Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 27  ستمبر 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کے الیکٹرک نے نااہلی تسلیم کرلی

ویب ڈیسک جمعرات 16 جولائی 2020
کے الیکٹرک نے نااہلی تسلیم کرلی

کراچی(رپورٹO صابر علی) کے الیکٹرک نے لوڈ شیڈنگ سے متعلق اپنی ناقص کارکردگی اور نااہلی کو تسلیم کرتے ہوئے اعتراف کر لیاہے کہ کراچی میں لوڈ شیڈنگ زیادہ ہے اور عوام کو پریشانی ہے ‘ کے الیکٹرک کے اس اعتراف پر شہری حلقوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیاہے کہ کے الیکٹرک کے اعتراف جرم کے بعد وزیر اعظم فوری طورپر کے الیکٹرک سے کیا گیا معاہدہ منسوخ کریں اور کے الیکٹرک کی جانب سے بے پناہ لوڈ شیڈنگ کرنے اور گزشتہ 4 ماہ تک عوام کو شدید گرمی میں بجلی فراہم نہ کرنے پر کے الیکٹرک پر جرمانہ عائدکرتے ہوئے شہریوں سے زائد بکنگ کی مد میں وصول کئے گئے ۔ اربوں روپے شہریوں کو واپس دلائے جائیں اور گزشتہ بارشوں سمیت اس سال بھی بارش میں کرنٹ لگنے سے اب تک جو شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ ان کے پسماندگان کو معاوضہ دیا جائے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ کے الیکٹرک کے اس اعترا فی بیان ناکامی پر کے الیکٹرک کو فوری طورپر سرکاری تحویل میں لے کر عوام کو ریلیف دلایا جائے۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کے الیکٹرک کے ذمہ داران کو اسلام آباد طلب کرنے ان کے اعزاز میں عشائیہ دینے پر پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری اوروزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقاری مہدی نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا کے الیکٹرک کے ذمہ داران کو عشائیہ پر بلانا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ۔ وقار مہدی نے کہا کہ کے الیکٹرک اور واپڈا اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آرہے ہیں۔ وفاقی حکومت کے الیکٹرک کے سامنے بے بس ہے اور مجبور نظر آرہی ہے ۔ پیپلزپارٹی کے وزراء کو کے الیکٹرک کے گیٹ پر روک دیا جاتا ہے اور کہا جاتاہے کہ ملاقات کا ٹائم لے کر آئیں ۔ وقار مہدی نے لوڈ شیڈنگ پر پی ٹی آئی اور ایم کیوایم کے احتجاج کو ٹوپی ڈرامہ قرار دیا ۔ قبل ازیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی ای اوکے الیکٹرک مونس عبداللہ نے اعتراف کیا ہے کہ شہر کے مستثنیٰ و غیرمستثنیٰ علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کررہے ہیں۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی ای اوکے الیکٹرک مونس عبداللہ نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں بجلی کی طلب 3500 میگا واٹ تک پہنچ چکی‘ جبکہ کے ا لیکٹرک 3200 میگا واٹ بجلی فراہم کرسکتا ہے ۔جس کے باعث کراچی میں لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ کچھ علاقوں میں زیادہ ہورہی ہے اور مستثنیٰ علاقوں میں بھی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔سی ای او کے الیکٹرک مونس عبداللہ علوی کا کہنا تھا کہ لوڈشیدنگ والے علاقوں میں بجلی کی مسلسل فراہمی سے بل زیادہ آئے مارچ میں میٹرریڈنگ کے بغیربلوں کو واپس لے لیا گیا تھا، کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن ہونے کے باعث میٹرریڈنگ نہیں کر پائے تھے۔ بجلی کی قیمت ازخود کم یا ذیادہ نہیں کرسکتے، کراچی کا ٹیرف ملک کے باقی شہروں کے مقابلے ڈھائی روپے کم ہے۔مونس عبداللہ علوی نے کہا کہ وفاق نے کے الیکٹرک کو 267 ارب روپے ادا کرنے ہیں، اور سندھ حکومت پر کے الیکٹرک کے 50 ارب روپے سے زائد واجبات ہیں‘ جبکہ کے الیکٹرک نے مختلف اداروں کو 160 ارب روپے ادا کرنے ہیں اور بینکوں سے بھی 85 ارب روپے کا قرضہ لے رکھا ہے۔

(356 بار دیکھا گیا)

تبصرے