Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 05 جون 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ارکان پارلیمنٹ کا بھی تنخواہیں ڈبل کرنیکا مطالبہ

قومی نیوز هفته 01 فروری 2020
ارکان پارلیمنٹ کا بھی تنخواہیں ڈبل کرنیکا مطالبہ

اسلام آ باد (ویب ڈیسک) کچھ ارکان پارلیمنٹ نے چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین، اسپیکر قومی اسمبلی، ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں میں 400 فیصد جبکہ تمام ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافے کیلئے قانون کا مسودہ سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرا دیا ہے

ساتھ ہی تمام ارکان پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کے سفر الاﺅنس میں اضافے کیلئے نظرثانی کی درخواست بھی کی ہے۔ تنخواہوں میں بھاری اضافے کا مطالبہ مہنگائی کی حالیہ لہر اور روپے کی قدر میں کمی کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے

مسودے میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی نے نہ صرف عام عوام بلکہ چیئرمین، اسپیکر، ڈپٹی چیئرمین، ڈپٹی اسپیکر اور پارلیمنٹ کے تمام ارکان کو بھی متاثر کیا ہے۔ سینیٹ سیکریٹریٹ نے قانون کا یہ مسودہ رائے معلوم کرنے کیلئے وزارت پارلیمانی امور اور وزارت خزانہ کو بھیج دیا ہے۔

قانون میں چیئرمین اینڈ اسپیکر (سیلریز، الاﺅنسز،اینڈ پرویلیجز) ایکٹ 1975ءمیں ترمیم کی سفارش کی گئی ہے تاکہ چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی موجودہ تنخواہ کو ڈھائی لاکھ روپے سے بڑھا کر 8 لاکھ 70 ہزار روپے کیا جا سکے۔ یہ رقم سپریم کورٹ کے جج کی بنیادی تنخواہ کے مساوی ہے۔

بل میں ڈپٹی چیئرمین اور ڈپٹی اسپیکر (سیلریز، الاﺅنسز اور پرویلیجز) ایکٹ 1975ءمیں بھی ترمیم کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی موجودہ تنخواہ ایک لاکھ 85 ہزار روپے سے بڑھا کر 8 لاکھ 29 ہزار روپے کی جا سکے، جو اسلام آ باد ہائی کورٹ کے جج کی بنیادی تنخواہ کے مساوی ہے۔

قانون کے مسودے میں ارکان پارلیمنٹ (سیلریز اینڈ الاﺅنسز) ایکٹ 1974ءمیں ترمیم کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ارکان سینیٹ اور ارکان قومی اسمبلی کی موجودہ تنخواہ ڈیڑھ لاکھ روپے سے بڑھا کر تین لاکھ روپے کی جائے۔

قانون میں یہ ترمیم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کو ان کے حلقے کے قریب ایئر پورٹ سے اسلام آ باد تک کیلئے بزنس کلاس کے 20 اوپن ایئر فضائی ٹکٹ فراہم کیے جائیں۔ بل میں کہا گیا ہے کہ سینیٹر / رکن پارلیمنٹ کے 18 سال تک کے بچوں اور شریک حیات کو بھی ملک میں یہ ٹکٹ استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار،سی این جی مہنگی

بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیشن یا کمیٹی کے اجلاس یا پھر رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے کسی سرکاری کام کاج کیلئے اپنے شہر سے آ نے اور پھر (جس شہر میں اجلاس منعقد ہو رہا ہو وہاں سے) واپس جانے کیلئے (اول) اگر سفر ٹرین کے ذریعے کیا گیا ہو تو ایئرکنڈیشن کلاس کے کرایے کے مساوی رقم (دوم) اس بات سے قطع نظر کہ مذکورہ روٹ پر پی آ ئی اے بزنس کلاس آ پریشن رکھتی ہے یا نہیں

ایک بزنس کلاس فضائی ٹکٹ کے مساوی رقم بشرطیکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سیکریٹریٹ تک کیلئے پی آ ئی اے اصل ریٹ یا ممکنہ بزنس کلاس کرایہ پیش کرے گا؛ اگر مذکورہ شہر سے پی آ ئی اے بزنس کلاس سفری سہولت فراہم نہیں کرتا تو اس صورت میں 2 اکانومی ٹکٹ کے مساوی رقم دی جائے گی۔

(سوم) اگر سفر بذریعہ سڑک کیا گیا ہو تو اس صورت میں 25 روپے فی کلومیٹر کے حساب سے الاﺅنس دیا جائے گا۔ بل میں یہ شق بھی شامل ہے کہ دو شہروں کے درمیان سفری الاﺅنس صرف اسی صورت ملے گا جب دونوں شہروں کے درمیان کم سے کم اور قابل عمل راستہ اختیار کیا جائے گا۔

(1910 بار دیکھا گیا)

تبصرے