Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 06 اپریل 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بھارت کے تاج محل سے بہاولپور کے نور محل تک

مختار احمد----مسافر پاکستانی جمعه 07 فروری 2020
بھارت کے تاج محل سے بہاولپور کے نور محل تک

یوں تو بادشاہوں ،نوابوں کی رہائش کے لئے محل بنا نے کا رواج کوئی نیا نہیں بلکہ کئی صدی پرانا ہے لیکن محلات کی شہرت کا آغاز مغل بادشاہ شاہجہاں کی طرف سے بھارت کے شہر آگرا میں عظیم الشان محل بنا نے کے بعد ہوا اور اس کے بعد تو دنیا بھر میں تاج محل کی نقل تیار کر نے کا با قاعدہ طور پر آغاز ہوا کسی نے اپنی اہلیہ کی یاد میں بھارت کے ہی شہر اورنگ آباد میں محل بنا دیا تو کسی نے امریکا ،ملیشیا ،اتر پر دیش ،بوٹ امریکا میں نا صرف تاج محل سے مشابہت رکھنے والے محلات بنا دئے بلکہ اسے ٹھیک اسی انداز سے سجا ڈالا لیکن دریائے ستلج اور دریائے سندھ کے کنارے آباد بہاولپور جو کہ بر طانوی دور میں ایک ریاست تھا اورقیام پاکستان کے بعد 1952تک اس کی ریاست کی حیثیت بحال رہی میں بھی لاتعداد محلات تعمیر ہو ئے مگر ان محلات میں تاج محل کی کا پی نہیں کی گئی بلکہ اس سے بھی جدید انداز کے محلات تعمیر ہو ئے ان محلات میں اگر صرف ریاست بہاولپور جسے نوابوں کی ریاست کہا جا تا تھا میں گلزار محل ،فرخ محل ،نشاد محل ،دبئی محل ،سادی گڑھ پیلس کی تعمیر ہو ئی مگر ان تمام محلات میں نور محل جس کی تعمیر نواب صادق خان چہار م نے 1872میں شروع کی تھی اور جو کہ 1875میں مکمل ہو ئی تعمیر میں پورے پاک ہند نے اپنا ثا نی نہیں رکھتی مگر اس شاہکار محل کی بد نصیبی یہ رہی کہ نواب صادق نے اپنی اہلیہ کے لئے یہ محل تعمیر کرایا تھا انہوں نے محل کی بالکونی سے قریب ہی واقع ملوک قبرستان ہو نے کی وجہ سے یہاں ایک دن بھی رہنا پسند نہیں کیا جبکہ اسی طرح نواب صادق خان بھی ملوک قبرستان میں عجیب و غریب واقعات ہو نے کے سبب زیادہ عرصے اس محل میں نہ رہ سکے جس کے سبب یہ شاہکار محل اکثر و بیشتر ویرا نے کا شکار رہا یہ محل اب بھی پوری آن بان اورشا کے ساتھ موجود ہے اور 1995میں اس کے انتظا مات فوج کے سپرد کئے جا نے کے بعد بہتر حالت میں موجود ہے اور یہاں آنے والے سیاحوں کو ماضی کے نوابین کی تاریخ بیان کر تا نظر آتا ہے یہ محل جسے نور محل کا نام دیا گیا تھا اسے ملوک بستی کے قریب تعمیر کیا گیا تھا اور اسے نواب صادق محمد خان چہارم جوکہ خوبصورت عمارات کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے اور اس حوالے سے انہیں ‘شان جہان بہاولپور’ بھی کہا جاتا ہے۔نور محل کی عمارت کا نقشہ ریاست کے انجینئر مسٹر ہینن نے تیار کیا ۔یہ محل 44 ہزار 600 مربع فٹ رقبے پر پھیلا ہواہے نور محل اطالوی اور اسلامی فنِ تعمیر کا دلچسپ اور خوبصورت مرکب ہے۔ محل بنیادی طور پر ایک مستطیل نما تین منزلہ عمارت ہے جس میں درمیانی ہال اور شرقی غربی کمروں کے علاوہ چاروں کونوں پر چار کمرے بنے ہوئے ہیں۔ ان چاروں کمروں کے اوپر چار کمرے اسی لمبائی چوڑائی کے بنے ہوئے ہیں جن کی چھتیں برج نما ہیں اور چوگوشیہ ہیں۔ یہ چو گوشیہ برج ایک پانچویں برج کے ساتھ ملتے ہیں جو سائز میں سب سے بڑا ہے۔محل کی تعمیر مکمل ہوئی تو اس کی بنیاد میں ریاست کے سکے اور ایک تحریر جس میں تعمیرِ محل کی تاریخ وغیرہ درج تھی، رکھے گئے تھے۔ اس محل کی تعمیر پر 12لاکھ روپے سے زیادہ خرچ ہوئے۔محل کی چھتوں اور دیواروں پر نقاشی کا خوبصورت کام ہے اور جب ریاست بہاولپور قائم تھی تو ہال میں ایک سٹیج بنا کر اس پر چاندی کی کرسی نواب صاحب کے بیٹھنے کے لیے مخصوص تھی۔ ہال اور دوسرے کمروں کی دیواروں کو والیانِ ریاست کی تصاویر سے مزین کیا گیا تھا۔بعض کمروں میں بڑے بڑے قد آدم آئینے بھی تھے جو مختلف خاصیتیں رکھتے تھے۔ مثلاً ایک آئینے میں انسان غیر معمولی فربہ نظر تا تھا جبکہ ایک دوسرے آئینے کے سامنے جانے سے انتہائی دبلا دکھائی دیتا تھا۔

 

ایک زمانے میں پورا محل سنہری اور روپہلی فانوس اور بہترین فرنیچر سے آراستہ تھا۔ محل میں فرنیچر اور دیگر اشیاء اٹلی اور انگلینڈ سے درمد کی گئی تھیں۔1906 میں نواب محمد بہاول خان پنجم نے محل کے ساتھ مسجد تعمیر کرائی اوراِس کا ڈیزائن ایچی سن کالج کی مسجد کی طرز پر رکھا گیا۔ نور محل کی مسجد پر اس زمانے میں 30 ہزار روپے سے زائد خرچ ہوئے تھے اور اس کی بنیاد میں بھی ریاست کے طلائی، نقری اور مسی کے سکے ایک بوتل میں بند کرکے رکھے گئے تھے۔یہ محل ماضی میںسرکاری تقریبات کے لئے مخصوص رہا۔نواب صادق محمد خاں رابع کو اختیارِ حکومت سپرد کرنے کی رسم اسی محل میں 28 نومبر 1879 کو ادا کی گئی۔ اس موقع پر محل کو خوب سجایا گیا اور ایک عالیشان دربار منعقد ہوا جس میں پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر سر رابرٹ ایجرٹن نے نواب صاحب کو ریاست کے مکمل اختیارات سونپنے کا اعلان کیا۔نواب بہاول خاں خامس کی دستار بندی بھی اسی محل میں ہوئی۔ نومبر 1903 کو لارڈ برن کرزن وائسرائے و گورنر جنرل ہند نے نور محل میں ایک عالیشان دربارمیں نواب بہاول خاں پنجم کو اختیارات سلطانی تفویض کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس دربار میں ہندوستان کی ممتاز اہم شخصیات کے علاوہ 100 سے زائد یورپین افسران نے شرکت کی۔یہ محل ریاست کے آخری دور(1955) تک بطور سرکاری مہمان خانہ استعمال ہوتا رہا۔ یہیں پاکستان کے دوسرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے اپنے دورہ بہاولپور کے دوران قیام کیا اور نواب صادق محمدخان خامس نے ان کے اعزاز میں گارڈن پارٹی دی تھی۔آج نور محل کی دیواروں پر بہاولپور ریاست کے دور کی تلواریں اور دیگر اسلحہ سجا ہوا ہے۔ محل کے اندر موجود بڑے ہال کے اطراف میں عباسی خاندان کے نوابوں کی تصاویر اور اُن کی زندگی کے احوال مختصر طورپر درج ہیں۔ محل کی اوپر والی منزل پر نواب خاندان بالخصوص نواب سرصادق محمدخان عباسی کی قائداعظم محمدعلی جناح، برطانیہ کے شاہی خاندان اور دیگر اہم شخصیات کے ساتھ یادگاری فوٹوز آویزاں ہیں جن کے سامنے ایک ایک شاہی کرسی موجود ہے محل جو کہ اس وقت افواج پاکستان کے پاس ہے انہوں نے اس محل کو آج بھی اسی انداز سے تر تیب دے رکھا ہے جس طریقے سے ماضی میں اس کی ترتیب تھی جسے دیکھنے کے لئے آنے والے نا صرف اس کی خوبصورتی میں کھو جا تے ہیں بلکہ چند لمحوں تک انہیں ایسا محسوس ہو تا ہے نواب خاندان کے افراد ابھی ابھی محل سے باہر نکلے ہوں اور نظروں کا یہی دھو کا مسافر پاکستانی کو بھی اس وقت ہوا جب وہ محل کے اندر پہنچا تو نوابوں کی داستان کتابوں میں موجود رہ جا نے کے باوجود کچھ دیر کے لئے تو ایسا ہی محسوس ہوا کہ کچھ ہی دیر بعد محل کے چوبدار سامنے آکر با ادب با ملاحظہ ہوشیار کا نعرہ بلند کریں گے اور پھر نواب صاحب اپنی کرسی پر براجمان ہو کراحکا مات صادر کریں گے مگر یہ سب کچھ صرف خیالوں تک ہی محدود رہا مگر ایسے میں نواب صادق کے حوالے سے مسافر پاکستانی کو ایک واقعہ ضرور یادآگیایہ واقعہ کچھ اس طرح تھا کہ نواب صادق ایک بار معمولی کپڑوں میں لندن تشریف لے گئے اور وہاں پہنچنے کے بعد ایک شوروم میں جا کر اس وقت دنیا کی مہنگی ترین گاڑی رولز رائس کی قیمت دریافت کی شوروم کے ما لک نے انہیں کوئی عام آدمی خیال کر کے باہر نکال دیا جس پر نواب صادق نے کسی قسم کے رد عمل کا اظہار نہیں کیا بلکہ پاکستان آکر انہوں نے مذکورہ شوروم کو ایک خط لکھا کہ وہ ان کے شوروم کو دیکھنا چاہتے ہیں شوروم کا ما لک خوشی سے نہال ہو گیا اور جب نواب صاحب دوبارہ لندن پہنچے تو ان کا ریڈ کارپٹ استقبال کر نے کے ساتھ ساتھ خوب آئو بھگت کی ایسے میں نواب صاحب نے مالک شوروم سے دریافت کیا کہ ان کے شوروم میں اس وقت کتنی رولز رائس گاڑیاں کھڑی ہیں جس پر انہیں بتا یا گیا کہ اس وقت 6 گاڑیاں موجود ہیں جس پر انہوں نے 6کی6گاڑیاں خرید لیں اور جب یہ گاڑیاں پاکستان پہنچیں تو انہوں نے تمام گاڑیاں صفائی ستھرائی کے ذمہ دار ادارے کو دے دیں اور انہیں یہ ہدا یات جا ری کیں ان سے شہر بھر کی صفائی کا کام لیا جا ئے ان کے حکم کی تعمیل ہو ئی اور دنیا کی مہنگی ترین گاڑی سے بہاولپور میں صفائی ستھرائی کا کام شروع ہو گیا جس کے پیش نظر رولز رائس گاڑیاں جو کہ اس وقت کی مہنگی گاڑیوں میں شمار کی جا تی تھیں کی آسمان سے باتیں کر تی قیمتیں گرگئیں جس پر رولز رائس کے ما لک نے نواب بہاولپور سے نا صرف معافی مانگی بلکہ ان سے اس بات کی استدعا کی کہ ان گاڑیوں میں لگے جھاڑو کوہٹالیا جا ئے جس پر نواب صادق نے انہیں معاف کر تے ہو ئے ان گاڑیوں سے صفائی ستھرائی کا کام لینے کے عمل کو ترک کر وا دیا پھر نا جا نے وہ گاڑیاں کہاں گئیں کیو نکہ نور محل جو کہ ایک طویل عریض باغ پر مشتمل ہے میں نواب کے زیر استعمال ایک بکتر بند نما گاڑی ،ایک تانگے جبکہ بہاولپور عجائب گھر میں لکڑی کے فریم کی قدیم گاڑی اور توپ کے علاوہ کوئی یادگار نظر نہیں آئی ۔

(405 بار دیکھا گیا)

تبصرے