Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 06 اپریل 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مینار پاکستان سے رنجیت سنگھ کے مجسمے تک

تحریر:مختار احمد ،مسافر پاکستانی هفته 15 فروری 2020
مینار پاکستان سے رنجیت سنگھ کے مجسمے تک

سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف جنہیں نا اہل قرار دیا جا چکا ہے اور وہ سیاست میں حصہ لینے کے اہل نہیں رہے مگر انہوں نے ملک پاکستان بلخصوص پنجاب کی عوام پر موٹر وے ،سڑکوں کے جال تفریح گاہوں کی فرا ہمی سمیت دیگر سہو لیات کے حوالے سے جو احسانات کئے ہیں اسے با آسانی فراموش نہیں کیا جا سکتا ان کے انہیں احسانات میں سے منٹو پارک جہاں پہلے دھول مٹی اڑاکرتی تھی اور لڑکے با لے کرکٹ کا شوق پورا کر تے تھے میں اچانک انتہا ء کی تبدیلیاں واقع کیں اور اس اجڑے میدان کو ریگستان سے گل گلزات میں تبدیل کر دیا اور اب اسے گریٹر اقبال پارک کے نام سے جا نا و ما نا جا تا ہے جہاں جا نے والے ایک ہی وقت میں مینار پاکستان کا مطالعہ کر نے کے بعد اس کے قریب ہی موجود قومی ترا نے کے خالق ابو الا اثر حفیظ جا لندھری اور شاعر مشرق حضرت علا مہ اقبال سمیت 3بزرگا ن دین جنہوں نے اسلام کی آبیاری کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دی تھیں پر حاضری دینے کے ساتھ ساتھ مغل پریڈ میں تعمیر کی جا نے والی بادشاہی مسجد ،شاہی قلعے کو بھی دیکھ سکتے ہیں اوران تمام یادگاروں کو دیکھنے کے لئے عوام کو کئی ایکڑوں پر پھیلے اس گریٹر پارک جہاں مصنوعی جھیلوں میں کشتی را نی فائونٹین و دیگر یادگاریں یا شاہکار موجود ہیں پیدل فاصلہ طے نہیں کر نا پڑتا بلکہ تفریح کے لئے آنے والوں کو تھکاوٹ سے بچا نے کے لئے سفاری ریل گاڑیاں کھلی چھت کے رکشے ،وکٹوریہ موجود ہیں جو کہ ہر نصف گھنٹے بعد عوام کو تفریحی مقامات کی سیاحت کر وانے کے لئے چلتی ہیں جبکہ اضافی سہولیات کے طور پر پارک کے اندر بڑی بڑی کینٹین موجود ہیں جہاں کھا نے پینے کے علاوہ تمام تر مشروبات مہیا ہیں جس کے سبب ملک بھر سے آنے والے سیاح اس پارک جہاں جگہ جگہ پھولوں ،پودوں کی کیاریاں موجود ہیں کو دیکھنے میں گزار دیتے ہیں مگر ان پر تھکاوٹ طاری نہیں ہو تی اس گریٹر اقبال پارک جہاں تمام یادگاروں کی علیحدہ علیحدہ ٹھوس تاریخ موجود ہے لیکن ان میں سب سے قدیم ،سب سے منفرد تاریخ مغل پیریڈ میں تعمیر ہو نے والے شاہی قلعے اور بادشاہی مسجد کی ہے جو کہ آج بھی پوری آن بان شان کے ساتھ آنے والوں کو ماضی کا احوال بیان کر تی نظر آتی ہیں لیکن ان دونوں میں سے بادشاہی مسجد کو ایک خصوصی مقام حاصل ہے جو کہ نا صرف عالیشان بلکہ انتہا ئی دیدہ زیب ہے جہاں مغل بادشاہوں سمیت ملک کے بڑے بڑے حکمرانوں نے نمازیں ادا کی ہیں گو کہ اب یہاں 5 وقت کی نماز تو نہیں ہو تی لیکن ظہر ،عصر اور مغرب کی 3 نمازوں کے لئے اللہ اکبر کی صدا گونجتی نظر آتی ہیں اور اللہ کے اس بلاوے پر تفریح کی غرض سے آنے والے لوگوں کی ایک کثیر تعداد نمازیں ادا کرتی ہیں یہ مسجد گوکہ اب پہلے کی طرح تو شاندار نہیں رہی کیونکہ اس مسجد کو سکھا شاہی حکمران رنجیت سنگھ نے نا صرف کئی روند ڈالا بلکہ 3 ماہ تک اسے مسلسل بند رکھتے ہو ئے نا صرف اس کی توڑ پھوڑ کی جا تی رہی بلکہ رنجیت سنگھ نے اس مسجد کے اندر گھوڑے کے اصطبل کے طور پر استعمال کیا جہاں نمازیوں کے بجا ئے گھوڑے چرتے نظر آتے تھے بلکہ اسی دور میں اس عظیم الشان مسجد کو بطور عقوبت گاہ کے طور پر استعمال کیا گیا جہاں مسلمان بزرگوں،نوجوانوں اور بچوں پر تشدد کیا جا تا رہا جبکہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں خواتین کی آبرو ریزی بھی کی گئی اور پھر مسلمانوں کو انگریزوں کے آنے کے بعد رنجیت سنگھ کے ظلم وستم سے نجات مل گئی مگر شاہی قلعہ ،بادشاہی مسجد تبا ہی کے مناظر پیش کر تے رہے اور پھر انگریزوں نے ہی ان قدیم عمارتوں کو بحال کر نے کے لئے نمایاں کام کیا جس پر یہ قدیم عمارتیں بحال تو ہو گئیں مگر اپنا اصل قدرتی حسن کھو بیٹھیں پھر جب دنیا کے نقشے پر پاکستان ابھرا تو محکمہ آثار قدیمہ نے اس پر خصوصی تو جہ دے کر اس کی بحالی کے لئے نئے سرے سے کام کیا اور ان عظیم شاہکاروں کو اس کی اصل حا لت میں لوٹا نے کی کوشش کی جس میں انہیں مکمل طور پر تو کامیابی نہیں ہو ئی لیکن پھر بھی وہ اس کی حا لت زار کو بہتر بنا نے میں کامیاب ہو گئے اور پھر جب سابق وزیر اعظم پاکستان نے گریٹر اقبال پارک کا منصوبہ ترتیب دیا تو ان عظیم اور قدیم عمارتوں کی حالت زار کو مزید بہتر کیا گیا لیکن اس کی اصل حالت کو اب بھی لوٹایا نہیں جا سکا اس مسجد کے ساتھ سکھوں کا ایک گرد وارہ بھی موجود ہے جہاں کرتار پور راہداری کے بعد اس کی از سرنو تعمیرات اور تزین و آرائش کا سلسلہ تو جاری ہے مگر مسلمانوں کی یہ مسجد اس بات کی منتظر ہے کہ حکو مت کا حسن نظر اس کی طرف بھی ہے مگر اس جا نب حکمرانوں کی کو ئی توجہ نہیں مگر اس کے باوجود آج بھی لوگوں کی کثیر تعداد گردوارہ نہیں بلکہ مسجد نا صرف دیکھنے بلکہ اس میں نماز کی ادائیگی کے لئے آتی ہے اور ایسے میں وہ اس کے معماروں کو خراج عقیدت پیش کر تے ہیں بادشاہی مسجد کے اندرو نی حصے میں گو کہ اب پہلی جیسی چمک دمک تو باقی نہیں رہی لیکن اس کے پرانے نقوش آج بھی اسے ماضی کی شاہکار مسجد ہو نے کی دلیل پیش کر تی نظر آتی ہیں بادشاہی مسجد کے اندر ایک وسیع العریض صحن بھی موجود ہے جبکہ اس کے بیرو نی دروازے کے ساتھ ایک چھوٹا سا میوزیم جو کہ باہر سے نظر نہیں آتا اور اوقاف کا ایک ملازم لوگوں کو مقدسہ زیارات کی دعوت دیتا نظر آتا ہے جس سے اس بات کا پتا چلتا ہے کہ ماضی کے اس اصطبل نما مسجد میں کوئی زیارت گاہ بھی موجود ہے جہاں نبی کریم ﷺ،حضرت علیؓ،حضرت امام حسینؓ اور حضرت عبدالقادر جیلانیؒکے تبرکات موجود ہیں مسافر پاکستان کو جب اوقاف کے اس ملازم نے تبرکات کے زیارت کی دعوت دی تو مسافر پاکستانی بھی تبر کات کی زیارت کے لئے میوزیم نما اس چھوٹی سی عمارت میں پہنچا جہاں نبی کریم ﷺ کے عمامہ مبارک ،جائے نماز ،عصا،چادر سمیت مختلف تبرکات کے ساتھ حضرت علی ،حضرت امام حسین اور حضرت عبدالقادر جیلانی کی تبرکات کی زیارت نصیب ہوئی مگر میوزیم میں جگہ اس قدر کم تھی کہ طویل قطار ہو نے کے سبب رکنا محال تھا لہذا مسافر پاکستانی بھی جلدی جلدی تبرکات کی زیارت کے بعد سیڑھیوں پر پہنچا تو محکمہ اوقاف کی ایک چندہ پیٹی نظر آئی اور اس کے قریب ہی ایک خوفناک اہلکار بھی موجود تھا جو کہ لوگوں کو اس بات پر مجبور کر رہا تھا کہ وہ اس چندہ پیٹی میں چندہ ڈالیں اور با لا آخر لوگ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اس چندہ پیٹی میں کچھ نہ کچھ ڈالتے رہے جسے دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ شاید محکمہ اوقاف زیارت کر نے والوں سے ان تبرکات کے عیوض معاوضہ وصول کر رہا ہے جس کے پیش نظر مسافر پاکستانی ایک لمحے کے لئے سکتے میں رہ گیا اور اس کے بعد مسافر پاکستانی کا رخ شاہی قلعے میں موجود ایک وسیع العریض اسلحہ میوزیم کی جا نب ہوگیا اور میں جیسے ہی میوزیم کے قریب پہنچا تو یہ دیکھ کر محبوط ہو گیا کہ وہاں مسلمانوں پر مظالم ڈھا نے والے سکھا راج کے مہا را جہ رنجیت سنگھ کا گھوڑے پر سوار مجسمہ نصب ہے اور جسے دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ابھی گھوڑے سے نیچے اتر کر مسلمانوںپر مظالم کے ایسے پہاڑ توڑے گا جس سے ہٹلر ،ہلاکو خان اور چنگیز خان کی روحیں بھی تڑپ اٹھیں گی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا جس کے سبب مسافر پاکستانی نے میوزیم کے اندر کا رخ کیا جہاں سکھا شاہی دور کی تلواریں ،تیر کمان ،طمنچے، لوگوںکو اذیت دینے والے آلات ،روشنی والی بندوقیں و دیگر سامان حرب نظر آیا اور ساتھ ہی کمرے میں ایک حنود شدہ گھوڑابھی نظر آیا جسے حاصل کر نے کے لئے رنجیت سنگھ نے 21 لوگوں کا قتل کیا تھا اور رنجیت سندھ کی مظالم کی داستان یہیں ختم نہیں ہو تیں بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ اس نے لاکھوں مسلمانوں کے خون سے ہو لی کھیلی جبکہ ساڑھے3 لاکھ خواتین کی عصمتیں اپنے فوجی سرداروںکے ذریعے تار تار کیں جبکہ ہزاروں خواتین نے کنویں میں کود کر اپنی عزتیں بچائیں مگر مسلمانوں پر یہ مظالم ڈھائے جا نے کے باوجود اس کی قسمت پر رشک بھی ہوا کہ ایک مسلم معاشرے جہاں بتوں ،مجسموں کو حرام قرار دیا جا تا ہے اور اسی سبب شہر کراچی سمیت مختلف شہروں کی تعمیر و ترقی میں کام کر نے والے ہیروز کے مجسمے ہٹا دئے گئے مگر رنجیت سنگھ کا مجسمہاس جگہ پر لوگوں کی مخالفتوں کے باوجودنصب کیا گیا جسے حکمراں ریاست مدینہ کا نام دیتے نہیںتھکتے اور صرف یہی نہیں بلکہ اس بات پر بھی تعجب ہوا کہ نبی آخر الزماں اور صحابہ اکرام کے تبرکات کے لئے ایک تنگ سی جگہ جہاں نہ روشنی پہنچتی ہے اور نہ ہی ہوا میوزیم قائم کیا گیا ہے جبکہ سکھا شاہی کے مسلمانوں کیخلاف اٹھنے والی تلواروں اور طپنچوںاور اذیت دینے والے آلات ،گو لے کے لئے ایک وسیع العریض میوزیم بنایا جانا ایک حیرت سے کم نہیں جس پر جتنا بھی ماتم کیا جا ئے وہ کم ہے ۔

(225 بار دیکھا گیا)

تبصرے