Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 03 جون 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

شوگر اسکینڈل کیسزنیب، ایف آئی اے کو بھجوانے کا فیصلہ

ویب ڈیسک جمعه 22 مئی 2020
شوگر اسکینڈل کیسزنیب، ایف آئی اے کو بھجوانے کا فیصلہ

اسلام آباد(بیورورپورٹ) وفاقی کابینہ نے چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کیسز نیب اور ایف آئی اے کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں چینی بحران پر تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پیش کی گئی، اجلاس میں کابینہ نے شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے رپورٹ میں ذمہ قرار دیے جانے والوں کے خلاف کیسز نیب اور ایف آئی اے کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے، اس کے علاوہ کابینہ نے مفادات کے ٹکراؤ کا قانون جلد نافذ کرنے کا بھی فیصلہ ہے۔ذرائع کے مطابق کابینہ نے ٹیکس چوری میں ملوث شوگر ملز کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آٹا بحران رپورٹ پر بھی مزید تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق کابینہ ارکان نے کہا کہ حکومت میں شامل شخصیات کے کاروبار سے مفادات کا ٹکراؤ آتا ہے جس پر وزیر فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام نے مفادات کے ٹکراؤ کا قانون نافذ کرنے کی تجویز دی، فخر امام کی تجویز پر کابینہ کا مفادات کے ٹکراؤ کا قانون فوری نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کابینہ میں شامل مشیران اور معاونین خصوصی کو اثاثے ظاہر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام مشیران اور معاونین خصوصی اپنے اثاثے فوری طور پر کابینہ ڈویڑن میں ڈیکلیئر کریں۔کمیشن کی رپورٹ میں ایس ای سی پی سمیت دیگر ریگولیٹرز کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، تحقیقاتی کمیشن نے 9 شوگر ملز کا آڈٹ کیا جب کہ مسابقتی کمیشن چینی کی قیمتیں ریگولیٹ کرنے میں ناکام رہا، شوگر ملز نے کسانوں کے ساتھ زیادتی کی اور نقصان پہنچایا، شوگر ملز نے کسانوں سے سپورٹ پرائس سے کم دام پر گنا خریدا، ملز نے کسانوں سے کچی پرچیوں پر گنا خریدا۔وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور حکومتی تاریخ کا تاریخ ساز دن ہے، وزیراعظم نے چینی بحران رپورٹ کا فرانزک آڈٹ کروایا، اس ملک میں اس قسم کے بحران پہلے بھی آتے رہے ہیں، پہلے کمیشن بنتے تھے لیکن بات آگے نہیں بڑھتی تھی، ہم نے مافیاز کو بے نقاب کرنا ہے جس نے ملک میں غریب کا خون چوسا اور ملک کو نقصان پہنچایا، حکومت کا منشور تبدیلی لانا اور مافیا کو بے نقاب کرنا ہے وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے ٹوئٹ میں کہا کہ کابینہ اجلاس میں طے ہوگیا ہے کہ جب تک عمران خان وزیراعظم ہیں کوئی عوام کو لوٹ نہیں سکتا، وہ وقت گیا جب وزیراعظم اور کابینہ مل کر غریب دشمن اقدامات کرتے تھے، سخت ترین دباؤ کے باوجود کپتان آج غریب کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہوا۔واضح رہے کہ ایف آئی اے نے چینی اسکینڈل کا فرانزک آڈٹ مکمل کیا تھا جس میں ٹیکسوں کی مد میں اربوں روپے کے فراڈ کا انکشاف ہوا ہے اور بتایا گیا ہے کہ شوگر مافیا کا تعلق تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہے۔ملک میں چینی کے بحران پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی تھی جس کی رپورٹ کے مطابق چینی کے بحران میں سب سے زیادہ فائدہ حکومتی جماعت تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا اور انہوں نے سبسڈی کی مدد میں 56 کروڑ روپے کمائے جب کہ وفاقی وزیر خسرو بختیار کے رشتہ دار نے آٹا و چینی بحران سے 45کروڑروپے کمائے۔
اسلام آباد (قومی اخبار نیوز)پاکستان میں چینی بحران سے متعلق انکوائری کمیشن کی حتمی رپورٹ سامنے آگئی جس میں حالیہ چینی کی قیمتیں بڑھنے کا ذمہ دار ریگولیٹرز کو قرار دے دیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے اسلام باد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رپورٹ کو جاری کیا۔شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے چینی بحران کی انکوائری رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا آج بہت اہم دن ہے، پاکستان کی تاریخ میں ایسی کسی کی جرات نہیں تھی کہ وہ ایسا کمیشن بنائے۔ان کا کہنا تھا کہ چینی کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوا جس کا وزیراعظم عمران خان نے تحقیقات کا حکم دیا۔شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اس تاریخ ساز دن پر ہمیں سراہنا چاہیے ہم صحیح سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چینی بحران پر انکوائری کمیشن نے مفصل رپورٹ پیش کی اور بہت سارے سوالات ہیں شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور کابینہ نے انکوائری رپورٹ کو پبلک کرنے کا اعلان کردیا، انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں بڑے حیران کن انکشافات ہیں، تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا، رپورٹ میں لکھا گیا کہ شوگر ملز کسانوں کو امدادی قیمت سے کم قیمت دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح کسانوں کو نقصان پہنچایا گیا، کسانوں کو گنے کے وزن میں 15 فیصد سے زیادہ کٹوتی کی جاتی ہے۔ا۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کے مطابق غیر منتخب رکن بھی اپنے اثاثے ڈکلیئر کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں اضافہ شوگر ملز مالکان کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تقریباً 25 فیصد گنا انڈر رپورٹڈ ہے، اس سے گنے پر ٹیکس بھی نہیں دیا جاتا۔شہزاد گروپ نے کہا کہ مراد علی شاہ نے صرف اومنی گروپ کو فائدہ دینے کے لیے سبسڈی دی، 2019 میں وفاقی حکومت نے کوئی سبسڈی نہیں دی۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب نے 2019 میں تین ارب روپے کی سبسڈی رکھی، چینی کی قیمت میں ایک روپیہ اضافہ کرکے 5.2 ارب روپے منافع کمایا جاتا ہے۔شہزاد اکبر نے بتایا کہ سندھ حکومت نے اومنی گروپ کو سبسڈی دے کر فائدہ پہنچایا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ پانچ سال میں 29 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، برامدات کی مد میں 58 فیصد چینی افغانستان جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیشن نے چینی بحران کا ذمہ دار ریگولیٹرز کو قرار دیا، ریگولیٹرز کی غفلت کے باعث چینی بحران پیدا ہوا اور قیمت بڑھی۔شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ کمیشن نے کیسز نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کو بھجوانے کی سفارش کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے فوری طور پر رپورٹ پبلک کرنے کے احکامات دیے، کابینہ نے نظام کو فعال، اداروں کو متحرک کرنے کی منظوری دی۔شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ کابینہ نے دیگر ملز کا بھی فرانزک آڈٹ کرنے کی ہدایت دی، جبکہ کابینہ نے ریکوری کرکے پیسے عوام کو دینے کی سفارش کی۔وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ کابینہ نے مجھے ذمہ داری سونپی ہے، عید کے بعد وزیراعظم کی ہدایت پر سفارشات تیار ہوں گی۔ایک سوال کے جواب میں شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ابھی کسی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) پر نہیں ڈالا گیا۔شہزاد اکبر کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی تحقیقاتی ادارہ کہے گا تو کابینہ نام ای سی ایل میں ڈالنے پر غور کرے گی۔

(43 بار دیکھا گیا)

تبصرے