Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 10 جولائی 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

طیارہ حادثے کی تحقیقات کیلئے بنائی کمیٹی صرف ڈرامہ ہے، صوبائی وزرا

ویب ڈیسک بدھ 27 مئی 2020
طیارہ حادثے کی تحقیقات کیلئے بنائی کمیٹی صرف ڈرامہ ہے، صوبائی وزرا

کراچی (نمائندہ قومی اخبار) صوبائی وزراء سعید غنی، سید ناصر حسین شاہ اور امتیاز شیخ نے کہا ہے کہ پی آئی اے طیارہ حادثہ کی تحقیقات کے لئے بنائی کمیٹی صرف ایک ڈرامہ ہے۔ فوری طور پر پی آئی اے کے سربراہ ارشد ملک اور سول ایوی ایشن کے سربراہ کو ہٹایا جائے اور ایک غیر جانبدارانہ تحقیقات کمیشن تشکیل دیا جائے۔ حادثہ میں اب تک جن شہداکی لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے، ان کے ڈی این اے ٹیسٹ مکمل کرلئے گئے ہیں اور انشاء اللہ 10 روز کے اندر اندر تمام لاشیں ان کے ورثاء کے سپرد کردی جائیں گی۔ سندھ میں لاک ڈاؤن کی موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائے گی البتہ اشرافیہ جن میں ظفر مرزا، پنجاب اور کے پی کے کے وزراء اعلیٰ شامل ہیں وہ اب لاک ڈاؤن کو سخت کرنے کی بات کررہے ہیں تو وزیر اعظم ان اشرافیہ کی باتوں پر کیا فیصلہ کرتے ہیں وہ دیکھ رہے ہیں۔ پی آئی اے میں 2008 میں پیپلز پارٹی نے کسی کو بھرتی نہیں کیا بلکہ ان کو ریگولائیزڈ کیا ہے، یہ بھرتیاں موموں مشرف کے دور میں ہوئی تھی۔ ٹڈی دل سے نقصانات کی مکمل ذمہ دار وفاقی حکومت ہے، کیونکہ انہوں نے وعدے کے باوجود اپریل میں ریگستانی علاقوں میں اسپرے نہیں کیا تھا۔ سندھ حکومت نے 28 کروڑ روپے کے فنڈز ٹڈی دل اسپرے کے لئے جاری کردئیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز اپنے کیمپ آفس میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ تمام شہداء کے لواحقین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے نمونے سندھ حکومت کی اپنی لیبارٹری جو کہ انٹرنیشل لیول کی ہے وہاں لے لئے گئے ہیں اور آج رات سے ہی نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور انشاء اللہ آئندہ 10 روز میں تمام شہداء کی لاشیں ان کے ورثاء کے سپرد کردی جائیں گی۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ اس سانحہ میں تین خواتین کو اس علاقے میں گھروں میں کام کرتی ہیں اس حوالے پر سوشل میڈیا پر اس طرح کی خبریں پھیلائی جارہی ہیں کہ ان کی کوئی امداد اور علاج معالجہ نہیں کرایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ کے چند گھنٹوں کے اندر اندر میں خود اور ناصر شاہ سول اسپتال برنس وارڈ میں زبیر نامی اس مسافر کے پاس پہنچیں جو اس طیارے میں زخمی ہوا اس کے بعد ہمیں بتایا گیا کہ تین خواتین بھی یہاں لائی گئی ہیں لیکن ہم نے جان بوجھ کر خواتین ہونے کے باعث ان کی عیادت نہیں کی لیکن اسی وقت ہم نے ایم ایس، وہاں موجود ڈیوٹی ڈاکٹرز اور سیکرٹری صحت کو ہدایات دی تھی کہ ان خواتین کا مکمل علاج معالجہ کیا جائے۔ اس کے بعد خود ناصر حسین شاہ اور مرتضیٰ وہاب ان سے عید کے دوسرے روز ملیں ہیں اور نہ صرف ان کی امداد کی گئی بلکہ ان کے اہلخانہ کو بتایا گیا کہ اگر وہ چاہیں تو ان کا علاج کسی بھی نجی اسپتال میں جہاں چاہیں ہم کروانے کو تیار ہیں۔ اس کے بعد اب سے کچھ دیر قبل میری خود ان خواتین کے اہلخانہ سے بات ہوئی ہیں انہوں نے برنس وارڈ میں علاج پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحہ کے بعد سے پی آئی اے کے سربراہ ارشد ملک کبھی جہاز سے پرندے ٹکرانے کی بات کرتے ہیں تو کبھی اس ماہر اور سنئیر پائلیٹ کو اس کا قصور وار ٹھرا رہے ہیں اور اگر انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے تو پھر تحقیقاتی کمیٹی کا کیا کام باقی رہ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ تحقیقاتی کمیٹی ارشد ملک کے زیر انتظام کام کرنے والوں کی ہے اور اس وقت پی آئی اے میں ارشد ملک آمریت کی مثال بنے ہوئے ہیں اور ان کی آمرانہ فیصلوں نے یہاں کام کرنے والوں کو شدید خوف میں مبتلا کردیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر نئی تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے، جس میں پالیا، انٹرنیشنل پائلیٹ کے نمائندوں، انٹرنیشنل سول ایوی ایشن اور ائیر بس کے ممبران کو شامل کیا جائے اور فوری طور پر پی آئی اے کے سربراہ ارشد ملک اور سول ایوی ایشن کے سربراہ کو معطل کیا جائے تاکہ وہ اس تحقیقاتی کمیٹی پر اثر انداز نہ ہوں۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم مکمل طور پر اس سانحہ کے ذمہ دار ارشد ملک اور سول ایوی ایشن کے سربراہ کو قرار دیتے ہیں۔ اس لئے اس سانحہ کی صاف اور شفاف اور اوپن انکوائیری ہونے چاہیے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بے شک تحقیقاتی کمیٹی اس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کنٹونمینٹ اور ایوی ایشن کو بھی شامل تفتیش کرے ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ارشد ملک اس پورے سانحہ کا ملبہ اس پائلیٹ کے سر ڈالنے کی سازش کررہے ہیں، جو ایک سنئیر پائلیٹ تھا اور حادثہ سے کچھ لمحات قبل بھی اس کی آواز میں کسی قسم کی گھبراہٹ شامل نہیں تھی۔ ایک سوال کے جواب میں سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ لاک ڈاؤن کا سوال ہے وہ رہے گا لیکن کسی قسم کا کوئی کرفیو نہیں لگایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے خود کہا تھا کہ اشرافیہ نے لاک ڈاؤن لگایا ہے اور آج انہی اشرافیہ کے لوگ جس میں ظفر مرزا، وزیر اعلیٰ پنجاب اور خیبر پختونخواہ ایک بار پھر سخت لاک ڈاؤن کی بات کررہے ہیں، اب وزیراعظم خود دیکھ لیں کہ کون سے اشرافیہ لاک ڈاؤن کا کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں کرونا وائرس کی وبا میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، اس لئے ہماری عوام سے اپیل ہے کہ وہ انتہاہی احتیاط کریں اور بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلیں۔ انہوں نے کہا کہ رمضان اور عید کے باعث لاک ڈاؤن میں نرمی کا عوام نے ناجائز فائدہ اٹھایا اور اس وقت صورتحال تشویش ناک ہورہی ہے اور اگر اب بھی احتیاط نہ کی گئی تو صحت کے حوالے سے شدید مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

(1504 بار دیکھا گیا)

تبصرے