تنصیبات سے فاصلہ رکھیں۔ترجمان این ڈی ایم اے نے ہدایت کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ اور مکران کے ساحل پر سمندری لہروں کا زور رہیگا ماہی گیر گہرے پانی میں جانے سے گریز کریں

(277 بار دیکھا گیا)

تبصرے