Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 03 جون 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

سندھ میں ہفتہ اوراتوار کو مکمل سخت لاک ڈاؤن ہوا کرے گا، مراد علی شاہ

ویب ڈیسک جمعه 08 مئی 2020
سندھ میں ہفتہ اوراتوار کو مکمل سخت لاک ڈاؤن ہوا کرے گا، مراد علی شاہ

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں ہرہفتہ اور اتوار کو مکمل سخت لاک ڈاؤن کیا جائے گا، ملک بھر میں لاک ڈاؤن ہفتے کو نہیں، سوموار کوکھولاجائے گا، لاک ڈاؤن کے فیز ٹو پر بات ہورہی ہے،ہمیں زمنی حقائق اور ڈیٹا کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے ہیں، جن شعبوں کو کھولاجائے گا، ایس اوپیز کے ساتھ عمل کریں گے۔انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 26فروری کو پہلا کیس ہوا تھا، ہم نے 26فروری کو ہی لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا تھا، ہم نے سکولوں کو چار دن کیلئے بند کردیا، اور پھر 4مارچ تک مزید چھٹیاں کردی تھیں، ہمارا لاک ڈاؤن 26فروری کو ہی شروع ہوگیا تھا۔پی ایس ایل چل رہی تھی، پی ایس ایل کو باقاعدہ ختم کروا دیا، 13مارچ کو کابینہ نے 31مئی تک بند رکھیں گے، ہم نے علماء کرام سے بات کی ، 14مارچ کو میرج ہال، سینما، پبلک مقامات کو بند کردیا تھا۔

آپ کی حکومت کیا کررہی ہے؟ مراد علی شاہ سے سوال

بعد میں ایک سے تین کے دن کی تاخیر سے باقی صوبوں نے بند کردیا۔ پھر ہم نے 16مارچ کو ریسٹورانٹس اور ہوٹلوں اور دکانوں کیلئے اوقات کار مقرر کیے۔ ہم باقاعدہ لاک ڈاؤن 22مارچ کو سخت کردیا تھا۔کہا گیا کہ سندھ نے لاک ڈاؤن کرکے وفاق سے ٹکراؤکیا ہے۔14 اپریل والے لاک ڈاؤن کا اعلان وفاقی حکومت نے دیا، کیا وفاق اپنے ساتھ خود لڑ رہی تھی؟14 اپریل کو پھر14روزکیلئے 9مئی تک کیلئے وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن بڑھایا۔کیا مراد علی شاہ تو اسد عمر کو لکھ کر نہیں بھیج رہا تھا کہ آپ ٹی وی پر یہ اعلان کریں۔کچھ چیزیں ہمیں اور کچھ وفاق کو ہماری پسند نہیں ہیں۔ این اوسی کی 6مئی کی میٹنگ ہوئی،لاک ڈاؤن کے فیز ٹو کیلئے ہمیں دستاویزات بھیجیں۔ ہم نے اپنی تجاویز دیں۔میں کہا ہم نے فیصلے تحمل کے ساتھ کرنے ہیں، جلدی میں کوئی فیصلہ بھی نقصان دہ ہوگا۔ایران کے کیسز 19فروری سے کیسز شروع ہوئے، جب وہاں یومیہ 3ہزار کیسز ہورہے تھے تو انہوں نے لاک ڈاؤن کیا، جب وہاں گراف نیچے جانا شروع ہوا تو لاک ڈاؤن کھول دیا۔اسی طرح امریکا، جرمنی نے لاک ڈاؤن تاخیر سے کیے۔ پاکستان میں26فروری کو کیس آیا اور 26کو ہی لاک ڈاؤن کردیا۔اسی وجہ سے کیسز کی تعداد کم ہے۔ہمیں ٹائیگرزفورس کی بجائے دیہاڑی داروں کو رجسٹرڈ کرنا چاہیے تھا۔ میں نے وزیراعظم کو خط بھی لکھا تھا کہ ہمیں یہ اقدامات اٹھانے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن ابھی رہے گا، فیز ٹو پر بات ہورہی ہے۔ہمیں زمنی حقائق اور ڈیٹا کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے ہیں۔فیز ٹو میں کنسٹرکشن انڈسٹری کھولی جائے گی، ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ لیکن ایس اوپیز کے ساتھ عمل کریں گے۔مخصوص اوپی ڈیز کھولی جائیں، دکانیں پہلے ہی ہم نے شام پانچ بجے تک کھولی ہوئی ہیں۔ ہفتہ اور اتوار مکمل ڈاؤن پر اتفاق کیا ہے۔لاک ڈاؤن ہفتے کو نہیں سوموار کو کھلے گا۔انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیسٹ کی صلاحیت 5600ہے، 91مریضوں کی حالت تشویشناک ہے، 18مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔صحت یاب مریضوں کی تعداد1940ہوگئی ہے۔اموات کی مجموعی تعداد176ہوگئی ہے۔

(1035 بار دیکھا گیا)

تبصرے