Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 06 اپریل 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

قائداعظم کے ساتھی کی قبر کا تقدس بحال

تحریروتحقیق:مختار احمد اتوار 26 جنوری 2020
قائداعظم کے ساتھی کی قبر کا تقدس بحال

یہ کو ئی کل یا پرسوں کی بات نہیں بلکہ سال گزشتہ فروری میں قومی کے بلاگ میں شائع ہو نے والے ایک آرٹیکل جس میں بلاگر نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے دیرینہ ساتھی اور سندھ کے پہلے گورنر شیخ ہدا یت اللہ جو کہ مشہور صوفی بزرگ حضرت عالم شاہ بخاری کے ایم اے جناح روڈ پر واقع مزار مبارک سے متصل قدیم عید گاہ گرائونڈ کے ایک احاطے جہاں سانحہ نشتر پارک میں شہید ہو نے والے 3اہم رہنما جن میں مو لا نا عباس قادری ،مولاناافتخاربھٹی ،انجینئر عبدالعزیزخان اور دعوت اسلامی کے با نی عبدالقادر باپو بھی مدفون ہیں اسی جگہ قیام پاکستان کے لئے عظیم قربا نی پیش کر نے والے قائد اعظم کے قریبی ساتھی کی قبر مبارک بھی موجود ہے جسے محکمہ اوقاف نے چاردیواری بنا کر بند کر دیا ہے اور صرف ایک فٹ کی جگہ چھوڑی ہے تا کہ کسی کو اس عظیم شخصیت کے قبر کے بارے میںکوئی معلومات نہ ہو سکے اور پھر اس قبر کو صفحہ ہستی سے مٹا نے کے لئے محکمے کی جا نب سے کاٹھ کباڑ اور گندگی پھینکنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا جس کے سبب وطن کی تعمیر میں حصہ لینے والی اس عظیم شخصیت کی قبر مکمل طور پر کباڑ خا نے میں تبدیل ہو گئی تھی نیز اس قبر کو لوگوں کی نظروں سے اوجھل رکھنے کے لئے محکمے کے کارندوں نے بڑے بڑے پا نی کے ٹینک دیواروں کے گرد رکھ دئے تھے جس سے اس احاطے میں آنے والوں کو یہ گمان ہو تا تھا کہ یہ کو ئی واش روم ہے محکمے کی اس زیادتی اور عظیم مر تبت شخصیت کی قبر کی بے حرمتی ،بے توقیری کو دیکھتے ہو ئے قومی کے بلاگر نے قلم اٹھا یا اور نا صرف مسلم لیگی رہنما شیخ غلام حسین ہدایت اللہ کی زندگی کے بارے میں تفصیلی مضمون شائع کیا جس میں بلاگرنے انکشاف کیا کہ مسلم لیگی رہنما شیخ غلام حسین ہدایت اللہ اور ان کی زوجہ صغریٰ بیگم جو کہ لیڈی ہدایت اللہ کے نام سے مشہور تھیں دونوں نے ہی تحریک پاکستان کی جدو جہد میں نما یاں طور پر حصہ لیا جب آل انڈیا مسلم لیگ کا آخری تاریخی اجلاس جس میں قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کا آخری خا کہ پیش کیا تو لیڈی ہدایت اللہ سمیت متعدد رہنمائوں نے پنجاب اور بنگال کے نمائندوں نے اس تقسیم پر سخت بر ہمی کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ انہیں کٹے پھٹے صوبوں پر مشتمل پاکستان نہیں چاہئے جس پر سر غلام حسین ہدایت اللہ اپنی نشست سے اٹھے اور فر ما یاں کہ بنگال اور پنجاب کے جن علاقو ں کو پاکستان سے جدا کیا جا رہا ہے ان تمام میں ہندئوں اور سکھوں کی اکثر یت ہے جو کہ بھا رت کی شہہ رگ پر پاکستان کی نوزائیدہ مملکت کو کسی طور پر کامیاب نہیں ہو نے دیں گے اور اس طرح ان کی اس دلیل پر پاکستان کی تقسیم کا الجھا ہوا مسئلہ حل ہو گیا سر غلام حسین ہدا یت اللہ ہوں یا ان کی اہلیہ دونوں نے ہی جدو جہد پاکستان کے لئے اہم رول ادا کیا اوران کا شمار قائد اعظم محمد علی جناح کے متعمد ساتھیوں میں کیا جا تا تھا غلام حسین ہدا یت اللہ 1879سندھ کی سر زمین شکار پور میں پیدا ہو ئے انہوں نے سندھ مدرسۃ السلام ،ڈے جے کا لج اور گورنمنٹ لاء کالج بمبئی سے وکالت کی تعلیم حاصل کی اور حیدر آباد میں قانو نی مشک شروع کی 1921میں بمبئی قانون سازی کے رکن منتخب ہو گئے اور کیو نکہ ذہا نت ،شرا فت ،دیا نت کے نام پر وہ اعلی درجے پر فائز تھے لہذا اسی سال انہیں وزیر منتخب کر لیا گیا اور کیونکہ انہوں نے بر طانوی دور میں وزیر کی حیثیت سے اہم اصلاحات کی اور سندھ میں تعمیر ہو نے والے سکھر بیراج کے لئے نما یاں خد مات سر انجام دیں لہذا انہیں انگریز سر کار نے ان کی خد مات کے اعتراف میں خان بہا در کے اعزاز سے نوازااور چونکہ سیاسی اعتبار سے ان کا شمار صف اول کے رہنمائوں میں کیا جا تا تھا لہذا انہیں آل انڈیا مسلم لیگ میں نما یاں مقام حاصل رہا اور انہیں 1937سے1938تک پہلے وزیر اعلی سندھ اور 1942سے1947تک پانچویں وزیر اعلی سندھ بننے کا اعزاز حاصل ہوا اس دوران انہوں نے نا صرف تعلیمی میدان میں نما یاں خد مات انجام دیں بلکہ اگر انگریزوں کے دور میں سندھ میں ہو نے والی ترقی کے پیچھے بھی ان کا ہا تھ تھا اور جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو قائد اعظم کے قریبی ساتھی اور زیرک سیاستداں ہو نے پر انہیں قیام پاکستان کے بعد پہلے گو رنر سندھ کا منصب عطا کیا گیا انہوں نے 15اگست 1947کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا یا اور با نی پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا کے نقشے پر وجود میں آنے والے نئے ملک کو بنا نے کا کام شروع کر دیا اور وہ اور ان کی اہلیہ دن رات بھارت سے آنے والے وہ مہا جرین جو کہ بے سرو ساماں تھے کو بسا نے کا کام شروع کر دیا اور ان کے گھر سے با قاعدہ طور پر پاکستان آنے والے مہاجرین کے لئے کھا نا بھی بھیجا جا تا تھا حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سر ہدا یت اللہ کوئی سر ما یہ دار نہیں تھے مگر اس کے با وجود انہوں نے کبھی سرکاری خزا نے سے تنخواہ کی مد میں کچھ بھی وصول نہیں کیا مگر اس کے با وجود ان کے گھر سے مہاجرین کے لئے لنگر کا سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا پھر جب 11 ستمبر 1948کو با نی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اس دنیا سے رخصت کر گئے انہوں نے مو لا نا شبیر احمد عثما نی کی اقتدا میںان کی نماز جنازہ پڑھی اور صدمے کے باعث بیمار ہو گئے اور قائد اعظم کی وفات کے ٹھیک 23دن بعد14اکتو بر 1948کو انتقال کر گئے اور کیو نکہ وہ شہر کراچی کی پہلی قدیم عیدگاہ اور مسجدجو کہ مشہور صوفی بزرگ حضرت عالم شاہ بخاری کے مزار سے متصل ہے میں با قاعدگی سے نمازاداکر نے اور ان کی خواہش اور وصیت کے مطا بق تدفین کر دی گئی اور ان کی قبر کو پختہ کر کے اس پر ٹائلیں لگا نے کے ساتھ ساتھ ان کے نام کی تختی آویزاں کر دی گئی جہاں مادر ملت محتر مہ فاطمہ جناح سمیت سر کاری اور غیر سر کاری شخصیات حاضری دیا کر تے تھے اور عید گاہ کے قرب و جوار میں رہنے والے بزرگوں کا دعوی ہے کہ جب مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح مزار پر حاضری کے لئے تشریف لا تیں تو علاقے کے جمع ہو جا نے والے بچوں کو چار چار آنے دیا کر تی تھیں یہ سلسلہ مادر ملت کے زندہ رہنے کے کافی عرصے بعد تک جاری رہا اور اس کے بعد جب اوقاف کا محکمہ 1960میں وجود میں آیا تو اس نے ایک سازش کے تحت سندھ کے پہلے گو رنر کی قبر کے چاروں طرف بغیر کسی دروازے کے اونچی دیواریں تعمیر کر وادیں تا کہ کسی کو یہ معلوم نہ ہو سکے کہ یہ قیام پاکستان میں اہم رول ادا کر نے والے عظیم مرتبت شخص کی قبر ہے اوریوں سندھ کے پہلے گورنر کی قبرعرصہ دراز تک اوقاف کی دیواروں میں قید ہے اور جرات کے جرات مندانہ اقدام کے باوجود قبر کی حا لت زار نہ بدلی جس پر قومی بلاگ میں مزید رپورٹیں شائع کیں مگر شرم ہم کو نہیں آتی کے مثل کے مصداق محکمے نے قبر مبارک سے کباڑ خا نے کو ختم نہیں کیا اور ٹوٹے پھوٹے فرنیچر ،پا نی کے پائپ ،پا نی کے ٹینک و دیگر کباڑ انبار کی صورت میں جمع ہو تا رہا اور یہاں تک کے قبر مکمل طور پر کچرے کے ڈھیر میں دب گئی مگر پھر اچانک قومی اخبار کی کاوشیں کام آگئیں اور دیر عائد درست عائد کے مثل کے مصداق ان انکشافات پر سیکریٹری اوقاف نے اس بات کا سختی سے نوٹس لیتے ہو ئے حضرت عالم شاہ بخاری کے مزار مبارک پر تعینات کئے جا نے والے نئے مینیجر محمد نصرت خان سے شدید بر ہمی کا اظہار کرتے ہو ئے فوری طور پر سندھ کے پہلے گورنر کے قبر مبارک کی صفائی ستھرا ئی کے احکا مات جاری کئے اور مینیجر اوقاف نے قبر مبارک کی مکمل طور پر صفائی ستھرا ئی کے بعد نا صرف اسے غسل دیا بلکہ محکمے کے وہ غافل افسران جو کہ اس کے ذمہ دار تھے نے قبر مبارک پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر نے کے ساتھ ساتھ ایک بار پھر چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی جس کے بعد قبر کا تقدس تو بحال ہو گیا مگر مذکورہ قبر اب بھی چاردیواری میں قید ہے اور جس میں آنے جا نے کے لئے صرف ایک فٹ کی جگہ چھوڑی گئی ہے جس پر عوام الناس نے قومی ویب سائٹ کے پلیٹ فارم سے محکمہ اوقاف کے اعلی حکام سے اس بات کی اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر اس چاردیواری کو مسمار کر کے قبر کی پھر سے تزین و آرائش کرا ئی جا ئے تا کہ آنے والی نسلیں اپنے ان محسنوں کو یاد رکھ سکیں کیو نکہ جو قومیں اپنے محسنوں کو فراموش کر دیتی ہیں وہ کبھی ترقی نہیں کرتیں لہذا ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو نے کے لئے ناصرف اپنے محسنوں کو یاد رکھیں بلکہ انہیں عزت و مقام بھی بخشیں ۔

 

(234 بار دیکھا گیا)

تبصرے