Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 06 اپریل 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

قصہ کہا نی بازار سے قصہ خوانی بازار پشاور تک...

تحریر :مختار احمد جمعرات 02 جنوری 2020
قصہ کہا نی بازار سے قصہ خوانی بازار پشاور تک...

پھولوں کا شہر کہلانے والے پشاور کو جنوبی ایشیا کے واحد قدیم ترین اور زندہ تاریخی شہر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ماہرین آثار قدیمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پشاور کی سرزمین کم از کم دو ہزار تین سو برس قبل آباد ہوا تھااور ہمیشہ سے بیرو نی حملہ آوروں کی زد میں رہا جس کے سبب یہ قدیم شہر کئی بار تبا ہی و بربادی کا شکار رہا مگر اس کے باوجود پشاور شہر کویہاں کے غیور اور محنت کش لوگوں نے نا صرف بار بار آباد کیا بلکہ اس کی شان و شوکت برقرار رکھی یہی وجہ ہے کہ قدیم پشاور آج بھی اپنے تاریخی ورثوں کی صورت میں یادوں کا امین نظر آتا ہے گو کہ اب ماضی کے تمام تر قدیم ورثے تو موجود نہیں مگر شہر پشاور کے چند تاریخی دروازے جن میں کوہاٹی گیٹ ،لاہوری گیٹ ،کابلی دروازے ،ٹھنڈی کوئی اور ڈف گری اور رامداس بازار ،مساجد ،مندوروں اورچرچز کی صورت میں ماضی کی یاد دلاتے ہیں مگر ان سب میں سب سے زیادہ کابلی دروازے اور اس سے جڑے قصہ خوانی بازار جو کہ اب مکمل طور پر نا صرف تبدیل ہو چکے ہیں بلکہ وہاں دور جدید کے مطابق عمارتیں اور دکانیں و کاروبار نظر آتے ہیں قصہ خوانی بازار جہاں ماضی میں ایران ،افغانستان ودیگر مما لک کے تاجر بغرض تجارت آیا کر تے تھے اور تجارت کر نے کے ساتھ ساتھ اپنے سفر ،اپنے ملک کا احوال بیان کر کے خوشی خوشی لوٹ جا تے تھے میں گو کہ اب کوئی افغانستان ایران و کسی اور ممالک سے تو نہیں آتا لیکن اب بھی اندرون ملک کے تاجر نا صرف یہاں آتے ہیں بلکہ تجارتی سامان کی خرید و فروخت بھی کرتے ہیں اور کیونکہ اب تاجر اونٹوں ،گھوڑوں کے بجا ئے ٹرینوں ،جہازوں اور کوچوں کا سفر کر کے آتے ہیں لہذا وہ صرف کام سے غرض رکھتے ہو ئے تجارت کر تے ہیں اور اپنی منزلوں کی جا نب لوٹ جا تے ہیں لیکن ماضی کے قصہ خوانی بازار کے حوالے سے ان کے اندر آج بھی یہ تجسس ہو تا ہے کہ ماضی میں 2سے3ہزار سال قبل یہ بازار کیسا ہوتا تھا۔

اسی حوالے سے میرے اندر بھی ایک تجسس سا موجود تھا لہذا میں نے سفر کی ٹھا نی اور قدیم شہر پشاور جو کہ خیبر پختونخواہ کا دارالحکومت بھی ہے پہنچ گیا اور وہاں پہنچنے کے دوسرے روز ہی میں نے کابلی دروازے سمیت دیگر دروازے دیکھے اور قصہ خوانی بازار کا رخ کیا مگر اس بازار میں ماسوائے چند قدیم اور پرانی عمارتوں کے کچھ نظر نہیںآیا بلکہ اس پرانے بازارکی جگہ جدید طرز کی دکانیں نظر آئیں جن میں گارمنٹس ،جوتے ،شالیں ،ٹوپیاں و دیگر اشیا فروخت ہو رہی تھیں کچھ چھابڑی والوں نے ٹھیلے بھی لگا رکھے تھے اور ان پر انار مالٹے کے جوس اور گڑکی چکی فروخت کر رہے تھے ایسے میں مجھے دورہ قدیم کے اس جدید بازار میں ایک ایسا ہوٹل بھی نظر آیا جہاں پشاور کے مشہور مصالحے دار چاول اور مچھلی فرائی فروخت ہو رہی تھی لہذا میں بھی وہاں کھانا تناول کیاجو کہ واقعتا انتہا ئی مزیدار تھا ایسے میں میری ملاقات وہیں پشاور میں ہی پیدا ہو نے والے ایک شخص امجد خا ن سے ہو ئی اور ان سے میں نے قصہ خوانی بازار کے بارے میں تفصیلات پو چھی جس پر وہ مجھے قریب ہی واقع ایک انتہا ئی قدیم ترین عمارت کے سائے میں لے گئے اور وہاں ایک قہوہ فروش کے ہوٹل پر بٹھا دیا پھر انہوں نے بتا یا کہ ماضی میں پشاور شہر بھی دروازوں میں گھیرا ہوا ایک شہر تھا اور یہ دروازے بیرونی حملہ آوروں سے بچنے کے لئے بنا ئے گئے تھے جس میں بیشتر تباہ و برباد ہو گئے مگر چند دروازوں کو محفوظ کر دیا گیا جن میں کوہاٹی گیٹ ،لاہوری دروازہ اور کابلی دروازہ شامل ہے لیکن ماضی میں جو قصہ کوانی بازار تھا اس کی نشانیاں تقریبا مٹ چکی ہیں اور پورے قصہ خوانی بازار میں حضرت سید احمد شاہ بخاری (بت شکن) کے مزار مبارک کے ساتھ یہ قہوہ خانہ باقی بچا ہے اور یہاں کے قہوہ خا نے کو ایک خصوصی مقبولیت حاصل ہے اور دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہاں بھارتی فلم انڈسٹری کے نامور فنکاردلیپ کمار اور شاہ رخ خان کے آبائو اجداد کے کاروبار آج بھی موجود ہیں اور یہاں تک کے ان کے قریبی عزیز و رشتہ دار اب تک رہائش پذیر ہیں انہوں نے قصہ خوانی بازار کے واحد بچ جا نے والے قہوہ خا نے کا مجھے تفصیلی دورہ کرایا جہاں فرش کے اوپر قالین بچھی ہو ئی تھی اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد چینکوں میں قہوے سے لطف اندوز ہو رہے تھے میری جب قہوہ پینے والے ان افراد سے بات چیت ہو ئی تو ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ قصہ خوانی بازار پشاور کا وہ واحد قہوہ خا نہ ہے جو اب تک آباد ہے اور جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد قہوہ نوش کر نے کے لئے آتی ہے مگر اب وہ ایک دوسرے کو قصے نہیں سناتے بلکہ ملک کی سیاست اور اپنے مسائل پر تبصرہ کر نے کے بعد گھروں کو لوٹ جا تے ہیں۔

 

اس حوالے سے پشت در پشت اس قہوے خا نے کو چلا نے والے محمد نذیر جن کے پشت پر ماضی کے قصہ خوانی بازار کی ایک تصویر فریم میں نصب تھی جب ان سے میری بات چیت ہو ئی تو ان کا کہنا تھا کہ کئی پشتوں سے ان کا یہ قہوہ خا نہ موجود ہے اور اسے بانس والی منڈی کے قہوہ خا نے کے طور پر پورے پشاورمیں ایک خاص مقبولیت حاصل ہے جہاں آج بھی دور درواز سے لوگ قہوہ پینے کے لئے آتے ہیں جب ان سے ماضی کے قصہ خوانی بازار اور قہوہ خا نے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے ماضی میں جھانکتے ہو ئے کہا کہ گو کہ ان کی عمر اس وقت 80 برس ہے مگر انہوں نے بھی قصہ خوانی بازار کا اصل روپ نہیں دیکھا ہاں اس حوالے سے ان کے پاس بھی اپنے بزرگوں کی سنی سنائی کہانی وجود ہے جس کے تحت ہزاروں سال پہلے عین کابلی دروازہ جو کہ افغانستان میں کا بل کی طرف جا تا تھا کے عین سامنے جہاں آج سڑک نظر آ رہی ہے وہاں ایک جھیل ہوا کر تی تھی جس کے دونوں اطراف درختوں کے جھنڈ تھے جہاں کابل سے تجارت کے لئے آنے والے تاجر آیا کر تے تھے اور اپنے جانوروں کو درختوں اور جھیل کے ساتھ چھوڑ دیتے تھے اور جہاں وہ چرنے چگنے کا کام کر تے تھے جبکہ تاجر یہاں موجود قہوہ خا نوں میں بیٹھ کر نا صرف خوش گپیاں کر تے بلکہ ایک دوسرے کو اپنے سفر اور ملک کے حالات سنایا کر تے تھے یہی وجہ تھی کہ ابتدا میں یہ بازار قصہ بازار کہلا نے لگا جو کہ آگے چل کر قصہ خوانی بازار میں تبدیل ہو گیا ان کا کہنا تھا کہ قصہ خوانی بازارپشاور کا قدیم ترین تجارتی مر کز تھا اور کیو نکہ اس وقت بیرو نی حملہ آوروں کی جا نب سے پشاور کو بار بار نشانہ بنا یا جا تا تھا لہذا پشاور اور قصہ خوانی بازار کو حملہ آوروں سے بچانے کے لئے لاتعداد دروازے بنا ئے گئے تھے جہاں باقاعدہ طور پر سپاہی پہرہ دیتے تھے۔

 

اسی حوالے سے لیدر کی مصنوعات کا کاروبار کر نے والے حاجی محمد شریف سے بھی ملاقات ہو ئی ان کا کہنا تھا کہ قصہ خوانی بازار میں نہ تو اب قصے کہانیاں سنا نے والے موجود ہیں اور نہ ہی دوسرے مما لک سے آنے والے تاجر وںکے ٹھہرنے کے لئے کوئی مسافر خا نہ یا دھرم شالہ موجود ہے اور نہ ہی جھیل کے اطراف میں قائم لکڑی کے وہ پرا نے قہوہ خا نے موجود ہیں لہذا اب اسے جدید قصہ خوانی بازار کہا جا سکتا ہے انہوں نے بتا یا کہ ماضی کا قصہ خوانی بازار اس وقت کا مشہور و معروف بازار تھاجہاں مسافر یا تا جر ایک دوسرے کو اپنے سفر کا احوال سنا کر دل کا بو جھ ہلکا کر نے کے علاوہ اپنے اپنے دیس کی ثقافت کے بارے میں ایک دوسرے کو آگاہ کر تے تھے اور ان کے درمیان ایک دوسرے کو قصہ سنا نے کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا تھا اور صبح ہی یہ تاجر خریدے ہو ئے تجارت کا سامان لے کر اپنے وطن کی جا نب لوٹ جا یا کر تے تھے اور اسی قصہ خوانی بازار سے بغداد کے چہار درویش اور ایران کے عمر و عیار کی کہانیوں نے جنم لیا جنہیں آج بھی تحریر شکل ہو نے کے سبب انتہا ئی ذوق و شوق سے بڑھا جا تا ہے کے علاوہ بے شمار داستانوں ،قصہ، کہانیوں نے جنم لیا جس کے سبب اسے ایک خاص اہمیت حاصل ہے اور ہمیشہ رہے گی نیز ان کا کہنا یہ بھی تھا کہ قصہ خوانی بازار کے اس قدیم علاقے سے نا صرف بھارتی اداکار دلیپ کمار ،کپور خاندان اور شاہ رخ خان کا تعلق رہا ہے بلکہ یہاں ملک کے نامور علما اور سیاستدانوں نے بھی جنم لیا ہے نیز اس قدیم قصہ خواں بازار کو ایک اور اہمیت حاصل ہے جس کے تحت یہاں کے غیور بہادر لوگوں نے 1930میں انگریز فوجیوں کا دو بدو مقابلہ بھی کیا تھا جن کی یادگاریںآج بھی موجود ہیں ۔

(416 بار دیکھا گیا)

تبصرے