Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 04 جولائی 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پاکستانی مدد نہ ملنے پر امریکا پریشان

قومی نیوز منگل 07 جنوری 2020
پاکستانی مدد نہ ملنے پر امریکا پریشان

تہران، واشنگٹن،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے خلاف پاکستانی مدد نہ ملنے سے امریکہ کی پریشانی بڑھ گئی‘ واشنگٹن پاکستان سے ایران کے خلاف نائن الیون کے بعد جیسا تعاون چاہتا تھا

ملک کے اہم پالیسی سازوں سے رابطے میں رہنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی ٹاپ ملٹری جنرل کو نشانہ بنانے کے بعد ابھی امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے فون پر رابطہ بھی نہیں کیا تھا کہ اس سے قبل ہی اندرون خانہ ہونے والی ہنگامی مشاورت میں یہ طے کرلیا گیا تھا کہ امریکہ ایران تنازعہ میں پاکستان پارٹی نہیں بنے گا جس کا اعلان بعد میں فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھی کیا۔

پاکستان کو دھمکیاں نہیں دیتے، سعودی اعلامیہ

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تشویشناک ہے، پاکستان کسی یکطرفہ کارروائی کی تائید نہیں کرتا،طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں اس سے حالات بگڑ سکتے ہیں حل نہیں ہوسکتے، مشرق وسطیٰ کا خطہ کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا اسکے بھیانک اثرات مرتب ہونگے اور آ گ کی تپش سے ہم بھی نہیں بچ پائیں گے

پاکستان سمجھتا ہے کہ اس مسئلے کا مناسب راستہ سفارتی ذرائع کے ذریعے حل ہے، پاکستان کی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہیں ہوگی،ایک طرف ہمارا پڑوسی ہے اور دوسری طرف پاکستانیوں کے مفادات ہیں پاکستان کسی بھی علاقائی تنازع کا فریق نہیں بنے گااور نہ ہی آ گ بھڑکانے کا حصہ بنے گابھارت میں احتجاج کی کیفیت ہے اور اپنے اندرونی حالات سے توجہ ہٹانے کیلئے فالس فلیگ آ پریشن کر سکتاہے۔

پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہماری اولین ترجیح رہے گی،پاکستان کے مفاد کو دیکھیں اس وقت پاکستان کو خطرات کا سامنا ہے،اپوزیشن بیان بازی نہ کرے تجاویز دے۔

امریکہ عالمی ججوں کو گرفتار کرنیکی دھمکی دے چکاہے

ذرائع کے مطابق امریکہ کو ایک بار پھر پاکستان سے نائن الیون واقعہ کے بعد جیسے تعاون کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی کے لئے اسے سب سے بہترین عراق کا راستہ اب دستیاب نہیں جہاں اُس نے 2003ءمیں اپنی ہمنوا حکومت بنائی تھی‘ اس وقت عراق کا 60 فیصد حصہ ایرانی اثر و رسوخ کے زیر اثر آچکا ہے۔ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عراق میں امریکہ مخالفت جذبات عروج پر ہیں۔

امریکہ عراق میں موجود اپنے 2 سو فوجی اہلکاروں کو جان بچا کر عراق سے نکل جانے کا حکم دے چکا ہے۔ دوسری جانب ایران کے خلاف افغانستان کو بھی امریکہ اپنا بیس آف آپریشن نہیں بناسکتا‘ کیونکہ طالبان ایسا نہیں ہونے دیں گے‘ پھر کویت نے بھی اپنی سرزمین اور فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال کرنے سے دوٹوک انکار کردیا ہے‘ جبکہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی دیگر خلیجی ممالک اپنے پڑوس میں جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

کشمیریوں سے یکجہتی کا دن، عوام سڑکوں پر نکل آئے

یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہی ایسا ملک رہ گیا جسے امریکہ اپنا بیس آف آپریشن بنانے کے لئے ماضی کی طرح شمسی ایئربیس کے حصول کی خواہش رکھتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے صاف انکار پر امریکہ کی یہ امید دم توڑگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکہ سے جلد بدلہ لینا ایران کی مجبوری ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے سے تہران حکومت گرجائے گی لہٰذا ایران بدلہ لینے کے لئے کسی اہم فوجی شخصیت یا فوجی اڈے کو ہی نشانہ بناسکتا ہے۔

(1904 بار دیکھا گیا)

تبصرے