Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 28 جنوری 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پاکستان کا بنگلہ دیش کیخلاف ٹیسٹ میچز منتقل کرنے سے انکار

ویب ڈیسک جمعه 27 دسمبر 2019
پاکستان کا بنگلہ دیش کیخلاف ٹیسٹ میچز منتقل کرنے سے انکار

پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے بنگلہ دیش کی جانب سے پاکستان میں ٹیسٹ میچ کھیلنے کے انکار پر دوٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ٹیسٹ میچز آگے منتقل کرنا ناممکن ہے اور پاکستان اپنے میچز ہوم گراؤنڈ پر ہی کھیلے گا۔پاکستان کو آئندہ سال کے پہلے مہینے میں بنگلہ دیش کی میزبانی کرنی ہے جسے ٹی20 اور ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنی ہے۔بنگلہ دیشی ٹیم ٹی20 سیریز کے لیے تو دورہ پاکستان پر رضامند ہے لیکن ٹیسٹ میچ کے لیے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ ٹیم پاکستان بھیجنے پر رضامند نہیں۔پاکستان نے حال ہی میں دو ٹیسٹ میچوں کے لیے سری لنکن ٹیم کی میزبانی کی جس کے ساتھ ہی ملک میں 10سال کے طویل عرصے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ بحال ہوئی۔مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاکستان پر عالمی کرکٹ اور کھیلوں کے دروازے بند ہو گئے تھے لیکن سری لنکن ٹیم نے ہی پاکستان کی مدد کرتے ہوئے ملک میں ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ بحال کی۔بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو نظام الدین چوہدری نے کہا ہے کہ ہم اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں، ہم پاکستان میں صرف ٹی20 میچز کھیلنا چاہتے ہیں، بنگلہ دیش طویل دورہ پاکستان کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس سیریز سے منسلک متعلقہ افراد اور ادارے پاکستان میں طویل دورانیے کے میچز نہیں کھیلنا چاہتے اور دراصل ہمارے پاس کوئی آپشن ہے ہی نہیں، ہم ٹی20 میچز کھیل سکتے ہیں لیکن ٹیسٹ میچز کھیلنے کی بات کی جائے تو وہ نیوٹرل مقام پر ہی منعقد ہوں گے۔بنگلہ دیش کے اس بیان کے بعد پاکستان نے بھی دوٹوک موقف اپناتے ہوئے اپنے ہوم گراؤنڈ کے علاوہ کہیں اور میچ کھیلنے سے انکار کردیا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق بی سی بی نے پاکستان میں پہلے ٹی20 کھیلنے کی رضامندی ظاہر کی ہے لیکن خط میں پاکستان میں ٹیسٹ سیریز نہ کھیلنے کی وجہ نہیں بتائی۔پی سی بی کا کہنا ہے کہ بنگلادیش کی دو ٹیمیں پاکستان میں کھیل چکی ہیں لہٰذا پاکستان میں ٹیسٹ سیریز نہ کھیلنے کی وجہ بتائی جائے۔ذرائع کے مطابق بیان میں کہا کہ ٹیسٹ میچز پاکستان سے کسی اور مقام یا تاریخ پر منتقل کرنا ناممکن ہے اور پاکستان ٹیسٹ اور ٹی20 شیڈول کے مطابق ایک ساتھ کھیلنے پر قائم ہے۔

(2294 بار دیکھا گیا)

تبصرے