Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 06 جولائی 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

برہمن آباد سے عربوں کے دارالحکو مت منصورہ تک

تحریر :مختار احمد-مسافر پاکستانی ...عکاسی :شبیر احمد جمعه 31 جنوری 2020
برہمن آباد سے عربوں کے دارالحکو مت منصورہ تک

اگر تہذیب تمدن و ثقافت کی بات کی جا ئے تو صرف ملک بھر میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں صوبہ سندھ کو ایک اہم مقام حاصل ہے اور یہاں تک کے قدیم تہذیب رکھنے کے حوالے سے اس کے ورثے عالمی ورثوں کی فہرست میں شامل ہیں اس سلسلے میں اب تک ملنے والی تہذیبوں میں دنیا بھر میں سب سے قدیم تہذیب کے طور پرانڈس ویلی یعنی کے دریائے سندھ کی تہذیب کو ما نا جا تا ہے جو کہ صرف موہن جودڑو تک ہی محدود نہیں بلکہ اس کی شاخیں ہڑپہ کے صورت میں پنجاب ،ٹیکسیلا کی صورت میں راولپنڈی بلکہ اس سے آگے تک جا پہنچتی ہیں اور اسی وجہ سے دنیا بھر سے سیاح جوق درجوق ان تہذیبوں کو دیکھنے کے لئے پاکستان کا رخ کر تے ہیں اور اس وقت حیران ہو جا تے ہیں جب انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں5000 سال قبل بسنے والے نا صرف اس وقت جب دنیا کے بیشتر مقامات پر لوگ غاروں میں رہنے کے ساتھ اپنے تن کو چھپا نے کے لئے لباس استعمال کر تے تھے جبکہ انہوں نے پینے کے پا نی کے لئے کنویں بنا رکھے تھے جبکہ نکاسی آب کے بھی خصوصی انتظا مات ہو نے کے ساتھ ساتھ دنیا کی پہلی یو نیورسٹی ،کالجز اور اسکولز قائم تھے اور اسی وجہ کر ان تہذیبوں کو نمایاں مقام حاصل تھا اور ہماری قدریں صرف ان ورثوں پر ہی ختم نہیں ہو تیں بلکہ سنجیدہ کوششوں کی صورت میں کئی اور قدیم ورثے بھی دریافت ہو سکتے تھے مگر اس جا نب کبھی تو جہ نہیں دی گئی جس کے سبب کئی قدیم تہذیبیں اس وقت بھی منوںمٹی تلے دبی ہو ئی ہیں مگر انہیں دریافت کر نے والا کو ئی نہیں اور اگر کچھ اور تہذیبیں دریافت بھی ہو ئیں تو اس طرف سرے سے کو ئی تو جہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے وہ آج بھی گمنا می کے اندھیروں میں ڈوبی ہو ئی ہیں ایسی ہی قدیم تہذیبوں میں وسطی سندھ سانگھڑ جسے قدامت کے اعتبار سے 3000 سال قدیم قرار دیا جا تاہے اور اس کا نام سانگھڑ ہو نے کے حوالے سے بعض مورخین کا کہنا یہ ہے کہ یہ بھی مچھیروں کا ایک چھوٹا سا گائوں تھا جہاں ایک خدا ترس خاتون سنگھڑ با ئی کو شخصیت کے حوالے سے ایک نمایاں مقام حاصل تھا لہذا اس گائوں کا نام بھی سنگھڑ گوٹھ ہو گیا اور پھر جب اس گائوں کی آبادی بڑھی اور سنگھڑ با ئی کا انتقال ہو گیا تو گائوں کا نام بگڑ کرسنگھڑ سے سانگھڑ ہو گیا جہاں کی زمین کے انتہا ئی ذرخیز ہو نے کی وجہ سے یہ علاقہ سر سبز و شاداب تھا 1935 میں جب انگریزوں کی حکمرانی تھی تو انہوں نے سانگھڑ کو ایک تحصیل کا درجہ دے دیا اور حسب روا یت اس شہر کی قدامت معلوم کرنے کے لئے کھدائیاں کروائیں ایسے میں انہیں ماضی کے بہمن آباد میں کھدائی کے دوران ایک قلعہ بند شہر دریافت کیا اورملنے والے نوادرات کی روشنی میں انہوں نے 17ویںصدی کی قدیم تہذیب قرار دیا اور وہاں سے ملنے والے نوادرات جن میں سکے ،برتن ،ناکرو دیگر اشیا کے سبب ایک عظیم تہذیبی ورثہ قرار دے دیا اور پھرانگریزوں کی عدم دلچسپی کے سبب یہ تہذیب تاریخ کے گمشدہ اوراق میں شامل ہو گئی اور جب انگریزوں نے قیام پاکستان کی وجہ سے یہاں سے کوچ کیا تو چند انگریز ماہرین آثار قدیمہ نے ایک بار پھر ملنے والی اس قدیم تہذیب پر کام شروع کر دیا اور 1965سے1998تک محکمہ آثار قدیمہ کے ساتھ مل کر نا صرف اس قدیم تہذیب کو دریافت کر لیا بلکہ اسے محفوظ بھی کر دیا تھامگر اس کے با وجود 800ایکڑ کے رقبے پر پھیلی ہو ئی اس تہذیب جہاں بدھسٹ کا اسٹوپا ،مسجد ،مندر اور مزار کے آثار بر آمد ہو ئے تھے کے بارے میں لوگوں کو آگاہی نہ مل سکی اور یہ دھیرے دھیرے کھنڈرات میں تبدیل ہو تا رہا یہاں تک کے اس کے اطراف میں لوگوں نے اس تباہ حال قلعہ بند شہر کے اینٹوں سے نا صرف پختہ مکا نا ت تعمیر کر لئے بلکہبا قاعدہ طور پر اس قدیم ورثے کے مختلف آثار پر اپنے آبائو اجداد کو کی قبریں بنا نا شروع کر دیں جو کہ آج بھی نمایاں طور پر جا بجا نظر آتی ہیں مگر کیو نکہ محکمہ آثار قدیمہ اس حوالے سے ایک تاریخ مر تب کرچکا تھا اور مورخین بھی دریافت ہو نے والے اس شہر کے حوالے سے اپنی آراء پیش کر رہے تھے انہوں نے اپنی اپنی تحقیق کی روشنی میں علیحدہ علیحدہ باتیں کیں کسی نے کہا کہ یہ علاقہ ماضی کا بہمن آباد ہے جہاں بہمن قبائل کے لوگ آباد تھے کسی نے اسے بر ہمن آباد قرار دیاتو بعض مورخین اسے راجہ داہر کی راجدھانی قرار دیتے رہے تو چند ایک نے اسے عربوں کا دارالحکو مت منصورہ قرار دیا جس کے سبب مورخین میں تو کبھی اتفاق قائم نہ ہو سکا مگر اس حوالے سے محکمہ آثار قدیمہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین آثار قدیمہ نے اپنی تحقیق کی روشنی میں اس جگہ را جہ داہر کا قلعہ ہو نے کے ساتھ ساتھ اس بات کی تصدیق کی کہ یہ عربوں کا دار الحکو مت منصورہ ہی ہے انہیں ماہرین کا کہنا یہ تھا کہ یہ قلعہ بند شہر محمد بن قاسم کے صاحبزادے امر بن محمد بن قاسم نے بسایا تھا اور جس کی تصدیق یہاں سے ملنے والے ان قدیم سکوں سے ہوئی جس پر امر بن قاسم کا نام درج تھا نیز کھدائی کے دوران یہاں دروازے پر دستک دینے کے لئے منوں وزنی کنڈے بھی دریافت ہو ئے جن کے در میان میں جن کی شکل نمایاں ہے جبکہ اس کے چاروں طرف کلمہ طیبہ درج ہے جس طریقے سے اس شہر کی تعمیر کے حوالے سے مورخین میں اختلا فات پا یا گیا اسی طرح اس شہر کی تبا ہی کے حوالے سے بھی مورخین اور ماہرین آثار قدیمہ کی علیحدہ علیحدہ آراء ہیں بعض کا کہنا یہ ہے کہ موہن جودڑو اور ہڑ پہ کی طرح اس شہر کو بھی دریا ئے سندھ کی طغیا نی نے تباہ کیا تو بعض اس شہر میں ہو نے والی تبا ہی کی ذمہ داری خوفناک زلزلے کو قرار دیتے ہیں مگر اس حوالے سے ماہرین آثار قدیمہ کی را ئے یکسر مختلف ہے ماہرین کا دعوی ہے کہ اس شہر کے اندر ایک را جہ کی حکمرانی تھی جس کے ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات تھے جب محمود غزنوی سومناتھ کے مندر کو فتح کر نے نکلا تو اس نے اس را جہ سے اپنی فوج کو دریا پار کر نے کے لئے کشتیاں مانگی مگر اس نے انکار کر دیا جس پر محمود غزنوی نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر کشتیاں حاصل کیں اور افغانستان کا رخ کیا اور لوٹ مار کر نے کے بعد سومناتھ کے مندر کو بھی تباہ و برباد کر دیا اور فتح کے نشے میں سرشار ہو کر جب واپس لوٹا تو اس نے را جہ سے انتقام لینے کے لئے قلعہ بند شہر کے چاروں اطراف پڑائو ڈال دیا مگر قلعے کا دروازہ بند ہو نے کے سبب اندر داخل نہ ہو سکا اور با لا آخر اس کے فوجیوں نے قلعے کے چاروں اطراف سے آگ لگا دی اور لوٹ مار کر نے کے بعد غائب ہو گیا جس کے بعد اس شہر کا نام صفحہ ہنستی سے مٹ گیا تھا جسے ماہرین نے اپنی کھوج کے بعد ایک بار پھر تاریخ کے اوراق میں زندہ تو کر دیا مگر محکمہ آثار قدیمہ کی جا نب سے اس کی دیکھ بھال نہ ہو نے کے سبب عربوں کا درالحکو مت کھنڈرات کے ڈھیر میں تبدیل ہو تا گیا اور آج بھی یہ قدیم اور عظیم شہر کھنڈرات اور ملبے کے ڈھیر کے علاوہ کچھ نہیں جسے غور سے دیکھنے پر یہ پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں یہ کوئی قدیم شہر ہوگا وہ تو بھلا ہو وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا جن کی مدبرانہ ،دانشمندانہ پالیسیوں کے سبب جب پاکستان کا دنیا بھر میں مورال بلند ہوا اور بر طانیہ نے ملک پاکستان کو سیف زون قرار دیتے ہو ئے اپنے شہریوں کو پاکستان میں سیاحت کر نے کی دعوت دے ڈالی اور اس کے ہائی آفیشل نے با قاعدہ طور پر 26گھنٹے ٹرین کا سفر کر کے پاکستا ن کو دہشت گردی سے پا ک ایک محفوظ ملک قرار دیا اور پھر کچھ اور مما لک نے بھی سیاحت کے فروغ کے حوالے سے حکو مت سے کچھ معاہدے کئے تو حکو مت سندھ بھی خواب غفلت سے جاگ گئی اور اس نے فوری طور پر اپنے قدیم ورثوں کی طرف تو جہ دینا شروع کر دیا اور دریافت ہو نے والی تہذیبوں کو اس کی اصل حا لت میں لا نے کے لئے ہنگا می بنیادوں پر کام شروع کر دیا اور کیو نکہ حکو مت سندھ کے پاس ماہرین آثار قدیمہ کی کمی تھی لہذا فوری طور پر ایک ریٹائر ہو نے والے سابق ڈائریکٹر جنرل قاسم علی قاسم جنہوں نے موہن جودڑو ،ہڑپہ اور ٹیکسیلا کی دریافت میں معاون کردار ادا کیا تھا اور 1998میں منصورہ شہر کی کھدائی میں بھی حصہ لیا تھا ان کی خدمات مستعار لیتے ہو ئے انہیں منصورہ میں تعینات کر دیا اور فوری طور پر اس شہر کو اس کی اصل حا لت میں لا نے کی ہدایات کر دی جس کے بعد سابق ڈی جی نے منصورہ میں بنا ئے ہو ئے کیمپ میں ڈیرے ڈال لئے اور کچھ اور ماہرین کے ساتھ با قاعدہ طور پرایک بار پھر اس شہر کا وقار لوٹا نے کا کام شروع کر دیا اسی حوالے سے مسافر پاکستا نی نے بھی برہمن آباد کا رخ کیا تو بر ہمن آباد کے کا فی فا صلے کے بعد اس قدیم تہذیب کا مطالعیاتی دورہ کیا اور اس تہذیب کے مٹتے ہو ئے آثار دیکھے جہاںماسوائے ایک قدیم مزار ،اسٹوپا ،مسجد اور آبادی کے مٹتے ہو ئے آثار کے علاوہ کچھ نظر نہیں آیا جس پر مسافر پاکستانی نے سابق ڈائریکٹر جنرل قاسم علی قاسم سے بلا مشافہ بات کی اور کہا کہ یہ عربوں کا دارالحکو مت منصورہ ہے اور اس کی کھدائی کے دوران با قاعدہ طور پر ایسے شواہد حاصل ہو چکے ہیں جبکہ اس شہر محمود غزنوی نے جلا کر خاک کیا تھا اس کے آثار بھی بر آمد ہو چکے ہیں جبکہ کھدائی کے دوران ایسے قرآنی اوراق بھی ملے ہیں جنہیں شہید کیا گیا تھا جبکہ ملنے والے منوں وزنی کنڈوں پر بھی کلمہ طیبہ درج ہے جس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ یہ منصورہ ہے انہوں نے کہا کہ یہ شہرتہذیب و تمدن کے حوالے سے انتہا ئی ترقی یا فتہ شہررہا ہو گا جہاں با قاعدہ طور پر سکے ڈھالنے کے لئے ٹیکساس موجود تھے جہاں محمد بن قاسم کے صاحبزادے امر بن محمد بن قاسم کے ناموں کے سکے ملے ہیں ان کا کہنا تھا کہ یہ مسلمانوں کی قدیم تہذیب تھی لہذا حکو مت سندھ نے اسے دوبارہ اس کی پرا نی حا لت میں لوٹا نے کا جو کام شروع کیا ہے وہ نا صرف قابل تحسین ہے بلکہ حکو مت سندھ کے اس اقدام کے سبب سندھ میں ایک اور تہذیب کا اضافہ ہو گا جسے دنیا بھر سے سیاح دیکھنے کے لئے آئیں گے جس سے نا صرف ملک کے اندر زرمبادلہ آئے گا بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کے پر امن ملنے کا پیغام جا ئے گا ۔

(428 بار دیکھا گیا)

تبصرے