Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 06 اپریل 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

وادی سندھ کی پراسرار تہذ یبیں

مختار احمد،مسافر پاکستانی هفته 22 فروری 2020
وادی سندھ کی پراسرار تہذ یبیں

پراسرار بستیاں ،پراسرار آبادیاں جہاں بھوت ناچتے اور لوگوں کو تنگ کرتے ہیں کے بارے میں اکثر و بیشتر قصہ، کہانیوں اور لوگوں کی زبانی پتہ چلتا رہا لیکن انہیں دیکھنے کا کبھی کو ئی اتفاق نہ ہو سکا لہذا لوگوں کی باتوں اور قصہ ،کہانیوں سے ہمیشہ سے بے یقینی کی کیفیت طاری رہی لیکن جب مسافر پاکستان کی حیثیت سے گزشتہ دنوں وادی سندھ کی وہ تمام تہذیبیں جن میں موہن جودڑو ،ہڑپہ ،ٹیکسیلا بھی شامل ہے کے جب مطالعاتی دورے کا موقع ملا اور ہزاروں سے قبل اجڑی ان تہذیبوں کے در میان رہنے کا موقع ملا تو اس بات پر یقین ہو گیا کہ دنیا میں ایسی ماروائی مخلوقات ضرور موجود ہیںجو کہ دن کے اجالے میں تو نہیں دکھتی مگر رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر رنگ میں بھنگ ڈالتی نظر آتی ہیں اس حوالے سے جب میں نے دنیا کی قدیم ترین تہذیب موہن جودڑوجو کہ لاڑکا نہ میں واقع ہے کے علاوہ ساہیوال میں ہڑپہ اور راولپنڈی سے فاصلے پرموجود ٹیکسیلا کا دن کے اجالے میں وزٹ کیا تو وہاں ایک پراسرار سی خاموشی چھائی ہو ئی تھی اور یہ خاموشی کسی قبرستان کی خاموشی سے کم نہیں تھی جہاں سیاح تو موجود تھے مگر وہ ایک دوسرے سے لاتعلق ہو کر عبرت کا نشان بننے والی ان شہروں جو کہ ماضی میں تہذیب و ترقی کی اعلی مثال کی آئینہ دار تھیں کی تباہ حا لی کو اپنی پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے مگر کئی کئی لوگ اکھٹے ساتھ آنے کے باوجود مکمل طور پر خاموش نظر آئے اور غالبا وہ ان تباہ حال شہروں کے کھنڈرات کو دیکھ کر خوفزدہ بھی تھے کیو نکہ ان کے چہروں سے خوف جھلک رہا تھا لہذا مسافر پاکستانی بھی خوف کی ملی جلی کیفیت لئے ان عظیم شہروںجو کہ علم و فنون کا مر کز تھیں اور یہاں دنیا کی پہلی یونیورسٹی ،مختلف مذاہب کی عبادت گاہیں ،بدھسٹ مذہب کے اسٹوپا صفحہ ہستی سے مٹ جا نے والے مکا نات ،کالجز ،سوئمنگ پول ،غریبوںاور امیروں کے لئے مخصوص علیحدہ علیحدہ علاقے جہاں کنویں کی صورت میں پا نی پینے کا بندوبست جبکہ نکاسی آب کے لئے پختہ نالیوں کا مشاہدہ کر نے کے بعد واپس لوٹا اور مختلف تاریخوں میں کئے جا نے والے اس دورے کے حوالے سے یہ ٹھان لیا کہ ان بستیوں کی پراسراریت جا ننے کے لئے رات کی تاریکی میں بھی ان شہروں کا مشاہدہ کیا جا ئے جس کے لئے ان تباہ حال ورثوں کے قریب بسنے والے لوگوں سے جب رابطہ کیا اور اپنی خواہش کا اظہار کیا تو ان میں سے بیشتر نے ان قدیم ورثوں کے حوالے سے توہمات پر مبنی خوفناک قصہ کہانیاں بیان کیں جسے سن کر کو ئی بھی شخص رات میں ان ورثوں کی طرف جا نے کا تصور بھی نہ کر سکے مگر بھلا ہو محکمہ آثار قدیمہ سے منسلک ان چند نو جوانوں کا جنہوں نے رات میں ان ورثوں پر جا نے کی پا بندی ہو نے کے باوجود ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور انہوں نے ایسے راستے منتخب کئے کہ رات کو ان قدیم ورثوں کے دروازے اور میوزیم بند ہو جا نے کے باوجود دوسرے راستوں سے موبائل کے ٹارچوں کی روشنی میں وہاں پہنچایا ہم کل ملا کر 5 لوگ تھے جن میں شہزاد اختر ،محمد علی ،حسن نواز اور صدیق اکبر شامل تھے رات ہو تے ہی ہم نے ان تمام ورثوں کا علیحدہ علیحدہ دنوں میں چور راستوں سے وزٹ کیااور تینوں ہی قدیم ورثوں میں سخت سردی میں صرف ہوا کی شائیں شائیں سنائی دے رہی تھی جبکہ ہم سب کے ہی رونگٹے خوف کے عالم میں کھڑے تھے ایسے میں ہمیں ان تباہ حال شہروں میں ٹمٹماتی روشنی بھی نظر آئی جبکہ ان کھنڈرات پر لمبے قد کے ایسے مرد و عورت اور بچے نظر آئے جو کہ شاید اپنے تباہ حال گھروں کے سامنے گریا کر رہے تھے جبکہ انہیں بستیوں میں بعض مقامات پر کوئی نادیدہ مخلوق آگ جلا کر پو جا پاٹ بھی کرتے نظر آئے جبکہ انہیں کھنڈرات کے ارد گرد آسمانوں پر بڑے بڑے پرندے بھی نظر آئے جبکہ نیچے بھی کچھ عجیب و غریب جانور جو کہ انتہائی قد آور تھے دکھا ئی دئے جسے دیکھنے کے بعد ہم پانچوں کے پانچوں لوگوں کے ہوش حواس جا تے رہے جسے دیکھتے ہو ئے انہیں میں سے ہمارے ایک ساتھی جو کہ شاید ہم سے زیادہ بڑے ہمت والا تھا بمشکل ہمیں گیسٹ ہائوس پہنچایا اور وہاں پہنچ کر لگ بھگ ہم 4افراد بے ہوش ہو گئے اور جب دو پہر کے اجالے میں کچھ ہوش و حواس بحال ہو ئے تو ہم نے قرب جوار کی قریبی بستیوں میں جا کر مقامی لوگوں سے بات چیت کی جن کی اکثر یت کا کہنا یہ تھا کہ کیو نکہ ان تینوں قدیم شہروں میں لوگ غیر فطری موت مرے ہیں لہذا سر شام اندھیرا چھا تے ہی ان ورثوں پر بھوت، پریت،جنات اور چڑیلوں کا قبضہ ہو جا تا ہے جبکہ مر نے والوں کی رو حیں بھی گھومتی پھرتی نظر آتی ہیں اسی وجہ کر لوگ سر شام اپنے گھروں میں دبک جا تے ہیں اور کو ئی گھر سے نکلنے کی جسارت نہیں کر تا ایسے میں بعض بزرگوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں رات کے اندھیرے میں نا صرف ان تباہ حال شہروں میں روشنی بلکہ آگ جلتی نظر آتی ہے جبکہ قدآور مرد ،عورت اور بچے بھی گھومتے پھرتے اور پو جا پاٹ کر تے نظر آتے ہیں مگر انہوں نے کبھی قرب و جوار کی بستیوں میں رہنے والے لوگوں کو پریشان نہیں کیا لوگ خود ہی خوف کے عالم میں ان سے دور رہتے ہیں ایسے میں ایک بزرگ نے ہڑپہ اور ٹیکسیلا میوزیم کے اندر بھی ایسی مخلوقات نظر آنے کی تصدیق کی جس پر ہماری چھوٹی سی ٹیم نے ٹیکسیلا میوزیم جہاں کھدائی کے دوران بدھا دور کے دریا فت ہو نے والے نوادرات جن میں چاندی کے بر تن ،بدھا کے لاتعداد مجسمے سمیت بدھا کے دانت جوکہ ایک ڈبیا کے اندر موجود ہیں سمیت لاتعداد اشیا جوکہ اس شہر کو دریافت کر نے والے سرجان مارشل کے دور میں بنا ئے گئے گوتھک اسٹائل میوزیم جس کے درو دیوار پر خوبصورت بیلیں چھائی ہوئی تھیں جبکہ اس کے چاروں اطراف غضب کا سبزہ زار موجود تھا میں رات کے اندھیرے میں جا نے میں اندر سے مختلف ٹمٹماتی روشنیاں اور سائے نظر آئے جبکہ ہڑپہ میوزیم بھی رات کی تاریکی میں ٹیکسیلا میوزیم سے قدر مختلف نہیں تھا جسے دیکھتے ہو ئے جب وہاں ماہرین آثار قدیمہ اور ذمہ داران سے بات چیت کی تو انہوں نے ان تمام باتوں کو توہمات پر مبنی قرار دیا اور ان کا کہنا یہ تھا کہ میوزیم کے اندر گو کہ قدیم نوادرات جن میں بدھا کے مجسمے بھی شامل ہیں کبھی کو ئی ایسا واقعہ نظر نہیں آیا تاہم ان کا ماننا تھا کہ بدھا دور میں جادو ٹونے کا علم جاننے والے ضرور موجود تھے اور یہاں تک کے ہریٹی نامی ایک چڑیل جوکہ روزانہ 500 بچے کھاتی تھی اور اسے چیچک کی دیوی بنا دیا گیا تھا کے حوالے سے نا صرف بعض شواہد حاصل ہو ئے ہیں بلکہ ہریٹی دیوی کے مختلف مجسمے بھی مل چکے ہیں لہذا جادو ٹونے بھوت ،چڑیل کے تصور کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا لیکن اس وقت ان ورثوں اور عجائب گھروں میں سرے سے ایسی کوئی چیز موجود نہیں جس کے بعد ہماری ٹیم نے بعض علمائے دین اور مشایخ اور مفتی اکرام سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھی بھوت ،پریت ،چڑیل یہاں تک کے روحوں کے دیکھے جا نے کو غلط قرار دیا ان کا کہنا یہ تھا کہ قرآن کے مطابق جنات کا تصور تو موجود ہے مگر روحوں کے بھٹکنے کا کو ئی تصور نہیں کیو نکہ جب انسان مر جا تا ہے تو نیک روحیں عاملین میں چلی جا تی ہیں جبکہ بد رو حیں سفلین پہنچ جا تی ہیں لہذا ان کے بھٹکنے اور لوگوں کو پریشان کر نے کا کوئی تصور نہیں ہوسکتا ہے کچھ جگہوں پر جنات ایسا کر تے ہوں لیکن یہ باتیں محض لوگوں کے نظروں کا دھوکا ہو سکتی ہیں جبکہ اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں لیکن چونکہ ہم نے یہ سب کچھ اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھا تھا لہذا اسے جھٹلا یا بھی نہیں جا سکتا ۔

 

(319 بار دیکھا گیا)

تبصرے