Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعرات 04 جون 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مسافر طیارہ آبادی پر گرکر تباہ،82 جاں بحق

ویب ڈیسک هفته 23 مئی 2020
مسافر طیارہ آبادی پر گرکر تباہ،82 جاں بحق

کراچی (کرائم رپورٹر راؤ عمران)پی آئی اے کا لاہور سے کراچی آنیوالا مسافر طیارہ لینڈنگ سے30 سیکنڈ قبل جناح ٹرمینل سے متصل رہائشی کالونی ماڈل کالونی جناح گارڈن میں گر کر تباہ ہوگیا۔ طیارہ گرنے سے کئی مکانات اور گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں جس کے بعد علاقے میں بھگدڑ مچ گئی ہے۔حادثے کا شکار پرواز عید کی مناسبت سے خصوصی طور پر چلائی گئی تھی،و زیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے تفصیلات کے مطابق لاہور سے کراچی آنے والی قومی فضائی ادارے (پی آئی اے) کی پرواز کراچی میں لینڈنگ سے 30 سیکنڈ قبل حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں 100 افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ہے۔پی آئی اے کے ترجمان عبد الستار نے واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ پی آئی اے کی پرواز 8303 لاہور سے 90 مسافروں اور 8 عملے کے لوگوں کو لے کر کراچی آرہی تھی۔طیارے میں نجی ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر پروگرامنگ انصار نقوی بھی موجود تھے پرواز نے دوپہر ایک بج کر 10 منٹ پر لاہور سے اڑان بھری تھی اور اپنے مقررہ وقت پر کراچی پہنچ گئی تھی تاہم لینڈنگ سے چند ہی لمحوں پہلے پرواز کا کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوگیاذرائع سول ایوی ایشن کے مطابق سول ایوی ایشن نے کراچی میں طیارہ حادثہ کے بعد فضائی آپریشن بند کردیا، پی آئی اے نے مختلف شہروں لاہور،اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سے فضائی آپریشن روک دیا زرائع نے بتایا کہ پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 نے دوپہر 2 بجکر 40 منٹ پر جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر لینڈ کرنا تھا۔طیارہ لینڈنگ اپروچ پر تھا کہ کراچی ایئر پورٹ کے جناح ٹرمینل سے محض چند کلومیٹر پہلے ملیر ماڈل کالونی کے قریب جناح گارڈن کی آبادی پر گر گیا زرائع نے بتایاکہ لینڈنگ کے وقت جہاز کے پہئے نہیں کھلے تھے جسکے بارے میں کپتان کنٹرول کو آگاہ کیا کنٹرول نے جہاز کو لینڈ کرنے سے منع کیا اور فضاء میں رہنے کی ہدایت کی تھی پی آئی زرائع نے بتایا کہ جہاز پرانا نہیں تھا کوئی تکنیکی خرابی تھی جسکی تحقیقات کی جارہی ہے۔اطلاعات ہیں کہ جہاز میں 90 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سمیت 98 افراد سوار تھے، حادثے کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی جس نے قریب کی آبادی کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ترجمان نے بتایا کہ طیارے کا رابطہ 2 بجکر 37 منٹ پر منقطع ہوا تھا، حادثے کی وجوہات کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، ہمارا عملہ ہنگامی لینڈنگ کے لیے تربیت یافتہ ہے۔ترجمان نے کہا کہ میری دعائیں تمام متاثرہ اہلخانہ کے ساتھ ہیں، ہم شفاف طریقے سے معلومات فراہم کرتے رہیں گے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ ماڈل کالونی کے علاقے کاظم آباد میں پیش آیا، جہاں طیارہ گرنے سے متعدد رہائشی مکانات کو نقصان پہنچایا ہے۔اس واقعے کے فوری بعد سامنے آنے والی فوٹیجز میں حادثے کے مقام سے دھواں اٹھتے دیکھا گیا۔واقعے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے، ریسکیو حکام اور مقامی لوگ جائے وقوع پر پہنچ گئے ہیں۔ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق کراچی ائیرپورٹ پر جہاز سے متعلق تمام ریکارڈ سیل کر دیا گیا ہے۔متاثرہ علاقے کو فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد نے گھیرے میں لے لیا ہے، طیارہ حادثے کے باعث متصل علاقے کی بجلی معطل ہو گئی۔۔حادثے میں جاں بحق ہونے والے طیارے کے عملے میں پائلٹ کیپٹن سجاد گل کے علاوہ دیگر ارکان میں عثمان عظیم، فرید احمد چوہدری، عبدالقیوم اشرف، ملک عرفان رفیق، مدیحہ ارم، امینہ عرفان اور عاصمہ شہزادی شامل ہیں 24 نیوز کے ڈائریکٹر پروگرامنگ انصار نقوی اسی جہاز پر سوار تھے، ان کے اہلِ خانہ اور دفتر کی انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ادھر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں پی آئی اے کا طیارہ گرنے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی اور ڈی آئی جی کو فون پر علاقے میں فوری پہنچنے اور حادثے میں متاثرہ لوگوں کی مدد کرنے کی ہدایت کردی۔مراد علی شاہ نے فون پر ڈی سی ملیر اور کورنگی کو بھی رہائشی علاقوں میں لوگوں کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے ایمبولنس سروس کو ایئرپورٹ اور اسپتال کے درمیان رہنے کی بھی ہدایت کردی جبکہ تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔وزیر اعلی سندھ نے ہدایت کی ہے کہ اسپتالوں میں فوری بلڈکا بندوبست کیا جائے اور فوری سینئر ڈاکٹرز کو ڈیوٹی پر پہنچنے کی ہدایت کی جائے۔انہوں نے کہا کہ پولیس، رینجرز، روینیو کا عملہ جائے وقعہ پر پہنچ کر امداد کاموں میں حصہ لیں اور مجھے پل پل کی رپورٹ دی جائے۔واضح رہے کہ لاہور سے کراچی آنے والی قومی فضائی ادارے (پی آئی اے) کی پرواز کراچی میں لینڈنگ سے 30 سیکنڈ قبل حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں سو سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے۔طیارہ حادثے کی اطلاع ملتے ہے وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے شہر کی تمام فائر بریگیڈ گاڑیوں کو فوری طور پر ماڈل کالونی حادثہ کے مقام پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں کا حکم دے دیا۔ادھر ترجمان پاک بحریہ کی جانب سے بتایا گیا کہ کراچی میں طیارہ گرنے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لئے پاک بحریہ بھی معاونت کر رہی ہے۔ترجمان نے بتایا کہ پاک بحریہ کے 4فائر ٹینڈرز جائے وقوع کی طرف روانہ کردیے گئے ہیں۔علاوہ ازیں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی ہدایات پر تمام ایمرجنسی سروسز اور وسائل کا استعمال برائے کار لایا جارہا ہے۔دوسری جانب سندھ کی وزارت صحت کی میڈیا کو آرڈینیٹر میران یوسف کے مطابق وزارت صحت نے کراچی کے تمام بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ادھر کراچی میں طیارہ حادثے کے فوری بعد وزیر ہوا بازی غلام سرور نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ٹیم شہر قائد جاکر اس کی تحقیقات کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ لوگ عید منانے کے لیے اپنے گھروں کو جارہے تھے کہ افسوس ناک حادثہ پیش آیا۔ساتھ ہی وفاقی وزیر برائے ہوا بازی نے ائیر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن بورڈ کو طیارہ تباہ ہونے کی فوری انکوائری کرنے کا حکم دے دیا۔

(72 بار دیکھا گیا)

تبصرے