Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 12 جولائی 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

خودکشی میں سندھ سب سے آگے

قومی نیوز جمعه 10 جنوری 2020
خودکشی میں سندھ سب سے آگے

کراچی / تھر پارکر (قومی اخبار نیوز) صوبہ سندھ میں خودکشی کا تشویشناک رجحان پروان چڑھ رہا ہے اور اس کے بڑھتے اعداد و شمار نے خطرے کی گھنٹیاں بجا د یں.

سندھ میں 5برس کے دوران 1300 سے زائد افراد نے اپنی زندگیوںکا خاتمہ کیا۔ خودکشی کرنے والے 700سے زائد افراد کی عمریں 21سے 40سال کے درمیان ہیں ، خودکشی کا سب سے زیادہ رجحان میرپورخاص ڈویژن میںدیکھنے میں آ یا جہاںپر 646 افراد جان سے گئے اور ان میں بیشتر نوجوان اور خواتین شامل ہیں

دوسرے نمبر پر حیدرآ باد ڈویژن رہا جہاں 299نے خودکشی کی،سندھ میں خودکشیوں کے اعتبار سے ضلع تھرپارکر سب سے زیادہ متاثر رہا ، سب سے کم رجحان سکھر ڈویژن میں دیکھنے میں آ یا ، خودکشی کرنے والے 81فیصدافراد کا تعلق انتہائی پسماندہ یا پسماندہ طبقے سے تھا، غربت ، بیروزگاری اور بنیادی سہولتیں نہ ملنا بڑی وجوہات ہیں۔

سندھ میں ایک مرتبہ پھر گورنر راج کی بازگشت

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر خودکشیوں کے رجحان کے تدارک کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب صوبائی ترجمان مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ خودکشی گورننس کا نہیں سماجی مسئلہ ہے ،پاکستان بھر میں اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں جس کے ایک سے زائد فیکٹرز ہو سکتے ہیں

اسے کسی ایک سیاسی جماعت یا ایک حکومت سے نتھی کرنا غیر مناسب ہے، یہ سماجی مسئلہ ہے اور سارے پاکستان اور دنیا بھر میں یہ مسئلہ نظر آ تا ہے۔ایم کیوایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے رکن و ممبر صوبائی اسمبلی سندھ خواجہ اظہار کا سندھ میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا۔

اپنے ایک بیان میں خواجہ اظہار الحسن نے سندھ حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان انتہائی تشویشناک ہے اور واقعات و اطلاعات کے مطابق سندھ میں خودکشی کا رجحان مزید بڑھتاجارہا ہے جس پر سندھ کی حکمران جماعت مسلسل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

سلیمانی کا بدلہ ، ایران کا امریکا پر حملہ

خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ اندرون سندھ میں خودکشی کی بڑی وجہ صحت سہولیات کی عدم فراہمی،غربت، بے روزگاری اور دیگر سہولیات کا نہ ہونا ہے،اندرون سندھ کی معصوم عوام غربت کی وجہ سے خودکشی تو کراچی میں نا اہل سندھ حکومت کی موروثی سیاست کے سبب معصوم بچے انکیوبیٹر میں جھلس رہے ہیں۔

انہو ں نے کہا کہ سندھ میں پانچ سال میں تقریبا ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد خودکشی کرچکے ہیں اور اس میں مسلسل اضافہ ہوتاجارہاہے جو سندھ کی حکومت کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔سندھ حکومت کے وزراء،مشیر،ترجمان ارکان قومی و صوبائی اسمبلی عوامی مسائل پر بات کرنے کے بجائے حکومتوں پر تنقید اور اپنے کرپٹ لیڈران کو بچانے میں مصروف ہیں۔

خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ اندرون سندھ خود کشی کے واقعات میں قحط سالی کا شکار سہرائے تھر سب سے زیادہ متاثر ہے جبکہ قحط سالی سے نمٹنے کیلئے تھر میں ہنگامی حالت نافذ کی جائے

(1222 بار دیکھا گیا)

تبصرے