Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 04 جولائی 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پی ٹی آئی حکومت کی رخصتی کا بگل بج گیا، 3ماہ میں بہتری نہ آنے پر متبادل لانے پر غور

ویب ڈیسک بدھ 24 جون 2020
پی ٹی آئی حکومت کی رخصتی کا بگل بج گیا، 3ماہ میں بہتری نہ آنے پر متبادل لانے پر غور

کراچی(رپورٹO صابر علی) پی ٹی آئی حکومت کی رخصتی کا بگل بج گیا‘ ہر طرف سے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں۔ اگلے 3 ماہ سے 6 ماہ انتہائی اہم ہیں۔ آئندہ تین ماہ میں بہتر کارکردگی سامنے نہ آئی تومتبادل پر غور شروع ہوجائے گا‘ ملک کی موجودہ خراب معاشی صورتحال میں کوئی حکومت سنبھالنے کو تیار نہیں۔ پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کی بڑی تعداد حکومت اور وزراء کے رویے سے ناراض وفاقی وزیر فواد چوہدری نے حکومتی اہم وزراء کے اختلافات کا بھانڈا پھوڑ دیا وفاقی وزیر فیصل واوڈا بھی بعض وزراء اور مشیران کی کارکردگی پر کابینہ اجلاس میں پھٹ پڑے۔ وزیر اعظم عمران خان نے فیصل واوڈا کو چپ کرایا۔ فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ کابینہ کے اندر سے حکومت کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں۔ لوگ وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں کہ کوئی ڈپٹی وزیر اعظم بناہوا ہے‘ خود وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ کے اجلاس میں ارکان کو یہ کہہ کر حیران وپریشان کردیا ہے کہ آئندہ ساڑھے پانچ چھ ماہ کارکردگی دکھائیں۔ ہمارے پاس آئندہ ساڑھے پانچ چھ ماہ ہیں۔ فواد چوہدری کے ٹی وی پر حکومت کے وزراء کے اختلاف اور دیگر گفتگو پر نوٹس لے لیا گیا۔ دوسری جانب خود پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کے آپس کے اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے‘ پنجاب سے پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی راجہ ریاض‘ شیراز محمود اور حسین مزاری سمیت دیگر نے کھل کر حکومتی رویے پر تنقید شروع کردی ہے‘ جبکہ فواد چوہدری‘ فیصل واوڈا اور دیگر رہنماؤں کے بیانات نے بھی خود حکومتی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا ہے‘ دوسری جانب مرکز میں حکومت کے اہم اتحادی بی این پی مینگل اور جمہوری وطن پارٹی کے بعد سندھ سے اہم اتحادی جی ڈی اے نے بھی وفاقی حکومت سے زبردست تحفظات کا اظہار کردیاہے‘ اس حوالے سے جی ڈی اے اورمسلم لیگ(فنکشنل) کے رکن سندھ اسمبلی شہریار مہر نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور اوور بلنگ دیگر معاملات پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے‘ شہریار مہر نے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی نے معاملات کو سنجیدگی سے نہ لیاتو دوبارہ اتنی زیادہ نشستیں حاصل نہیں کرسکے گی‘ واضح رہے کہ اس وقت سندھ سے ایم کیوایم (پاکستان) حکومت کی واحد اتحادی ہے کہ جو کراچی‘ حیدرآبادکا کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہ ہونے کے باوجود حکومت سے کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار نہیں کررہی ہے اور صرف ایک وزارت ملنے پر پی ٹی آئی حکومت سے خوش ہے ایم کیوایم (پاکستان)نے جو وفاقی حکومت کا حصہ ہونے کے ناطے حکومت سندھ کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے ہے‘ جبکہ وفاقی حکومت کے ادارے کے الیکٹرک پر کراچی کے شہریوں پر ظلم وزیادتیوں سمیت کراچی وحیدرآباد کے شہریوں کو وفاقی حکومت کی طرف سے کسی قسم کا ریلیف نہ ملنے کے باوجود وفاقی حکومت سے کسی قسم کا احتجاج ریکارڈ نہیں کرایا ہے۔

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیرفواد چوہدری نے اپنی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے بارے میں پول پٹیاں کھول دی ہیں کہ پی ٹی آئی میں کس کی کس سے نہیں بنتی اور کس نے کس کی چھٹی کرائی ہے۔ایک انٹرویو میں فواد چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ اسد عمر کی وزارت جانے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا، انہوں نے بتایا کہ پہلے جہانگیر ترین نے اسد عمر کو نکلوایا اور پھر اسد عمر نے جہانگیر ترین کی چھٹی کرا دی۔فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت بنی تو جہانگیر ترین، اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کے اختلافات اتنے بڑھے کہ پولیٹیکل کلاس سارے کھیل سے ہی باہر ہوگئی۔فواد چوہدری نے کہا کہ جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے اختلافات پر ہم نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن بات بنی نہیں، جب اسد عمر وزیرِ خزانہ تھے تو جہانگیر ترین نے بڑا زور لگا کر انہیں فارغ کروایا۔انہوں نے کہا کہ اسد عمر دوبارہ آئے انہوں نے پوری کوشش کر کے جہانگیر ترین کو فارغ کروا دیا، شاہ محمود قریشی کی بھی جہانگیر ترین سے ملاقاتیں ہوئیں مگر ان کی کوئی بات آپس میں نہیں بنی۔ فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے پاس چھ ماہ ہیں اور وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ سے کہا ہے کہ چھ ماہ میں کارکردگی نہ دکھائی تو معاملات دوسری طرف چلے جائیں گے۔امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کو دیئے گئے انٹرویو میں فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اور وزیراعظم عمران خان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کی گئیں۔ یہ توقعات نٹ بولٹ ٹھیک کرنے کیلیے نہیں بلکہ پورے نظام کی اصلاح کے لیے تھیں، اس لیے اس حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے پیمانہ بھی دوسروں سے مختلف ہے۔ ہماری اپنی کوتاہیاں ہیں کہ ڈیلیور نہیں کرسکے۔ حکومت دو چیزوں پر چلتی ہے۔ ایک سیاست پر اور دوسرے گورننس پر۔ ان دونوں میں توازن قائم نہ رہے تو معاملات کسی بھی وقت قابو سے باہر نکل جاتے ہیں۔ عمران خان کو اس بات کا پورا احساس ہے۔ انھوں نے کابینہ اجلاس میں بھی کہا کہ ا?پ کے پاس چھ ماہ ہیں کام کرنے کے لیے۔ اس کے بعد وقت آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور معاملات دوسری طرف چلے جائیں گے۔فواد چوہدری نے کہا کہ پارٹیوں میں گروپنگ چلتی ہیں لڑائیاں ہوتی ہیں لیکن جس شاخ پر آپ بیٹھے ہیں اس کو تو نہیں کاٹتے، مجھے لگتا ہے کہ 3، 4 بڑے لیڈرز کی اندرونی لڑائیوں نے پارٹی کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر نے کہا کہ اس لڑائی میں پولیٹیکل کلاس آؤٹ ہوگئی اور بیورو کریٹس نے جگہ لے لی، وزیرِ اعظم کی اصلاحات سے متعلق سوچ بڑی واضح ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ یہ جو سیاسی خلا پیدا ہوا اس کو نئے لوگوں نے پورا کیا، ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا، خالی آئیڈیا کافی نہیں ہوتا، آپ کو اپنی ایک ٹیم بنانی ہوتی ہے جنہوں نے آئیڈیئے پر عمل کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب عمران خان کی بنیادی ٹیم ہل گئی تو یہ نئے لوگ آئیڈیاز کے ساتھ نہیں تھے اور نہ ہیں، اس جھگڑے نے پارٹی کو بہت نقصان پہنچایا۔وفاقی وزیر کا کہنا ہے عمران خان کو لوگوں نے پورے سسٹم کی اصلاح کیلیے منتخب کیا ہے، معلوم نہیں کس نے وزیرِ اعظم کو مشورہ دیا کہ کمزور اور ڈکٹیشن لینے والے لوگوں کو لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جھگڑے سے خاص طور پرہماری جو پولیٹیکل کلاس تھی، اس کو بہت نقصان پہنچا ہے، ٹیم تو لیڈر نے ہی سلیکٹ کرنی ہوتی ہے۔سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیرفواد چوہدری نے تسلیم کیا کہ ایسا کرنے سے سب سے زیادہ نقصان خود وزیرِ اعظم عمران خان کو پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی سمجھ آتی تھی کہ انہوں نے کمزور لوگوں کو اٹھا کر اہم پوزیشنز پر بٹھایا، بے نظیراور نواز شریف کا پورا ویڑن تھا کہ انہیں یہ لیڈر شپ اپنے بچوں کو منتقل کرنی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ میری اپنی رائے میں اس وقت مسلم ورلڈ میں عمران خان کے لیول کا کوئی لیڈر نہیں،جبکہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کا کوئی ویڑن ہی نہیں ہے۔فواد چوہدری کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان کو بے نظیر اور نواز شریف جیسے مسئلے نہیں تھے، انہیں بہترین لوگ لگانے چاہئیے تھے، جس نے بھی عمران خان کو کمزور لوگوں کو لگانے کا مشورہ دیا اس کا سب سے زیادہ نقصان عمران خان کو ہوا ہے۔

(108 بار دیکھا گیا)

تبصرے